ترجمہ داری خراب کاری —– عزیز ابن الحسن

0

اردو میں فن ترجمہ کاری پر جو چند بہترین مضامین لکھے گئے ہیں ان میں سے ایک مظفر علی سید کا مضمون “ترجمے کی جدلیات” مشمولہ “سخن اور اہل سخن” ہے۔
اگلے روز اس مضمون کو کئی برسوں کے پھر سے پڑھتے ہوئے یے مضمون کے جو اہم نکات سامنے آئے ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

ترجمہ کی روایت کا آغاز مذہبی تراجم سے ہوا۔ یورپی روایتِ ترجمہ اور مسلمانوں کے ترجمہ کی روایت میں ایک اہم فرق یہ ہے کہ مسلمانوں نے متن سے جدائی قبول نہیں کی اور قرانی تراجم کو لازمی طور پر متن کے بین السطور بلکہ تحت الفظ لکھنا ہی ضروری سمجھا۔ مذہبی تبلیغ و اشاعت کی غرض سے شروع ہونے والا فن ترجمہ نگاری جدید زبانوں کی نشونما اور فروغ کا سبب بنا ہے۔

ترجمہ کے خلاف زمانہ قدیم ہی سے سے ایک تعصب رہا ہے جس کے وجہ سے ظریف لوگوں نے مترجمین کے بارے میں دلچسپ اور افترا انگیز جملے گھڑ رکھے تھے۔ جیسے translators are traitors جسے عربی میں المترجمون المخربون کہا جاسکتا ہے اور کوئ فارسی والا کہہ سکتا ہے کہ “ترجمہ داری خراب کاری”!⁦☺⁩

لفظ ٹرانسلیشن مغرب کی جدید زبانوں میں لاطینی سے آیا ہے جس کے لغوی معنی ہیں “پار لے جانا”۔ یہ مفہوم نقل مکانی سے لے کر نقل معانی تک پھیلا ہوا ہے۔ لفظ ترجمہ کا مادہ تلاش کرتے ہوئے مظفر صاحب “ر ج م” تک پہنچے اور اس مادے کے خطرناک انسلاکات “رجم” اور “شیطانِ رجیم” کو ترجمہ کے ساتھ جوڑ کر انہوں نے خوب نکتہ آرائی کی ہے۔ جیسے کہ شیطان کو لعنت کی وجہ سے رجیم یعنی مرجوم باللعنہ اور جمرات میں ماری جانے والی کنکریوں کی وجہ سے مرجوم بالحجارہ کہا جاتا ہے، یا شاید اسے مارے جانے والے شہاب ثاقب کی وجہ سے مرجوم بالکواکب بھی۔ خود شہاب ثاقب کو رجوم بھی کہا جاتا ہے۔ ان تلازمات سے انہوں نے ترجمہ کے بارے میں خوب خیال آرائی کی ہے:

ترجمہ کا تعلق اصل تصنیف سے تقریبا وہی ہے جو شہاب ثاقب کا نجوم وکواکب سے ہوتا ہے۔ یہ بھی اکثر اوقات ایک نہ ایک سیارے سے جدا ہوکر تاریخ کے کسی نہ کسی ریگستان میں گم ہوجاتا ہے اور پھر خود بھی ایک چھوٹا موٹا سیارہ بن جاتا ہے جیسا کہ فنِ ترجمہ کی تاریخ میں کئی بار ہو چکا ہے۔ جیسے ایک ہی سیارے سے مختلف وقتوں میں ایک سے زیادہ شہاب ثاقب نمودار ہو سکتے ہیں اسی طرح ان کلاسیکی فن پاروں کے ترجمے کی ضرورت بھی باربار پڑتی ہے جن کے ترجمے کو کبھی اصل سے بہتر بھی قرار دیا گیا ہو۔ (یہاں مظفر صاحب نے مارسل پروست کے ناول “گم شدہ وقت کی تلاش”*1 کی مثال دی ہے) غرض ترجمہ کا کوئی نہ کوئی ربط رجم سے قائم کیا جا سکتا ہے بلکہ شاید اسی وجہ سے ترجمہ کا فن بعض دلچسپ جملے بازیوں کا ہدف بھی بنا ہے جیسے “من ترجم یرجم” (جس نے ترجمہ کیا سنگسار ہوا)😉

