چرس ———— علی عمر عمیر

0

وہ چوہدری ہے۔ کلاس میں بن سنور کر آتا ہے۔ اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ دکھنے اور بولنے میں اچھا ہے۔ ایک کارپوریٹ آفس میں ایگزیکٹو سیلز مین ہے۔ عموماً لوگ پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم جاب کرتے ہیں، مگر چوہدری جاب کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم پڑھائی کرتا ہے۔ میں ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتا ہوں، خاموش، صاف ستھرے، “سوفسٹی کیٹڈ”، جنٹل ٹائپ۔۔۔ ہم کبھی مل بیٹھتے ہیں۔ خصوصاً تب جب کوئی پراجیکٹ، اسائنمنٹ، مڈز یا فائنلز ہوتے ہیں۔ ہم تب دو چار لوگ ساتھ بیٹھ کر پڑھتے ہیں، اور پڑھنے کے ساتھ ساتھ گپیں بھی ہانک لیتے ہیں۔ دو چار ہم جماعت مل بیٹھے ہوں تو پڑھائی بھی اچھی ہوتی ہے اور گپ شپ بھی۔۔۔ نعمان سردار ہے، سلیمان پٹھان ہے اور وہ چوہدری ہے، چوہدری عاقب۔۔۔ بلکہ عاقب چوہدری۔

تو اِن فائنلز میں ہم چاروں مل بیٹھے۔۔ ایچ 8 کے ایک ڈھابے پر فرائی حلیم کی دو پلیٹیں منگوا کر ہم “آئی ٹی” کے آئندہ پیپر کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔۔ دس منٹ بعد کھانا سامنے آیا تو آئی ٹی سے دھیان ہٹ گیا۔ باتیں اِدھر سے اُدھر کی چلنے لگ گئیں۔ کھانا کھایا جاتا رہا۔ موضوع تبدیل ہو رہے تھے۔ تکلفات ختم ہو رہے تھے۔ باتوں میں گہرائی آتی جا رہی تھی کہ کھانا ختم ہو گیا۔ نعمان نے سگریٹ نکالا، سلگایا، عاقب کی طرف بڑھایا، عاقب نے انکار کر دیا۔ سلیمان نے بھی انکار ہی کیا۔ نعمان مجھے سگریٹ کی دعوت نہیں دیتا، اُسے پتہ ہے کہ اُلٹا میں نے اسے لیکچر دے دینا۔ اُس نے ایک کش لگایا۔۔۔

“چوہدری! پیتا کیوں نہیں؟؟” نعمان نے دھواں اچھالا؟
“نومے! تنگ نا کر، تجھے پتہ ہے میں خالی نہیں پیتا” عاقب نے جواب دیا۔
میں حیران ہو گیا۔ “اوئے! تُو پھر بھری ہوئی پیتا ہے؟؟”
“ہاں نا! حیران کیوں ہورہا ہے؟ ساری دنیا پیتی ہے” عاقب نے جواب میرے منہ پہ مارا۔
“پھر بھی چوہدری! میں تو سگریٹ کے خلاف ہوں، اور تُو چرس کی بات کر رہا ہے۔ مطلب۔۔۔۔۔” میں واقعی حیران ہو گیا تھا۔ “تُو واقعی پیتا ہے یار؟؟”
“علی! بڑا ہو جا۔ کیوں چولیں مارتا ہے؟ تجھے نہیں پتہ؟ کلاس کے 70% لڑکے پیتے ہیں”۔۔۔ اس نے معلومات میں اضافہ کیا۔ “گنواؤں نام؟؟”
میں خاموش ہو گیا۔ نعمان میری خاموشی کو سمجھ گیا تھا۔ فضا میں حیرت اور تاسف کا عجیب احساس یکجا ہو کر پھیلا ہوا تھا۔
میں کتنا پاگل ہوں، کتنا بے خبر اور زمانے سے کتنا کٹا ہوا ہوں۔ مجھے احساس ہو رہا تھا۔ نعمان کا سگریٹ ختم ہونے لگا تھا۔ اُس نے سگریٹ نیچے پھینکا، پاؤں سے مسلا اور میری طرف دیکھا۔
“علی بھائی! چائے منگواؤں؟؟” نعمان نے پوچھا تو میں نے سر ہلا کر منع کر دیا۔
ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔ اب کے ذرا طویل خاموشی تھی۔ ایچ 8 والے مشہور سکول کی بڑی سی بلڈنگ کے پچھواڑے میں واقع اس ڈھابے کی کسی میز پر شاید ہی اتنی خاموشی رہی ہو۔ سلیمان ہمیشہ کی طرح وٹس ایپ میں گھسا ہوا تھا، نعمان میز پر پھرتی ہوئی ایک چیونٹی کا راستہ روکنے میں مصروف تھا، چوہدری اپنی انگلیوں کے کڑاکے نکال رہا تھا جبکہ میں بے مقصد اپنی نظروں کو اِدھر اُدھر دیکھ دیکھ کر تھکا رہا تھا۔
“چرس اِس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے، علی!” چوہدری نے پراسرار لہجے میں خاموشی توڑی۔ اس وقت وہ بہت بڑا صوفی لگ رہا تھا۔ مجھے اشفاق احمد سمیت تمام صوفی رائٹرز یاد آ گئے۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی بابا کہہ رہا ہو، “روٹی اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے”۔

