مولانا وحیدالدین خان کی خدمت میں چند گزارشات —- اعجازالحق اعجاز

0

مولانا صاحب آپ ایک معروف عالم ہیں ہم آپ کی علمی خدمات کے معترف ہیں اور آپ کی جدت پسندی کو سراہتے ہیں۔ جو گزارشات ہم کرنے جارہے ہیں ان کا تعلق آپ کی فکر کے چند پہلووں سے ہے۔

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی
یہ کس کافر ادا کا غمزہ خون ریز ہے ساقی

مولانا صاحب! بصد احترام عرض ہے کہ یہ کون سا اسلام ہے جو ظلم و استحصال کے خلاف مزاحمت نہیں بلکہ اس سے مفاہمت کا درس دیتا ہے۔ یہ کون سا اسلام ہے جو عین وقتِ قیام سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ یہ کون سا اسلام ہے جو وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل نہیں بلکہ ہر وقت خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات کا نام ہے۔ یہ کون سا اسلام ہے جو باطل کو چیلنج کرنے کی بجائے اس کے ہمراہ چلنا شروع کردیتا ہے۔ یہ کون سا اسلام ہے جو جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کو نامعقولیت ٹھہراتا ہے۔ یہ کون سا اسلام ہے جو رسم شبیری کی مذمت کرتا ہے اور رسمِ گوسفندی کو سراہتا ہے۔ رسم شبیری ادا نہ کرنا آپ کی کوئی مجبوری ہو گی مگر اس کا استرداد تو نہ کریں، اس کی مذمت تو نہ فرمائیں۔ آپ ظلم و استحصال کے مقابلے میں مزاحمت کے بجائے مفاہمت کا جو درس دیتے ہیں یہ عجیب و غریب تصور ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں اسے مداہنت اور بے حمیتی ہی کہا جا سکتا ہے۔ بصد ادب یہ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ آپ ایک عرصے سے مسلمانوں کو مداہنت اور بے حمیتی کے انجکشن لگاتے چلے آرہے ہیں۔

مولانا صاحب اگر اسلام ظلم و استحصال کے ہر نظام اور طاغوت کے ہر انصرام کو چیلنج نہیں کر سکتا، جو فقط عبادت ہی عبادت ہے، تسبیح ہی تسبیح ہے اور ایک زندہ مزاحمتی اور انقلابی قوت کے روپ میں سامنے نہیں آسکتا وہ اسلام کس کام کا؟

مولانا صاحب! بابری مسجد میں تین بت رکھ دیے جاتے ہیں۔ مسلمان سخت صدمے سے دوچار ہوجاتے ہیں مگر آپ فرماتے ہیں پھر کیا ہوا خانہ کعبہ میں بھی تو تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر بابری مسجد شہید کر دی جاتی ہے آپ بغلیں بجاتے ہیں۔ کشمیریوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں مگر آپ کے مقدس لبوں سے مذمت کے دو بول نہیں نکلتے بلکہ آپ ان کے زخموں پہ یہ کہہ کر نمک پاشی کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم و جبر کے خلاف امن کا راستہ اپنائیں لیکن پہلے انھیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی گزشتہ کئی دہائیوں کی جدوجہد غلط تھی۔ جب آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انصاف کے بغیر کیسے امن قائم ہو سکتا ہے تو آپ لال پیلے ہو جاتے ہیں۔ فلسطین کے مظلوم مسلمان جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں کبھی آپ کی ہمدردی کے مستحق ٹھہرے؟ اس معاملے میں تو ارون دھتی رائے اور نوم چومسکی جیسے لوگ ہی بہتر نکلے جنھوں نے مسلمانوں پہ ظلم و ستم کی مذمت تو کی۔

مولانا صاحب اسلام تخریب کا درس نہیں دیتا۔ اس کا تصور جہاد تخریبی نہیں۔ جہاد کا یہ تصور ناجائز قتل و غارت اور فساد فی الارض کا درس ہرگز ہرگز نہیں دیتا۔ مگر مقدس ہیں ان فلسطینیوں، کشمیریوں اور دنیا بھر کے مظلوم اور پسے ہوئے مسلمانوں کے ہاتھ جو جبر و استحصال پر مبنی طاغوت کے ہر عفریت کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ مولانا صاحب دست بستہ عرض ہے کہ آپ تو مظلوموں کے ہاتھ سے اپنے دفاع کا حق بھی چھین لینا چاہتے ہیں اور انھیں لقمہ مرگ مفاجات بنا دینا چاہتے ہیں۔

حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

آپ اسلام کے پولیٹیکل تصور کو ایک تخریبی تصور قرار دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ

”موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی تحریکیں حیرت انگیز طور پر انتہائی ناکامی کا شکار ہوئیں۔ مسلمان جب بھی کوئی تحریک اٹھاتے ہیں تو خدا ان کے گھروندے کو ٹھوکر مار کر گرا دیتا ہے۔ ایسا مطلوب ہوتا ہے کہ ان کی یہ تمام سرگرمیاں خدا کی نظر میں بالکل نامطلوب ہیں۔ اس بنا پر وہ ان کو حرف غلط کی طرح مٹا رہا ہے“

بصد احترام آپ نے کبھی اپنے ان سفاک ترین الفاظ پہ غور کیا؟ کیا ان تحریکوں کے خلاف کفروباطل نہیں بلکہ خود خدا ہی صف آرا تھا؟ کیا خدا خود ان تحریکوں کی وجہ سے مسلمانوں کو حرف غلط کی طرح مٹا رہا ہے؟ کیا آپ مسلمانوں کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ وہ کبھی طاغوت کے خلاف مزاحمت کی جرات نہ کریں ورنہ ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان کا ہوا۔ کیا جن لوگوں کو توپوں کے منہ پر باندھ کر گولے داغ دیے گئے وہ سارے کے سارے غلط تھے اور خدا ان کو سزا دے رہا تھا۔ یہ کس قدر سفاک اور قنوطیت زدہ نتائجیت پسندانہ اپروچ ہے۔ مولانا صاحب! اہل ایماں جہاں میں صورت خورشید جیتے ہیں اِدھر ڈوبے ہیں تو اُدھر نکل بھی آئیں گے۔ اخلاص اور نیک نیتی سے کیے گئے ہر اچھے عمل اور جدوجہد کا صلہ خدا ہی کے ہاں ہے اور کسی کے ہاں نہیں۔ ویسے بھی کسی شے کے اچھا یا برا ہونے کا معیار اس کا کامیاب یا ناکام ہونا کیسے ٹھہر گیا۔ اصل شے تو جدوجہد ہے۔ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے کہ حق کامیاب ہوگا اور باطل دب جائے گا اور باطل دبنے کے لیے ہی ہے۔ مولانا صاحب برصغیر کے مسلمانوں کی سب سے بڑی تحریک، تحریک پاکستان تھی جو کامیابی سے دوچار ہوئی۔ آپ قیام پاکستان کے بھی خلاف ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس کے قیام کے وہ مقاصد پورے نہیں ہو سکے جو قائداعظم، علامہ محمد اقبال اور دیگر بانیان پاکستان کے پیش نظر تھے۔ مگر ان کا کام پاکستان کا قیام تھا وہ پورا ہوا اب یہ ہم پر فرض ہے کہ ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔ مولانا صاحب بھارت کی موجودہ صورت ِ حال کے تناظر میں آپ کو اپنے ان افکارِ عالیہ پہ نظر ثانی کر لینی چاہیے کیوں کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان کا قیام سو فی صددرست تھا۔ اب جب کہ تمام بھارت کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں آپ چب سادھے ہوئے ہیں۔

آپ نے اپنے ماہنامہ الرسالہ کی جولائی 2010 کی اشاعت میں لکھا ہے امریکہ نے عراق اور افغانستان میں جو جنگ کی وہ ”اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک خدائی آپریشن تھا۔“ یعنی آپ کے نزدیک امریکہ ان ملکوں میں ڈیزی کٹرکارپٹنگ بم باری کر رہا تھا اور زیادہ تر معصوم شہریوں ہی کا قتل عام کررہا تھا وہ آپ کے نزدیک خدائی آپریشن تھا۔ مولانا صاحب اگر وہ خدائی آپریشن تھا تو قریب قریب دو دہائیاں گزرنے کے باوجود وہ افغانستان میں ابھی تک کامیاب کیوں نہیں ہوا؟ اور بار بار مذاکرات کی بھیک کیوں مانگ رہا ہے۔

