احمد جاوید صاحب سے میرا تعارف —– مبشر حسین چاک

0

بات شروع ہوتی ہے قاضی قیصر الاسلام کی کتاب “فلسفہ کے بنیادی مسائل” سے کہ جس میں مختلف فلاسفہ کے فکر نظریات و نتائج اور مذہب پر مباحث کی گئی ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ کے دوران اس کے اسلوب بیان، زبان کے جوہر الفاظ اور ان کے معانی کو سمجھنے کے لیے عقل نے اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال میں لا کر حقائق کی وضاحت کو قبول کرنے کا جو مزاج اپنایا اور ذہن کا نامعلوم اور مشکل بات کی کشش کی طرف بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور الفاظ کی وجودی گہرائی کے ساتھ اچھا تعلق پیدا کرنے کی تشنگی گویا دن بدن بڑھتی ہی چلی گئی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ جب میں مطالعہ سے فراغت پاتا تو اس وقت کی میری ذہنی کیفیت چند لمحے پہلے گزرے مطالعہ کے اس سابقہ تجربے کو مستقبل میں میری عملی تشکیل کے ڈیزائن کو فعال کنڈیشن فراہم کرنے کا سامان کرتی۔

میرے اندر چونکہ اک بڑا آئیڈیا وارد ہو چکا تھا اور علم کم یعنی کہ نہ ہونے کے برابر تھا اس کم علمی اور بڑی آئیڈیالوجی نے میرے اندر ایک اضطرابی کیفیت طاری کردی تھی۔ زندگی کی سطحی مسرتیں عارضی لذتیں اور بے معانی مصروفیات رکھنے والی صحبتوں اور محافل نے اس تذبذب کی حالت کو مزید جنوں بخشا۔ خیر سفر جاری رہا اور ایک روز شام کے وقت ٹی وی پر “نکتہ” نامی ایک پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں وحی شعور علم و عقل، قلب و نظر انسانی جبلت اور زمان و مکاں پر گفتگو ہو رہی تھی۔ اس مفصل گفتگو کے دوران جہاں امام غزالی، افلاطون، ابن رشد، ابن العربی، مولانا روم، ہیگل، کائٹ، رسل، آئن سٹائن، فرائڈ اور اقبال کے حوالہ جات دیے جا رہے تھے وہاں ایک نام احمد جاوید صاحب کا بھی آیا۔ اس سوالاً جواباً گفتگو کے دوران ان کا ایک قول نقل کیا گیا تھا۔ یہ نام میرے لیے بالکل نیا اور اجنبی تھا اور سب اہم دلچسپ اور پُرتجسس بات جس نے مجھے چھان بین کی طرف راغب کیا یہ تھی کہ یہ نام اپنی وضع قطع کے اعتبار سے اسی خطے کا معلوم ہوتا تھا۔

احمدجاوید صاحب دورِحاضر کے شاعر، زیرک نقاد، دانش ور اور ہمہ جہت علمی شخصیت ہیں آپ کی قومی دینی اور عالمی معاملات پر گہری نظر ہے ادب مذہب تصوف علم الکلام اور فلسفہ آپ کی دلچسپی کے اصل میدان ہیں آپ ماہرِ اقبالیات ہیں فارسی اردو اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔

چونکہ انسان شک و حیرت، فکر و منصوبہ بندی جیسی فطری چیزوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا کیونکہ انسانی طبائع کی یہ صورت اپنی ماہیت کے اعتبار سے بنیادی طور پر فکری ہے۔ یہی رجحانِ فکر مجھے احمدجاوید صاحب کی طرف لے گیا کہ جہاں بڑی سوجھ بوجھ زیادہ علم اور ایک بہترین دانشمندی تھی۔ میں نے یوٹیوب پر سب سے زیادہ احمد جاوید صاحب کو ہی سرچ کیا ہے اور یہ عرصہ میرا یوٹیوب پر سب سے بہترین مُصرف رہا ہے۔ ابن العربی کی فصوص الحکم، فریدالدین عطار کی منطق الطیر، مولانا روم کی مثنوی و غزلیں، میر کی شاعری، غالب کا تخیلِ جمال، ن۔م راشد اور جون ایلیا پر نشستیں، مذہبی ذہن اور دورِ حاضر، تعلم اور اخلاق، دورِ جدید میں ہماری کوتاہیاں، تزکیہ اور جمال، تصورِ خدا، دورِ حاضر میں الحاد و تشکک کی لہریں اور ان کا سدِباب اور تصوف پر دیے گے آپ کے سیرحاصل لیکچرز ویڈیوز کی صورت میں یوٹیوب پر موجود ہیں۔

