کتاب ’قائدکے نام، بچوں کے خطوط‘ —- مبصر: نعیم الرحمٰن

0

قائد اعظم محمد علی جناح صرف بانی پاکستان نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شخصیت اور کردار کے ایسے انمٹ نقوش تاریخ کے صفحات پر ثبت کیے ہیں کہ دوست تو دوست دشمن بھی ان کے کردار کے کسی منفی پہلو کی نشاندہی نہیں کرسکتے۔ چندسال قبل سابق بھارتی وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ نے حیاتِ قائد پر کتاب ’’جناح، اتحاد سے تقسیم تک‘‘ تحریر کی۔ تو وہ بھی مختلف پہلووں پر قائد اعظم کی تعریف کرنے پر ہی مجبور رہے اور جسونت سنگھ نے کتاب میں کئی امور پر بھارتی مصنفین کے نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے جدوجہد آزادی کے کئی اہم فیصلوں میں قائدکے فیصلوں کو سراہا اور انہیں درست قراردیا۔ اس وقت کی کانگریس کی متعصب بھارتی حکومت نے کتاب تحریر کرنے پرجس ونت سنگھ کو وزارت سے برطرف کردیا۔ لیکن یہ واحد یا پہلی مثال نہیں ہے۔ کئی اور متعصب مورخ اور مصنف قائداعظم کو منفی انداز میں پیش کرتے ہوئے بھی ان کے کردار کے بہت سے مثبت پہلو بیان کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں آج تک قائداعظم کی کوئی مستند سوانح حیات نہیں لکھی گئی۔ ان کے خاندان اور جائے پیدائش پر اختلاف سامنے آیا۔ لیکن اس مسئلہ کو شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ سرکاری طور پر کبھی واضح نہیں کیا گیا۔ عقیل عباس جعفری اورچند دیگر مصنفین نے ا س موضوع پر کچھ تحقیقی کام ضرور کیاہے۔ لیکن مزید اورمستند کام کی ضرورت اب بھی موجود ہے۔ مشہور انٹرویو نگار منیر احمد منیر قائد اعظم کے سچے پرستار ہیں۔ انہوں نے حیات ِ قائد کے مختلف گوشوں پرکئی کتب شائع کی ہیں۔ ’’گریٹ لیڈر‘‘ کے نام سے انہوں نے دو جلدوں میں کتاب مرتب کی ہے۔ جس میں تقریباً ساٹھ ستر افراد نے انٹرویوز میں قائد اعظم کی زندگی، شخصیت اور کردار کے مختلف گوشے اجاگر کیے ہیں۔

منفرد اور بامقصدکتابیں شائع کرنے والے شاہداعوان نے قائداعظم کی زندگی کے ایک یکسر مختلف پہلو پر اپنے ادارے ایمل پبلیکیشنز سے ایسی ہی ایک منفرد کتاب ’’قائدکے نام، بچوں کے خطوط‘‘ شائع کی ہے۔ جسے ڈاکٹر ندیم شفیق ملک نے مرتب کیاہے۔ خوبصورت رنگین اور عمدہ کاغذ ایک سو سولہ صفحات کی اس کتاب کے ہرصفحہ پرقائد اعظم کی بچوں اور بچیوں کے ساتھ تصاویر نے کتاب کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیے ہیں اوراس کی پانچ سو اسی روپے قیمت بہت معمولی نظر آتی ہے۔ کتاب کے نام سے ہی واضح ہے کہ یہ قائد کے نام بچوں کے خطوط پر مبنی ہے۔ لیکن کتاب سے قوم کے قائداعظم پر کامل یقین کا اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت اور ایمانداری پر بڑوں کے ساتھ کم عمر بچوں کو بھی اتنا بھروسہ تھا اور وہ قائدکے دیے ہوئے جذبہ آزادی سے اس درجہ سرشار تھے کہ اپنے معمولی جیب خرچ کو بھی بچا کر قائداعظم کو بھیج رہے تھے۔

