کچھ معروف و ’مرغوب‘ تاریخی، سیاسی و علمی غلط فہمیاں —- احمد الیاس

0

ہمارے ہاں لوگ مختلف ممالک سے متعلق مباحث میں کچھ بنیادی باتیں بھول جاتے ہیں، ایسی چند بالکل متفرق باتیں:

  1. افغانستان پشتون ملک نہیں ہے بلکہ افغانستان میں پشتونوں کی شرح اس سے بھی کم ہے جتنی کہ پاکستان میں پنجابیوں کی ہے (سرائیکیوں کو پنجابیوں میں سے نکال کر)۔ افغانستان کا سب سے بڑا واحد گروہ پشتون ضرور ہیں لیکن افغانستان کی آبادی کی اکثریت غیر پشتون ہے اور ملک کی قومی زبان فارسی ہے۔
  2. مسلم امہ کی بات کرتے ہوئے اکثر لوگوں کے پیش نظر عرب ممالک ہوتے ہیں۔ مسلم اُمّہ صرف عرب ممالک کا نام نہیں ہی بلکہ تمام عرب مسلمان دنیا کے تمام مسلمانوں کا محض پانچواں حصہ ہیں۔ دنیا کے مسلمانوں کی کثیر اکثریت غیر عرب ایشیائی ہے۔
  3. عرب بھی صرف خلیجی عرب نہیں ہیں بلکہ چھ خلیجی ملکوں کے عربوں کی کل تعداد محض عراق کے عربوں سے بھی کم ہے۔ دنیا کے پینتیس کروڑ عربوں میں سے بمشکل تین کروڑ چھ خلیجی ریاستوں میں رہتے ہیں۔ باقی سب عراق سے مراکش تک متعدد ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں جو تیل کی دولت سے مالا مال نہیں ہیں اور جن کا طرز زندگی اپنے خلیجی ہم زبانوں کی نسبت ہم سے زیادہ ملتا ہے۔
  4. بی جے پی بھارت میں کوئی معمولی حکمران جماعت یا محض کسی ایک ہندو طبقے کی نمائندہ نہیں ہے بلکہ اندرا گاندھی کے بعد سب سے بڑی اکثریت لینے والی اور ہندوستان کے آریائی ہندوؤں کی تقریباً متفقہ نمائندہ ہے۔ بی جے پی صرف یک نکاتی ایجنڈے پر اتنی بڑی اکثریت جیتی ہے اور وہ ہے ایک مخصوص برادری (مسلمانوں) کے خلاف نفرت کا ایجنڈا۔ نیز یہ کہ بی جے پی نفرت کی سیاست اقتدار میں رہنے کے لیے نہیں کرتی بلکہ اس نے اقتدار نفرت کے نظریات کے لیے حاصل کیا ہے جن پر وہ اخلاص سے یقین رکھتی ہے۔ مودی کوئی شخصی ڈکٹیٹر نہیں بلکہ بی جے پی (آر ایس ایس) بطور ایک جماعت کے ڈکٹیٹر ہے، مودی محض اس کے ایک نظریاتی کارکن ہیں۔
  5. ایران ہمیشہ سے شیعہ ملک یا تشیع کا گڑھ نہیں تھا بلکہ اسے شیعہ ہوئے محض پانچ صدیاں ہوئی ہیں۔ اس سے قبل تقریباً ایک ہزار سال تک ایران اہلسنت کا علمی و تہذیبی گڑھ تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں اور ترک مسلمانوں تک (سنّی) اسلام عربوں نے نہیں بلکہ زیادہ تر ایرانیوں نے ہی پہنچایا تھا۔
  6. چین ایک کٹر سیکولر ملک ہے جس کے سیکولرازم میں شک بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہاں آبادی کی کثیر اکثریت کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتی اور ریاستی سطح پر الحاد نافذ ہے۔ لیکن وہاں بڑے پیمانے پر اقلیتوں پر ظلم ہوتا ہے اور مذہبی آزادی ناپید ہے۔
  7. ترکی اتاترک کے آنے پر نہیں بلکہ ۱۹۰۹ میں ینگ ٹرک انقلاب میں ہی سیکولرازم کی طرف گامزن ہوگیا تھا اور پہلی جنگ عظیم میں خلیفہ کی حیثئیت بالکل نمائشی پتلے کی تھی، اصل طاقت ان انتہائی سیکولر قوم پرستوں کے ہاتھوں میں تھی جنہوں نے ان آرمینیائی مسیحیوں کا قوم پرستانہ بنیادوں قتل عام کیا جنہیں خلافت میں چھ سو سال (بلکہ تیرہ سو سال) سے امان حاصل تھی۔ بعد ازاں اتاترک کے دور میں بھی سخت سیکولرازم کے باوجود قوم پرستانہ امتیاز کا سلسلہ جاری رہا۔ نیز یہ کہ اتاترک کی حکومت ایک جماعتی آمریت تھی۔
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20