لٹریچر میں انقلاب: ایک مکالمہ —- واشنگٹن ارونگ

0
Related image

واشنگٹن ارونگ

کاغذ کی ایجاد کے بعد آج تک ان گنت کُتب لکھی جا چُکی ہیں۔ امتداد زمانہ کے باعث ان میں سے کئی کا آج نام و نشان تک نہیں رہا، کچھ کا صرف محققین کے مقالوں میں نام رہ گیا ہے اور بےشمار ایسی بھی ہیں جو کسی تاحیات قیدی کی طرح اپنے قاری سے ملاقات کی منتظر لائبریریوں کے اندر الماریوں میں مُقفل ہیں۔ لیکن ایسا بھی ہے کہ کچھ کتابیں صدیوں بعد بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں اور ان کا شمار مستقل نوعیت کی تصانیف میں کیا جاتا ہے۔ انسانوں کی طرح کتابیں بھی ایام طفولیت، لڑکپن، بھری جوانی اور ادھیڑ عمری میں مر جاتی ہیں۔ چند طویل عمر بھی پاتی ہیں اور کچھ تو شاید مانند خضر آب حیات پیے ہوئے ہیں۔ کونسی کتاب کتنی عمر پائے گی یہ جاننے کیلیے ہم نے بے مثال امریکی نثر نگار واشنگٹن ارونگ (۱۷۸۳-۱۸۵۹) کی کتاب ’دی سکیچ بُک‘ میں شامل مضمون “ویسٹ منسٹر ایبے” کے ترجمہ کا انتخاب کیا ہے۔

عثمان سہیل

جناب مولوی محمد یحیٰی صاحب تنہا، بی اے ایل ایل بی نے ارونگ کے چند مضامین کا “خیالات ارونگ” کے نام سے بامحاورہ ترجمہ کیا جو جامعہ ملیہ پریس دہلی سے زیور طبع سے آراستہ ہو کر 1928 میں شائع ہوا۔ مترجم، مصنف کے تعارف میں رقطمراز ہیں۔

’’واشنگٹن ارونگ دنیا کے ایک سو ایک اعلی مصنفیُن میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی خوبیاں اُسکی اصل انگریزی کتابیں پڑہنے ہی سے ظاہر ہوسکتی ہیں تاہم ترجمہ سے بھی اُردو دان اصحاب یہ اندازہ کر سکیں گے کہ وہ بڑے سے بڑے مضمون کو ظرافت کے پیرایہ میں نہایت خوش اسلوبی سے بیان کر جاتا ہے اور اس کے اپنے انداز بیان میں وہ کشش ہے کہ ناظرین اُسکو ناول کی دلچسپی کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس کے خیالات کا نقش فی الحجر (پتھر پر نقش) بن جاتے ہیں۔‘‘ (عثمان سہیل)


مجھے معلوم ہے کہ جو کچھ آسمان کے نیچے ہے سب فنا ہو جائیگا اور جو کچھ فانی انسان اس دنیا میں پیدا کرتا ہے وہ سب ایک نہ ایک روز نیست و نابود ہو جائیگا، میں جانتا ہوں کہ وہ تمام شاعرانہ انداز بیان اور فصاحت کے نئے نئے اسلوب جو جگر کاوی اور دماغ سوزی سے پیدا کیے جاتے ہیں صرف اِس خیال سے کہ چند اشخاص سبحان اللہ اور واہ واہ کے نعرے بلند کریں فضول اور بیکار ہیں کیونکہ خالی تعریف سے بڑھ کر اور کوئی چیز بے وقعت نہیں۔