آپ کے ان تمام ارشادات کے پیچھے آپ کا جو نظریہ کارفرما ہے وہ ہے جہاد کی تنسیخ کا نظریہ۔ آپ جہاد جیسے اہم عنصر کو اسلام سے خارج کرکے اسے طاغوت کے رحم و کرم پہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے آپ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کا اسوہ، اسوہ کاملہ نہیں اور ایک وقت آئے گا کہ یہ محمدی ماڈل صرف جزوی طور پر ہی قابل عمل رہے گا اور اس جزوی ماڈل کی تکمیل مسیحی ماڈل کرے گا کیوں کہ اس مسیحی ماڈل میں دعوت ہے جہاد اور ہجرت نہیں ہے۔ یعنی آپ خدا کے فرمان ”الیوم اکملت لکم دینکم“ کی صریحاً نفی کر رہے ہیں اور یہ باور کرا رہے ہیں کہ اس دین کی تکمیل ابھی ہونا باقی ہے اور مسیحی ماڈل اس کی تکمیل کرے گا جو کوئی مسیحی ماڈل کی شخصیت کرے گی کیوں کہ اس ماڈل میں جہاد اور ہجرت جیسے ”نقائص“ نہیں ہوں گے۔

آپ کا المیہ یہ ہے کہ آپ انتہا درجے کی نرگسیت اور خود پسندی کا شکار ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

”اصحاب رسول کی حیثیت ایک دعوتی ٹیم کی تھی۔ یہ ٹیم ڈھائی ہزار سال کے نتیجے میں بنی۔ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب ہاجرہ اور اسماعیل کو خدا کے حکم سے صحرا میں بسا دیا گیا۔ سی پی ایس (مولانا کی ٹیم) کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اصحاب رسول کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوگیا۔ اسی عمل کی کلمینیشن سی پی ایس کی ٹیم ہے۔ اصحاب رسول کے بعد بننے والی طویل تاریخ کے تمام مثبت عناصر سی پی ایس کی ٹیم میں جمع ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار اس کو یہ حیثیت ملی ہے کہ وہ دورِ حاضر میں اخوانِ رسول کا رول کرسکے۔ بعد کے زمانے میں اٹھنے والی تمام تحریکوں میں صرف سی پی ایس انٹرنیشنل وہ تحریک یا گروپ ہے جو استثنائی طور پر اس معیار پر پورا اترتی ہے۔“

پھر فرماتے ہیں:
”نیز یہی وہ لوگ ہوں گے جو مہدی یا مسیح کا ساتھ دے کر آخری زمانے میں اعلیٰ دعوتی کارنامہ انجام دیں گے۔“

