عابدہ حسین کی کتاب Power Failure پر ایک نظر —– راجہ قاسم محمود

0

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے پاکستانی سیاست دان عابدہ حسین کی آپ بیتی Power Failure کے نام سے شائع کی ہے۔ آپ اس کو ضخیم کتابوں میں شمار کر سکتے ہیں جو کہ تقریباً سات سو صفحات پر مشتمل ہے۔

عابدہ حسین کا تعلق شاہ جیونہ جھنگ کے مشہور سیاسی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد کرنل عابد حسین ۱۹۴۶ کی اسمبلی کے رکن تھے۔

کرنل عابد حسین کے مختلف سیاسی رہنماؤں سے قریبی تعلقات تھے جن کا ذکر ہمیں اس کتاب میں ملتا ہے۔ بالخصوص جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح جنرل ایوب خان کے مقابلے میں انتخابات لڑ رہی تھیں تو کرنل عابد حسین نے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی جس کی پاداش میں کرنل صاحب کو ایوب حکومت نے جیل بھیجا تو نواب آف کالا باغ کے کہنے پر رہائی ملی۔ اس سے پہلے عابدہ حسین کے لیے جنرل ایوب خان نے اپنے بیٹے طاہر ایوب کا رشتہ مانگا تھا جس کو قبول نہ کیا گیا۔

عابدہ حسین کے مختلف سیاسی رہنماؤں سے قریبی تعلقات رہے جن کا ہمیں اس کتاب میں ذکر ملتا ہے۔

ان کا اپنا سیاسی کیریر 1972 سے شروع ہوتا ہے جب وہ مخصوص نشست پر پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوتی ہیں۔ یہاں پر بھٹو صاحب کے ساتھ اور ان کی فیملی کے ساتھ ان کے تعلقات بنتے ہیں۔ روس کا دورے میں بینظیر بھٹو صاحبہ بھی ساتھ ہوتی ہیں تو ان سے بھی تعلقات قائم ہو جاتے ہیں۔ مگر بھٹو صاحب کے مخالفین خان عبدالولی خان، غوث بخش بزنجو وغیرہ کے ساتھ بھی عابدہ حسین کے خوشگوار تعلقات رہے یہ بات بھٹو صاحب کو ناگوار گزرتی ہے مگر پیپلز پارٹی سے راستے اس وقت جدا ہوتے ہیں جب 1977 کے انتخابات میں جھنگ کی نشست پر ٹکٹ فیصل صالح حیات کو ملتا ہے۔ فیصل صالح حیات کے گوکہ عابدہ حسین کی رشتہ داری ہے مگر سیاسی مخالفت و ناپسندیدگی بہت واضح ہے۔ پھر فیصل کی عمر بھی اس وقت پچیس سال سے کم ہوتی ہے اور عابدہ حسین ان کے کاغذات نامزدگی چیلنج کرتی ہیں مگر فیصل صالح حیات کا بنایا جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کو ٹریبونل قبول کر کے ان کے حق میں فیصلہ سنا دیتا ہے۔

جب بھٹو صاحب کی حکومت جاتی ہے تو جنرل ضیاء الحق کے اعلان کردہ ۹۰ دنوں میں انتخابات میں وہ ولی خان کی پارٹی کی امیدوار ہوتی ہیں کہ الیکشن ملتوی ہو جاتے ہیں۔

پھر دو بار جھنگ کی ضلعی حکومت کی چیئرپرسن بنتی ہیں۔ اور پہلی بار تو ان کے شوہر سید فخر امام ملتان کے ضلعی چیئرمین بننے ہیں۔ ۷۵,۸۸ اور ۹۷ کے انتخابات میں وہ کامیاب ہوتی ہیں جبکہ ۹۰ فیصل صالح حیات سے شکست کھاتی ہیں، اور ۹۳ میں چونکہ سفارت کی شرط کے باعث خود تو انتخابات سے نکل جاتی ہیں اور ان کی والدہ فیصل صالح حیات کا مقابلہ کرتی ہیں اور ہارتی ہیں۔ ۲۰۰۲ اور ۲۰۰۸ میں بھی فیصل صالح حیات سے شکست کھاتی ہیں۔

