جعلی آرٹ اور اُسکی نمائش —- فرحان کامرانی

0

انسان اپنی فطرت میں بڑا متجسس واقع ہوا ہے۔ وہ بعض ایسے سوالات کی کھوج میں پڑ جاتا ہے کہ جن کا اُس کی زندگی سے کوئی خاص تعلق ہوتا ہی نہیں۔ قدرت بھی اِس معاملے میں بڑی ہی مہربان ہے۔ آپ تجربے کے طور پر کسی بھی ایک بات کو سوچئے اور اُس میں سے ایک ایسا سوال اخذ کیجئے کہ جس کا جواب آپ کو صریحاً معلوم نہ ہو۔ پھر اُس کا جواب جاننے کی کوئی سعی نہ کیجئے مگر کچھ ہی عرصے میں کہیں نہ کہیں سے آپ کو جواب مل جائے گا۔

آج سے کوئی 10 سال قبل میرے ذہن میں بھی ایک سوال اُبھرا تھا۔ مگر اُس سوال کا ایک پس منظر ہے۔ ہمارے بڑے برادر کو فوٹو گرافی کا شوق تھا۔ مطلب اگر وہ ’صدر‘ سے بائیک پر گزر رہے ہیں کوئی پرانی عمارت نظر آئی تو رُک کر اس کی تصویر بنا لی۔ اسی نوع کی اِکاّ دُکّا تصاویر انہوں نے ’فیس بک‘ پر ڈالیں۔ اُن کے دوستوں کی فہرست میں ہمارے والد مرحوم کے حلقہء احباب کی ایک خاتون بھی تھیں جوکہ ایک مصورہ ہیں۔ محترمہ نے تصویر کے نیچے آ کر اسکو پینٹ کرنے کی اجازت طلب کی۔ میرے برادر نے خوشی سے حامی بھر لی۔ شائد دو تین دن ہی گزرے ہوں گے کہ محترمہ نے ہمارے برادر کی ایک نہیں دو یا تین تصاویر کی پینٹنگ بنا کر اُس کی تصویر کھینچ کر ’فیس بک‘ پر ڈال دی۔ مجھ کو شک گزرا کہ محترمہ نے پینٹنگ نہیں بنائی بلکہ ان ہی تصاویر پر ’فوٹو شاپ‘ سے کچھ ’ایفیکٹ‘ ڈال دیے ہیں مگر وہ ایفیکٹ نہیں تھے، پینٹنگز ہی تھیں۔

میرے دماغ میں اتنی سرعت اور اِس قدر وضاحت پر بڑے سوال اُٹھے، مگر بات آئی گئی ہو گئی۔ حال ہی میں مجھے ایک آرٹ اسکول میں ایک کورس پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ میں وہاں پر موجود طلبہ سے تفصیل سے آرٹ پر بات کرتا اورمیں نے دیکھا کہ وہ بہت سے معاملات پر بات گول کر جاتے ہیں مگر میں نے کچھ خاص باتیں محسوس کر لیں۔

1۔ عموماً طلبہ کسی مشہور تصویر کی Replica بنانا چاہتے یا پھر کسی کھینچی ہوئی تصویر کو پینٹ کرنا چاہتے۔ صرف اپنے تخیل سے کوئی نئی تصویر بنانا سرے سے ہی مفقود تھا۔
2۔ تصویروں میں بڑی خوبصورت سہ جہاتی (3D) قسم کی اشیاء بڑی وضاحت سے بنانے والوں سے اگر کاغذ قلم دے کر کوئی بھی چیز بنانے کے لئے کہو تو گھگی بندھ جاتی۔

پھر راقم پر ایک گھر کے بھیدی نے ہی لنکا ڈھا دی اور سارے ہی موجودہ آرٹ کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ معلوم یہ ہوا کہ ہر آرٹسٹ کے پاس اب پروجیکٹر ہے۔جو تصویر پینٹ کرنی ہے بس پروجیکٹر سے کینوس پر پروجیکٹ کی اور ڈرائنگ کرلی۔ پھر بس اُس میں اصل تصویر سامنے رکھ کر رنگ ہی بھرنے ہوتے ہیں۔ جن کے پاس پروجیکٹر نہیں وہ کمپیوٹر کی اسکرین پر بٹر پیپر رکھ کر اُس پر پنسل سے تصویر اُتارتے ہیں اور کاربن پیپر سے اُسے کینوس پر اتار لیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اب آرٹ کی حقیقی پرکھ رکھنے والے بہت سے لوگ بس ’اسکیچز‘ کی طرف زیادہ مائل ہیں کہ اس میں کم از کم ’شیڈنگ‘ کی کاریگری تو ہے۔

پھر گھر کے بھیدی نے بتایا کہ بڑے فنکار اپنے پاس درجن بھر شاگرد رکھتے ہیں وہ بس بنیادی خیال دے دیتے ہیں اور اُن کے ’چیلے‘ پروجیکٹر کی مدد سے بڑے میکانکی طریقے سے ایک ایک دن میں درجن درجن بھر تصاویر تیار کر کے دے دیتے ہیں۔ یوں نمائشیں کرنا بچوں کا کھیل ہے۔ سو سو، دو دو سو تصاویر تیار کر کے نمائش کی جاتی ہے، اگر فنکار کا نام بڑا ہو گیا ہو تو ایک تصویر کی قیمت لاکھوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ سو میں سے دس تصویریں بھی بک جائیں تو اچھا خاصہ خرچہ نکل ہی آتا ہے۔ اور باقی تصاویر اگلی نمائشوں کے لئے رکھ لی جاتی ہیں یا پھر کسی گتال خانے کی نظر ہوتی ہیں۔
میری نظر میں یہ منظر نامہ بڑی حد تک ’اسٹنسل‘ سے نام لکھ کر خط کی خوبصورتی کی تعریف بٹورنے کا عمل ہے۔ یہ فنکاری نہیں بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے ’لیزر جیٹ پرنٹر‘ بن جانے کا عمل ہے۔ اس میکانکی آرٹ میں وہی بدصورتی ہے جو مشین کی کڑھائی میں ہوتی ہے۔ اس کی یکسانیت اور نام نہاد ’پرفیکشن‘ ہی اِس کی سب سے بڑی خامی ہے۔

یہ آرٹ دراصل تجربات کا جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ انسان کی کھینچی ہوئی تصویروں کی مشینوں کی مدد سے نقل کر کے اُن میں ہاتھ سے رنگ بھر کر اپنا نام لکھنے کا عمل ہے۔ یہ ’پکاسو‘ اور ’وین گوف‘ کا آرٹ نہیں مشینوں کی آرٹ میں بھی دراندازی اور فتح کا اعلان ہے۔ پھر سوچنے کی بات یہ بھی تو ہے کہ میں اپنے بھائی کی کھینچی تصویر کو چھوڑ کر محترمہ آرٹسٹ صاحبہ کی بنائی تصویر کیوں دیکھوں؟ محض ا سلئے کہ اس میں رنگ انسانی ہاتھ نے بھرے ہیں؟ یا اسلئے کہ اس کے کنارے پر فنکارہ صاحبہ کا نام درج ہے؟ اِن سوالوں کے جوابات تمام آرٹسٹ برادری سے مطلوب ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20