بلوچستان بلوچستان ——– ڈاکٹر فرحان کامرانی

0

ہمارے ملک میں اکثر ہی بلوچستان کی محرومیاں لوگوں کے دل میں عجیب و غریب درد سا پیدا کردیتی ہیں۔ پھر کبھی اس محرومی کو دور کرنے کا طریقہ یہ نکالا جاتا ہے کہ چیئرمین سینٹ بلوچستان سے لایا جاتا ہے اور کبھی وزیر اعظم۔ عموماً یہ کوششیں غیر فطری قسم کی ہوتی ہیں۔ پھر کوئی انجینئرنگ کر کے وہاں کے لوگوں کو ملک کے مرکزی اسٹیج پر لایا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس طرح کی انجینئرنگ کیا واقعی کسی صوبے یا کسی لسانی گروہ کے احساس محرومی کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے؟ اِس سوال کا جواب جاننے کے لئے بلوچستان اور دیگر صوبائی اور لسانی اکائیوں کے احساس محرومی پر غور کرنا ضروری ہے اور اس بات کا اندازہ لگانا بھی ضروری ہے کہ اس طرح انجینئرنگ کر کے لائے گئے افراد احساس محرومی میں کمی میں کتنے معاون ثابت ہوتے ہیں؟

بلوچستان کا احساس محرومی کل پیدا نہیں ہوا۔ یہ احساس اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود پاکستان۔ اسکا ۷ دہائیوں پر محیط پس منظر ہے جسے جاننا اِس کو سمجھنے کیلئے بہت ضروری ہے۔ 1947 میں جب ہند سے انگریز گئے تو ملک میں تین قسم کے ریاستی انتظامات موجود تھے۔ انتظامی طور پر وہ علاقے جو مرکزی حکومت کے زیر فرمان تھے، جہاں برطانوی ہند کی پولیس اور قانون نافذ تھا، جہاں ہند کا سکہ چلتا تھا۔ پھر ’پرنسلی اسٹیٹس‘ یعنی کسی راجہ و نواب کی ریاستیں جو برطانوی ریذیڈنٹ کی نگرانی میں ہوتیں۔ برطانوی راج کو خراج اور لگان دیتیں اور اپنے اندرونی معاملات میں خود مختار ہوتیں اور تیسرا انتظام آزاد علاقہ جات کا تھا جو شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا) اور بنگال چکمہ قبائل کے علاقہ جات میں تھے۔ پورے ہی ہند میں ہندوستان یا پاکستان میں شامل ہونے کے برطانوی فارمولے میں ہی خرابی تھی۔ عام ہندوستان کے لئے تو وہی اکثریت کا قاعدہ مانا گیا کہ جہاں ہندو کی اکثریت ہے وہ ہندوستان اور جہاں مسلم کی اکثریت ہے وہ پاکستان مگر پرنسلی اسٹیٹس کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو ہند کا حصہ بنیں اور چاہیں تو پاکستان کا۔ بلوچستان کا اکثر علاقہ تو پاکستان کا حصہ بنا مگر قلات کے معاملات تھوڑے جدا تھے۔ اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ خان آف قلات کی ریاست جبراً اسی طرح پاکستان میں شامل ہوئی (کم و بیش) جیسا کہ ہند نے حیدرآباد دکن پر قبضہ کیا۔ خیر تب بات دب گئی۔ ویسے بھی عوام کون سا اِن نوابوں سے کوئی ایسی محبت کرتے تھے کہ اِس بات کو دل میں لے کر بیٹھ رہتے۔ مگر یہ بات تب نہیں اِس کے کافی عرصے بعد 70 کی دہائی میں بلوچ قوم پرستوں کو یاد آگئی۔ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا۔ پھر اِس صوبے میں معدنیات کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں اور اِس کا جائے وقوع ایسا ہے کہ چین کو دنیا سے جوڑنے والی سڑک میں یہ اہم ترین صوبے کا درجہ رکھتا ہے مگر معاملہ یہ ہے کہ اِس صوبے میں غربت بہت اور سہولتوں کا بے پناہ فقدان ہے۔ صوبہ پنجاب جہاں کی آبادی الحمدُللہ خرگوشوں کی طرح بڑھتی ہے، بڑی تیزی سے بلوچستان میں آبادگاروں کی صورت میں سرایت کر رہا ہے۔ اب جب اتنی بڑی تعداد میں پنجابی ہر روز بلوچستان میں وارد ہو رہے ہیں، مزدوری کر رہے ہیں، زمینیں خرید رہے ہیں تو ایک چھوٹی قوم میں تشویش پیدا ہونا لازمی بات ہے مگر ظاہر ہے کہ پنجابی بھی پاکستان کے شہری ہیں اُن کو کسی بھی صوبے میں بسنے سے روکا تو نہیں جا سکتا؟ اس معاملے کا ایک بہت آسان حل موجود ہے، اگر ملک کے مقتدر طبقات خصوصاً اسٹیبلشمنٹ اِس کو سنے۔

