ساس سسر کی خدمت: کچھ گذارشات —- رقیہ اکبر چوہدری

0

اسلام وہ مذہب ہے جس کے احکامات کی کڑیاں ایکدوسرے میں پیوست کر دی گئی ہیں آپ ایک کڑی نکالیں گے تو دوسری خود بخود ڈھیلی ہو جائے گی جس سے عمارت کے گر جانے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

آپ اللہ کے کسی ایک حکم کو دوسرے سے جوڑے بنا نہ مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں ناں ہی دین کو اس کی روح کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں۔

ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ اس میں سے من پسند چیز چھانٹ لیں اور پھر ردعمل میں گرتی اخلاقیات کی دہائیاں دینا شروع کر دیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اب۔

آپ کہیں کہ لڑکی کی شادی بنا ولی کی اجازت کے کرنا جرم ہے تو لامحالہ آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ لڑکی کی خوش دلی سے دی گئی رضامندی کے بنا ولی اس کی شادی کا مجاز ہی نہیں۔

آپ کہیں جہیز کی ممانعت ہے تو یہ بھی ماننا ہو گا کہ مرد کی استطاعت سے زیادہ حق مہر کی بھی اجازت نہیں۔ آپ کہیں دیور سے پردہ جائز ہے تو یہ بھی تسلیم کریں کہ شوہر اپنی بیوی کو الگ گھر میں رکھے ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک عورت کو بھرے پرے گھر میں لا بٹھائیں اور ڈیمانڈ کریں کہ گھونگھٹ نکالے گھر کے جملہ امور سرانجام دے۔

آپ طلاق کو جائز کہیں تو یہ بھی مانیں کہ اسلام نے خلع کو بھی بالکل جائز کہا ہے یہ بھی مانیں کہ مطلقہ مرد یا عورت کی دوسرے نکاح کو بھی پسند کیا ہے۔

آپ بولیں چار شادیوں کی اجازت ہے تو ہرگز انصاف کے حکم کو “دوسرا مسئلہ یا بعد کی بات” کہہ کر الگ نہیں کر سکتے۔ آپ کو ان احکامات کو ایکدوسرے سے جوڑ کر ہی کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔

آپ کہیں میرا حق ہے کہ شوہر میرا نان نفقہ دستور کے مطابق پورا کرے تو یہ بھی یاد رہے کہ پھر شوہر کے حقوق پورے کرنا آپ پر بھی لازم ہے۔ آپ کہیں میری زوجہ میری مرضی کے بنا گھر سے باہر قدم نہ رکھے تو ذہن میں رہے اس کے لئے وہی سب چاہنا اور مہیا کرنا بھی آپ کا فرض ہے جو آپ اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔

گذشتہ کل سے ساس سسر کی خدمت کے حوالے سے بہت باتیں ہو رہی ہیں تو جناب اسے محض دو لائنوں میں نمٹایا نہیں جا سکتا کیوں کہ یہ حقوق العباد کی ایک ایسی چین ہے جس کی ایک ایک کڑی اہم اور باہم پیوست ہے اس لئے آپ کو معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ہو گا۔

بیشک اللہ پاک نے عورت کے اوپر یہ ذمہ داری فرض نہیں کی مگر ساتھ ہی اللہ نے حسن اخلاق کو سب سے بڑی نیکی بھی کہہ دیا۔ صرف فرائض بجا لانا ہی تو کافی نہیں جنت کے حصول کیلئے نیکیاں کماتے رہنا بھی تو ضروری ہے۔

یہ بھی تو اسی رب کا حکم ہے کہ والدین کی خدمت کرو اور شوہر کی فرمانبرداری۔

اب نکاح کے دو بول کی وجہ سے ساس سسر آپ کے بھی ماں باپ کے درجے پہ پہنچ چکے ہیں لہذا ان کا خیال رکھنا گویا اپنے ماں باپ کا خیال رکھنا ہے۔

پھر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چایئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

میری امت کے بزرگوں کا احترام کرو۔

چاہے وہ بزرگ عورت کے ماں باپ ہوں یا مرد کے دونوں ہی کا خیال رکھنا عین ثواب کا کام ہے۔

