قصہ احمد جاوید صاحب سے ایک ملاقات کا۔۔۔ ابوبکر

3

آج احمد جاوید صاحب سے ملاقات کا موقع ملا۔
احمد جاوید صاحب سےمیرا اولین لیکن غائبانہ تعارف آج سے کچھ آٹھ برس قبل یارِ عزیز راجہ سمرہ صاحب نے ا ن دنوں کروایا تھا جب میں نیا نیا مارکسی ہوا تھا اور ہم چند دوست دن رات مذہب اور فلسفہ اور ان کی باہمی نسبتوں پر بحث کیا کرتے تھے۔ راجہ صاحب ہمارے حلقے کے ان چند دوستوں میں شامل ہیں جو معقولیت کا ہاتھ چھوڑے بغیر دفاعِ مذہب کی ہرممکن تدبیر کرنے کے جتن میں د ن رات مضطرب رہتے تھے۔ ان کے اس اضطراب میں اخلاص کی یہ شان بطور خاص پائی جاتی تھی کہ جہاں کہیں انہیں "عقیدے کی ابسرڈٹی” ) میری نیازمندانہ رائے کے مطابق ہر انسانی مظہر کی تہہ میں ابسرڈٹی کی کچھ مقدار ضرور موجود ہوتی ہے۔ ( کے سوال کا سامنا کرتا پڑتا وہ بلا جھجک اور عقیدہ پسندی میں اٹکے اس وسیع تر انسانی کیفیت سے ہم آہنگ ہو جاتے۔ ہم دوستوں کی یہ سرگرمیاں کسی نہ کسی شکل میں جاری رہیں ۔ راجہ صاحب آج بھی اتنےہی مذہبی ہیں اور میں اب بھی ان سے بحث کرتا ہوں تاہم کسی بھی انسانی تعلق میں دو شخصیات کا اپنی کلیت میں ایک دوسرے سے مربوط رہنے کا لطف ایسا ہے جسے محض منطقی سچائی پر مبنی فوائد کی بنا پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔
خیر آمدم برسرمطلب، اس کے بعد یوں ہوا کہ میں کبھی کبھی یوٹیوب پر احمد جاوید صاحب کے بعض خطبات سن لیا کرتا تھا ۔ میر کی شعری رفعت پر ا ن کا خطاب ہم کئی دوستوں نے مل بیٹھ کر سنا ۔ اسی دوران جبکہ میں ایف سی کالج میں بی اے آنزر کا طالب علم تھا شعبہ فلسفہ کے ایک کورس میں ایک دن کے لیے احمد جاوید صاحب کے لیکچر کا انتظام کیا گیا اور ڈاکٹر غزالہ عرفان کی طرف سے مجھ سمیت ان سب طلبا کو اپنی حاضری یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئیں جو کئی کئی دن کمرہ جماعت کا رخ نہ کرتے تھے ۔ یہ کورس ایک پورے سمسٹر کے لیے کشف المحجوب کےتخصیصی مطالعے پر مشتمل تھا۔ ایف سی کالج کے بارے میں یہ تناظر سامنے رہنا چائیے کہ وہاں غیرمعمولی مذہبی آزادی میسر ہے چنانچہ کلاس اور کالج دونوں جگہوں پر مختلف نظریات کے طلبا کے درمیان بڑے گرم سرد مکالمے روزمرہ کا حصہ ہیں۔ اس دن کے لیکچر کی کچھ باتیں بطور خاص مجھے یاد رہ گئیں۔ وہ تشریف لائے اور جب لیکچر کا آغاز ہونے لگا تو انہوں نے ڈاکٹر غزالہ عرفان سے پان رکھنے کی اجازت چاہی اور بعد ازاں اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ ان کی اس گفتگو کا ابتدائی جملہ پیچ دار معنویت کا حامل تھا جس میں انہوں نے کشف المحجوب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کتاب ہرگز بھی فلسفے کی کتاب نہیں ہے اور اسے ایسا سمجھنا دراصل اس کتاب سے زیادتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ لیکچر کے بعد ہم چند شوریدہ سر طلبائے فلسفہ نے کافی دیر اس نکتہ پر اس رخ سے گرما گرم باتیں کیں تھیں کہ گویا ہمارے شعبہء فن کو ہماری ہی درسگاہ میں بیٹھ کر آئینہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس واقعہ پر بھی تین چار برس گزر گئے تاآنکہ گذشتہ ہفتے مجھے بھائی شاہد اعوان کا فون آیا جس میں انہوں نے یہ فرمایا کہ میری بعض تحریریں احمد جاوید صاحب کی نظر سے گزری ہیں اور انہوں نے پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ شاہد صاحب کی بات سے جو پہلا تاثر مجھے محسوس ہوا وہ سعادت اور بعد ازا ں حیرت کا تھا۔ ایک بزرگ کا میری بابت ایسا استفسار باعث سعادت اور جبکہ وہ مجھ سیاہ نصیب خیرہ سر کے خیالات سے بھی آگاہی رکھتے تھے لازمی طور پر حیران کن تھا۔ چونکہ لاہور جانے کے باعث میں اس روز اسلام آباد نہ ہو سکتا تھا لہذا شاہد صاحب سے درخواست کی گئی کہ وہ اس ملاقات کا اہتمام لاہور میں کراسکیں تو ناصرف میری سعادت کا بھرم رہ جائے گا بلکہ شرف میں بھی اضافہ ہو گا۔
اگلے روز لاہور میں جب مجھے احمد جاوید صاحب کا فون آیا تو ہم چند دوست پنجاب یونیورسٹی کے سبزہ زار میں بیٹھے سگریٹ پھونک رہے تھے ۔ یہ دوست ایم اے فلسفہ میں زیر تعلیم تھے اور احمد جاوید صاحب کے معتقد بھی تھے۔ ابھی چند ماہ پہلے پنجاب یونیورسٹی شعبہ فلسفہ میں عارضی بنیادوں پر چند آسامیوں پر بھرتی کر کے ایم اے کی کلاس کے لیے لیکچرار رکھے گئے ہیں ۔ منتخب کیے گئے لوگوں میں چونکہ خود میرے ہم جماعت بھی شامل ہیں لہذا یہ صاحب مجھے یہ قصہ سنا رہے تھے کہ میں نے آپ کا نام تجویز تو کیا لیکن ارباب حل و عقد کی رائے یہ تھی کہ ایک تو میں تمباکو نوشی بہت زیادہ کرتا ہوں اور مزید یہ کنگھی نکالے بغیر کلاس آ جاتا ہوں لہذا مجھے یہ ذمہ داری نہیں جا سکتی۔ پس چند لوگ تمباکو سے پرہیز اور روز کنگھی نکالنے کے اجر میں استاذِ فلسفہ بنا دئیے گئے ہیں۔ اسی ذیل میں وہ نوجوان دوست ڈپارٹمنٹ کی زبوں حالی کے چند اور واقعات بڑے ہی دلگداز انداز سے سنا کر اپنا دل جلا رہے تھے کہ مجھے احمد جاوید صاحب کا فون آ گیا۔ ان کی آواز میں وہ محبت تھی جو بالمشافہ ملے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔ اسی محبت میں انہوں نے استفسار کیا کہ میں کہاں ٹھہرا ہوا ہوں تاکہ وہ خود مجھے لینے آ سکیں اور یہ بھی کہ وہ ان اوقات میں مجھ سے ملنا چاہتے ہیں کہ ہم کھانا اکٹھے کھا سکیں۔ اس حسن سلوک اور عزت افزائی کا نتیجہ یہ تھا کہ میں شرمندہ سا ہو گیا اور عرض کیا کہ میں آپ کی آسانی کےلحاظ سے کل خود حاضر ہو جاؤں گا۔ جیسے ہی فون ختم ہوا تو اس دوست نے سوال کیا کہ کیا یہ "ان” احمد جاوید صاحب کا فون تھا ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو انہیں حیرت کا جھٹکا لگا اور یہ کہتے ہوئے کہ بھائی آپ کو تو احمد جاوید صاحب خود فون کرتے ہیں وہ کچھ اس انداز سے ڈیپارٹمنٹ کے حالات کا بھیانک نقشہ دوبارہ کھینچنے لگے گویا انہیں اس کا حسی جواز بھی اسی فون کال سے میسر آچکا ہے۔
مقررہ وقت پر میں وہاں حاضر ہوا تو گھر کے ایک منتظم نے دروازہ کھولا اور مجھے اندر آنے کو کہا۔ جب انہوں نے اندر سے جاکر مہمان خانے کا دروازہ کھولا تو سامنے احمد جاوید صاحب مشغول نماز تھے۔ مجھے مخل ہونا مناسب معلوم نہ ہوا اور میں جوتے اتار کر وہیں باہر کھڑا رہا۔ مجھے خبر نہ ہوئی کہ کس لمحے وہ دروازے پر آئے اور دونوں بازو کھول کر مجھے گلے لگاتے ہوئے نہایت شفقت سے یوں گویا ہوئے کہ بھائی آپ باہر کیو ں کھڑے ہیں اندر تشریف لائیے۔ ان کا کشادہ مہمان خانہ مجھے اسی شفقت کا خارجی عکس محسوس ہوا ۔ وہ میرے سامنے بیٹھ گئے اور مجھ سے حال احوال دریافت کرتے رہے۔ اسی دوران چائے اور دیگر لوازمات بھی پیش کیے گئے اور میرے گرامی میزبان نے میرے ازحد اصرار کے باوجود بھی میرے لیے خود چائے بنائی اور پھر اپنا پان بنانے لگے۔