حرف ِ ناشر میں شاہد اعوان صاحب لکھتے ہیں۔

’’محب من، جناب ندیم شفیق کامرتب کردہ اپنی نوعیت کا یہ منفرد، ممتاز اور بہت ہی انوکھا کام پہلی بار دیکھا تو دل نے کہا کہ اس کتاب کو شائع کرنا صدقہ جاریہ ہے۔ مسلم برصغیرکی خاکسترکی انہی چنگاریوں سے وہ شعلہ فروزاں ہوا آج پوری امت کو روشنی دکھا رہاہے۔ انہی شراروں نے حصول پاکستان کے سفرمیں چراغِ راہ کا کام کیا۔ ان خطوط سے جھلکتے جذبے اور عزم تو اپنی جگہ مگر نفس مضمون، انداز تخاطب، طرز تحریر، رسم الخط اور املا تک، ہر چیز اپنے اندر ایک ایسی کشش رکھتی ہے جواس کتاب کو بار بار پڑھنے، دیکھنے اور محسوس کرنے پر مجبورکرتی ہے۔ یہ کتاب ماضی کی ایسی بازیافت ہے جو قاری کے ذہن سے زیادہ دل کواپیل کرتی ہے، معصومانہ واردات قلبی کا ایسابیان کہ پڑھنے والے پہ گویا بیت جاتا ہے، ساتھ بہالے جاتاہے۔ ہماری آج کی نسل بھی اگر انہی’’خطوط‘‘ پہ چل سکے تو واللہ بلند اقبالی مقدر ٹھہرے۔ ایمل مطبوعات نے کوشش کی ہے کہ اس خزینے کو شایان شان طریقہ سے پیش کیا جائے، کہ یہ وہ کم سے کم خراج ہے جوہم ان پاک اور معصوم روحوں کو پیش کرسکتے ہیں۔ خالق و مالک ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے۔‘‘

جیساکہ شاہد اعوان صاحب نے لکھا۔ ’’قائدکے نام‘‘ اس کتاب کو شایان شان انداز میں ہی شائع کیا گیاہے۔ اس خوبصورت کتاب اور عمدہ اشاعت پرادارہ بھرپور مبارک باد کامستحق ہے۔

کتاب کے مرتبہ ڈاکٹرندیم شفیق ملک نے پیش لفظ میں بتایاہے۔

’’قائداعظم محمدعلی جناح کو ہماری ملی تاریخ میں مرکزی مقام حاصل ہے۔ ان کے اعلیٰ کردار، خلوص، سچائی اور مقاصدسے لگن کا کوئی ہمسر دور دور تک نظرنہیں آتا۔ حیاتِ قائداعظم پربہت سی کتابیں لکھی جاچکی ہیں، مگراب بھی ان کی زندگی کے بہت سے پہلو مخفی ہیں۔ یہ کتاب اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک حقیر کاوش ہے۔ تقریباً پندرہ سال قبل، جب میں جامعہ قائد اعظم اسلام آباد میں پی ایچ ڈی تاریخ کے حصول کے لیے مصروفِ تحقیق تھا تو دستاویزات ِ قائداعظم میں معصوم بچوں کے قائد اعظم کے نام کئی خطوط نظر سے گذرے جن کا ایک ایک لفظ محبت و عقیدت کا سمندرسمیٹے ہوئے تھا۔ یہ خطوط معصوم جذبوں کے تابندہ جگنووں کی طرح کاغذ پر دمک رہے تھے۔ یہی نور بعد میں تخلیقِ پاکستان کا موجب ہوا اور یہی روشنی آج تک کروڑوں پاکستانیوں کے دل میں جگمگا رہی ہے۔ بقول ڈاکٹر صفدر محمود ’’1940ء کی دہائی کے آغاز میں سات، آٹھ، دس بارہ سالہ بچوں کے یہ خطوط اس عزم کا بین ثبوت ہیں کہ قیامِ پاکستان ناگزیر تھا، یہ قدرت کا اٹل فیصلہ تھا اور اسے معرضِ وجود میں آنے سے روکا نہیں جاسکتا تھا۔‘‘ بچوں کے قائداعظم کے نام خطوط اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں موجود ان خطوط کی نقول سالہاسال تک میرے ذخیرہ کتب کی زینت بنی رہی۔ چنانچہ یہ طے پایا کہ ان خطوط میں موجزن جوش و جذبہ کے زیادہ وسیع ابلاغ کے لیے انگریزی خطوط کا اردو ترجمہ اور اردو خطوط کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیاجائے۔ عزیز دوست اور ناشر جناب شاہد اعوان، ایمل پبلیکیشنز اسلام آباد نے انگریزی خطوط کا ابتدائی ترجمہ کروایا جس کو بعد میں میں نے نظرثانی کیا، کتاب کی فنی صورت گری کی اور اس کادل پذیر سرورق تیار کیا۔‘‘