آپ اکثر اقبال کے فلسفہ خودی کی تردید کرتے رہتے ہیں۔ اقبال اور آپ کا موازنہ ہرگز نہیں بنتا۔ اقبال اور آپ کے نظریہ حیات میں بعد المشرقین ہے۔ اقبال کا پیام حیات بخش ہے، آپ کا حیات برد ہے۔ اقبال کا پیام قوت بخش ہے، آپ کا ضعف بخش ہے۔ اقبال وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل ہیں، آپ خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات ہیں۔ اقبال عشق و عقل کے وسیع بحر کا شناور ہے، آپ عقل کے نہایت محدود بت کدہ تصورات سے باہر قدم رنجا فرمانا نہیں چاہتے اور اسی خانقاہ کو گوشہ عافیت سمجھے ہوئے ہیں۔ اقبال کی اصل شاہینی ہے آپ کی گوسفندی ہے۔ اقبال کا اندیشہ افلاکی ہے، آپ کا سطحی ہے۔ اقبال کی اذاں سے سر خلیل و کلیم فاش ہے، آپ شبستان ِ وجود میں اذان دینے ہی کے حق میں نہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ کائنات مسلسل پیکار، کشمکش اور تصادم کی ایک جولان گاہ ہے اوریہاں وہی اقوام سرخرو ہوں گی جو اپنی قومی خودی کا تحفظ کریں گی۔ اقبال اس کے لیے جدید علوم اور قومی خودی کے تحفظ دونوں کو ضروری سمجھتے ہیں۔ جہاد سے ان کی مراد غارت گری نہیں بلکہ باطل کو چیلنج کرنے کی ہمت و صلاحیت کا ہونا ہے اور بوقت ضرورت اسے بروئے کار لانا ہے۔ مولانا صاحب! گوسفندی کا تصور جس کا آپ بار بار پرچار کرتے ہیں ایک عیسائی تصور ہے جب کہ شاہینی ایک عین اسلامی تصور ہے۔ آپ نفی ذات (Self-Negation) کا تصور پیش کرتے ہیں مگر نفی ذات کا یہ تصور فرد کے لیے غیر سود مند ہے ہی قوم کے حق میں انتہائی مہلک ہے۔ اقبال کے نزدیک فرد اور قوم دونوں کو اثبات ذات Self-affirmation کے عمل سے گزرنا چاہیے۔ مولانا صاحب آپ قوانین فطرت کی تو بہت حمایت کرتے ہیں مگر نہ جانے Survival-of-the-fittest کے نظریے کو کیوں بھول جاتے ہیں۔ آپ نہ جانے امریکہ، انڈیا اور اسرائیل جیسے بھیڑیوں کی موجودگی میں مسلمان قوم کو ایک بھیڑ ہی کی صورت کیوں دیکھنا چاہتے ہیں۔ امن بہت اچھی چیز ہے مگر بھیڑیوں میں گھری قوم کو بھیڑ بننے کی بجائے شیر بننے کا درس دیتے تو اچھا تھا جیسا کہ اقبال نے دیا ہے۔ یہ عرصہ محشر ہے اوراس میں وہی بچے گا جس کی خودی صورت ِ فولاد ہوگی۔ آپ کے خواب آور نظریات کہیں مسلمان قوم میں سے حیات کی رہی سہی رمق بھی نہ چھین لیں۔

اسلام کو اس وقت جدت پسندی کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مذہب، سائنس اور فلسفے کے جدید نظریات کی اسلام کے ساتھ تطبیق کی مخلصانہ کوششیں کی جائیں۔ اسلام ایک جامد اور قدامت پسند دین ہرگز نہیں اور اپنے اندر حرکت کا ایک تعمیری اصول رکھتا ہے۔ مگر ہمیں ایسی جدت پسندی کی ضرورت ہے جو اسلام کی مسلمہ بنیادوں کو ہلائے بغیر یہ عمل جاری رکھے۔ مولانا کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے مسلمات کو بدل کر اور من چاہی تعبیرات کے ذریعے یہ عمل جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اس میں ایک مسلمہ امر باطل کا پوری قوت سے مقابلہ اور مزاحمت ہے۔ مولانا اسی بنیاد کو گرانا چاہتے ہیں۔ اقبال کی جدت پسندی ہمارے لیے زیادہ مفید ثابت ہو سکتی ہے کیوں کہ یہ اپنے اندر زیاد ہ مابعدالطبیعیاتی، وجودیاتی، علمیاتی، نفسیاتی اور تہذیبی گہرائی رکھتی ہے اور اسلام کے بنیادی مسلمات کو بدلے بغیر بروئے کار آتی ہے۔ اقبال کا حیات آفریں اور قوت بخش پیام ہی طاغوت کی تمام جدید شکلوں جنھوں نے کسی عفریت کی طرح دنیا کو جکڑ رکھا ہے کے خلاف مزاحمت کا ایک عظیم بیانیہ ہے۔ اقبال کا تصورِ عشق اور خودی اور ان کا عمیق سائنسی و جدید علمیاتی شعور ہی وہ چیزیں ہیں جو جدت پسندی کے اس عمل میں بے حد ممد و معاون ہو سکتی ہیں۔ اسلام کو ایسی شکل دے دینا کہ وہ جدید تو ہوجائے مگر اسلام نہ رہے ہرگز بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اور آخر میں آپ سے یہ استدعا ہے:

بمصطفے برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20