عابدہ حسین کا رویہ لچکدارانہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ کئی لوگ جو آپس میں شدید مخالف تھے کے ساتھ عابدہ حسین کے تعلقات مثبت ہوتے ہیں۔ مثلاً بھٹو صاحب کی فیملی سے قریبی تعلق اور پھر بھٹو صاحب سے ناراضگی کے باوجود ان کی پھانسی پر نصرت بھٹو سے ملنے جانا، پھر جنرل ضیاء الحق کا حادثہ ہوتا ہے تو یہ ضیاء الحق کی بیوی کے پاس بھی جاتی نظر آتی ہیں۔ پھر نواب اکبر بگٹی، ولی خان، بزنجو کے ساتھ بھی ان کے تعلقات مثبت ہوتے ہیں۔ پھر فاروق لغاری، اسحاق خان اور نواز شریف کے ساتھ بھی ان کے تعلقات ٹھیک نظر آتے ہیں۔

عابدہ بینظیر بھٹو کے طرز حکومت پر سوالات اٹھاتی ہیں اور بالخصوص مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے تو وہ مکمل ناکام رہیں۔ بعد میں جب عابدہ دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئیں تو بینظیر بھٹو صاحبہ سے اس موضوع پر بات بھی کی جس کا بینظیر بھٹو صاحبہ نے اعتراف کیا اور عذر یہ پیش کیا کہ بھٹو صاحب کے بعد ہم پر مالی طور پر مشکل وقت آیا اس لیے جب حکومت ملی تو ہمارا پہلا ٹارگٹ یہ تھا کہ آئندہ ہمارے پر ایسے حالات نہ آئیں مگر بقول عابدہ اب بی بی بہت میچور ہو چکیں تھیں اور انھوں نے عوامی فلاح کو اپنا ہدف بنایا تھا اور زرداری کے بارے میں فیصلہ ہو چکا تھا کہ وہ دوبئی میں بچوں کی دیکھ بھال کریں گے اور سیاسی معاملات سے دور رہیں گے۔ بینظیر بھٹو نے عابدہ حسین سے یہ بھی کہا کہ ان کو معلوم ہے کہ زرداری ان کو اکثر cheat کرتے ہیں مگر وہ انھیں معاف کر دیتی ہیں۔

نواز شریف صاحب کی پہلی حکومت میں وہ امریکہ میں سفیر تعینات ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے ان کی طرز حکومت پر تو بات کم ہے مگر ان کے سیاسی غیر سنجیدگی کو بیان کیا گیا ہے۔

امریکہ میں بطور سفیر اس وقت پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی عدم فراہمی اور ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے جیسے اہم مسائل کا سامنا تھا۔ ہمیں نظر آتا ہے کہ کس طرح بھارتی سفارت کار، ہمارے سے زیادہ موثر طریقے سے اپنے ملک کے امیج کو بہتر بنا رہے ہیں۔
پھر جنرل آصف نواز جنجوعہ کا دورہ امریکہ میں ڈک چینی سے ملاقات میں ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے عوض مارشل لاء کی آفر دینا بتاتا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں جمہوریت کے حوالے سے امریکی رویہ کیا ہے۔