مختلف ماہر مترجمین اور فن ترجمہ نگاری کے ماہرین کی بڑی حد تک کامیاب کاوشوں اور مشینی ترجمے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کمپیوٹر میں لسانیاتی پروگرام بھرنے کے بعد بھی انسانی ماہرین کی ضرورت برقرار رہے گی اور وقت اور سرمائے کی بچت شاید پھر بھی نہ ہوسکے۔ مستقبل میں مشینی ترجمہ کسی قدر آسان تو ضرور ہو جائے گا مگر اس کا دائرہ کار صرف ایسے متون تک محدود رہے گا جن میں زبان کو تہہ در تہہ معنویت کے ساتھ استعمال نہ کیا گیا ہو۔ اس کے برعکس تخلیقی ترجمہ تو ہوتا ہی ایسی تخلیقات کا ہے جو تہہ در تہہ معنویت کی حامل ہوں۔ چونکہ ترجمے کی یہ سب سے زیادہ مشکل بلکہ تقریبا ناممکن قسم ہے اسی لئے یہ مشینی ترجمہ کی استعداد سے اکثروبیشتر باہر رہے گی۔ تخلیقی ترجمہ ایک ایسے اتفاقی حادثے کا نام ہے جس کی پیش بینی نہیں کی جا سکتی کیونکہ مختلف زبانوں میں ایسی لفظ بلفظ مماثلت بہت کم ملتی ہے جو بامعنی بھی ہو اور درست بھی۔ تاہم تخلیقی ترجمہ کرنے والوں نے متعدد ایسی مماثلتیں دریافت کی ہیں بلکہ جہاں نہیں ہیں وہاں انہوں نے اپنے تخیل سے پیدا کرکے دکھادی ہیں۔ چناچہ ترجمہ کی یہ قسم آزادی اور پابندی کے درمیان ایک جدلیاتی کشمکش کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور جب تضاد ایک اعلی سطح پر مطابقت اور موافقت کی صورت میں تبدیل ہوجاتا ہے تو فنِ ترجمہ کی رسائی کا اندازہ ہوتا ہے۔

یہاں اگر بنظر غور دیکھا جائے مظفر علی سید اردو کے بے مثال مترجم محمد حسن عسکری کے اصولِ ترجمہ اور تصورِ ترجمہ کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ‘ہر قسم کا لفظ بلفظ ترجمہ جس میں اصل زبان کی زندگی مفقود ہو یا ایسا رواں دواں اور آزاد ترجمہ جس میں اصل کی تہہ در تہہ معنویت قربان ہو جائے ترجمہ کی مشکلات سے نا آشنائی یا دانستہ گریزپائی کا مظہر ہے’۔ یہاں پر وہ عسکری کا حوالہ بھی دیتے ہیں جن کے نزدیک ‘اس قسم کا راواں ترجمہ جس میں اصل متن کے اسلوب بیان کو کلیتاً نظر انداز کر دیا گیا ہو اور اس کی جگہ کوئی مماثل اور متوازی اثر پیدا کرنے کی کوشش بھی نہ کی گئی ہو عالمی ادب کی یا اپنی زبان کی کوئی خدمت نہیں۔ اصولی طور پر ایسے ترجموں کو تلخیص تسہیل یا توضیح کی ایک مشق کو سمجھا جاسکتا ہے کوئی تخلیقی کمال نہیں۔ ‘ سید صاحب مزید لکھتے ہیں کہ عسکری صاحب نے ایک جگہ فرانسیسی ناول “سرخ و سیاہ” کے ترجمے میں مصنف سے بیوفائی کی معذرت کی ہے۔ حسن اور وفاداری یوں بھی لازم و ملزوم نہیں چناچہ فرانسیسی زبان میں کہا گیا ہے ہے: مترجمین عورتوں کی طرح ہوتے ہیں جب وہ وفادار ہو تو خوبصورت نہیں ہوتی اور خوبصورت ہو تو وفادار نہیں ہوتیں*2۔

یہاں مظفر علی سید کے مضمون “ترجمے کی جدلیات” کے نکات ختم ہو جاتے ہیں۔ اس مضمون میں مظفر علی سید نے فرانسیسی ناول نگار مارسل پروست کے ایک طویل ناول “گم گشتہ وقت کی تلاش” کے ذکر کے ساتھ ساتھ استاں دال ناول “سرخ و سیاہ” کا بھی حوالہ دیا ہے جسے محمد حسن عسکری نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ آگے ہم ترجمہ کے حوالے محمد حسن عسکری کے تصورِ ترجمہ کے کچھ نکات پیش کرتے ہیں جو ہمارے خیال میں مظفر علی سید کے نظریہ ترجمہ کی بنیاد بھی ہیں۔