کتاب میں مجموعی طور پرسینتالیس خطوط شائع کیے گئے ہیں۔ ہر اصل خط کے مقابل اس کا کتابی مسودہ تاکہ قاری اسے باآسانی پڑھ سکے یہ خطوط 1939ء سے 1948ء تک قائد اعظم کی وفات تک تحریر کیے گئے۔ ان میں پہلا خط علی گڑھ کے طالب علم فیاض الدین کا ہے۔ جو اس نے 22جون 1939ء کو تحریر کیا۔ کیاخط ہے اور کیاجذبہ ہے اس بچے کا دیکھئے۔

Image may contain: text’’ہمارے قائداعظم مسٹر محمدعلی جناح دام اقبالہ
ہماری بچہ مسلم لیگ علی گڑھ میں دو سال سے قائم ہے۔
1۔ جب ہم لوگ اس کاجلسہ کرتے ہیں اورسب بڑے بڑے آدمیوں و اساتذہ اور عہد یداران مسلم لیگ کو بلاتے ہیں ان میں کوئی نہیں آتا۔
2۔ ہمارے پاس ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں جلسہ کرسکیں اور دفتر قائم کریں۔
3۔ چھٹیوں کے بعد ایک جلسہ کریں گے۔ کسی مولانا کو بھیج دیں ان کی وجہ سے سب لوگ آئیں گے۔ اس وقت ہم اپنی اپنی مشکلات کا اظہار کریں گے۔
آپ کی اس میں کیارائے ہے۔
خاکسار
صدر(اعزازی) آل انڈیا بچہ مسلم لیگ
فیاض الدین

کیا اس جذبہ اور لگن کو کوئی کم کرسکتاہے۔ جب یہ ننھے بچے بھی اپنے قائد کے حکم کی تعمیل میں اس سرفروشانہ انداز میں کچھ کرنے کوبے چین ہوں تو اس کام کو ہونے سے کون روک سکتاہے۔

معروف مصنف، دانشور اور کالم نگار صفدر محمود کا ان خطوط کے بارے میں ارشادہے۔

’’میں معصوم بچوں کے خطوط قائداعظم ؒ کے نام پڑھ کر حد درجہ متاثرہوا کیونکہ ان کاایک ایک لفظ محبت و عقیدت کا سمندر سمیٹے ہوئے ہے۔ انیس سو چالیس کی دہائی کے آغازمیں سات ِآٹھ، دس بارہ سالہ بچوں کے یہ خطوط اس عزم کابین ثبوت ہیں کہ قیامِ پاکستان ناگزیرتھا، یہ قدرت کا اٹل فیصلہ تھا اور اسے معرضِ وجود میں آنے سے روکا نہیں جاسکتاتھا۔ ان میں سے ہر خط معصوم جذبوں کا بہتا چشمہ اور روشنی کا مینار ہے۔ ان معصوم جذبوں کی یہی روشنی تخلیق پاکستان کا باعث بنی اور اسی خلوص نے قائداعظمؒ اور پاکستان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔‘‘