اقبال کی بہت سی شاعری اور خاص طور پر نعتیہ نظم ذوق و شوق میں اقبال کا نظریاتی فہم میں رہتے ہوۓ خیال اور احساس کی فرق کو یکجا کرکے جمالیاتی شعور کی فعال حالت کو حالتِ حُضور میں لاکھڑا کرنے والے الفاظ کی بناوٹ اور ان کے معانی کے فُل فِلمنٹ ہونے اور اس کے علامتی پیٹرن کی ایکسپلینیشن میں آپ کے اسلوبِ بیاں اور جملوں کی بناوٹ سے ان حقائق کو میرے لئے دلکش بناکر میری جمالیاتی حِس کی تسکین اور شعور کی تشکیل و تکمیل میں ایک معاون قوت ہونے کا احساس پیدا کیا۔ نیز اقبال کا فلسفہِ خودی، مذہبی تجربہ اور زمان و مکاں سے متعلق اقبال نقطہِ نظر بماۓ خطباتِ اقبال سے اقتباس و حوالاجات کے ساتھ ان سیرحاصل لیکچرز کو ان کے موضوع کے اعتبار سے دیگر کتابوں اور مُصنفین کے حوالاجات کو بھی گفتگو میں شامل کر کے اس کے لطف کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

ایک جگہہ ذہن کی قوت، طعبیت کی رغبت و کراہت پر گفتگو کے دوران فطرت کو زیربحث لاتے ہوتے فرماتے ہیں کہ: “فطرت گیلی مٹی ہے اور نبی آکر اس مٹی سے حوضِ کوثر میں ڈالے جانے والے کوزے بناتا ہے” اس جملے نے گویا مجھ پر لبرلزم کے جو تھوڑے بہت مُضر اثرات تھے انہیں تہہ تیغ کر دیا اور میرے شعور کو ایکٹو ترین حالت میں سیرت النبیﷺ کی طرف راغب کیا۔ مذہب کا ایمان کے درست بیان اس کے درست ادراک اور بہترین اظہار کے ساتھ شعور کو اس کی تمام تبدیل شدہ حالتوں میں سیراب رکھنے کی ضامن یعنی کہ شعور کی بہترین حالتوں میں لازمی طور پر کفیل ہونے والی قوت جیسی اصطلاح کے استعمال نے دورِ حاضر کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوۓ میرے عمل کے لئے بہترین فعال کنڈیشن کو متعارف کروایا۔

مختصر یہ کہ مسلم روایت کے اکابرین میں سے وہ چند شخصیتیں جن سے میں ملنا چاہتا تھا یا جن کی صحبتوں سے فیض یاب ہونے کی حسرت تھی یا پھر جنہیں میں دیکھنا چاہتا تھا مگر نہیں دیکھ سکا، احمد جاوید صاحب کو دیکھنے کے بعد یوں محسوس ہوا کہ جیسے وہ سب صورتیں یکجاں ہو کر ایک زندہ مجسم کی صورت میں میرے سامنے موجود ہوں۔ گویا کہ وہ تمام شخصیتیں آپ کی ذات سے جلوہ نمائی کر رہی ہوں اور آپ کو دیکھنے سے خیر اور نیکی کی طرف کشش محسوس ہو رہی ہے۔

اور مختصر یہ کہ اگر آپ خود کو متاثر کرنے کی نیت سے اپنی روایت کے ذوقی اور علمی تسلسل کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ احمد جاوید صاحب سے دوچار نشستیں ضرور رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں: دانشِ عصر: احمد جاوید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گفتگو: خرم سہیل- حصہ 1
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20