لیکن بیوی سے یہ ڈیمانڈ کرنا کہ میری محبت یا چونکہ میں شوہر ہوں تو میری بات مانتے ہوئے میرے والدین کی خدمت کرے تو آپ کو ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کام وہ صرف آپ کی محبت اور عزت کی خاطر کرتی ہے تو اس کے آرام و سکون کا خیال رکھنا، اس کی عزت گھر بھر سے کروانا اور اس کے ماں باپ کی خدمت کرنا آپ کا بھی فرض ہے کیوں کہ وہ بھی اسی طرح آپ کے ماں باپ ہونے کا درجہ پا چکے جس طرح آپ کے والدین آپ کی زوجہ کیلئے ماں باپ کے درجے پر آ چکے ہیں۔

اور یہ یاد بھی یاد رکھنا کہ اگر اللہ نے بیوی پر شوہر کی فرمانبرداری فرض کی ہے تو بیوی کا ہر طرح خیال رکھنا بھی شوہر پر فرض کر دیا ہے۔

اصل معاملہ تب بگڑتا ہے جب ساس سسر یا شوہر یہ کہے یا احساس دلائے کہ اس نے تو شادی کی ہی اس لئے تھی کہ بہو ساس سسر کی خدمت کرے۔

یہ دراصل پہلی ریجیکشن ہوتی ہے عورت کیلئے جسے پھر وہ قبول نہیں کرتی۔ اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ محبت یا اپنا گھر بنانے نہیں بلکہ صرف خدمت کیلئے لائی گئی ہے وہ بھی شوہر کے والدین کی تو بالکل فطری ری ایکشن نفرت، اکتاہٹ اور غصے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

مانا کہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر بھی کام کرتی تھی تو ذہن میں رہے کہ اس کی اس خدمت کو ماں باپ کس قدر سراہتے ہیں شکریہ ادا کرتے ہیں بدلے میں ڈھیروں محبتیں دیتے ہیں اور اس سے بس اتنا ہی کام لیتے ہیں جتنا اس کی استطاعت ہوتی ہے۔ پھر اس کے آرام و سکون کا خیال بھی رکھا جاتا ہے زرا سا سر میں درد ہو جائے تو ماں سے زیادہ باپ کے ہاتھ پیر پھول جاتے ہیں۔ ۔ ایسے میں اسے مکمل آرام و سکون پہنچایا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں سسرال میں پہلا طعنہ ہی یہی ملتا ہے کہ ’بی بی تیرے باوا کا گھر نہیں جو تیرے نخرے اٹھائے جائیں گے۔ مفت کی روٹیاں توڑنے نہیں لائے تجھے۔ ۔ وغیرہ وغیرہ‘۔

اب جس گھر کا ماحول اگر ایسا ہو تو وہ کس برتے پہ امیدیں باندھ بیٹھیں کہ بہو ان کی خدمت کرے گی (جو اللہ نے اس پر مطلق فرض نہیں کی)۔

پھر وہی بہو زرا سی بیمار ہوتی ہے تو والدین کے گھر بھیج دیا جاتا ہے کہ یہاں کون اس کی خدمت کرے گا۔ ۔ بچہ پیدا ہوا تو بھی ماں کے پاس بھیج دیا خدمت کرنے کو کیوں؟

جو بہو آپ کی خدمت اس لئے کرے کہ آپ اس کے شوہر کے والدین ہیں بیماری میں آپ کیوں اس کی خدمت نہ کریں کہ وہ آپ کے اسی بیٹے کی بیوی ہے جس کے رشتے سے آپ خدمت کے حقدار ٹھہرے تھے؟

تو کیوں وہ بہو آپ کی طرف سے محبت، پیار اور خدمت کی حقدار نہیں؟

جہاں تذلیل اور تحقیر بھی اس کے حصے میں آئے تو ردعمل کے طور پہ پھر یہ حقیقتیں وہ لا کر سامنے رکھ دیتی ہے کہ جناب یہ میرا فرض نہیں ہے۔

ان معاملات میں دھونس، حکم یا سختی نہیں چلتی یہ تو اچھی زندگی گزارنے کے اصول ہیں کہ سب ایکدوسرے کا خیال رکھیں اگر بہو کا فرض کہ اپنے ساس سسر کو بزرگ سمجھ کر خدمت کرے تو ساس سسر کا بھی فرض کہ اپنی بچی سمجھ کر پیار اور الفت سے رکھیں یہ نہیں کہ مفت کی ملازمہ سمجھ کر سارا دن صرف خدمتیں ہی کرتی رہے۔