استاں دال کا ناول The Red and the Black, 1830 جو عسکری نے 1952ء میں ترجمہ کیا مکتبہ جدید، لاہور نے 1953میں شائع کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ فلوبیئر کے معروف ناول “مادام بواری” کا ترجمہ کرکے بطور مترجم اپنا لوہا منوا چکے تھے۔ “سرخ و سیاہ” اگرچہ حقیقت نگاری کے اسلوب میں ہے مگر اس میں رومانویت کی ایک زیریں لہر بھی ہے۔ اس کی بنت سماجی و سیاسی ماحول کے اندر ہے مگر عسکری نے اسے اس کی زبان، بیان اور اسلوب کی اسی انفرادیت کی بنا پر ترجمے کے لئے چنا تھا جو ان کے خیال میں اردو کے نثری اسالیب کے لئے ایک چیلنج تھا۔ استاں دال کے اسلوب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے رومانویت کی مبالغہ آمیز رنگینی اور غنائیت کے رد عمل میں ایک ”نو طرز غیر مرصع“ کا آغاز ہوتا ہے۔ گٹھے ہوئے جملوں، خشک، مجمل اور حشو و زوائد سے پاک زبان اور اظہار کی بے ساختگی کی وجہ سے استاں دال کی نثر اتنی چابک دست ہے کہ اس نے عسکری جیسے صاحب اسلوب نثر نگار کو بھی بے حال کر دیا تھا۔ اس ترجمے کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ:

”اس ناول نے مجھے رلا رلا دیا۔ اگر سلاست اور روانی کی بات ہوتی تو میں لیٹے لیٹے ترجمے کے پچاس صفحے روز لکھوا سکتا تھا۔ لیکن استاں دال تو کم بخت وہ آدمی ہے جو نثر کے فن کو نظم کے فن سے بڑا سمجھتا ہے استاں دال جذبات کا تجزیہ فکرِ محض کی زبان میں کرتا ہے۔ اردو میں اس کی صلاحیت نہیں۔ اگر میں اس کے لیے کوئی نیا اسلوب بنانے کی کوشش کرتا تو ڈر یہ تھا کہ اردو کے نقاد پوچھیں گے یہ ناول ہے یا مقالہ!۔ ۔ ۔ پہلی نظر میں تو استاں دال کے جملے بڑے خشک اور بے رنگ معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن ذرا غور سے پڑھیں تو ایک کرارا پن اور ایک ایسی چستی ملے گی جو طنز کے قریب پہنچ جاتی ہے۔“

جیسا کہ ہم نے عرض کیا عسکری کا پہلا ادبی ترجمہ “مادام بواری” تھا۔ عسکری کو اپنا یہ ترجمہ بہت پسند تھا لیکن بحیثیت ایک ناکام ترجمہ کے۔

مادام بوواری ایک ایسا ناول ہے جو کسی مترجم کے لیے موضوع کی بہ نسبت اپنے پیچیدہ اسلوب کی وجہ سے چیلنج بنتا ہے۔ مصنف نے اس میں معنی اور تاثر آفرینی کے لیے جملوں کے آہنگ، پیراگراف کی تشکیل، مختلف قسم کے خیالات کو تقابل یا تضاد کے لیے ایک ہی جملے میں کھپانے کا، اور حتیٰ کہ رموز ِ اوقاف تک سے، کام لیا ہے۔ ان نزاکتوں کو اردو ایسی زبان میں منتقل کرنا، جس میں زبان کی خوبی صرف سلاست اور روانی ہی سمجھی جاتی ہے، جان جوکھم میں ڈالنا تھا۔ مگر عسکری نے اپنی حد تک یہ کام کر دکھایا ہے۔ لیکن وہ اسے اپنا ایک ناکام ترجمہ کہتے تھے:

