مولانا وحیدالدین خان: ایک تاثر —– اعجازالحق اعجاز

0

مولانا وحیدالدین خاں نے ایک مرتبہ پھر علامہ محمد اقبال کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے ان کے چاہنے والوں کا دل دکھایا ہے۔

مولانا کا المیہ یہ ہے کہ ان کی تمام تر حکمت و دانائی اور عقلیت پسندی انھیں دین کی اصل رمز سے بھی دور رکھے ہوئے ہے اور راز حیات سے بھی، اس لیے وہ دانائے راز کو سمجھنے سے معذور ہیں۔ اقبال تو ایک طرف انھوں نے پیغمبر اسلام اور امام حسین سے لے کر امام ابو حنیفہ، مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ جیسے اکابر کا مقام گرانے کی کوشش کی ہے۔

اسلام ان کے نزدیک مکمل ضابطہ حیات نہیں۔
حضور کی سیرت ان کے لیے اسوہ کاملہ نہیں۔
مولانا کا دین دین نہیں بلکہ عشق کی رمز سے خالی ایک بت کدہ تصورات ہے۔
ظلم کے خلاف مزاحمت ان کے نزدیک جرم ہے۔
اسلامی بیداری اور مزاحمتی تحریکیں ان کے نزدیک قابل گردن زدنی ہیں۔
بابری مسجد کی شہادت پہ انھوں نے بغلیں بجائیں۔
کشمیری تحریک ان کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے۔ بلکہ ان کے نزدیک کشمیری سنگین جرم کر رہے ہیں اور انھیں بھارت سے معافی مانگنی چاہیے۔
روہنگیا میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے بہیمانہ سلوک پہ وہ میانمار کی ظالم حکومت کے ساتھ کھڑے پائے گئے۔

وہ جس حکمت و دانائی کی تبلیغ فرماتے ہیں وہ دراصل گوسفندی اور پرلے درجے کی مصلحت پسندی ہے۔ وہ قیام پاکستان، قائداعظم اور اقبال کے مخالف ہیں۔ ان کی مصلحت اندیشی انھیں یہ سکھاتی ہے کہ بے خطر آتش نمرود میں کودنے کی بجائے محو تماشائے لب بام رہ کر نمرود کو سراہنا چاہیے۔ وہ استعماریت اور مغرب کی جبہ سائی کی تلقین فرماتے رہتے ہیں۔ ان کا ترقی کا تصور بھی سطحی ہے یہ ترقی فقط مادی ترقی ہے اور اس ترقی کو دیکھ کر جو نکات بڑی دانشمندی سے لاتے ہیں ایک ادنی عقل والا بھی یہی نصیحتیں کرتا نظر آتا ہے۔

جب بھی حسین و یزید برسرپیکار ہو گا یہ یزید کے کیمپ ہی میں پائے جائیں گے۔ افغانستان میں امریکی جنگ میں یہ امریکہ کے حمایتی ہیں کہ وہ ٹھیک کر رہا ہے۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین ان کی مدح کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔ عقل کا یہی ورژن ہے جس کی اقبال مخالفت کرتے ہیں جو ظالم کے سامنے گھٹنے ٹیکنا اور خودغرضانہ مصلحت کوشی سکھاتی ہے۔ پابستگی رہ و رسم عام ہی کو وہ حکمت و دانائی سمجھتے ہیں۔

مولانا کو دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے کہ اقبال کی طرف سے عقل کے اس ورژن کی مخالفت ٹھیک ہی تھی۔ مولانا کی عقل انھیں یہ بھی باور کراتی رہتی ہے کہ وہ عقل کل ہیں اور اپنی جماعت کا درجہ وہ صحابہ کرام کے درجے سے جا ملاتے ہیں۔ نرگسیت ان کی رگ رگ میں ہے۔ اقبال کے فلسفہ خودی اور بے خودی کی الف ب بھی نہیں جانتے اور اسے غرور و تکبر پہ محمول کرتے ہیں جو کہ فلسفے سے ان کے نابلد ہونے کا ثبوت ہیں۔ اقبال جس انفرادی و قومی خودی و حمیت کا درس دیتے ہیں وہ مولانا کے فریم آف ریفرنس سے کوسوں دور ہے۔ اقبال ٹھہرے شاہینی کے علمبردار اور یہ ہیں گوسفندی و میشی کے پرستار۔ مولانا کو چاہیے کہ ہر آئے روز بھاشن دینے کی بجائے آرام فرمائیں کہ یہ ان کی عمر کا تقاضا ہے۔

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20