پاک ترک ڈبل پاسپورٹ کی خبر —- لالہ صحرائی

0

ترکی اور پاکستانی عوام کو ڈبل پاسپورٹ فراہم کرنا کسی طرح سے بھی ممکن نہیں کیونکہ ایک ملک کی نیشنیلٹی اس ریاست کی زمین، وسائل اور نظام پر نیشنیلٹی ہولڈرز کا زمینی، سیاسی و سماجی استحقاق طے کر دیتی ہے اسلئے نیشنیلٹی ہولڈرز کے علاوہ اپنا پاسپورٹ کسی غیر کو کسی حال میں بھی جاری نہیں کیا جا سکتا۔

اس لحاظ سے یہ ناممکن ہے کہ دونوں قومیں ڈبل پاسپورٹ رکھ سکیں ورنہ ڈیموگرافک سول رائٹ کے تحت ایک ترک یہاں سے اور ایک پاکستانی وہاں سے الیکشن، بیوروکریسی، فوج یا کسی دوسرے ادارے میں خود کو انتخاب کیلئے پیش کرنا چاہے تو قانونی طور پر اس کا استحقاق درست ثابت ہوگا، یہ بات نہ ہمیں قبول ہو سکتی ہے نہ ان کو قبول ہوگی۔

مشرقی و مغربی پنجاب کی طرح ترکی اور آذربائیجان بھی ایک قوم اور ایک کلچر سے ہیں لیکن پنجاب کی طرح ان کی سرحدیں مشترک نہیں، ان کے درمیان ایک طرف جارجیا، دوسری طرف آرمینیا اور تیسری طرف ایران کا بارڈر حائل ہے، اس کے باوجود ان دونوں قوموں کا باہمی پیار اتنا گہرا ہے کہ یہ خود کو “ون نیشن ٹو لینڈز” قرار دیتے ہیں، ان کے ملی نغموں میں بھی ایکدوسرے کا ذکر ضرور ہوتا ہے، دونوں ممالک لبرل اسلامی ویوز رکھتے ہیں اور کسی مسلکی تقسیم یا باہمی تنازعہ و تعصب کا شکار نہیں، اس کے باوجود ان کے درمیان ترک۔و۔آذزی ڈبل پاسپورٹ رکھنے کا استحقاق نہیں البتہ ویزا فری اینٹری موجود ہے۔

ترک و آذری دونوں خوشحال ہیں اسلئے اکا دکا لوگ شادی کرکے یا کاروباری مقاصد کیلئے ایکدوسرے میں ضرور شفٹ ہو جاتے ہیں لیکن عمومی طور پر ان کے درمیان ڈیموگرافک شفٹنگ کا کوئی رجحان نہیں، دونوں قومیں اپنے اپنے گھر میں خوش ہیں اور “ون نیشن ٹو لینڈز” کے نعرے کیساتھ باہم متحد بھی ہیں۔

آذربائیجان کی طرح پاکستانی عوام کو بھی ترکی میں ویزا فری اینٹری کی سہولت دی جاسکتی ہے لیکن پاکستانیوں کی اکثریت قانونی و غیر قانونی ذرائع سے ترکی میں داخل ہو کر یورپ کا بارڈر پار کر جاتی ہے جس کیلئے ترکی کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے لہذا ان کا ویزا فری اینٹری کیلئے ماننا بھی بہت مشکل ہے اور انہیں یہ بھی احساس ہے کہ ڈبل پاسپورٹ کی سہولت دینے کے ساتھ ہی سماجی کسمپرسی کا مارا ہوا آدھا پاکستان اگلے دن ترکی میں شفٹ ہو جائے گا لہذا اس بات پر بغلیں بجانا کہ پاکستانی قوم کو ترکی میں ویزا فری اینٹری یا ترک پاسپورٹ مل جائے گا یہ ایک خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔

تاہم یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ ہر مستند خبر کے پیچھے کوئی نہ کوئی پروویژن ضرور ہوتی ہے جو خبر کا باعث بنتی ہے لہذا اس خبر کے پیچھے بھی ترکی کا ٹی۔سی۔بی۔آئی منصوبہ ہے۔

جو ممالک انویسٹمنٹ یا ٹیلینٹ کی بنیاد پر ڈیموگرافک ڈائیورسٹی یا نقل مکانی کو سپورٹ کرتے ہیں، وہ اپنے معاشرے میں شامل ہونیوالے غیر ملکیوں کو دوہری شہریت اور ڈبل پاسپورٹ رکھنے کی اجازت بھی دے دیتے ہیں، ان میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا وغیرہ شامل ہیں۔

بیرون ملک شہریت لینے والوں کے آبائی ملک بھی حصولِ زرمبادلہ کی خاطر ایسے لوگوں کی نیشنیلٹی کینسل نہیں کرتے، لہذا آبائی ممالک اور شہریت دینے والے ممالک کے درمیان دوطرفہ معاہدے کے ذریعے ایسے لوگوں کو دوہری شہریت اور ڈبل پاسپورٹ رکھنے کی قانونی اجازت مل جاتی ہے۔

ترکی قانون کے مطابق ایسا مرد یا عورت جو کسی ترکی شہری کے ہاں پیدا ہوا ہو خواہ اس کی ماں یا باپ نے کسی اور ملک کی شہریت بھی حاصل کر رکھی ہو اور وہیں پر مقیم ہو، وہ چاہے تو ترکی کی شہریت بھی حاصل کر سکتا۔

ایسا ترکی شہری جو کسی غیر ملکی سے شادی کرلے یا کسی غیرملکی چھوٹے بچے کو گود لے لے تو ان دونوں کو بھی نیشنیلٹی دے دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ صرف سرمایہ کاری ہی ایک واحد ترکی قانون ہے جس میں حصہ لینے والے غیر ملکیوں کو ترکی کی شہریت مل سکتی ہے، اس قانون کو ٹرکش سیٹیزن شپ بائی انویسٹمنٹ اور عرف عام میں ٹی۔سی۔بی۔آئی پروگرام کہتے ہیں۔

اس پروگرام کے ذریعے پانچ میں سے کسی ایک طرز کی سرمایہ کاری کرکے شوہر، بیوی اور اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں سمیت کوئی بھی فیملی ترکی کی شہریت حاصل کرسکتی ہے، انویسٹمنٹ کے بعد سرمایہ کار کو چھ ماہ کے اندر اندر ٹرکش سیٹیزن شپ مل جاتی ہے جسے عرف عام میں ٹی۔سی کہتے ہیں۔

ان پانچوں اقسام کی سرمایہ کاری پر یہ شرط لازم ہے کہ انویسٹمنٹ کے بعد اگلے تین سال تک اپنی رقم واپس نہیں نکال سکتے، اس میں پہلے دو آپشن نافذالعمل ہیں جبکہ اگلے تین آپشن رواں سال میں کسی وقت نافذ ہو جائیں گے۔

1۔ ڈھائی لاکھ ڈالرز کی پراپرٹی خرید لیں یا
2۔ پانچ لاکھ ڈالرز کسی ٹرکش بینک میں رکھوا دیں۔
3۔ انڈسٹری میں پانچ لاکھ ڈالرز کی انویسٹمنٹ۔
4۔ پانچ لاکھ ڈالرز کے گورنمنٹ بانڈر خرید لیں۔
5۔ ٹرکش رئیل اسٹیٹ ٹرسٹ یا کیپٹل شئیر مارکیٹ میں پانچ لاکھ ڈالرز کے حصص خرید لیں۔

ترکی اور پاکستان میں انویسٹمنٹ کے علاوہ کوئی ایسا قانون موجود نہیں جس کی بنا پر کسی فرد کو ایکدوسرے کے ہاں شہریت مل سکے۔

اس لحاظ سے پاکستانی اور ترکی عوام کو ڈبل پاسپورٹ رکھنے کی سہولت ملنے والی خبر کا مطلب یہ نہیں کہ کسی معاہدے کے تحت دونوں قوموں کو دونوں پاسپورٹ مل جائیں گے۔

اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کاروباری انویسٹمنٹ کی بنیاد پر اگر کسی پاکستانی کو ترکی میں یا کسی ترکی کو پاکستان میں شہریت مل جاتی ہے تو اس کا آبائی ملک اس کی شہریت کینسل نہیں کرے گا، اس طرح وہ بندہ بیک وقت دونوں ممالک کا شہری بھی رہے گا اور اپنے پاس دونوں پاسپورٹ رکھنے کا مجاز بھی ہوگا۔