”میرے جس ترجمے کو غور سے پڑھا جاناچاہیے تھا وہ ہے ’مادام بوواری ‘، یعنی ایک ناکامیاب ترجمے کی حیثیت سے۔ اول تو اس کتاب کا صحیح ترجمہ آج تک ہوا ہی دنیا کی کون سی زبان میں ہے۔ اردو بچاری تو پھر بھی بچی ہے۔ یہ کتاب تو اس قابل ہے کہ اردو کے آٹھ دس ادیب مل کر اُسے ترجمہ کرتے اور اس پر تین چار سال لگاتے، تب کہیں جا کر کچھ بات بنتی۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کتاب میں نثری اسلوب کے جتنے مسائل سامنے آتے ہیں میں نے ان سب کو سمجھ لیا۔ اس کام کے لیے بھی سال بھر چاہیے۔ بہرحال جو دوچار باتیں میرے پلے پڑیں وہ میں نے اردو میں پیدا کرنی چاہیں۔ مثلاً ایک تو میں نے یہ کوششں کی کہ فلو بئیرنے علاماتِ اوقاف کے ذریعے جومعنی پیدا کیے ہیں ویسے ہی میں بھی کروں۔ لیکن کاتب صاحب نے سب گڈمڈ کرکے رکھ دیا۔“

ان مشکلات کا بیان کرتے وہ کہتے ہینں کہ اس سے اگر اردو عبارت کے گنجلک ہونے کی شکایت ہو تو اس کا بہترےن حل یہ ہے کہ کوئی اور صاحب اس سے بہتر ترجمہ کر کے دکھائیں۔ بہر حال “مادام بوواری” اگر ایک ناکام ترجمہ تھا تو یہ عسکری کے ذہن میں تخلیقی ترجمہ کا جو آدرش تھا اس کے اعتبار سے ناکام تھا لہٰذا عظیم ناکامی! جو چھوٹی موٹی کامیابی سے کہیں زیادہ اہم ہوتی ہے۔ ایک بات ذاتی تجربے کی بنا پر عرض ہے کہ مادام بوواری کا یہ ترجمہ پڑھتے ہوئے کم از کم اس کا کوئی انگریزی ترجمہ ہی سامنے رکھ لیا جائے تو عسکری کی محنت کی داد ہم آج بھی دیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اور پھر آدمی اس وقت تو حیران ہی رہ جاتا ہے جب اسے پتہ چلتا ہے کہ عسکری نے یہ ترجمہ کوئی کاغذ قلم ہاتھ میں پکڑ کے نہیں کیا تھا بلکہ لیٹے لیٹے کتاب سامنے رکھے بولتے جاتے اور ان کے بھائی محمد حسن مثنی املا کی طرح اسی لکھتے جاتے تھے۔ ہے نا حیرت کی بات؟

عسکری صاحب نے اردو میں بہت زیادہ ترجمہ تو نہیں کیے مگر دو تین فرانسیسی اور ایک آدھ انگریزی کے بڑے ناولوں کو ترجمہ کرتے ہوئے، اور اردو نثر کے اسالیب کی وسعت کی ضرورت اور ترجمے سے اس ضرورت کو پورا کرنے کی کاوش کے دوران انہوں نے ترجمے کے بارے میں جو کچھ لکھا اسے ذہن میں رکھتے ہوئ یہاں ایک اضافی بات یہ کی جا سکتی ہے کہ ان کے نزدیک کامیاب ترجمہ وہ ہے جس سے ایک تو اپنی زبان میں کوئی نیا اظہاری سانچہ اور اسلوب پیدا ہوجائے اور دوسرا اپنی زبان کے ادب میں کوئ نیا محسوساتی تجربہ تخلیق ہو سکے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اردو زبان میں میں نثر کا کوئی ایسا اسلوب نہیں ہے جس میں کسی شے کا محض بیان نہ ہو بلکہ کسی منظر، کسی کیفیت یا متنوع مبصرات کے محسوساتی بیان کا “یک آنی” تجربہ تخلیق ہوتا نظر آئے۔

معروف فرانسیسی ناولوں “مادام بواری” اور “سرخ و سیاہ” کے تراجم میں انہوں نے عملی طور پر یہ کاوش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اہم تر بات یہ ہے کہ وہ اردو میں جس محسوساتی نثر کی تخلیق کرنا چاہتے تھے اور اردو کے دیگر ادیبوں سے اس کا تقاضہ کر رہے تھے، اپنے تراجم سے بھی دس پندرہ برس پہلے انہوں نے اپنے افسانوں میں اس قسم کی نثر لکھنے کا بہت منفرد تجربہ کرکے دکھایا تھا۔ نمونے کے طور پر ان کے افسانے “حرامجادی” کی نثر دیکھی جا سکتی ہے۔ زبان، نثر اور ترجمے کے بارے میں میں اپنے اس مخصوص آدرش کے پیش نظر ہی وہ اردو زبان کے اسالیب میں تنوع کی ضرورتوں پر اردو ادیبوں کو مستقل جھنجوڑتے رہے تھے:

“اگر ہمارے نئے ادیبوں نے قدامت پسندوں اور روایت زددو ں کوچونکا لیا تو کون بڑا تیر مارا؟ سوال یہ ہے کہ انہوں نے کبھی انسان کا وہ چہرہ بھی دیکھا اور دکھایا جو بیک وقت مضحکہ خیز بھی ہے اور پرجلال بھی اور جو پچھلے سو سال سے مغرب کی ہر عظیم کتاب اور تصویر سے جھانک رہا ہے؟ بیسویں صدی جس قسم کے روحانی تجربات سے گزری ان کے پیش نظر میں تو اتنی بات جانتا ہوں کہ جو زبان Pontius Pilate کے اس مشہور فقرے behold the man *3 کو انہی معنوں کے ساتھ نہیں دہرا سکتی اسے بیسویں صدی کی زبان نہیں کہا جاسکتا۔ اگر آپ اپنی زبان کی صلاحیتوں سے واقف ہونا چاہتے ہیں تو ذرا اس چھوٹے سے فقرے کو اردو میں ترجمہ کر کے دیکھیے”!

یاد رہے یہ بات عسکری نے یہ بات اپنی “پیروی مغرب” کے دور میں لکھی تھی اور ان کی اس طرح کی باتوں کا مقصد اردو ادیبوں کی بے حسی و خود اطمینانی کے خول کو چٹخانا ہوتا تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حواشی

*1 یاد رہے کہ پروست نے اپنے ہی فرانسیسی ناول À la recherche du temps perdu کے معاصر انگریزی ترجمے In Search of Lost Time کو اصل سے بہتر قرار دیکر اپنے معاصر ترجمہ نگار کو ایسی داد دی تھی جو کسی مصنف کی طرف سے مترجم کو آج تک کاہے کو ملی ہوگے۔ اڑتیس برس کی عمر میں لکھے گئے پروست کے اس ناول کے سات حصے ہیں۔ طالسطائی کی بڑایوں میں سے ایک اس کے ناولوں میں کثیر تعداد کرداروں کا ہونا بھی بتایا جاتا ہے مگر پروست کے اس ناول کے صفحات چار ہزار اور کرداروں کی تعداد دو ہزار بتائی جاتی ہے اور یہ بیسویں صدی کے اہم ترین ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔
آخری زمانے مشتاق احمد یوسفی کے پیش نظر مارسل پروست کا یہی ناول تھا وہ اسی کی پیروی اور طرز پر کئی حصوں میں ایک ناول نما شے لکھنا چاہتے تھے مگر صرف “آب گم” مل کر ہی رہ گئے۔

*2 آجکل خلیل الرحمن قمر کے ڈرامے کی وجہ سے فیمنسٹ حضرات و خواتین یوں بھی بھنائے بیٹھے ہیں لہذا ہم بتائے دیتے ہیں کہ یہ ہمارا خیال نہیں ہے بلکہ فرانسیسیوں کا ہوگا۔ تفنن طبع کے طور پر عرض ہے کہ ایک زمانے میں ہمیں بھی بھی فن ترجمہ نغمہ نگاری سے شغف رہا ہے تو اس زمانے میں جبکہ ہمارے ہاں ابھی فیمنزم کا اتنا زور نہیں ہوا تھا ہم نے ایک دوست کے سامنے یہ ترجمہ و عورت تماثل دہرایا تو انہوں نے یہ کہہ کر ہماری بولتی بند کر دی کہ اس معاملے میں فرانسیسیوں کو شدید غلط فہمی ہوئی ہے: ہم نے تو یہ مخلوق، الا ماشاءاللہ، ان دونوں کمالات سے محروم دیکھی ہے!

*3 کلمہ Behold the Man لاطینی الفاظ Ecco Homo کا انگریزی ترجمہ ہے۔ یہ حضرت مسیح کی مصلوبی کا حکم دینے والے یہودا کے رومی گورنر Pontius Pilate کے وہ الفاظ ہیں جو اس کے منہ سے اس وقت ادا ہوئے جب اس نے آنجناب کو بندھوا اور سر پہ کانٹوں کا تاج پہنا کر تصلیب سے پہلے ہجوم کے سامنے پیش کیا تھا۔ یہ کلمہ جان کی انجیل میں نقل ہوا اور لاتعداد کتابوں، تصویروں، شاعری اور فلموں کا عنوان بن کر تاریخ میں امر ہوگیا۔ عسکری نے اسی کو ضحک و جلال کی تصویر کہا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20