سب سے پہلے تو بلوچستان کی پولیس اور سول اداروں کو بلوچستان کے مستقل رہائشیوں یعنی بلوچوں اور بلوچستان کے پشتونوں پر مبنی ہونا چاہئے۔ دوئم بات یہ ہے کہ فوج میں بھی بلوچستان کے مستقل باشندوں کو جگہ دی جائے اور رفتہ رفتہ بلوچستان میں وہیں سے بھرتی ہوئی فوج کو رکھا جائے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کو پنجاب، کشمیر اور سندھ کی طرف تعینات کیا جائے۔ سوئم بات یہ کہ بلوچستان میں سات پشتوں سے آباد لوگوں کو خصوصی کارڈ دیے جائیں۔ اب بلوچستان میں صرف یہی لوگ کاروبار کر سکیں اور اِس مستقل رہائشی ہونے کے کارڈ کے علاوہ اگر کوئی (جیسے کوئی لاہوری، کراچی والا) وہاں کاروبار کرنا چاہے تو اُسے کسی مستقل مقامی کو اپنا ’کفیل‘ بنانا لازمی ہو۔ یہ وہی نظام ہے جو کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں میں موجود ہے۔ اسی طرح کے نظام کی صورت میں اگر 70 فیصد بھی غیر بلوچ بلوچستان میں آ گئے تو بھی کسی ایک بھی بلوچ کو وہ لوگ ناگوار نہ گزریں گے بلکہ رحمت معلوم ہوں گے اور مستقبل میں بلوچستان جس قدر ترقی کر سکتا ہے (جتنے وہاں امکانات موجود ہیں) تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ عرب ریاستوں کی جگہ اپنے ہی وطن کے صوبہ بلوچستان کا رخ کریں۔ ویسے یہ رائے جو میں نے بلوچستان کے احساس محرومی کے خاتمے کے لئے اوپر بیان کی ہے، اِس سے بہت سے لوگوں کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ صرف کسی ایک شخص کو چیئرمین سینیٹ بنا دینے یا کسی ایک کو کٹھ پتلی وزیر اعظم بنا دینے سے بلوچستان کے احساس محرومی پر کوئی اثر کیسے پڑ سکتا ہے؟ ایک انسان کو علامتی مقام دینے سے بہت بڑی بات ہو گی کہ سارے ہی صوبے کے عوام کو ایسے مواقع دیئے جائیں جو کہ اُن کی حیات میں مثبت بہتری لا سکیں۔ یادش بخیر ہمارے ملک کا صوبہ پنجاب (جو مغربی پاکستان کا حقیقی پاور ہاؤس تھا) صوبہ مشرقی پاکستان کو 55 فیصد آبادی رکھنے کے باوجود بھی برابری کے اصول کے تحت 50 فیصد حصہ دیتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ 1971 تک لاگو اِس اصول برابری کا مطالبہ اگر آج بلوچستان، سندھ اور خیبر پختون خوا بھی پنجاب سے کر دیں تو کیا وہ یہ قربانی دے سکے گا جو وہ عرصے تک صوبہ مشرقی پاکستان سے لیتا رہا ہے؟ بلوچستان اور دیگر چھوٹے صوبوں کی کٹھ پتلیوں کو علامتی رتبے دے کر تالیاں پٹوا لینا تو بہت آسان کام ہے مگر جب حقیقی طور پر حقوق دینے کی بات آتی ہے تو پنجاب کا رویہ ایک معروف حکایت کے بڑے بھائی کا سا ہوتا ہے جس نے باپ سے ملنے والی میراث اپنے چھوٹے بھائی سے کچھ اِس طرح تقسیم کی تھی کہ چادر رات کو اُس کی ہوتی اور دن میں چھوٹے بھائی کی۔ درخت کا نچلا حصہ چھوٹے بھائی کا تھا یعنی اُس کو اِس کی جڑ میں پانی ڈالنا پڑتا مگر اوپر کا حصہ بڑے بھائی کے حصے میں آیا تھا یعنی پھل وہ کھاتا۔ اسی طرح گائے کا اگلا حصہ چھوٹے بھائی کا تھا یعنی چارہ وہ کھلاتا اور پچھلا حصہ بڑے بھائی کا تھا جس کی وجہ سے دودھ اُس کے حصے میں آتا اور جب بڑے بھائی سے اِس ناانصافی پر بازپرس کی جاتی تو وہ چھوٹے بھائی کو چیئرمین سینیٹ بنا دیتا۔ کہانی میں تھوڑے سے تصرف پرمعذرت مگر اصل کہانی میں کیا ہوا تھا وہ سب جانتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20