کئی ایسے گھرانے دیکھے جہاں بہو کوہلو کے بیل کی طرح سارا دن کام کاج میں جتی رہتی ہے کنواری نندیں گھر میں موجود ہو کر بھی کام کو ہاتھ نہیں لگاتیں اور شادی شدہ آئے روز سر پر سوار رہتی ہیں۔ خدمتوں کے ساتھ ساتھ زوجین کی پرائیویسی بھی بہت ہی بری طرح متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے میاں بیوی میں دوریاں اور غلط فہمیاں بڑھتی ہیں۔ اب میاں بیوی کی یہ دوری گھر کے ہر فرد کے ساتھ تعلقات پر اثرانداز ہوتی ہے اور سمجھا یہ جاتا کہ بہو ساس سسر کی خدمت کرنے کی وجہ سے نالاں ہے۔

اور کئی ایسے گھر بھی دیکھے جہاں بہو بیگم شوہر سے منہ بھر بھر کے صرف فرمائشیں ہی کرتی پائی گئی ہیں۔ شوہروں کی کمائی کو بس لوٹ کا مال سمجھ کر لٹا رہی ہیں مگر ناں شوہر کی کوئی خاص ذمہ داری اٹھاتی ہیں ناں ہی ساس سسر کی (اگرچہ ان کی تعداد اول الذکر سے خاصی کم ہے)۔

دونوں ہی رویئے غلط ہیں اعتدال والا راستہ ہی کامیابی اور فلاح کا راستہ ہے ناں شوہر خود کو حاکم مطلق سمجھے ناں ہی بیوی اپنی حدود سے تجاوز کرے۔

اللہ نے فرمایا میں نے جسے حکمت عطا کی اسے خیر کثیر عطا کر دی۔ حکمت میں خیر ہی خیر بھلا ہی بھلا ہے۔ اور یہ حکمت عمر، تجربے اور مرتبے میں بڑے ہونے کی وجہ سے اول اول ساس سسر کو دکھانی چایئے پھر اسی حکمت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ بہو کو بھی کرنا چایئے۔

آپ بہو کو بیٹی کی طرح مان محبت دیں اس کی غلطیوں کو اپنی اولاد کی طرح درگزر کریں وہ آپ کے گھر میں نئی ائی ہے برسوں ماں باپ کے گھر ایک الگ انداز میں زندگی گزارتی رہی ہے اسے سپیس دیں اپنے گھر کے روزوشب سمجھنے میں پیار و مودت سے کام لیں تو یقین کریں لڑکیوں کی اکثریت ان دو میٹھے بولوں سے ہی رام ہو جائیں گی۔

عورت کی سب سے بڑی کمزوری محبت ہے میٹھے بول ہیں۔ جو کام آپ اس سے پیار کے دو بول بول کر لے سکتے ہیں وہ کبھی بھی کسی بھی قسم کی سختی روا رکھ کر نہیں لے سکتے۔

اللہ نے اسے جس فطرت پر بنایا ہے اس کو سمجھ کر اس سے معاملات برتیں یہ آپ پر فرض بھی ہے اور گھر بنانے کی حکمت بھی۔

اعتدال کی راہ اپنایئے بیوی کو مان، مرتبہ، عزت۔ محبت دیجئے اس کی جائز ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اس کے آرام و سکون کا بھی خیال رکھئے وہ بھی بدلے میں آپ کے پورے گھر کا خیال رکھے گی۔ اس پر ضرورت سے زیادہ بوجھ تو نہیں ڈالا جارہا آپ کے والدین کی طرف سے یہ دیکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ خدمت کر رہی ہے تو اسے تسلیم کریں مشکور رہیں وہ اور زیادہ خیال رکھے گی اس کی خدمت کو حق سمجھ کر وصول مت کریں۔

جو پیار کے دو بولوں سے جان دینے کو تیار ہو جاتی ہے اس کیلئے کیوں ڈنڈا اٹھا کر اس کی انا اور عزت نفس کی ننگی پیٹھ پر برساتے ہو۔ اس سے کبھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے البتہ معاملات بگڑ کر انتہائی صورتحال اختیار ضرور کر سکتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20