Drummond of Hawthorndon ڈرم منڈ آف ہاتھورن ڈن دماغ کی بعض نیم خواب آلودہ حالتوں میں ہم طبعاً شور و غل اور چہل پہل سے جان چراتے ہیں اور کسی ایسی سنسان جگہ کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں ہم اپنے خیالات میں محو ہو جائیں اور بغیر کسی مداخلت کے خیالی پلاو پکا سکیں۔ ایسی حالت میں ایک مرتبہ میں ویسٹ منسٹر ایبے (Westminster Abbey) کی پرانی اور کائی جمی ہوئی خانقاہ کے اِدھر اُدھر ٹہل رہا تھا اور پراگندہ خیالات کے دریا میں غوطے لگا رہا تھا جس کو ہم سنجیدہ اور ممیز خیال کا سرچشمہ کہا کرتے ہیں جبکہ یکا یک ویسٹ منسٹر اسکول کے کھلاڑی لڑکوں کی مداخلت نے جو فٹ بال کھیل رہے تھے اُس جگہ کی خاموشی کو برباد کر دیا اور اُن کے شور و غل سے محراب دار دروازے اور پُرانے مقبرے گونج اُٹھے۔ میں نے اس آفت ناگہانی سے بچنے کے لیے عمارتوں کے اندرونی کمروں میں گھسنا چاہا اور اسی خیال سے وہاں کے پاسبانوں میں سے ایک سے کتب خانہ میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔ وہ مجھے ایک محراب دار دروازے میں لے گیا جو پُرانے زمانہ کی پچکاری کے کام سے معمور تھا۔ لیکن امتداد زمانہ کی وجہ سے کہیں کہیں اسکے نقوش مٹ گئے تھے۔ اس کے بعد ایک تاریک گیلری میں ہو کر گزرنا پڑا، پر ہم چیپٹر ہوس Chapter House اور بڑے کمرے میں پہنچ گئے جہاں ڈومسڈے بُک Doomsday Book محفوظ رکھی ہوئی ہے اسی گیلری میں بائیں جانب ایک چھوٹا دروازہ ہے۔ اس محافظ نے اس دروازہ کو جس میں دو قفل پڑے ہوئے تھے کھولنا چاہا۔ ذرا دقّت کے ساتھ یہ دروازہ کھلا جس سے پتہ لگتا تھا کہ اُس کی کھولنے کی شاذ و نادر ضرورت پڑتی ہے۔ اب ہم نے ایک تنگ و تاریک زینے پر چڑھنا شروع کیا اور دوسرے دروازے میں سے گزر کر کتب خانے میں پہنچ گئے۔

Image result for The sketch Book by Washington aron Westminster Abbey

Westminster Abbey gallery

میں نے اپنے آپ کو ایک عظیم الشان گول کمرے میں پایا جس کی چھت پرانے شاہ بلوط کے شہیتروں پر تھمی ہوئی تھی اور فرش سے مناسب بلندی پر گاتھک Gothic کھڑکیاں لگی ہوئی تھیں جن سے کافی روشنی آتی تھی اور باہر کے کمروں کا فرش بھی دکھائی دیتا تھا۔ آتشدان پر گرجا کے کسی بڑے مقتدر پادری کی پرانی تصویر شاندار کپڑوں میں لٹک رہی تھی۔ شاہ بلوط کی نقشی الماریوں میں کتابیں بند تھیں جو گول کمرے کے گرد ایک چھوٹی گیلری میں رکھی ہوئی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر مناظرہ کی کتابیں تھیں جو استعمال کی نشست امتداد زمانہ کی وجہ سے زیادہ خراب ہو گئیں تھیں۔ کتب خانے کے بیچوں بیچ صرف ایک میز رکھی ہوئی تھی جس میں روشنائی ندارد اور چند قلم تھے جو بے استعمال کی وجہ سے زنگ آلود ہو گئے تھے۔ یہ مقام خاموش تعلیم اور گھرے خیالات کے لیے موزوں معلوم ہوتا تھا گویا یہ ایبے کی مضبوط دیواروں کے درمیان دفن تھا اور اس لیے دنیا کے شور و غل سے علیحدہ تھا۔ میں صرف کبھی کبھی اسکول کے لڑکوں کی آوازیں بیرونی کمروں میں سے خفیف طور پر سنتا تھا اور نماز کے گھنٹے کی آواز بھی کان میں پڑتی تھی جس کی جھنکار ایبے کی چھتوں میں گونجتی تھی۔ رفتہ رفتہ خوشی کے نعروں کی آواز کم ہوتی گئی یہاں تک کہ بالکل غائب ہو گئی۔ گھنٹہ بجتے بجتے بند ہو گیا اور خاموشی ہی خاموشی تمام گرد آلود کمرے میں چھا گئی۔

میں نے ایک چھوٹی سی موٹی کتاب جس کی جلد عمدہ بندھی ہوئی تھی اٹھا لی اور ایک میز کے گرد ایک پرانی آرام کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس جگہ کی خاموش حالت اور متین کیفیت کی وجہ سے بجائے پڑھنے کے میرا وقت مختلف خیالات میں گزرنے لگا۔ جب میں نے اپنے گرد نظر اٹھا کر پرانی کتابوں کی بوسیدہ جلدوں کو، جو الماریوں میں سجی ہوئی تھیں اور جن کے آرام میں بظاہر خلل اندازی نہیں کی گئی تھی، دیکھا۔ میں کتب خانہ کو ایک قسم کا علمی دفینہ سمجھنے کے لیے مجبور ہوا جہاں کہ مصنفین مصر کی ممیوں کی مانند پاکیزگی کے ساتھ محفوظ رکھ دیئے گئے ہیں اور گوشۂ گمنامی میں چھوڑ دیئے گئے ہیں تا کہ آئندہ نسلیں ان کو بھول جائیں۔

میں نے دل میں کہا کہ ان جلدوں میں سے ہر ایک نے جواب اس قدر بے پروائی کے ساتھ علیحدہ پھینک دی گئی ہیں کتنی مرتبہ مصنفوں کو دردِ سر کی تکلیف پہنچائی ہو گی؟ کتنے دن بے لطفی سے بسر ہوئے ہونگے؟ کتنی بے چین راتیں گزری ہونگی؟ کیسے ان کے مصنفین نے اپنے آپ کو تہ خانوں اور علیحدہ کمروں کی خاموشی میں دفن کیا ہو گا، دنیا سے علیحدہ ہو کر کام کیا ہو گا، اور قدرت کے خوبصورت مناظر کی دلچسپی کو ترک کیا ہو گا اور اپنا وقت تکلیف دہ تجسس و تلاش اور گہرے خیالات کی آورد میں صرف کیا ہو گا اور یہ سب کس واسطے؟ گرد آلودہ الماری کی ایک انچ جگہ گھیرنے کے لیے، اپنی کتابوں کے نام آئندہ زمانہ میں بعض سُست پادریوں یا مجھ جیسے اتفاقیہ سیاحوں سے کبھی کبھی پڑھنے جانے کے لیے، یہاں تک کہ ان کا نام بھی کوئی نہ جانتا ہو۔ یہ قدر ہے اس ابد الآباد تک رہنے والی یادگار کی؟ ایک عارضی اور ناپائیدار شہرت، ایک مقامی آواز اس گھنٹے کی آواز کی مانند جو ابھی ابھی گنبدوں میں گونج رہی تھی اور جس نے ایک لمحہ کے لیے ہمارے کان گنگ کر دیئے تھے۔ اس کے بعد کبھی کبھی سنائی دینے لگی اور آخر کار اس طرح معدوم ہو گئی جیسے دراصل وہ تھی ہی نہیں۔

Related imageجب کہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا اور کچھ ان بیکار خیالات پر غور کرتا ہوا ایک ہاتھ سے اپنے سر کو سہارا دیکر بیٹھ گیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کتاب کو الٹنے پلٹنے لگا تو اتفاق سے وہ کتاب میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور تعجب خیز امر یہ ہے کہ اس چھوٹی کتاب نے اس طرح دو تین جمائیاں لیں جیسے کوئی آدمی گہری نیند سے اٹھ کر کیا کرتا ہے۔ پھر بھاری آواز میں بڑبڑائی اور آخر کار گفتگو کرنے لگی۔ شروع شروع میں اس کی آواز بہت کرخت اور شکستہ معلوم ہوتی تھی جس کی وجہ شاید یہ ہو گی کہ کسی شائق علم مکڑی نے جو اس کے اندر جالا پور رکھا تھا اس سے وہ گھبرا رہی تھی۔ علاوہ ازیں مدت دراز سے ایبے کی تنگ و تاریک کوٹھری میں سردی سے ٹھٹری ہوئی پڑی تھی۔ بہر حال تھوڑی دیر کے بعد اس کی آواز صاف سمجھ میں آنے لگی اور میں نے اس کو نہایت تیز گفتار چھوٹی کتاب پایا۔ بلاشبہ اس کی زبان کسی قدر قدیم اور متروک تھی اور اس کا تلفظ آج کل یقیناً جاہلانہ گفتگو سمجھا جائیگا لیکن حتی المقدور میں اس کو موجودہ طرز گفتگو میں لانے کی کوشش کرونگا۔

