بتاوں کہ آپ کو تکلیف کیا ہے ——- خرم شہزاد

0

یار جوڑی کچھ بیلنس نہیں لگ رہی، مجھے تو لڑکی بڑی عمر کی لگ رہی ہے۔ (لڑکیوں کے تبصرے)۔
ابے یار اب بچے بھی شادیاں کرنے لگ گئے ہیں، اس بچے نے تو بڑی تیزی دیکھائی اور قسمت دیکھ اس بچے کی۔ (کچھ لڑکوں کے تبصرے)۔

ویسے تو لڑکے کی عمر اٹھارہ ہو گی کیونکہ اس سے کم عمر کی شادی پر قانونی گرفت ممکن ہے لیکن کیا ایسا نہیں لگتا کہ لڑکی نے اس چھوٹے بچے کو قانونی طور پر گود لے لیا ہے۔ (کچھ واہیات تبصرے)
بھئی ایسی شادیوں کے پیچھے انٹرنیٹ کی آنلائن دنیا ہی موجود ہوتی ہے جہاں ایسے رشتے ترتیب پاتے ہیں ورنہ حقیقت میں دیکھ بھال کر کہاں ایسی شادیاں ہوتی ہیں۔ (کچھ دل جلے تبصرے)

بس اب یہ خرافات رہ گئیں تھیں کہ دولہا اور دلہن خود اپنی ہی شادی میں ناچیں، لو جی اب وہ بھی پوری ہوئیں۔ پہلے ناچنے والیاں باہر سے منگوائی جاتی تھیں اور کھانا گھر پر پکتا تھا، پھر کھانا باہر سے پکنے لگا تو گھر والیاں ناچنے لگ گئیں لیکن دولہا دلہن کے ناچنے کی کمی تھی، وہ بھی اس طرح کی شادیوں سے پوری ہو گئی۔ خدا خیر کرئے کہ اب اور کیا کیا دیکھنے کو ملے گا۔ (کچھ ساڑ پھونکتے ہوئے تبصرے)

یوم یکجہتی کشمیر پر پاکستان کی آن لائن کمیونٹی کو ـــ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کی پوسٹیں لگانے کے بعد دوسرا سب سے اہم کام اسد اور نمرہ کی شادی پر بحث کرنا، شادی کی تصاویر اور وڈیوز کو وائرل کرنا تھا۔ ویسے تو یہ شادی بھی پاکستان میں ہونے والی دوسری ہزاروں لاکھوں شادیوں کی طرح ایک شادی ہی رہتی جس پر صرف خاندان اور اہل محلہ (اگر انہیں بلایا نہیں جاتا) بحث کرتے لیکن ہماری امریکی عادتوں نے اس شادی کو سب کے لیے موضوع بنادیا۔ آج کی دنیا میں جب ہر شخص اپنی پرائیوٹ لائف اور پرائیویسی کے بارے بہت حساس ہونے کا دکھاوا کرتا ہے وہیں امریکیوں میں یہ عادت بھی ہے کہ اپنے قبض کھلنے کو بھی ہیش ٹیگ کے ساتھ پوسٹ کرتے ہیں۔ اس عادت کو ہم نے بھی ترقی کی ایک وجہ سمجھ لیا ہے اسی لیے ہم بھی اپنا کھایا پیا سب آن لائن کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں اور اسی مجبوری نے اسد اور نمرہ کی شادی کو وائرل کیا لیکن باتیں کرنے والوں سے سوال ہے کہ بھئی آپ کو تکلیف کیا ہے یہ بتلائیے۔ آپ دونوں میں سے کس کے چاچے مامے لگتے تھے کہ آپ سے پوچھ کر شادی کے لیے ہاں یا ناں کی جاتی، نہ آپ نے سلامی دینی تھی نہ دیگوں کے آرڈر لینے تھے پھر آپ الٹے سیدھے تبصرے کیوں اور کس لیے کر رہے ہیں؟

دراصل ہم ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں بڑھتی ہوئی برائیوں کے جواب میں بالغ ہوتے ہی شادی کی فضیلت اور اہمیت پرہمارے پاس احادیث کی بہترین کلیکشن نہ صرف موجود ہوتی ہے بلکہ ہمیں ازبر بھی ہوتی ہے وہیں اگر کوئی آگے بڑھ کر ایک عملی مثال پیش کرتا ہے تو وہ نو عمر شادی شدہ جوڑا ہماری ہاہ ہائے کی زد میں بھی آ جاتا ہے۔ اسی معاشرے میں جہاں شادی پر ہونے والی ہر دوسری گفتگو جہیز کی لعنت سے گھوم پھر کر لڑکیوں کی بڑھتی عمر کے افسوس تک پہنچ جاتی ہے اور ہاتھوں میں لگائی جانے والی مہندی کے بالوں میں لگائے جانے کا دکھ ہماری زندگیوں کا روگ نظر آتا ہے وہیں ایک نوجوان جوڑے کی شادی بھی ہم سے ہضم نہیں ہوتی لیکن سوال تو پھر وہی ہے کہ بتلائیے آپ کواس شادی سے کیا تکلیف ہے؟