محترمہ کی دوسری حکومت ختم کرنے کے لیے فاروق لغاری اور شریف خاندان میں تعلقات عابدہ حسین کی وساطت سے قائم ہوئے۔ جہاں میاں شریف نے اپنے بیٹوں پر مقدمات کو ختم کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ یہ ہمیشہ لغاری صاحب کے احسان مند رہیں گے، پھر جب لغاری صاحب نے اپنی ہی جماعت کی حکومت توڑی تو نئی حکومت آنے کے بعد میاں صاحب کے تیور بدل گئے اور سات آٹھ ماہ بعد لغاری کو جانا پڑا۔
میاں صاحب کی دوسری حکومت میں عابدہ حسین وزیر تھیں اور جب ایٹمی دھماکوں کا مسئلہ آیا تو عابدہ حسین، مشاہد حسین اور چوہدری نثار علی خان نے تجربات کی مخالفت کی تھے۔
نواز لیگ کے دوسرے میں عابدہ حسین نے وزارت سے استعفیٰ دیا جب ان پر بجلی چوری کا الزام لگا۔ جس کو انھوں نے چیلنج کیا بعد میں جنرل ذوالفقار نے اس الزام پر ان سے معافی بھی مانگی۔
پھر میاں صاحب کی حکومت کا خاتمہ، ان کا جیل جانا، ڈیل کر کے سعودی عرب جانا، اس کے نتیجے میں ق لیگ کا بننا اور پھر میاں اظہر کو ق لیگ کی قیادت سے کس طرح الگ کیا گیا۔ عابدہ حسین نے مختصر طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔

عابدہ حسین ۷۵ کی اسمبلی میں واحد منتخب خاتون تھیں اور یہ ان چند محدود لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے آٹھویں ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

۸۵ کی اسمبلی کا سب سے دلچسپ مرحلہ اسپیکر کے انتخاب کا تھا جہاں پر عابدہ حسین کے شوہر سید فخر امام نے پندرہ ووٹوں سے جنرل ضیاء الحق کے امیدوار خواجہ صفدر (والد خواجہ آصف) کو ہرا دیا۔ یہ جنرل ضیاء الحق کے لیے ایک شدید دھچکا تھا۔ پھر فخر امام نے جس طرح اسمبلی چلائی تو وہ جنرل ضیاء الحق اور ان کے ساتھیوں کے لیے قابل قبول نہ تھی۔ جس پر سال بعد ہی ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو گئی اور حامد ناصر چٹھہ اسپیکر بن گئے۔

سابق صدر غلام اسحاق خان کے بارے میں کافی کچھ جاننے کو مل سکتا ہے۔ بالخصوص اسحاق خان صاحب کی اصول پسندی اور دیانت داری کی تصدیق ہوتی ہے اور پھر ایٹمی پروگرام پر جس طرح انھوں نے اسٹینڈ لیا اور امریکی دباؤ کا سامنا کیا اس کا بھی ذکر کتاب میں موجود ہے۔

اکبر بگٹی کے قتل پر عابدہ حسین نے پورا باب لکھا ہے۔ نواب صاحب کے ساتھ عابدہ حسین کے قریبی تعلقات تھے۔ نواب اکبر بگٹی صاحب کے ساتھ مشرف کے معاملات تب خراب ہوئے جب ڈاکٹر شازیہ کے ریپ کا کیس سامنے آیا اور پھر عابدہ حسین کہتی ہیں کہ مشرف کی بیوقوفی اور سفاکیت نے ان کو نواب صاحب کے خلاف ایکشن لینے پر ابھارا۔ نواب صاحب کے قتل کے بعد بلوچستان میں وفاق کے حوالے سے شکایات میں مزید اضافہ ہوا۔

آخری باب بینظیر بھٹو صاحبہ کے قتل پر ہے کہ ان کو سیکورٹی تھریٹس مل رہے تھے جس کو سریس نہیں لیا گیا۔ عابدہ حسین کارساز ریلی میں دھماکے کے وقت موجود تھیں اور معمولی زخمی بھی ہوئیں۔

