ادب سے بے گانگی کا المیہ ——– عبد الخالق سرگانہ

0

پچھلے دنوں ملک کی ایک ممتاز ادیبہ اور دانشور نثار عزیز بٹ کا لاہور میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے پانچ ناول لکھے اور ’’گئے دنوں کا سراغ‘‘ کے نام سے کافی ضخیم آب بیتی لکھی۔ محترمہ نثار عزیز بٹ جناب سرتاج عزیز کی بڑی بہن تھیں ظاہر ہے انہوں نے آب بیتی میں سرتاج صاحب کا کافی ذکر کیا۔ وہ انہیں گھریلو نام ’’تاجی‘‘ کہہ کر مخاطب کرتی تھیں۔ انہوں نے صرف کتابیں نہیں لکھیں بلکہ کئی عالمی کانفرسوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی مجھے ان سے ملنے کا مشرف تو حاصل نہیں ہو سکا لیکن اُن کی آب بیتی بڑے ذوق شوق سے پڑھی ہے۔ ناول البتہ نہیں پڑھ سکا کیونکہ طبعاً فکشن پڑھنا مجھے مشکل لگتا ہے یہ ضرور ہے کہ آگ کا دریا اور اداس نسلیں جیسے ناول تو بہرحال پڑھنے پڑتے ہیں۔ اُن کی شادی ریڈیو کے ایک افسر اصغر بٹ صاحب سے ہوئی جو اُس وقت پشاور ریڈیو میں کام کرتے تھے اگرچہ اُن کا تعلق لاہور سے تھا۔

اتفاق کی بات ہے کہ ’’اداس نسلیں‘‘ کے مصنف جناب عبداللہ حسین کا انتقال بھی کچھ عرصہ پہلے ہوا ہے۔ عبد اللہ حسین میانوالی جیسے بے آب و گیاہ علاقے عیسیٰ خیال میں ایک فیکٹری میں کام کرتے رہے ہیں بعد میں وہ لندن منتقل ہو گئے۔ انہوں نے کئی اور ناول بھی لکھے تاہم ’’اداس نسلیں‘‘ ہی اُن کا صحیح تعارف ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر اُن کے جنازے کی روداد پڑھ کر دکھ بھی ہوا اور تعجب بھی لکھا تھا کہ اتنے بڑے آدمی کے جنازے میں سو پچاس لوگ تھے۔ جنازے کے بعد وہ اِدھر اُدھر دیکھتے رہے کہ مرحوم کا افسوس کس سے کریں۔ عبداللہ حسین کا کوئی عزیز دستیاب نہیں ہوا تو لوگ ایک ایک کرکے چلے گئے کیونکہ مرحوم کا ایک بیٹا تھا جو لندن سے بروقت پاکستان نہیں پہنچ سکا۔ چند اور لوگوں کے علاوہ مستنصر حسین تارڑ اُن سے قریبی دوستی کی وجہ سے قبرستان میں موجود تھے۔ مرحوم کی ادبی خدمات پر بھی بہت کم لکھا گیا۔ اور پھر محترمہ نثار عزیز بٹ کی وفات کی خبر تو غالباً صرف ڈان اور نوائے وقت نے دی۔ نوائے وقت کے مالک مجید نظامی سے اُن کے خاندان اصغر بٹ کی رشتے داری تھی اور ڈان میں وہ کالم لکھتی رہی ہیں۔جنگ اور دنیا جیسے اخبارات میں ان کی خبر نہ چھپی۔ کسی چینل پر بھی کم از کم میں نے اُن کے بارے میں کچھ نہیں سنا البتہ لاہور کی ایک اداکارہ نگہت بٹ کے بارے میں ایک آدھ ٹیلی ویژن چینل اور کئی اخبارات میں تفصیل سے ذکر کیا گیا۔ نثار عزیز بٹ پر ہمارے مہربان مسعود اشعر نے جنگ میں بہت اچھا کالم لکھا۔ اُن کا کالم غنیمت ہے کہ وہ ہمیشہ علمی ادبی موضوعات کا بہت اچھا احاطہ کرتے ہیں۔

لیکن مجھے اس بات سے بڑا افسوس ہوا کہ ہمارے قومی اخبارات میں علم و ادب کے شعبے کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ ملک میں ادبی فیسٹیول کا رواج چل نکلا ہے اُس کی خبریں بہرحال آتی ہیں۔ آج معاشرے میں جو افراتفری مایوسی اور بے چینی ہے خواہ اُس کی کوئی بھی وجہ ہو ایسے ماحول میں ذہنی سکون اور ٹھہرائو کے لئے علمی ادبی سرگرمیوں میں اضافے کی بڑی ضرورت ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری نئی نسل انگریزی پڑھنے کی وجہ سے اُردو سے دور ہوتی جا رہی ہے وہ کچھ انگریزی کتابیں پڑھ لیتے ہیں وہ بھی ایک اچھی بات ہے لیکن اُردو سے دوری کے نتیجے میں وہ ادبی ورثے سے دور ہو رہے ہیں اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ من حیث القوم ہم پر سیاست بری طرح سوار ہے۔ سیاست ہی کالموں اور ٹی وی سکرینوں کی زینت ہے جیسے ہمارے ہاں کوئی اور مسئلہ ہی نہیں۔ سیاست کی ہیوی ڈوز کی وجہ سے سوسائٹی تقسیم ہو گئی ہے جہاں چار آدمی بیٹھتے ہیں وہاں سیاست پر گفتگو شروع ہو جاتی ہے جس سے محاذآرائی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جو اچھا شگون نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20