حلقہ احباب، سینئرصحافی کے کالم —- نعیم الرحمٰن

0

کتاب ’’حلقہ احباب‘‘ سینئر صحافی، کالم نگار اور تمغہ امتیاز سردارخان نیازی کے کالموں کا مجموعہ ہے۔ سردار خان نیازی روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اور انگریزی ڈیلی ’’پیٹریاٹ‘‘ کے علاوہ روز نیوز چینل کے مالک اور اور ملک کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ ان کی تحریر کے ہر لفظ سے حب الوطنی عیاں ہے اور اس میں پاکستان اور پاکستانیت کا پیغام جھلکتا ہے۔ ایک ایسے صحافی کے کالم یکجا کرکے شائع پبلشر شاہد اعوان نے ایک اہم ضرورت پوری کی ہے۔ پھر اسی کتاب میں وزیراعظم عمران خان نے روزنامہ پاکستان میں شائع شدہ کالمز کو بھی شامل کرکے کتاب کی اہمیت اور قدر دوچند کر دی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے کالم ان کی سیاست کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن سے سیاست میں انکے عزائم کے خدوخال واضح ہوتے ہیں۔ کتاب ایمل کے روایتی حسنِ طباعت سے آراستہ اوربہترین کاغذ پر شائع کی گئی ہے۔

سردارخان نیازی اپنے اہم اور طویل پیش لفظ میں کہتے ہیں۔

’’حلقہ احباب‘‘ کایہ مجموعہ محض میرے کالموں کی بیاض نہیں ہے، عمرِ رائیگاں کا ایک گوشوارہ بھی ہے۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے یہ قدرت کی کوئی تقسیم کار ہی تھی کہ مجھ جیسے آبلہ پا کو صحافت کی وادی پرخار میں دھکیل دیا۔ بلھے شاہ نے کہاتھا ’بلھیا کی جانا میں کون؟‘ ایک عمر دشت صحافت کی آبلہ پائی کے بعد میں بھی سراپا سوال ہوں۔ بلھیا کی جانا میں کون۔ کالموں کا مجموعہ آپ کے ہاتھ میں ہے یہ تو ایک رسمِ دنیا ہے اور یوں سمجھیے کہ موقع بھی ہے اور دستور بھی کہ آغاز تعارف سے ہو۔ یہ رسم اگرچہ کچھ بوجھل سی لگتی ہے مگر رسمیں نبھائی جاتی ہیں ان پر سوال نہیں اٹھائے جاتے۔ تو میں بھی بادل نخواستہ یہ رسم پوری کر دیتا ہوں۔ میں میانوالی کا نیازی، تمغہ امتیاز اور نیوکلیئر رپورٹنگ پر گولڈ میڈلسٹ ہوں، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے چار لوگوں کو اس ایوارڈ سے نوازا، ان میں سے ایک یہ ناچیزبھی شامل ہے۔ ڈاکٹرعبدالقدیر خان جیسے غیر معمولی انسان سے اعزاز لینا بذاتِ خود ایک اعزاز ہے۔ محسن ِ پاکستان حریف فکر کا ایک زندہ نقش ہیں۔ پورا ملک ان کا مقروض ہے۔ نہ صرف ملک بلکہ ملت اسلامیہ بھی ان کی مقروض ہے۔ ان کے کام میں ان کاساتھ دینا میرے لیے سعادت ہی نہیں فرض بھی ہے اور میں نے اس فرض کو تندہی سے نبھایا۔ ڈاکٹر صاحب جب ساشے ہسپتال بنانے لگے تو میں نے کروڑوں کی زمین ان کی خدمت میں اس نیک کام کے لیے پیش کردی۔ اسی طرح ان کے پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کے لیے بھی جوبن پڑا وہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب کے نیکی کے ان فلاحی کاموں میں ایک سپاہی کے طور پر ان کے ساتھ کھڑا رہا اور کھڑا ہوں۔ محسنِ پاکستان کی ان فلاحی سرگرمیوں میں نہ صرف میں بلکہ میرا میڈیا ہاؤس بھی ان کے ہم قدم ہے۔ ‘‘