کتاب کی ایک اور اہم بات کا ذکر کرنا ضروری ہے وہ ہے فرقہ وارانہ کشیدگی۔

عابدہ حسین شیعہ فرقے سے تعلق رکھتی ہیں، اور جھنگ ہی سپاہ صحابہ کا مرکز بنا۔ سو عابدہ حسین کا براہ راست ٹکراؤ سپاہ صحابہ سے ہوا۔ بلکہ ۸۸ کے انتخابات میں انھوں نے مولانا حق نواز جھنگوی کو شکست بھی دی۔ سپاہ صحابہ کی جانب سے ان کو دھمکیاں بھی ملیں اور جب لشکر جھنگوی بنی تو ریاض بسرا کی جانب سے کئی بار فون پر قتل کی دھمکیاں ملی، جس کی وجہ سے عابدہ حسین اکثر اپنا روٹ تبدیل کرتیں۔ مولاناحق نواز جھنگوی اور مولانا ایثار القاسمی کے قتل کا احوال بھی عابدہ حسین نے لکھا اور بتایا کہ مولانا جھنگوی کے قتل کے بعد جھنگ میں شیعہ پر زمین تنگ کر دی گئی اور اسی سے زائد شعیہ اس فرقہ وارانہ کشیدگی میں قتل ہوئے۔

عابدہ حسین کہتی ہیں کہ مولانا جھنگوی اور مولانا قاسمی سپاہ صحابہ کی اندرونی رنجش میں مارے گئے مگر الزام شیعہ پر لگا۔ ایسے ہی سپاہ صحابہ کے ایک اور رہنما مولانا ضیاء الرحمن فاروقی ۹۷ میں ان کے شوہر فخر امام کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے تھے قتل ہوئے۔ عابدہ حسین کہتی ہیں کہ ان تنظیموں کے پیچھے سعودی عرب کی فنڈنگ تھی۔

عابدہ حسین کہتی ہیں مولانا حق نواز جھنگوی کی فاتحہ کے لیے وہ ان کے گھر آنا چاہتی تھیں مگر سیکورٹی خدشات کے پیش نظر انھوں نے پہلے فون پر مولانا جھنگوی کی بیوہ سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ تم کافر اپنے گھر میں دعا کرو، میرا بھائی اسامہ بن لادن میرا خیال رکھنے کے لیے کافی ہے۔ عابدہ حسین کہتی ہے کہ انھوں نے اسامہ بن لادن کا پہلی بار نام اس دن مولانا حق نواز جھنگوی کی بیوہ سے سنا تھا۔

عابدہ حسین نے ایرانی فنڈنگ کا بھی اعتراف کیا اور ایرانی سفارت خانے سے ایرانی انقلاب کی تبلیغ اور اس کو برآمد کرنے کی کوشش ہوتی رہی۔ مولانا ساجد نقوی کی تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کو ایران سے فنڈنگ ملتی رہی۔

عابدہ حسین کی بانی متحدہ الطاف حسین سے ملاقاتیں رہی ہیں اور الطاف کی فسطائیت، جبر اور ڈرامے بازی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔

عابدہ حسین تعریف کی مستحق ہیں کہ وہ واقعات جن کی وہ عینی شاہد تھیں کو تاریخ کا حصہ بنایا ہے۔

دوسرا مجھے جس چیز نے متاثر کیا وہ عابدہ حسین کا لکھنے کا انداز ہے، ان کی انگریزی تحریر کافی مضبوط معلوم ہوتی ہے۔ یہ حیرانگی اس وقت دور ہوئی جب پڑھا کہ عابدہ حسین کی ابتدائی تعلیم برطانیہ کی ہے۔ مگر گریجویشن انھوں نے مشرف دور میں کیا جوکہ الیکشن کے لیے اہلیت کی شرط تھی۔

عابدہ حسین کی تقلید کرتے ہوئے مزید سیاست دانوں اور بڑے عہدوں پر کام کرنے والے لوگوں کو کتاب لکھنی چاہیے تا کہ ہم پاکستان کی تاریخ سے مزید آگاہی حاصل کر سکیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20