ؔجاں سپاری داغ کتھا چونا ہے چشم انتظار
واسطے مہمان غم کے دل ہے بیڑا پان کا
سراج اورنگ آبادی
انہوں نے کئی بار اس طرف اشارہ کیا کہ اس ملاقات سے پہلے ہی انہیں مجھ میں اپنے ایک مرحوم عزیز دوست سے گہری فکری مماثلت محسوس ہوئی جو ان کے نزدیک نہایت خوش کن تھی۔ میں ایک خاص اعتبار سے غیر مجلسی سا شخص پایا گیا ہوں اور جب جب توجہ کی روشنی میں مزید نمایاں کیا جاتا ہوں تو یہ مشکل اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن ان کے برتاؤ میں ایسی اپنائیت تھی کہ میں چائے کا پہلا گھونٹ لینے سے پیشتر ہی ذرا ذرا کھلنے لگا اور ان سے یہ شکوہ کیا کہ ہماری روایت کے اکثر بزرگ اپنے ہی جوانوں کے ذہنی و فکری خلجان سے اسقدر لاتعلق ہو گئے ہیں کہ ہم لوگ کبھی کبھی خود کو عاق شدہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اس پر ایک تبسم کے ساتھ انہوں نے اپنے ان دوستوں کا تذکرہ کیا کہ جن کے خیالات اگر عوام کے علم میں آجا ئیں تو معاشرہ تہہ و بالا ہوجائے۔
ایک اور بات جو میرے حیرانی میں مزید اضافہ کرنے کو کافی تھی وہ یہ کہ احمدجاوید صاحب ایک اور صاحب سے جو ایف سی کالج میں میرے استاد رہ چکے ہیں میرے متعلق دریافت کر چکے تھے۔
میں جب تک ان سے ملا نہیں تھا یہی سمجھتا تھا کہ وہ بہت شستہ زبان کے مالک اور نستعلیق گفتگو فرماتے ہیں مگر ان سے ملنے پر یہ محسوس ہوا جیسے ان کے لیے ضرورتِ کلام خود کلام سے کہیں زیادہ مقدم ہے۔ وہ کئی مقامات پر اپنا موقف دے کر خاموش ہوجاتے اور سلسلہ سخن کچھ دیر کو رک سا جاتا۔ میرے ذہن میں ایک سوالنامہ سا ضرور موجود تھا لیکن میں اس ملاقات کو انٹرویو بنا نا جمالیاتی بے توقیری سمجھ رہا تھا اور اس کی وجہ شخصیات کا اپنی کلیت میں رہتے ہوئے باہمی ارتباط کا وہی نکتہ تھا جو راجہ سمرہ صاحب کے ذکر میں آ چکا ہے۔ چنانچہ ہمارے درمیان فنی گفتگو ہرچند مختصر رہی تاہم شخصیت کا تاثر اپنی پوری شدت سے دل میں جاگزیں ہوا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ معاصر مسلم دینیاتی فکر میں کیا کیا تبدیلیاں محض اس حقیقت کے باعث در آئی ہیں کہ یہ فکر بجائے خود جدیدیت کے ردعمل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے اس کے جواب میں تین چار نہایت اہم نکات کی طرف اشارہ کیا جن میں اس فکر کی ایک مکمل آدمی تخلیق کرنے سے معذوری ، مسائل اخلاق تک رسائی میں ناکامی نیز علم اور طاقت کی باہمی حرکیات کا نادرست انداز ہ قائم کرنا شامل تھے۔ میرے لیے یہ بات نہایت اہم تھی کیونکہ یہ جواب معاصر دیناتی فکر کے ایک اہم نمائندے کی جانب سے دیا جا رہا تھا۔ چونکہ میں نے متکلمین اور جواریوں میں اپنا فائدہ سلامت رکھنے کی مسلسل تگ ودو کا جذبہ کچھ ایک سا ہی پایا ہے لہذا یہ جواب میرے نزدیک ان کی دیانت کا آئینہ بھی تھا۔ وہ اعتراف کرنے کی غیر معمولی طاقت رکھنے والے شخص معلوم ہوئے۔