اس پیش لفظ سے ہی ایس کے نیازی صاحب کا طرزِ عمل اور سوچ واضح ہے۔ وہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان جیسے افراد کے مداح ہی نہیں ان کے ہر کام میں ان کے دوش بدوش چلنا اپنا فرض ِ اولین سمجھتے ہیں۔ بلاشبہ ہماراپاک وطن ایسی ہی پاک روحوں کی بدولت ہمیشہ قائم رہے گا۔ بیرون ملک رہتے ہوئے نیازی صاحب کووطن کے یادستاتی تھی۔ انہوں نے ڈاکٹر ظفر نیازی سے بات کی توانہوں نے کہا کہ بیٹا پاکستان جاکرقلم و قرطاس سے منسلک ہوجاؤ اور سماج کی فکری رہنمائی کرو۔ ایس کے نیازی نے اسی فرمان کواپنی زندگی کا لائحہ عمل بنالیا۔

صحافت میں اپنی آمدکے بارے میں وہ لکھتے ہیں۔ پاکستان آکرمیں نے دیکھا کہ ہفت روزہ ’زندگی‘ الطاف قریشی صاحب کے پاس تھا، بعد ازاں مجیب الرحمٰن شامی نے ان سے یہ رسالہ لے لیا۔ ڈاکٹر سعیدالہٰی نے مجھے قائل کیا کہ میں اس پر انویسٹمنٹ کروں، میں نے اپنے شوق کی وجہ سے اس پرپیسہ لگایا کیونکہ اس رسالے کو پسند کرتا تھا۔ یوں میں دشتِ صحافت میں اتر پڑا۔

معروف صحافی عارف نظامی نے کتاب کے فلیپ پر تحریر کیا ہے۔ ’’سردارخان نیازی ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے ساتھ ساتھ زمانہ شناس صحافی بھی ہیں جن کی انگلیاں عوام کی نبض پررہتی ہیں۔ ان کے مشاہدے کی حس کمال کی ہے جس کاوہ خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ملکی اور عالمی حالات کے متعلق کی گئی ان کی پیش گوئیاں اکثر سچ ثابت ہوتی ہیں۔‘‘

جنرل (ر) اسلم بیگ کا کہنا ہے۔ ’’جناب سردارخان نیازی کی کتاب حلقہ احباب ان کی طویل صحافتی زندگی کی فکری جدوجہد کا مجموعہ ہے جو اس کتاب کے مضامین سے ظاہرہے۔ ان کی پہچان ان کانظریہ پاکستان اورقوم کے نظریہ حیات سے گہرالگاؤ ہے۔‘‘

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کا کہنا ہے۔ ’’میں نیازی صاحب کاتہہ دل سے مشکورہوں کہ انہوں نے اپنی کتاب حلقہ احباب ایسے وقت میں شائع کرنے کا سوچا جبکہ قوم کوایک متحد انداز میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ میں یہاں یہ بات بھی کہناچاہوں گا کہ فی زمانہ میڈیا پرکچھ مشکل حالات آئے ہیں لیکن ایسے میں ایس کے نیازی کو شاباش دیتاہوں کہ انہوں نے اپنی ورکروں کاخیال رکھتے ہوئے میڈیاہاؤس میں کوئی ڈاؤن سازی نہیں کی۔‘‘

جسٹس (ر) ثاقب نثارکہتے ہیں۔ ’’ایس کے نیازی صحافت میں ایک بہت بڑانام ہے اور وہ ایک کازلے کرچل رہے ہیں۔‘‘

حال ہیں ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فلیپ پر لکھا ہے۔ ’’سائیں نیازی صاحب ملک تے آئین پاکستان کیتے توڈی وڈی خدمات ہن۔‘‘