ترکی میں سرمایہ کاری کی نچلی سطح پاکستانی کرنسی میں چار کروڑ اور بالائی سطح آٹھ کروڑ روپے کے قریب بنتی ہے، اگر کوئی بندہ ترکی میں چار کروڑ روپے کی ایسی پراپرٹی خرید لے جس کے ایک حصے میں خود رہ سکے اور دوسرے حصے کے کرائے سے اپنا گھر چلا سکے تو یہ اس کیلئے کینیڈا و برطانیہ میں سرمایہ کاری کی بنیاد پر شہریت لینے کی نسبت نہایت آسان اور معقول پروگرام ہے۔

ممکن ہے پاکستانی گورنمنٹ ایگریمنٹ کرتے وقت یہ شرط کچھ مزید نرم کروا لے جس میں ہنرمند افراد کو ٹیلینٹ کی بنیاد پر اور سرمایہ دار کو ایک دو کروڑ کی سرمایہ کاری کے عوض ترکی میں نیشنیلٹی مل سکے، کیونکہ جو بھی وہاں جائے گا وہ اپنی کمائی میں سے کچھ نہ کچھ پاکستان ضرور بھیجے گا، لہذا جتنے زیادہ لوگ جا سکیں گے اتنا ہی زیادہ زرمبادلہ آنے کی توقع ہے، اس خبر کے پیچھے بس یہی ایک مفاد کارفرما ہے اور کچھ نہیں۔

یہ پراجیکٹ جون دو ہزار اٹھارہ سے زیر غور ہے جس کی تکمیل کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو ضرور جائے گا مگر اس کے آغاز کا کریڈٹ بہرحال ترکی کا ہے یا پھر پچھلی حکومت کو بھی دیا جا سکتا ہے۔

پاک۔ترک تعلقات میں ایک اور کام کی چیز ممکن ہے کیونکہ دیگر اسلامی ممالک کی نسبت یہ دونوں قومیں آپس میں زیادہ قربت رکھتی ہیں جو ہرقسم کے سیاسی و مذہبی تعصبات سے بھی پاک ہے، اسی طرح آذربائیجان کو بھی ہم نے سب سے پہلے تسلیم کیا تھا اسلئے وہ قوم بھی ہمارے ساتھ عقیدت کی حد تک قربت رکھتی ہے لہذا ترک۔و۔آذری ون نیشن ٹو لینڈر کے ماڈل میں پاکستان کو بھی شامل کر کے اس یونٹ کو “ون نیشن تھری لینڈز” بھی بنایا جا سکتا ہے۔

اس اقدام سے تینوں ممالک کی عوام کو اعزازی طور پر ایک قوم کا درجہ بھی مل جائے گا اور ترکی عوام کا پاکستان میں اور پاکستانی عوام کا ترکی یا آذربائیجان کے اندر کوئی ڈیموگرافک سول رائٹ بھی پیدا نہیں ہوگا لیکن اقوام عالم کے درمیان آذزی، ترکی و پاکستانی زمین اور عوام کا ٹریٹمنٹ یکساں ہو جائے گا۔

مثلاً کسی بیرونی جارحیت کی صورت میں پاکستان پر حملہ ترکی پر اور ترکی کے خلاف جارحیت پاکستان پر حملہ تصور ہوگا، آذربائیجان پر آزادی کے بعد ایک سرحدی تنازعے کی وجہ سے آرمینیا لشکر کشی کر چکا ہے، آذزی قوم بھی ترکوں جیسی بہادر ہے مگر ان کی فوج نئی ہونے کی بنا پر تکنیکی طور پر کمزور ہے، اس اتحاد کی صورت میں تینوں ممالک کو یہ فائدہ ہوگا کہ حق دفاع کے تحت باہم مل کر یا اپنی الگ الگ کیپیسٹی میں حملہ آور کیخلاف جوابی کاروائی کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔

سردست بھارت اگر پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو ترکی سیاسی حمایت ضرور کر سکتا ہے مگر فوجی کاروائی کرنے کا مجاز نہیں ہے لیکن ایک قوم ہونے کے بعد ترکی کا فضائی بیڑا بھارت پر حملہ کرنے کا مجاز ہوگا، اسی طرح آرمینیا آذربائیجان پر دوبارہ حملہ کرے تو پاکستان کی فضائی قوت بغیر کسی تردد کے اس پر جوابی کاروائی کر سکتی ہے۔

اس الحاق کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ بیرون ملک سکونت یا سفر کے دوران ایک پاکستانی یا ترک کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ قریبی ترک یا پاکستانی سفارتخانے سے مدد مانگ سکتے ہیں، جو انہیں اپنی قوم کا فرد سمجھ کے پناہ بھی دے سکتے ہیں اور ہر ممکن قانونی امداد بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

اس وقت عالمی سیاست غیر محسوس طریقے سے ایک نیا بلاک ترتیب دے رہی ہے جس میں تیسری دنیا کیلئے سرمایہ دار ممالک کی استحصالی پالیسی سے نکلنے کے خواہشمند ممالک سوشلٹ قوتوں کیساتھ مل کر ایک نیا کاروباری و سیاسی زون ترتیب دے رہے ہیں۔

سوشلسٹ ممالک میں سیاسی استحصال کا عنصر امریکہ و یورپ کی نسبت نہ ہونے کے برابر ہے لیکن کاروباری طور پر ان کا پلہ بہت بھاری ہے، انہیں تیسری دنیا سے منڈیاں ضرور درکار ہیں لیکن یہ لوگ ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر بھی یقین رکھتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ یورپ کی طرح اپنے محتاج رکھنے کی بجائے یہ لوگ ایسی منڈی کی تلاش میں ہیں جہاں ٹیکنالوجی ٹرانسفر کر دی جائے تو افرادی قوت، رامیٹیریل، ٹیکنیکل و سائنٹیفک ہیلپ یا دیگر معاملات میں سروسز دیکر وہ کمی پوری کرلی جائے جو ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے بعد ان کی برآمدات میں کمی سے واقع ہوگی کیونکہ اکانومیز میں اب سروسز کو بھی ایک باقائدہ انڈسٹری کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔

ان حالات میں امریکہ و یورپ کے ہاتھوں بعض ممالک میں سیاسی عدم استحکام اور تخریب کاری کا خدشہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے جس میں کہیں باہمی تنازعات رکھنے والے چھوٹے ممالک کو آپس میں لڑا کر، اندرون ملک طبقاتی کشمکش پیدا کرکے یا معاشی پابندیاں لگا کر کمزور کیا جا سکتا ہے یہاں تک کہ چائنہ کو بھی یہ مسئلہ درپیش ہے، ہواوے موبائل پر پابندی اسی کی ایک مثال ہے۔

اس صورتحال میں ون نیشن تھری لینڈز جیسی گروہ بندی باہمی بقا کیلئے بہت منفعت بخش ہو سکتی ہے، لہذا ایکدوسرے کے ہاں ڈیموگرافک سول رائٹ ایسٹیبلش کئے بغیر جن ممالک میں ممکن ہو ایک قوم کے نعرے پر عمل کرنا چاہئے۔

ہمارے معاشرے میں موجود مذہبی شدت پسندی کو کسی طور پر ختم تو کیا کچھ کم کرنا بھی سردست ممکن نہیں، اس سلسلے میں جو قدم بھی اٹھائیں گے اسے اسلام کے خلاف قرار دیکر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا بالخصوص بے حیائی اور الحاد کا مرقع مغربی لبرلزم یا سیکولرزم تو ہم جیسے لینئینٹ ویوز رکھنے والوں کو بھی قبول نہیں تو مذہبی عناصر کو کیسے قبول ہوگا۔

البتہ اس پہلو سے ترکی کیساتھ پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹ بڑھانا کافی سود مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ جو ترکی کو ایک قابل قدر اسلامی مملکت سمجھتا ہے وہ ان کے قریب ہو کر ان کے ترقی پسند نظام کو جو غیرمتعصب مذہبی رویئے پر مبنی ہے اسے دیکھ کر اپنے ہاں بھی ایک نئی کروٹ لے سکتا ہے۔

لہذا محدود طور پر اس کام کیلئے ایسے موزوں افراد کو ڈبل نیشنیلٹی اور پاسپورٹ فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ بھی ضرور بنانا چاہئے جو پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹ کے ذریعے ترکی کے سماجی ماڈل کو یہاں متعارف کرا سکیں تاکہ ہمارے معاشرے کا جمود ٹوٹ سکے۔

اس جمود کو توڑنے کیلئے مغربی رویوں کی نسبت ترکی کا ترقی پسند رویہ زیادہ بہتر ہے، لیکن اسلامی معاشرہ ہونے کے باوجود ترکی میں شراب و شباب جیسے بالغانہ رجحانات کیلئے جو قانونی سہولیات موجود ہیں وہ شائد کسی طور بھی یہاں قابل اجازت تسلیم نہیں کی جائیں گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20