بلاشبہ جب اسکول میں زیرِ تعلیم بچوں میں بھی اپنے قائدسے عقیدت، اس پرمکمل یقین اوراس کے ہرفرمان پرعمل کاجذبہ اس طرح فروغ پانے لگے تو قائد کا لگایا ہوا پودا کیونکر نہ پھلے پھولے گا اور پروان چڑھے گا۔ ان میں سے ایک ایک خط کے سیدھے سادھے الفاظ جس جذبہ اور لگن سے گندھے ہیں وہ ہردل پر اثر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر زاہد منیر عامر کتاب پر کچھ یوں تبصرہ کرتے ہیں۔

’’ہمیں اس کتاب میں معصوم دلوں کی وہ دھڑکنیں سنائی دی ہیں جن کے ہرسُرسے پاکستان کا نغمہ تخلیق ہوتا ہے۔ قائد اعظمؒ کے سوانح، افکار اور جدوجہدکے حوالے سے اب تک بیسیوں کتب شائع ہوچکی ہیں لیکن قائداعظمؒ کے نام قوم کے معصوم ذہنوں کایہ خراج تحسین اب تک پردہ اخفا میں تھا۔‘‘

اطہر مسعود وانی کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’قائداعظم محمدعلی جناحؒ کے معترف افراد، سیاسی کارکنوں، تحریکِ پاکستان، نظریہ پاکستان اور مقاصدِ پاکستان کی کٹھن راہوں پر گامزن پاکستانیوں کے علاوہ یہ کتاب تحقیق کے حوالے سے بھی ایک مستند حوالہ ہے۔ ہر تعلیمی ادارے میں اس کی موجودگی ضروری ہے۔

جیسا کہ اطہر مسعود صاحب نے کہاکہ یہ کتاب ہرتعلیمی ادارے میں ہوناضروری ہے۔ کتاب کاملک کے تمام تعلیمی اداروں میں پہنچانے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہیے اوراساتذہ کرام اپنے طالب علموں کونہ صرف کتاب کے بارے میں بتائیں بلکہ اس وقت کے حالات، ماحول اورجذبہ آزادی سے بھی آگاہی دیں تاکہ یہ سب کچھ طلبا پرعیاں ہوسکے اوروہ اس سے انسپائریشن بھی لے سکیں۔

انتیس فروری انیس سو بیالیس کو امرتسرکا ایک پانچویں جماعت کا طالب علم قائد کے نام خط لکھتا ہے۔ جسے پڑھ پر ہر صاحب دل کی آنکھیں پرنم ہوجاتی ہیں۔

جناب باباجی صاحب۔ حضور جناح صاحب
بعد آداب غلامانہ کے عرض ہے کہ پھوپھاجان بیس دن ہوئے، دوستوں سے کہتے تھے کہ حضور جناح صاحب نے مسلمانوں کے کام کے واسطے ہر ایک مسلمان سے چندہ مانگا ہے۔ آگے نہیں مانگا تھا۔ باباجی صاحب مجھ کو غلام کو جو پیسہ ملتاہے میں نے اکھٹا کر لیاہے۔ آپ کوئی فکر نہ کریں آٹھ آنے جمع ہوگئے ہیں۔ ٹکٹ لے کراس لفافے میں بندکرکے بھیجے ہیں۔ خدا کرے آپ کو مل جائیں۔ آپ بالکل فکر نہ کریں۔ میں اوربھی پیسے جمع کروں گا۔ اگریہ آٹھ آنے آپ کو مل گئے اوربھی بھیجوں گا۔ آپ کوئی فکرنہ کریں۔ اور جب بڑا ہوں گا اور بہت زیادہ روپے بھیجوں گا۔ خداآپ کاسایہ ہمار ے سروں پرقائم رکھے۔
آداب
راقم آپ کا غلام عزیزالرحمٰن طالب علم، جماعت پنجم، چشتیہ ہائی اسکول امرتسر

نہ ابتدائی القاب کاسلیقہ، نہ الفاظ میں کوئی ربط، نہ اپنی کم سنی کاخیال، لیکن پھوپھا جان سے سن کر کہ قائدنے چندہ مانگاہے۔ انہیں ضرورت ہے۔ باربار تلقین اور یہ احساس ِ ذمہ داری کہ آپ فکرنہ کریں۔ میں اور بھی پیسے جمع کرکے بھیجوں گا۔ جب بڑا ہوجاؤں گا تو اور بھی بہت زیادہ روپے بھیجوں گا۔ کوئی اس کمسن بچے کے جذبے کو شکست دے سکتا ہے اور اس کا اپنے قائد پر یہ یقین کہ خدا آپ کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ کہ اسے یقین ہے کہ یہی قائد ہمیں منزل تک پہنچائے گا۔

قائداعظمؒ کے سانحہ ارتحال کے بعدسیلون (آج کے سری لنکا) سے ایک طالب علم ایم اے قادر محترمہ فاطمہ جناح کو کس دردمندی سے تعزیتی خط لکھتا ہے۔

میری پیاری محترمہ فاطمہ جناح
تمام ممالکِ اسلامیہ کے عظیم راہنماہمارے قائداعظم محمدعلی جناح ایک بہت ہی مشکل وقت میں رحلت فرماگئے جب کہ ان کی دانش مندانہ راہنمائی، دوراندیشی اورافراد اور معاملات کے بارے میں ان کی شانداربصیرت، اس مشکلات میں گھری ہوئی دنیاکے لیے بہت اہمیت کی حامل تھی۔ وہ تحریکِ پاکستان سے پہلے کے کتنے عظیم وکیل، سیاستدان اور راہنماہی نہ ہوں، یہ پاکستان بننے کے فوراً پہلے اور بعد ہی میں تھا کہ انہوں نے اپنی ہنرمندی اور تدبر کی بنا پر مشکل ترین مسائل کو حل کرنے کے باعث خود کو بین الاقوامی پہچان کا اہل ثابت کردیا تھا۔
انہوں نے ایک ریاست بنائی جوکہ نہ صرف دنیاکی عظیم مسلمان ریاستوں میں شامل ہے بلکہ بنی نوع انسان کے لیے خوشی، امن اورخوش حالی کے اعلیٰ ترین امکانات کی ضمانت دے سکنے والی ریاست بھی ہے۔ سیلون کے مسلمان انتہائی غمگین ہیں۔ اس خط میں کچھ غلطیاں ہیں، مہربانی فرما کر انہیں درست کرلیں۔ جب آپ اس خط کو دیکھیں تو مہربانی فرما کرمجھے اس کا جواب دیجئے گا۔ اس سے زیادہ مجھ سے لکھانہیں جارہا۔
انتہائی غم کے ساتھ
آپ کا
میں ہمیشہ ہوں، محبت کے ساتھ
ایک غریب مسلمان لڑکا
ایم اے قادر آل سیلون مسلم لیگ، کولمبو

اسی قسم کاایک خط بندر روڈ کراچی سے سلطان جمیل نے محترمہ فاطمہ جناح کو لکھا۔

محترمہ فاطمہ جناح، کراچی
واجب احترام خاتون
میں بارہ سال کا ایک مہاجر لڑکا ہوں۔ میں پچھلے بارہ دنوں سے قوم کے باپ کے کھونے کے غم میں رو رہا ہوں۔ میرے لیے کوئی تسلی نہیں ہے۔ میں آپ سے اپنا غم بیان کرنا چاہتا ہوں۔
آپ کامخلص
سلطان جمیل

جس قائد کو اس کے بچے بھی باپ کادرجہ دیں۔ اس کی رہنمائی اور ایمانداری پر انہیں اتنا اعتماد ہو۔ اور اس کے انتقال پر وہ اس طرح سوگوار ہوں۔ اس قائدکے مقام کا کون اندازہ کرسکتاہے اور بلاشبہ قائداعظم کی عظیم شخصیت کا اندازہ ان معصومانہ اور سچے دل سے لکھے خطوط سے کیا جاسکتا ہے۔ کتاب کی اشاعت پر ایمل مطبوعات کو دلی مبارک باد۔


کتاب کی کاپی گھر پہ حاصل کرنے کے لئے نیچے دئے گئے نمبر پہ وٹس ایپ کریں یا کمنٹ باکس میں آرڈر کریں

-To order Now message, call or Whats app at 0342-55-48-690

Price Rs: 580

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20