عرض ناشر میں شاہد اعوان لکھتے ہیں۔

’’کوچہ صحافت کے قدیم شناور جناب سردارخان نیازی کے منتخب اخباری کالمزکایہ انتخاب ہماری ملی و سیاسی تاریخ کا رونامچہ ہے جس کاسرنامہ ’’حلقہ احباب‘‘ بلیغ تر اور موزوں ترین ہے۔ یہ کتاب بروقت اور برمحل کاوش ہے جس کی اشاعت اپنے مواد، موضوعات اور پیشکش کے اعتبارسے باوقار ہے۔ ماضی میں پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایسے بڑے نام موجودرہے جوروایتی اور غیرروایتی خبری ذرائع اور مقتدر حلقوں کی اندرونی سطحوں تک رسائی کے باعث اپنے ہم عصروں سے کہیں آگے نظر آتے تھے۔ عجلت، آسانی اور پیشہ ورانہ زوال کے سبب اب ایسے نام خال خال ہی ملتے ہیں، نیازی صاحب اسی معدوم ہوتے سلسلہ کی ایک موجود کڑی ہیں۔ وہ ان چند صحافیوں میں سے ہیں جو اس شعبہ میں شوق سے آئے اوراپنی افتاد طبع، پس منظر، روابط، تحریک اور رسوخ کی بنا پر مختصر عرصہ میں ہی جڑواں شہروں ک صحافتی افق پرنمایاں ہوتے چلے گئے۔ ہماری قومی تاریخ میں راولپنڈی اور اسلام آباد صرف دو شہر نہیں دوعلامتیں بھی ہیں۔ دو مختلف قوتیں، گاہے متعارض، گاہے ہم قدم۔ نیازی صاحب ہر دو جوانب رسوخ رکھتے ہیںاوریہ چیز انہیں اپنے ہم عصروں پہ یک درجہ فوقیت عطا کرتی ہے۔ اس ہی وجہ سے ان کی تحریر اپنی سادگی کے باوجود متن اورخبریت کے اعتبارسے ہرحلقہ کے لیے ناگزیر مطالعہ بن جاتی ہے۔ ایس کے نیازی کے کالم کانام معنی خیزاورکتاب کے لیے اسم بامسمیٰ ہے۔ انکی تحاریر میں موجود شخصی حوالے اور سماج کے مختلف طبقات سے تعلق خاطر اس مجموعہ کو بالآخر ’حلقہ احباب‘ بنا چھوڑتا ہے۔ یہ کتاب ایسے ہی شذرات کاانتخاب ہے جو حالیہ تاریخ کے عام قاری اور نوآمدہ صحافیوں کے لیے یکساں مفیدہے۔ کتاب کے ضمیمہ میں موجود عمران خان وزیراعظم پاکستان کے روزنامہ پاکستان میں طبع شدہ کالمز بھی آج کے پس منظرمیں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔‘‘

ایس کے نیازی کے تمام کالم اپنی موضوع اور خبریت کے اعتبار سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے بھی منتخب تحریریں نہ صرف قابلِ مطالعہ ہیں۔ بلکہ عام کالمز کے طرح ان کی زندگی ایک روزہ نہیں بلکہ یہ ہمیشہ زندہ رہنے والے کالم ہیں۔ کتاب کے آغاز میں عائشہ مسعود نے حلقہ احباب کی تحریروں سے جملوں کا انتخاب کیاہے۔ جو حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ایسے ہی چندجملے ملاحظہ کریں۔

جہاں خوف ہوتاہے وہاں سرمایہ نہیں رہتا۔

قوم باہمی اتفاق و اتحاد کو پروان چڑھا کر سیسہ پلائی دیوار کا تاثر دنیا کے سامنے پیش کرے۔

معاشرے میں ظلم بڑھ جائے توعدالت کی چوکھٹ محض زنجیرِ عدل نہیں بلکہ دیوارِ گریہ بن جاتی ہے۔

مسافت اگراہتمام اوراحتیاط سے طے کی جائے تومنزل، منزلِ مرادبن جاتی ہے۔

اقدار کی تمنا میں متانت اورشرافت کونہیں چھوڑناچاہیے۔

اس جملے کے تناظرمیں حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کے اندراورباہرمراد سعید، عبدالقادر پٹیل، خواجہ آصف اورشیخ رشید کی ذومعنی اور ناقابل بیان لچر گفتگو اور بیانیہ سنیں تو اندازہ ہوتاہے کہ ہمارا معاشرہ تو ملک کی سب سے بڑی اسمبلی بھی اقدار کی کس پستی پرپہنچ گئی ہے اورنیازی صاحب جیسے صاحب فہم افرادبس اپنی تحریروں سے انہیں اپنی اقدار اور روایات پرچلنے متانت اورشرافت کوترک نہ کرنے کامشورہ ہی دے سکتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ اور جملے دیکھیں۔

عوام کے ووٹوں سے مسندِ اقتدار پر آنے والاحکمران قومی سوچ کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔

ڈکٹیٹر جب کوئی فیصلہ کرتاہے تو وہ کسی قسم کاسمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں ہوتا اور اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے پوری عدالت کو معطل کرنے سے گریزنہیں کرتا۔

اگر ہمارے پاس ایٹمی قوت انیس سوسترمیں ہوتی تو بھارت ہمیں دولخت کرنے کی ہمت نہ کرتا۔