ایک دلچسپ قصہ جو انہوں نے سنایا اس سے میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کہنے لگے کہ ایک دینی مجلے کے ایڈیٹر صاحب جو ان سے کئی دفعہ ملنے کا وقت لے چکے تھے محض اس بات پر خفا ہو گئے جب انہوں سے احمد جاوید صاحب سے اپنے پسندیدہ معاصرین کے نام پوچھے تو جو تین نام انہوں نے لیے ان میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا نام بھی شامل تھا۔ چونکہ احمد جاویدصاحب کی ایک غیر رسمی گفتگو کی ویڈیو پچھلے دنوں ہم احباب میں بحث کا موضوع بنی رہی تھی لہذا اب میرے لیے یہ سمجھنا زیادہ آسان تھا کہ جو شخص اپنے معاصرین میں ڈاکٹر ہودبھائی سے متاثر ہو وہ عملی زندگی میں دراصل کس حد تک تکثیر پسند روئیے کا مالک ہو سکتا ہے۔ یہ واقعہ سننے کے بعد باہمی اعتماد میں ایک خوش کن اضافہ محسوس ہوا۔
چونکہ وہ اقبال اکادمی کے ڈائریکٹر رہے ہیں اور میں اپنا ایم فل کا مقالہ چند حوالوں سے اقبال پر کرنا چاہ رہا ہوں لہذا اس حوالے سے بھی ان سے مشاورت کی۔ وہ مجھے خود مجھ سے بھی زیادہ اقبال کے شاکی محسوس ہوئے۔
وہ اپنے والد مرحوم اور اساتذہ کے بعض حالات سناتے رہے ۔ ہر چند میں فارسی داں نہیں ہوں تاہم ابوطالب کلیم کے جو اشعار انہوں نے سنائے میں نے ان کی حلاوت محسوس کی۔ اسی دوران علی اکبر ناطق صاحب تشریف لائے اور گفتگو کا دائرہ زیادہ وسیع ہو گیا۔
انہوں نے سہ بار مجھ سےیہ فرمایا کہ میں بدھ کی شام ان کے ساتھ ایک نشست میں چلوں اور فلسفے پر کوئی مقالہ یا مضمون پڑھوں۔ میں بوجوہ اس سے معذور تھا لہذا ان سے معافی چاہی اور آئندہ لاہور آنے پر ان سے اس امر کا وعدہ کر لیا۔
کچھ دیر مزید بیٹھنے کے بعد وہ ہمیں ایک عربی ریسٹورنٹ لے کر گئے اور ایک یمنی کھانا جو چاول اور گوشت سے تیار ہوتا ہے اور ”مندی” کہلاتا ہے، کھلایا۔ اس دوران ثقافت ِعرب پر گفتگو بھی جاری رہی۔ وہ اسقدر مہمان نواز پائے گئے ہیں کہ ہمیں کسی بھی شے کی طلب میں پاتے تو بتائے بغیر خود اٹھ کر اسے لے آتے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک مشہور عربی مٹھائی بھی کھلائی۔ کھانے اور مٹھائی کے وقفے کے دورا ن میرا حقیقی امتحان تھا کیونکہ جب سے میں ان کے وہا ں حاضر ہوا تھا سوئے ادب سگریٹ نہیں پی تھی۔ اب جو میں نے اجازت چاہی تو انہوں سے کمال محبت سے فرمایا کہ آپ ضرور نوش فرمائیے۔ میں پان کی نسبت سے ان مجبوریوں کو سمجھتا ہوں۔ اس کے بعد ان کی گاڑی میں ہی واپس آئے۔ چونکہ انہیں کسی جگہ درس دینے جانا تھا لہذا ہم لوگوں نے رخصت چاہی۔ میرے بے پناہ اصرار کے باوجود بھی ان کے ڈرائیورمجھے میرے ٹھکانے تک اتار گئے۔
اس ملاقات کا تاثر اور اس سے جڑی اپنائیت کی گرمی میرے ذہن میں ہنوز تازہ ہے ۔ میں نے انہیں ایسا شخص پایا جو اپنے اور دیگر انسانوں کے درمیان فکر کی خلیج حائل نہیں ہونے دیتا ۔ وہ آدمی کے وجود کے تقدم کے راز داں محسوس ہوئے۔ اخلاق و عادات میں یہ مقام پانا بہت مشکل ہے کیونکہ ہم عموما انسانوں کو اپنی فکر اور تعصبات کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ تاہم حقیقی انسان اس سے کہیں پرے وجود رکھتا ہے۔ میں ان کی آدمیت پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگیء چشم حسود تھا
غالب

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. "وہ آدمی کے وجود کے تقدم کے راز داں محسوس ہوئے۔”
    احمد جاوید صاحب کی شخصیت کی ہمہ جہتی کو اس قدر مکمل انداز سے بیان کرتے، اس سے پہلے نہیں پایا تھا۔ جزاک الللہ۔ جیتے رہیئے۔
    ملاقات کا احوال اپنی جگہ، زبان و بیان کا حسن ہی اتنا قابل رشک ہے کہ دل سے دعا اٹھی۔ زور قلم ہو فزوں تر۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: