انور عباسی کی کتاب ’’بینک انٹرسٹ، منافع یا ربوٰ‘‘ —- نعیم الرحمٰن کا تبصرہ

0

اسلام میں سود کو سنگین ترین گناہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن پاک اوراحادیث مبارکہ میں اس کی واضح ممانعت کا واضح حکم دیا گیا ہے۔ بینکنگ سسٹم کے فروغ کے ساتھ یہ بحث ہمیشہ رہی کہ بینک انٹرسٹ منافع ہے یاربا۔ اس اہم موضوع پر علمائے کرام نے تو دوٹوک موقف اختیارکیا اور بینک منافع کو سود ٹھہراتے ہوئے حرام قرار دیدیا۔ لیکن اس کے ساتھ اسلامک بینکاری کے نام پر یہی منافع مشارکہ، مضاربہ کے نام سے جائز قرار دیا جاتا ہے اور اسلامک بینکاری اسی بنیاد پر فروغ پارہی ہے۔ جس سے عوام کی پریشانی اور الجھن میں اضافہ ہوا ہے اور انہیں واضح معلومات حاصل نہیں ہوپاتیں۔ اس اہم ضرورت کو مستند بینکار اور اسلامی علوم سے آشنا محمد انور عباسی نے سود کے مروجہ مفہوم اور اس کے اطلاق کے خلاف پہلی معرکۃ الآراء کتاب ’’بینک انٹرسٹ منافع یاربا‘‘ انگلش اور اردو دونوں زبانوں میں لکھی ہے۔ اس کتاب میں سود اور ربا کے بارے میں اسلامی احکامات، اس کی تعریف، لغوی بحث اور بینک منافع کا سود یا ربا ہونے یانہ ہونے کے بارے میں بہت مفید تفصیلات پیش کی ہیں۔ انور عباسی صاحب کے نکتہ نظرسے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اس کتاب سے اس بحث کا آغاز اور معلومات تو حاصل ہوئی ہیں۔ مزید بحث سے اس معاملے کو سلجھایا اور اس کا واضح جواب تلاش کیا جاسکتا ہے۔

کتاب ایمل مطبوعات نے شائع کی ہے۔ ایمل کے شاہد اعوان عام پبلشر نہیں ہیں۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر مفید اور بامقصد کتب انتہائی خوبصورتی سے شائع کی ہیں۔ ان میں سجاول خان رانجھا کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں گفتگو پر مبنی ’’دانش سے مکالمہ‘‘ کامیابی کی خاطر غلطیوں کے شکار لوگوں کے لیے ’’کامیابی کا مغالطہ‘‘ اردو کے معروف ادیب وشعراء کے مطالعہ کے بارے میں’’میرا مطالعہ‘‘ ریل کی ایجاد، برصغیر میں آمد اور ترقی پر مبنی دلچسپ معلوماتی کتاب ’’روداد ریل کی‘‘، معروف ادیب محمدحاطب صدیقی (ابونثر) کے خاکوں پر مشتمل ’’جو اکثر یاد آتے ہیں‘‘، افتخار ملک کا دلچسپ اور معلوماتی سفر نامہ ’’قلزم کے اس پار‘‘، دور جدید کے میڈیا اور اسلام کے تناظر میں ’’میڈیا، اسلام اور ہم‘‘، قرآنی دعاؤں پر مبنی ’’اللّھم‘‘، معروف دانشور طارق جان کی ’’سیکولرازم: مباحث اور مغالطے‘‘، ضیاء الاسلام انصاری کی نوجوانوں کے لیے عملی زندگی میں آگے بڑھنے اور کامیابی کے لیے رہنما ’’منزلِ مراد‘‘، علامہ اقبال کی حیات و خدمات پر ڈاکٹر طالب حسین سیال کی ’’علم کامسافر‘‘ محمد انور عباسی کی دلچسپ خود نوشت ’’متاعِ شام سفر‘‘ چند ایسی ہی کتابیں ہیں۔

انور عباسی

’’بینک انٹرسٹ منافع یا ربا‘‘ بھی ایسی ایک دلچسپ اور بروقت کتاب ہے جس میں اسلامی معاشرے کے ایک اہم ترین ضرورت پر کارآمد بحث کی گئی ہے۔ تین سو تیس صفحات پر مبنی یہ کتاب بہترین کاغذ پربہت عمدگی سے شائع کی گئی ہے۔ جس کی سات سو پچاس روپے قیمت بھی مناسب ہے۔ کتاب کے مصنف محمد انور عباسی باغ آزاد کشمیر میں 1940ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے بی کام آنرز اور اسی یونیورسٹی سے ایم معاشیات کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں ایم اے اسلامیات کی سند بھی حاصل کی۔ وہ بیس سال تک سعودی عرب میں سعودی ہولندی بینک میں چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائز رہے۔ وہاں سے ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔ حال ہی میں محمد انور عباسی کی دلچسپ آپ بیتی ’’متاعِ شام سفر‘‘ بھی شائع ہوئی ہے۔

مشہور ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کتاب پر اظہارِخیال کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’مصنف نے زیرِ نظر کتاب میں ربوٰ اور سود کے بارے میں تفصیلی بحث کی ہے اور اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینکوں نے سود کے طور پر جو طریقے اپنائے ہیں ان کا جائزہ بھی لیا ہے۔ جو حضرات مروجہ اسلامی نظامِ بینکاری کے شعبے میں تحقیق میں مصروف ہیں یا اسلامی بینکاری میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے یہ کتاب یقینا مواد فراہم کرتی ہے۔‘‘

ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن نے لکھا ہے۔

’’مصنف نے بینک انٹرسٹ کے مسئلہ کو جس طرح اسلامی مآخذ اور ان کی مختلف تشریحات کے ذریعے موضوع بحث بنایا اور علمی بنیاد پرمقبول و معروف نقطہ نظرسے اختلاف کرنے کا حوصلہ کیا ہے وہ انتہائی قابل ِ داد ہے۔ ایک پیشہ ور بینکر کے عملی تجربہ اورعلمی و تحقیقی مطالعہ کا امتزاج ہی اس طرح کی کتاب لکھنے کی بنیاد ہوسکتا تھا۔ عرق ریزی، دردمندی اور عالمانہ شان سے کیا گیا انور عباسی کایہ کام وقت کی اہم ترین ضرورت تھی۔‘‘

معروف مذہبی اسکالر اور مدیر ماہنامہ الشریعہ کا کہنا ہے۔

’’عباسی صاحب کے نقطہ نظرسے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن انہوں نے اسلامی بینکاری کے میدان میں اپنے وسیع مطالعہ اور عملی ممارست کی روشنی میں اس دائرے میں اب تک ہونے والی پیش رفت کاعمدہ جائزہ بھی پیش کیاہے اور اپنے نقطہ نظرسے اہم بحثوں کا محاکمہ بھی کرنے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے کہ ان کی اس کاوش کو علمی تناظرمیں پڑھا جائے گا اوریہ کتاب اس علمی بحث و مباحثہ کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔‘‘

مصنف، اسکالر اور دانشور بیرسٹر ظفراللہ خان نے کتاب پر تبصرہ کیا ہے۔

’’سماجی ومعاشی حوالوں سے حرمت ِ سود بہت ہی اہم امر ہے، لیکن آج تک اسلامی ماہرین ِ معیشت میں سود کی تعریف پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ اس کتاب میں جراتِ تحقیق کا مظاہرہ کرتے ہوئے سودکی تعریف کے مختلف پہلوؤں پر بنیادی بحث کی گئی ہے جو بہت معنی خیز اور بہت دور رس نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔‘‘

اس علمی، فکری اور معاشی تصنیف پر عبدالرشید ترابی کا تبصرہ ہے۔

’’مصنف کے مطابق اسلامی بینکنگ کے نام پر بلاسود اسکیمیں بھی بنیادی طور پر سود ہی کی ایک شکل ہے جسے مختلف فقہی حیلوں سے جواز بخشنے کی کوشش کی جاتی ہے نیزوہ یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ بینکوں کے موجودہ نظام میں سرمائے پرسود کا اجراء ربوٰ کے حکم میں نہیں آتا۔ انہوں نے نئے سوالات اٹھائے ہیں، جن کا جواب اہلِ علم کے لیے واجب الادا ہے۔‘‘

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق صدر ڈاکٹر ممتاز احمد مرحوم نے کتاب پر ان الفاظ میں اظہارِ خیال کیا ہے۔

’’اسلامک فنانس اور اسلامک بینکنگ کے نام پرآج تک جتنے مباحث سامنے آئے ہیں اورعملی تجربات کیے کئے ہیں، بنیادی طور پران کی حیثیت لیپا پوتی کی سی ہے۔ اسلامی معاشی اور مالی ادارے سود کی مختلف شکلوں کو اسلامی اصطلاحات کا پاکیزہ لبادہ پہنا کر اپنے تئیں مطمئن ہوچکے ہیں۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ جدید بینکنگ سسٹم کی زرپرستی کو سرمایہ داری کی لعنت قرار دینے والے اسلامی بینک اور سرمایہ کاری ادارے اور ان کی فقہی مشیر عام بینکوں کے مقابلے میں اپنی منافع پذیری پر اعلانیہ فخر کرتے ہیں اور متوقع کھاتہ داروں کو لالچ دیتے ہیں کہ اپنی بچتیں عام بینکوں کے بجائے ہمارے پاس جمع کراؤ اس لیے کہ ہم زیادہ منافع دیں گے۔ یہ کتاب ہم جیسے بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے جو اسلامی بینکنگ کی موجودہ شکلوں کو اسلام کے نظام ِ عدل اور سماجی انصاف کی اقدار کا مظہر سمجھتے ہیں۔ مصنف کے دلائل سے کچھ لوگوں کو اختلاف یقینا ہوگا لیکن یہ دلائل کچھ ایسے کمزور نہیں جنہیں آسانی سے مسترد کیا جاسکے۔‘‘

ان ماہرین اور مفکرین کی آراء سے کتاب کی افادیت تو واضع ہوجاتی ہے۔ محمد انور عباسی کااسلوب بھی اتنا سادہ اور دلنشین ہے کہ ہربات قاری کے دل میں اترجاتی ہے، ان کے دلائل سے اختلاف بھی ہو تو گفتگو شروع تو ہوتی ہے اور گفتگو سے ہی مسائل سلجھائے جاسکتے ہیں۔ حرف ناشر میں شاہد اعوان لکھتے ہیں۔

’’انسان کے سامنے جب مفادِعاجلانہ ہی سب کچھ ہو، جب وہ خواہشات ِ نفس کا گھائل، جاہ وجلال کا طالب اور عیش و عشرت کاغلام بن جائے تواس کے لیے مذہب اوراخلاق ہی نہیں عام عقل و خرد کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ ربوٰ کی ممانعت اسلام ہی سے مخصوص نہیں بلکہ ہرمذہب اور فلسفے میں اس کی ممانعت معروف رہی ہے۔ ہر زمانے میں مسلمانوں نے یہ کوشش کی کہ وہ اپنی زندگی میں اس شجرِ خبیثہ سے بچ کر چلیں۔ جب بینکوں کا ادارہ سامنے آیا تو یہ سوال پیدا ہوا کہ اس ادارے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی کیاحیثیت ہے۔ یہ ربوٰ کے ذیل میں آتاہے یا نہیں۔ ماہرینِ معاشیات بالخصوص علماکی اکثریت نے بینک انٹرسٹ کونہ صرف حرام قرار دیا بلکہ اس کی ملازمت کو بھی ناپسندیدہ قرار دیا۔ اس مقبولِ عام نقطہِ نظرکے برعکس رائے کے حامل، ایک پیشہ ور بینکار اور دین کے سنجیدہ قاری کی حیثیت سے انور عباسی صاحب کی یہ کتاب علمی اعتبارسے یقینا اتنی مضبوط ہے کہ میرے لیے باوجود اضطراری یافوری کوشش کے اس سے مکمل اختلاف کرنامشکل رہا اور شعوری کوشش سے جوکچھ ممکن ہوا وہ احاطہ تحریرمیں لانے کی کوشش کی ہے۔ گویہ نقطہ نظر ایک اقلیتی نقطہ نظرکی حیثیت سے ہمارے ہاں ہمیشہ موجود رہا مگر اس کتاب میں اس کو زیادہ علمی انداز سے آگے بڑھایا گیا ہے۔ اب یہ اہل علم کا کام ہے کہ وہ اس معاملے میں مصنف کے دلائل کاجائزہ لیں اور اس مکالمہ کو آگے بڑھائیں۔

ضروری بات کے عنوان سے محمد انور عباسی کہتے ہیں۔

’’ربا کو ختم کرکے صدقات کو مسلم معاشرے میں اخوت و ہمدردی اور ایثار و قربانی کی فضا قائم کرنے اور پروان چڑھانے کے لیے رواج دینے کی خدائی اسکیم! صدقات مسلم معاشرے کے قیام و بقا کا ایجابی عنوان ہے اور ربا سلبی۔ ربا کو مٹانے، نیست و نابود کرنے اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم و حوصلہ ایک مسلمان کے ایمان کا تقاضا۔ اور ربا کو مٹا کر اس کے متبادل کی تنقیذ اس کے ایمان کا عملی ثبوت! یہ نفی و اثبات کا حسین امتزاج! دو حقیقتیں! ایک حاضر ہوگی تو دوسری لازماً غائب۔ بیک وقت دونوں کا اجتماع، اجتماع ضدین، لیکن یہ المیہ ساکوئی المیہ ہے کہ کرنے کا اصل کام چھوڑ کر سود کوربا کا مترادف سمجھ کر اس کے مختلف اور ایسے طریقوں کو اس جدید دور میں متعارف کروایا گیا ہے اور مسلسل کروایا جا رہا ہے جو زمانہ ہوا اپنی طبعی عمرپوری کرکے افادیت بھی کھوچکے اور صلاحیت بھی۔‘‘

انور عباسی صاحب کا کہنا ہے۔

’’پاکستان کے اہلِ علم کا ایک طبقہ ایساہے جویہ سمجھتاہے کہ بینک، کارپوریشنز، کمپنیاں، اسٹاک ایکسچینج وغیرہ سرمایہ دارانہ نظام کے ٹول اور ہتھکنڈے ہیں۔ کاغذی زرکی بنیادپرقائم یہ نظام ِ زرکی پشت پر کوئی مضبوط تحفظ اور ضمانت نہیں جو ماضی میں گولڈ سٹینڈرڈ کے زمانے میں دستیاب تھی۔ لہٰذا ان تمام مظاہرکی موجودہ استحصالی شکل کے خاتمہ کے بغیر ان کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ میرے محدود علم کے مطابق یہ ٹول انسان نے اپنی سہولت کی خاطر ایجاد کیے تھے جن کو اپنے لیے زحمت بھی بنا سکتا ہے اور رحمت بھی۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ زرپرستی اورخدا بیزاری کا تعلق بینکوں اور کاروباری کمپنیوں کے وجود سے نہیں بلکہ اس کی بڑی وجہ ناشر محترم کے اپنے الفاظ میں مفادِ عاجلہ، خواہشاتِ نفس کا گھائل اور عیش و عشرت کا غلام بن جانا ہے۔ یہ سب ادارے انسان کے ہاتھ میں ایک آلہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چاقو سے سبزی بھی کاٹی جاسکتی ہے اور کسی کی گردن بھی۔‘‘

محمد انور عباسی نے بہت سادہ اور دلنشین انداز میں اپنی بات قارئین تک پہنچائی ہے۔ بحث کا آغاز کیا ہے۔ اپنے دلائل پیش کر دیے ہیں۔ بے شک ان کے دلائل جوں کے توں قبول نہ کیے جائیں۔ لیکن ان کاجواب دلائل ہی سے دیاجائے۔ خامیاں بتائی جائیں۔ غلطیوں کی نشاندہی کے بعدانہیں درست کرنے کی راہ اختیارکی جائے۔ اس سے قبل محمد ارشاد صاحب نے بینک انٹرسٹ کے منافع یا سود ہونے کے بارے میں عمدہ مضامین احمد ندیم قاسمی مرحوم کے ’فنون‘ میں تحریر کیے تھے۔ عباسی صاحب نے اس مسئلہ پرتفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ان دلائل کو یکسر رد کرنا اور اپنی بات پر اڑے رہنا درست نہیں۔ اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پربحث کے ذریعے ہی درست اور قابل عمل حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ بینکنگ سسٹم کو جدید معاشرے سے خارج کرنا ممکن نہیں۔ لیکن اسے بہتر اور اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا جاسکتاہے۔

کتاب کے ابواب ہی سے اس کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ حصہ اول معاشیات کا اجمالی تعارف ہے۔ جس کے باب اول کا عنوان ہے۔ ’رویہ صارف اور ارتقائِ زر‘ ہے۔ جس کی فصل اول میں بنیادی مسئلہ، محدود وسائل و خواہشات، معاشی جدوجہد، رویہ صارف کی عقلی بنیاد، معاشی حاجات اوران کی خصوصیات، پہلا درجہ ضروریاتِ زندگی اورطلب ورسدکے عنوانات موضوع کی مختلف پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ فصل دوم میں پیدائش دولت اور عاملین پیدائش کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔ فضل سوم میں تقسیم ِ دولت، لگان یا کرایہ، اجرت، سود، منافع اور لاگتِ پیدائش اور قیمتیں کے نام سے تفصیلات بیان کی ہیں۔ جبکہ فصل چہارم میں زر، بینکنگ، زرکی تعریف و زرکا ارتقاء، زرکے وضائف، بینکنگ کا ارتقاء، وظائف ِ بینک اور زرکی حقیقی قدر بیان کی گئی ہے۔

باب دوم کا ’سرمایہ داری اور سوشلزم‘ ہے۔ جس کی فصل اول میں نظام سرمایہ کاری، فوائد، نقصانات، فصل دوم سوشلزم، خصوصیات و فوائد اور نقصانات بیان کیے گئے ہیں۔ حصہ دوم ’اسلامی معاشیات‘ ہے۔ جس کا باب سوم ’بنیادی تصورات‘ ہے۔ جس فصل اول میں فلسفہ حیات، پابند آزادی، شخصی ملکیت، معاشی جدوجہد اور تہذیبی فرق جبکہ فصل دوم میں خصوصیات و اہداف، انسانی آزادی، سوشل جسٹس، غربت کا خاتمہ، زر کی حقیقی قدر میں استحکام اور عادلانہ تقسیمِ دولت کے عنوانات سے ان تمام امور کی بھرپور وضاحت پیش کی ہے۔

ان تمام مضامین میں انورعباسی صاحب نے کوئی موضوع تشنہ نہیں چھوڑا۔ ہر پہلو کو پوری وضاحت سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ بینکوں کا کام، طریقہ کار، زرکی حقیقت اور تقسیمِ دولت ہربات واضح کرکے ہی بات کو آگے بڑھایا ہے۔ باب چہارم، ’اہداف کاحصول‘ ہے۔ جس کی فصل اول معاشرہ اور معیشت، اسلامی معاشرے کی ضرورت، نظامِ ربوبیت اور انفرادی ملکیت اور مسئلہ سود کے عنوانات کی وضاحت کی ہے۔ فصل دوم میں ربا اور سود، رِباکی تعریف، علتِ تحریم، مفاسدِ رِبا اور متبادل کی تلاش کی کوشش کی گئی ہے۔

باب پنجم ’اسلامی بینکنگ ہے‘ جس کی فصل اول میں بینکوں کی اہمیت اور حقیقی متبادل، سود کی متبادل اساس، قرضِ حسنہ، مشارکہ، مضاربہ اور متبادل قرض کے عنوانات سے اسلامی بینکنگ کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ فصل دوم میں ثانوی یا عارضی متبادل، سروس چارجز، بیع مرابحہ، مارک اپ وغیرہ، اجارہ، مشارکہ متناقصہ، سلم و استنضاع، بیع العینہ، بیع بالوفا، تورّق، قرضوں اور بچتوں کا انڈیکس، سرمایہ کاری کی نیلامی اور اوسط شرح منافع کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے عنوانات سے اسلامی بینکنگ کے مختلف پہلوؤں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ فصل سوم روایتی اور اسلامی بینکوں کا فرق؟ اس طرح عام بینکوں اور اسلامی بینکنگ کے طریقہ کار کی بھرپور وضاحت کی گئی ہے۔

کتاب کا آخری باب ششم، ’سود اور حقیقتِ ربا‘ ہے جسکی فصل اول میں سود، معاشی جدوجہد، اجتماعی جدوجہد، شراکت، کارپوریشن، کمپنیاں، قرضے، سود اور سودکا خاتمہ جبکہ فصل دوم حقیقتِ الربا، مفاسدِ ربا اور ان کا اطلاق، الربوٰ، تعریفیں اور ان کا جائزہ، الربوٰ کا صحیح مفہوم، لُغوی اور اصطلاحی یاشرعی مفہوم، بیع اور ربا میں مماثلت، سیاق و سباق اور آیاتِ رِبا اور سود اور اسلامی معاشیات کے اہداف۔ کتاب کے عنوانات سے ہی اس کی افادیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یقینا یہ بینکنگ اور سود کے موضوع پرحرفِ آخر نہیں ہے۔ لیکن محمد انور عباسی نے بہت عمدگی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ بینکنگ اور اسلامی بینکنگ کے بارے میں معلومات کے لیے یہ ایک بہترین کتاب ہے۔

اختتامی پیرے میں انور عباسی نے کتاب کا نچوڑ ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔

’’ربا کا ادارہ تھا، جسے قرآن نے آکر ختم کردیا۔ یہ ایک ایسا جرم تھا جس کی مثال اسلامی شریعت میں نہیں ملتی۔ اس کو اللہ اور رسول کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا گیا تھا۔ یہ کس طرح ممکن تھا کہ اس نظام میں رخنہ ڈالنے والے کسی فرد یا طبقے کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔ اس کے تجویز کردہ نسخے میں مجبور و بے سہارا طبقے کی دست گیری کے لیے، اس کی پشت پر اسلامی نظام کھڑا تھا۔ زکوۃ و صدقات کی مد اس طبقے کاحق ٹھہری تھی، نہ کہ کسی طرف سے کوئی احسان۔ جب اس طبقے کی پشت پناہی کے لیے اسلامی حکومت موجود ہو تو اس کے لیے کوئی بہانہ بھی باقی نہیں رہتا کہ اہلِ ثروت کے شکنجے میں پھنس کر رِبا دینے پر راضی ہوجائے۔ اس کے باوجود اگر وہ رِبا کے معاملات میں ملوث ہوتا ہے تو گویا وہ اللہ اور رسول کے خلاف جنگ کی کارروائی میں دست و بازو بنتا ہے۔ اصل میں نبی اکرمﷺ کا فرمان جس ماحول سے تعلق رکھتا ہے اس سے کاٹ کر غیر اسلامی معاشرے میں رکھ کر دیکھیں گے تو یہ ظلم ہی نظر آئے گا کہ دولت مند فرد کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے تو اس کے لعنت کا مستحق ہونے کی بات توسمجھ میں آتی ہے، لیکن مجبور کیوں کر لعنت کا مستحق ہوگیا یہ مشکل ہی سے ہماری عقل میں آتی ہے۔ جب نبی اکرمﷺ کا بپا کردہ پاک معاشرہ موجود ہی نہ ہو اور ہم مغربی تہذیب کے مادہ پرست و کرپٹ معاشرے میں سانس لے رہے ہوں تو رِبا ہی کیا پھر ہر جرم کی سزا ہمیں غیر معقول اور ظلم ہی دکھائی دے گی۔ جس معاشرے میں زنا آسان اور نکاح مشکل بنا دیا گیا ہو، وہاں زنا کی سزا ظلم اور غیر معقول نہیں تو کیا ہوگی۔ جہاں ہر دوسرا شخص پیٹ پالنے کے لیے ہرجتن کرنے کے باوجود دو وقت کی روٹی حاصل نہ کرسکے وہاں چوری کی سزا پر ہاتھ کاٹ ڈال دیے جائیں تویہ ظلم ہی ہوگا۔ یہ احکام اُس پاک معاشرے میں معقول اور فٹ بیٹھتے ہیں جہاں جرائم کو جڑ سے کاٹ ڈالنے کے انتظامات کرلیے گئے ہوں۔ اُن احکامات کو اُسی پس منظر میں جب دیکھیں گے تو درج بالا اعتراض رفع ہو جائے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20