پنشمنٹ آف دی خِپلز —– لالہ صحرائی

0

کنگ shahpesh اور Khipil کی کہانی فارسی ادب کی ایک فرضی داستان ہے جس میں کنگ شاہپش ایک عالیشان شاہی  محل تعمیر کرانے کیلئے “پیشکشیں مطلوب ہیں” کے تحت تجربہ کار پارٹیوں سے ٹینڈر طلب کرتا ہے۔

وزیروں نے سوچا کہ مال بنانے کا اس سے سنہری موقع پھر کبھی نہیں ملے گا چنانچہ سب نے ایکا کرلیا اور نتیجے میں صرف ایک ہی ٹینڈر آیا جو سب سے چالو وزیر خپل صاحب کی طرف سے تھا۔

بادشاہ سلامت کو پرفزا علاقے کا انتخاب اور مجوزہ نقشہ تو بہت پسند آیا مگر جب اربوں درہم کی لاگت کا سن کر پس و پیش کرنے لگا تو تمام وزیروں نے اس منصوبے پر تعریفوں کے پل باندھ کے بادشاہ کو قائل کرلیا۔

کنگ شاہپش نے جگہ کا معائنہ کیا اور ضروری مال و اسباب فراہم کرکے حضرتِ خپل کو تعمیرات شروع کرنے کا اذن دیدیا۔

خپل انتظامیہ نے چار سال تک بادشاہ سلامت کو مکمل چ۔موقوف بنائے رکھا، شاہپش جب بھی رپورٹ مانگتا تو اسے ایک خوبصورت کہانی سنا دی جاتی، باقی کے وزراء اس پر واہ واہ کے ڈونگرے برسا دیتے، یوں ماہانہ ملنے والے فنڈز سے چار آنے سائیٹ پر لگتے اور باقی سب وزراء مل جل کے کھا پی جاتے۔

خپل کی تعمیراتی ٹیم بھی چار آنے میں تھوڑا بہت کام کرتی، باقی کا وقت گلی ڈنڈا کھیل کے گزار دیتی۔

خپل کی لیت و لعل سے تنگ آکے ایک دن شاہپش نے سائٹ پر چھاپہ دے مارا، خپل اپنی تعمیراتی ٹیم کیساتھ شاہی لنگر اڑا رہا تھا، ساتھ میں لطیفوں اور قہقہوں کا بازار گرم تھا۔

نامکمل سائیٹ دیکھ کے کنگ شاہپش کو غصہ تو بہت آیا مگر اس نے اپنا ضبط قائم رکھا اور خپل سے کہا کہ مجھے محل کا معائنہ کرایا جائے۔

خوش قسمتی سے خپل سرکار نیرودا کا ہم پلہ دانشور بھی تھا، اس نے کہا، فکر نہ کریں حضور آپ کا محل اتنا عالیشان بننے جا رہا ہے کہ دنیا میں دور دور تک اس کا چرچا ہوگا، اردگرد کے بادشاہ آپ کے محل کی شان و شوکت جان کر جل بھن جائیں گے، دنیا کے شاعر اس کی جمالیات پر نظمیں لکھا کریں گے اور دنیا بھر کے سیاح اس محل کو دیکھنے کیلئے آہیں بھرا کریں گے۔

کنگ شاہپش نے کہا، غیر ضروری بکواس نہ کر تے مینوں اصلی جگہ دکھا دے بس۔

چار و ناچار خپل اسے نامکمل محل تک لے گیا، محل کی اکثر دیواریں اور چھتیں نامکمل تھیں، دیوان خانوں اور شاہی ہال وغیرہ کی فنشنگ بھی نہیں ہوئی تھی۔

یہ سب دیکھنے کے باوجود شاہپش نے کوئی ناپسندیدہ ردعمل ظاہر نہ کیا بلکہ الٹا محل اور خپل کی بہت تعریف کی۔

چھت پر جا کے کنگ نے کہا، آؤ اس چھت کے دوسرے کونے تک چلتے ہیں، خپل خوشی خوشی ساتھ چلا مگر آدھے رستے میں چھت ختم ہوگئی۔

کنگ نے کہا، رک کیوں گئے، تم نے چارسال میں بڑی اچھی عمارت بنائی ہے، اس کا ہرحصہ دیکھنے کے لائق ہے، پس آگے بڑھو، میں تمہارے پیچھے پیچھے ہوں، انکار کی گنجائش نہیں تھی لہذا جہاں چھت ختم ہوئی وہیں سے خپل سرکار نیچے پانی کے تالاب میں جاگرا۔

خپل کو تیرنا ویرنا کچھ نہیں آتا تھا اسلئے ڈبکیاں کھاتا رہا پھر کنگ کے حکم سے سپاہی اسے تالاب سے باہر نکال کے واپس لے آئے۔

شاہپش نے نہانے کا اتنا اچھا انتظام کرنے پر اسے شاباش دی اور شاہی دربار کی طرف بڑھ گئے، دربار میں پہنچ کر کنگ نے کہا، میرے شاہی تخت پر بیٹھ کے دکھاؤ، میری طرف سے تمہیں اس تخت پر بیٹھنے کی اجازت ہے۔

دربار بھی نامکمل تھا اور تخت وخت بھی وہاں پر کچھ نہیں تھا، چنانچہ خپل کو کافی دیر تک ہوا میں ایسے بیٹھنا پڑا جیسے کسی کرسی پر بیٹھا جاتا ہے، کنگ کے سپاہی اس پر قہقہے لگاتے رہے، بلآخر وہ تھک ہار کے گر گیا۔

یہاں سے فارغ ہوکے شاہپش نے کہا چلو مجھے شاہی باغ دکھاؤ، جہاں باغ لگنا تھا وہ جگہ بھی نامکمل تھی، فوارے خشک اور ادھورے پڑے تھے، خود رو کانٹے دار جھاڑیوں، جنگلی گھاس اور بچھو بُوٹی کی بھرمار تھی۔

کنگ نے کہا، ان سب پھولوں کو ملا کر میرے لئے ایک گلدستہ بنا کر لاؤ، خپل جب نیٹل اور وییڈز کا گلدستہ لایا تو کنگ نے کہا، انہیں سونگھو، گلدستہ سونگھتے ہی اس کی ناک پر خارش اور سوزش ہوگئی، خپل نے ناک پہ کھجانا چاہا تو کنگ نے اس کے ہاتھ پیچھے کی طرف بندھوا دئے۔

کنگ نے ایک گلدستہ اس کی بیوی کو بھی بھجوا دیا اس تاکید کے ساتھ کہ وقفے وقفے سے اسے سنگھاتی رہے، کنگ نے خپل پر ناک کھجانے کی مکمل پابندی عائد کردی اور ساتھ ایک سپاہی بھیج دیا، البتہ اس بات کی اجازت دے دی کی وہ چاہے تو کسی دوسرے سے ناک کھجوا سکتا ہے۔

اگلے دن خپل جب کام پہ واپس آیا تو اس کی حالت بڑی خراب تھی، رنگ پیلا پھٹک اور طبیعت پر خوف اور اداسی چھائی ہوئی تھی۔

اس کے بعد سات دن تک خپل کا ورائیٹی شو ہوتا رہا، جس میں اس کے دونوں ہاتھوں کے ساتھ انار باندھ کے اس کے بازو پھیلا کے کھڑا کر دیا جاتا اور لوگ اس انار کے پودے کو دیکھ دیکھ کے ہنستے رہتے۔

خپل کی مونجھ دلنے کے بعد کنگ شاہپش کا تمامتر سرکاری عملہ ایسا چست ہوا کہ ہرکام فوراً اور معیار کیساتھ کرنے کا عادی ہوگیا۔

یہ تو تھی بادشاہت کی کہانی۔
جمہوریت کی کہانی اس کے الٹ ہے۔

جہوریت میں عوام الناس ایک خپل نما لیڈر چن کے اسے اربوں روپیہ سالانہ فراہم کرتی ہے، تاکہ وہ ان کیلئے روزگار، تعلیم، صحت، کھیل اور امن و امان کی ضروریات پوری کرے لیکن خپل سرکار چار سال تک کرتی ورتی کچھ نہیں، بس اپنے ساتھ نیرودے، چیگویرے اور موگابے ٹائپ دانشوروں کو مال پانی کھلا کر ترقی کے ضمن میں، سب ہو رہا ہے، بہت اچھا ہوجائے گا، دنیا ہمارے گیت گائے گی، شاعر اس ترقی پر نظمیں لکھیں گے، سیاح اسے دیکھنے آئیں گے، دشمن ہماری خوشحالی سے جلا بھنا کریں گے جیسے راگ الاپتے رہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اب تک جتنے بھی ٹکرے ہیں سب لامحالہ خپل ہی ثابت ہوئے ہیں، ان خپلز کو اور کچھ نہیں کہنا چاہئے سوائے اس کے کہ جو سہولتیں آپ نے عوام کیلئے پیدا کی ہیں، خود اپنی ضروریات بھی انہی سے پوری کرکے دکھائیں، جو معیار زندگی عوام کا بنایا ہے خود بھی اسی میں جی کے دکھائیں، اس کے علاوہ ان کا کوئی علاج نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20