ہماری ترقی کی سوئی جہاں اٹکی ہوئی ہے اُس کانام کرپشن ہے۔ بدقسمتی سے جس ادارے میں کرپشن نہیں ہوتی اُسے کرپٹ کرنے کے لیے کرپشن کے ماہر کو سربراہ بنانے سے وہ ادارہ کرپٹ ہوجاتاہے۔

ملک میں جمہوری تماشا ہویاآمرانہ نظام، صدارتی طرزہو، پارلیمانی غریب آدمی کو تو روٹی سے سروکار ہوتا ہے۔

فوج حکم کی پابند ہوتی ہے اصل ذمہ داری پالیسی سازوں کی ہے کہ وہ ہرقسم کے حالات میں ملک کے مفاد کو مدنظر رکھیں۔

ملک میں بہت کم سیاستدان ایسے ہیں جنہوں نے قرضوںکی گنگامیں ہاتھ نہ دھوئے ہوں۔

قومی دولت کی لوٹ مار میں سیاستدانوں اوربیوروکریسی کے علاوہ کچھ دیگرطبقے بھی ننگے ہیں۔

اپنے ماتھے پرشرافت کاجھومرسجانے والوں سے عام سوسائٹی کا کوئی فردیہ نہیں پوچھ سکتاکہ جناب آپ کے اس ٹھاٹھ باٹھ کا راز کیا ہے۔

قوموں کی زندگی میں بعض فیصلے صحیح اوربعض غلط ہوتے ہیں اس کا مطلب ہرگزیہ نہیں کہ سب کچھ لپیٹ دیاجائے۔

معیشت میں بہتری کے لیے محصولات کے نظام کو ازسرنو منظم کرنے اورجدیدتقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلمانوں نے جب بھی قرآن پاک سے رشتہ جوڑکرراستہ تلاش کیاوہ معزز، سربلنداورخوشحال ہوئے۔

آئی ایس آئی اور پاکستان لازم وملزوم ہیں پاکستانی قوم آئی ایس آئی کومضبوط دیکھناچاہتی ہے۔

ان منتخب جملوں سے ایس کے نیازی کی سوچ اور ان کی فکر کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے جبکہ کالموں کے عنوانات سے بھی بہت کچھ آشکار ہوجاتا ہے۔ ایک کالم کاعنوان ہے۔ ’’اٹھاریں ترمیم۔ میں سپریم کورٹ کیوں گیا؟‘‘ جس کا اقتباس ملاحظہ ہو۔

’’اٹھارویں ترمیم ایک آئینی معاملہ تھا اور ہمارے ہاں عوام الناس کی اکثریت آئینی موشگافیوں سے لاتعلق رہتی ہے اور اسے کچھ زیادہ خبر نہیں ہوتی کہ معزز ایوانوں کے ساکنان کیا کر رہے ہیں۔ جب اٹھارویں ترمیم پارلیمان سے اذنِ باریابی پا کر آئین کا حصہ بنی تو میں نے اس کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا، اوراس معاملے میں ’ان پرسن‘ پیش ہو کر دلائل دیے۔ کیونکہ میں اپنے عشروں پر محیط صحافتی تجربے کی بدولت یہ دیکھ رہاتھاکہ اس ترمیم کے اندروہ مسائل ہیں جو شاہراہ ِ حیات پر سفرکے دوران ہمارے قوم بوجھل کردیں گے۔ اتفاق دیکھئے آج وہ مسائل دھیرے دھیرے سے ہی سہی لیکن قوم کے سامنے آناشروع ہوگئے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ابھی بھی ان پر عوام الناس میں اس طرح سے بات نہیں ہو رہی اور بحث کادائرہ سیاسی اشرافیہ تک محدود ہے یامعاشی ماہرین تک۔ اٹھارویں ترمیم پر سیاسی اشرافیہ کرویہ بھی عجیب سا ہے۔ کہاجاتاہے کہ اس میں تبدیلی نہیں ہونے دیں گے اوردھمکی دی جاتی ہے کہ تبدیلی کی گئی توملک کی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی۔ یہ فضول رویہ ہے ملک کسی مدہوش کے ہاتھ کاجام نہیں کہ گرکر ٹوٹ جائے گا۔ یہ شہداء کے مقدس لہو کی امانت ہے۔ غازیوں کے جواں جذبے اسے سلامت رکھیں گے۔ انشااللہ۔‘‘