آج جہاں اسکول پڑھتی لڑکی سے بھی اس کی سہیلی بوائے فرینڈ کے بارے پوچھنے اور بات کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتی اور کالج کی تیاری کرتے لڑکے کو کالج پہنچنے سے پہلے چار چھے گرل فرینڈز سے ہیلو ہائے کرنا نہیں بھولتا وہاں ایک نو عمر جوڑے کی شادی پر ہونے والے تبصرے یقینا ہمارے چہروں پر پڑے منافقت کے نقاب کا پتہ دیتے ہیں۔ ہم یقین سے کہتے ہیں کہ شادی کی تصاویر اور وڈیوز وائرل کرنے والوں کی نیت میں ذرا بھر بھی نیکی اور خیر موجود نہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ معاشرے کے ہر دو طبقات اس کار خیر میں شریک ہیں۔ آئیے دونوں کی جلن کی وجہ ڈھونڈتے ہیں۔

ہمارے اردگرد رہنے والے وہ لوگ جو خود کو لبرل، ترقی پسند اور پڑھے لکھے کہتے اور کہلواتے ہیں، وہ ابھی تک اس افسوس میں ہیں کہ ایک ماڈرن گھرانے نے یہ کیا دقیانوسی اور پرانی سوچ والے مذہبی لوگوں جیسا کام کیا کہ زندگی کو شروع کرنے سے پہلے ہی ختم کر لیا۔ بھئی ابھی عمر ہی کیا ہے دونوں کی، آرام سے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق بناتے، ایک دوسرے کو ’انڈر سٹینڈ‘ کرتے، زندگی کو ’انجوائے‘ کرتے، اپنے ’کیرئیر پر فوکس‘ کرتے اور پھر جب کچھ بن جاتے تو بھلے شادی کر لیتے۔ ابھی اس عمر میں ایسی ذمہ داریاں اٹھانے کی بھلا کیا ضرورت تھی کہ اس وجہ سے دونوں اب اپنی تعلیم اور کیرئیر پر فوکس ہی نہیں کر پائیں گے تو بھلا لائف میں آگے کیسے بڑھیں گے۔ زندگی ساتھ گزارنے کے لیے ’میوچل انڈر سٹینڈنگ‘ بہت ضروری ہوتی ہے تھاٹس نہ ملتے ہوں تو زندگی نہیں گزرتی، اور ان دونوں کی چند دن کی ملاقاتوں میں ایسا ریلیشن بھلا کہاں بلڈاپ ہوا ہو گا۔

دوسری طرف معاشرے کا قدامت پسند یا پرانی سوچ والا طبقہ جو خود کو مذہب سے زیادہ جڑا ہوا سمجھتا ہے وہ بھی ابھی تک صدمے میں ہے کہ مذہب کا ٹھیکہ تو ہم نے لے رکھا تھا پھر ایک ماڈرن گھرانے نے ایسا قدم کیوں کراٹھالیا۔ ابھی تو ہم نے معاشرے کی برائیاں گنواتے ہوئے اپنے آپ کو اچھا ثابت کرنا تھا کہ یہ ہم سے بازی لے گئے۔ بوائے فرینڈ گرل فرینڈ کلچر پر ہم نے ہوش ربا اعداد و شمار جاری کرنے تھے کہ یہ لوگ نکاح کر کے آ گئے۔ ابھی تو ہم نے بغیر شادی مرد و زن میں برسوں قائم رہنے والے تعلقات پر قرب قیامت کے آثار بتانے تھے، ماڈرن لوگوں کی اسلام اور مذہب سے دوریوں پر تقاریر کرنی تھیں اور کالجوں یونیورسٹیوں کی تعلیم میں خرابیاں بیان کرنی تھیں کہ یہ ماڈرن بچے ہمارے سارے اعداد و شمار بگاڑتے ہوئے سب خاک کرنے کو آن موجود ہوئے۔ ہائے افسوس کہ اب ہماری باتوں کے جواب میں لوگوں کو مثال دینے کو مل جائے گی۔

ہمیں ماننا چاہیے کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ہر شخص اچھے کام کی تلقین اورخواہش توکرتا ہے لیکن خود اچھا کام نہیں کرنا چاہتا۔ اگر کوئی اچھا کام کرئے تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے بے عزتی کر دی گئی ہے اور ہمیں نیچا دیکھانے کی کوشش کی گئی ہے اس لیے ہم اپنی پوری قوت سے اس کے خلاف محاذ بنا لیتے ہیں۔ نو عمر جوڑے کے لیے ہزاروں نیک تمنائیں کہ انہوں نے معاشرے کے چہرے سے اس نقاب کو اتارا ہے۔ ہمارے کمنٹس پوسٹوں اور وائرل ازم کے پیچھے کچھ اور نہیں بس یہی ایک تکلیف ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20