میرے ذہن میں حقیقت کا لفظ اٹک گیا۔ حقیقت کیا ہے؟ مجھے وہ فلسفی یاد آئے جو مادے کو مکمل حقیقت سمجھتے تھے اور خیال کو اس کا عکس یا جزو یا پھر بالکل ہی غیرحقیقت۔۔۔ پھر مجھے وہ فلسفی بھی یاد آئے جن کے نزدیک گمان اور خیال ہی سب سے بڑی حقیقت رہے، جو مادے کو خیال کی خطا سمجھتے تھے، اور بالکل ہی غیر حقیقت۔۔ مجھے کئی طرح کے صوفی اور سرگردہ درویش یاد آئے جن کی حقیقت کی تعریفیں جدا جدا تِھیں۔ میں اُس وقت خود کو ان سوچوں میں الجھانا نہیں چاہتا تھا کیوں کہ مجھے نہیں لگ رہا تھا کہ ان تینوں میں سے کسی نے بھی فلسفے یا صوفی ازم کو گہرائی سے پرکھا ہو گا۔۔
لیکن پھر بھی میں نے بات بڑھانے کا ارادہ کیا۔ “یہاں ہر کسی کی اپنی اپنی حقیقت ہے پیارے۔” میں نے چوہدری کو ٹہوکا۔
“کیا تُو نے کبھی چرس استعمال کی؟؟” چوہدری نے آواز کو دباتے ہوئے پوچھا تو میں نے فوراً انکار میں سر ہِلا دیا۔ “پھر تُو چرس کی حقیقت کو کیسے سمجھ سکتا ہے؟؟”
میں خاموش ہو گیا۔ یہ مجھ پہ ایک دوسرا وار تھا۔ ایسے لگا جیسے عمیرہ احمد یا نمرہ احمد کے کسی ناول کا کردار لڑکی اپنی کسی سہیلی سے کہہ رہی ہو، “اور یاد رکھنا! جس نے کبھی محبت کے سمندر میں ڈوب کر نہیں دیکھا، وہ محبت کی گہرائیوں کو کیسے پہنچ سکتا ہے؟؟”
“تجھے معلوم ہے کارپوریٹ آفس کا ماحول کیسا ہوتا ہے؟” اُس نے پوچھا اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی بولا، “ایگزیکٹو آفس، جس میں جس سے جتنی مرضی انگریزی اگلوا لو، پڑھے لکھے لوگ، اُن کی ٹَشَن ہی اپنے ہوتے ہیں” میری معلومات میں اضافہ ہو رہا تھا۔ چوہدری نے سسپینس پیدا کرنے کے لیے ایک لمحے کا وقفہ لیا اور بولا، “لیکن یہ دیکھ کہ وہاں جی ایم سے لے کر چپڑاسی تک۔۔۔ سارے کے سارے چرس پیتے ہیں۔ میں انہی کے ساتھ بیٹھ کر پیتا ہوں۔ اور تو اور کبھی کبھی جی ایم صاحب کے گھر جب مہمان ہوں تو وہ آفس میں خود مجھ سے مانگ کر پیتے ہیں۔”
“چھوڑو آئی ٹی کی طرف واپس آتے ہیں۔” میں نے تنگ آ کر نوٹس کا پلندہ اپنی جانب بڑھایا۔
“دیکھو علی! چرس دماغ کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ آپکے اندر کا کام کرنے والا انسان جاگ جاتا ہے۔ چرس کا ایک کش لگانے کے بعد تم جتنا مرضی مجھ سے کام کروا لو، مجھے کوئی تھکاوٹ نہیں ہو گی۔” اُس نے فوائد گنوائے جبکہ میں اب اکتا چکا تھا۔ میرے ذہن میں ایک ہی بات بار بار گونج رہی تھی۔ “کلاس کے 70% لڑکے پیتے ہیں، گنواؤں نام؟؟”

یہ اس سے دو دن بعد کی بات ہے۔ ہم ایوننگ والے سٹوڈنٹس پیپر کے دن صبح ہی یونیورسٹی پہنچ جاتے اور پیپر ٹائم تک بیٹھے پڑھائی کرتے رہتے۔ اس دن پیپر تھا اس لیے سلیمان اور میں ڈیڑھ بجے گراؤنڈ میں بیٹھے پیپر کی تیاری کر رہے تھے جب نعمان پریشان پریشان سا ہماری طرف آیا۔
“یار چوہدری کو ایکسپیل کر دیا ہے” ہم دونوں دھک سے رہ گئے۔
“کب اور کیوں؟” میں نے حیرت اور صدمے سے پوچھا
“ایچ او ڈی نے اسے کیفے میں چرس پیتے پکڑ لیا تھا، معاملہ اوپر پہنچا اور پانچ منٹ میں اس کا کام ختم۔۔۔۔۔” نعمان نے وضاحت دی۔
میں الجھ کر رہ گیا۔ “کلاس کے 70% لڑکے پیتے ہیں، گنواؤں نام؟” چوہدری یونیورسٹی سے جا چکا تھا، مگر چرس نہیں۔۔ سنا ہے چوہدری کو پہلے بھی چرس پر دو بار وارننگ مل چکی تھی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20