کیا آج اٹھارویں ترمیم کے مضمرات سامن نہیں آرہے۔ اسی ترمیم کے ذریعے نوازشریف کے تیسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوئی اسی لیے ان کی پارٹی نے بھی اسے سپورٹ کیا۔ ملک کے معاشی بحران کی بنیادی وجہ اٹھارویں ترمیم ہے۔ ملکی ریونیو کا ایک بڑاحصہ اب صوبوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ وفاق کے پاس کچھ بچتاہے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے بھی اس پر تحفظات ظاہرکیے ہیں۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات اوراس ترمیم میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ پھرمشرقی پاکستان کو کیوں الگ کیا گیا۔ انہیں یہ اختیارات دے دیے جاتے جو آج صوبوں کوحاصل ہیں، ملک تو نہ ٹوٹتا۔

تبصرے میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔ چندکالمزکے صرف عنوانات سے کتاب کی اہمیت کا اندازہ کیاجاسکتاہے۔

’چیئرمین نیب کی ثابت قدمی وقت کی ضرورت‘‘، ’’آئی ایس آئی پاکستان کی سلامتی کی ضامن‘‘، ’’جی ایچ کیوپردہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ناکام بنانے پر پاک فوج کی عظمتوں کو سلام‘‘، ’’کپتان، توقعات اور امکانات‘‘ تین قسطوں پرمبنی ’’عمران خان کاپاکستان، کل، آج اور مستقبل‘‘، ’’ظفرمند باپ کا ظفریاب بیٹا۔ بیرسٹرعلی ظفر‘‘، ’’18ویں ترمیم بارے سپریم کورٹ کے دوررس فیصلے نے ملک کوبحران سے بچالیا‘‘، ’’ قومی مفاد کو مقدم رکھیں‘‘، ’’ملک کاسب سے بڑامسئلہ، کرپشن، کرپشن اورکرپشن‘‘، ’’ مظامین قرآن حکیم۔ فہم قرآن کاقابلِ ستائش شاہکار‘‘، ’’میمو اسکینڈل منصور اعجاز واحد گواہ جوپاکستانی نہیں ہے‘‘ اور ’’وکی لیکس کے چیف جسٹس آف پاکستان کے علاوہ ملک کی تمام اہم شخصیات کے بارے میں ناخوشگوار انکشافات‘‘

یہ تمام عنوانات کتاب کی اہمیت اوردلچسپی کوواضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔ کتاب میں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ حلقہ احباب ایسی کتاب ہے۔ جسے ہراس شخص کوپڑھناچاہئے جسے پاکستان کی فلاح اور بقاسے دلچسپی ہے۔ کتاب میں وزیر اعظم عمران خان نے انیس سوترانوے سے ستانوے تک روزنامہ پاکستان میں شائع شدہ کالمز بھی دیے گئے ہیں۔

آخر میں عمران خان کے کالمزسے عائشہ مسعود کے چنے ہوئے چندجملے پیش ہیں۔

چندسال قبل شکاگوکے میئرکی اس لیے چھٹی کروادی گئی تھی کہ سڑکوں پرجمی برف اٹھوانے میں ایک گھنٹہ تاخیرہوگئی تھی۔

وزیراعظم باصلاحیت لوگوں کواہم عہدوں پرفائز کرنے کامتحمل نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ ان کے اقتدارکے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

ریاست مدینہ کے قیام کے بعد مسلمان عظیم ترین تہذیب کی پہچان بنے لیکن کیایہ غیرملکی سرمایہ کاری کا کمال تھا؟کیایہ بیرونی قرضوں کا اعجاز تھا؟ یاتیل کے ذخائر نکل آئے تھے؟ مندرجہ بالاعوامل میں سے کسی ایک کا بھی وجودنہیں تھا۔

آزادی سے لیکرآج تک خوداپنے پاؤں پرکھڑا ہونے کی بجائے ہم نے ہمیشہ غیرملکی امداد اورقرضوں پرانحصارکیااورنتیجے کے طور پراپنی آزادی اورخودمختاری کوخطرے سے دوچارکردیا۔

ضروری گھریلواستعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ بجلی، تیل اورگیس کے نرخوں میں اضافہ قیامت صغریٰ سے کم نہیں۔

مساویانہ ٹیکس سے مراد ہے کہ ٹیکسوں کابوجھ ان طبقوں پرپڑے جوانہیں اداکرنے اوربرداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عمران خان کے یہ چند کالم ان کی حکومت کے لیے رہنمااصول ثابت ہوسکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ ان پرعمل بھی کریں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20