اس نے دنیا کی نا قدری کی شکایت کرنی شروع کی اور کہا کہ کمالات کی خوبیاں گوشۂ گمنامی میں پڑی ہوئی ہیں اور ایسے ہی اور ادبی تنزل کے معمولی مضامین پر گفتگو کی اور نہایت درد ناک لہجہ میں شکایتاً کہا کہ دو صدیوں سے میرے کھلنے کی بھی نوبت نہیں آئی۔ صرف پادری کبھی کبھی کتب خانہ کو دیکھا کرتا تھا، بعض اوقات اس کتاب کو نکال لیتا تھا، بعض اوقات اس کتاب کو چند لمحوں تک اس نے دل بہلایا اور پھر انہیں ان کی جگہ الماری میں رکھ دیا۔ ’’لوگوں نے ہمیں کس مرض کی دوا سمجھا ہے؟‘‘ اس چھوٹی سی کتاب نے جس کو میں نے دیکھا کچھ کچھ غصہ آنے لگا تھا کہا

’’لوگوں نے ہمیں کس مرض کی دوا سمجھا ہے؟ کہ ہماری ہزاروں جلدیں پردہ نشین حسینوں کی طرح یہاں بند کر کے رکھی ہیں جن کی گرجا کے بوڑھے ملازمین صرف اس خیال سے خبر گیری کیا کریں کہ پادری صاحب کبھی کبھی ہمیں دیکھ لیتے ہیں۔ کتابیں اس غرض سے لکھی گئی تھیں کہ وہ پڑھنے والوں کو خوش کریں اور پڑھنے والے ان سے لطف اٹھائیں اور میں یہ قاعدہ اگر میرے اختیار میں ہوتا بنا دیتی کہ پادری صاحب کم از کم سال بھر میں ایک مرتبہ ضرور ہم میں سے ہر ایک کو دیکھنے آیا کریں اور اگر یہ کام ان کی طاقت سے باہر ہے تو ایک مرتبہ تمام ویسٹ منسٹر کے اسکول کو ہمارے دیکھنے کی اجازت دی جائے تا کہ کبھی کبھی ہم تازہ ہوا کھا سکیں۔

’’آہستہ آہستہ‘ میرے لائق دوست!‘‘ میں نے جواب دیا

’’تمہیں معلوم نہیں کہ تم اپنے زمانہ کی بہت سی کتابوں سے کس قدر بہتر حالت میں ہو۔ اس قدیم کتب خانے میں جمع کر دینے کی وجہ سے تم ان اولیاء اور شاہان زمانہ کی قیمتی یادگاروں کی مانند ہو جو قریب کے گرجاوں میں آرام سے زمین کے نیچے سو رہے ہیں حالانکہ تمہارے ہمعصر، فانی انسانوں کی یادگاریں معمولی قانون قدرت کی متابعت کر کے عرصہ ہوا خاک میں مل گئی ہیں‘‘۔

’جناب‘ چھوٹی کتاب نے اپنے اوراق کو پھڑ پھڑا کر اور پھول کر کہا

’’میں تمام دنیا کے لیےلکھی گئی تھی، ایک ایبے کی کتاب کے کیڑوں کے لیے نہیں۔ میری اشاعت کا یہ منشور تھا کہ میں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جاتی جس طرح اور مشہور ہم عصر مصنفوں کی کتابیں جاتی ہیں، لیکن میں یہاں دو صدی سے زیادہ عرصہ سے بند پڑی ہوئی ہوں اور بہت ممکن تھا کہ ایک روز خاموشی کے ساتھ ان کتاب کے کیڑوں کی نظر ہو جاتی جو میری ہڈی پسلی چبانے کی فکر میں ہیں، اگر آپ اتفاقاً مجھے، خاک میں ملنے سے پہلے، ان چند الفاظ کے کہنے کا موقع نہ دیتے۔‘‘

’’میرے اچھے دوست!‘‘ میں نے جواب دیا

Image result for Westminster Abbey library’’اگر تمہاری اشاعت اس طرح کی جاتی جس طرح تمہارا منشا ہے تو تمہارا اب سے بہت پہلے کہیں پتہ بھی نہ لگتا۔ تمہاری ظاہری حالت دیکھ کر یہ رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ تمہاری عمر بہت زیادہ ہے، تمہارے ہم عصروں میں سے بہت کم اس زمانے میں موجود ہوں گے اور وہ بھی اپنی دیر پا زندگی کے لیے تمہاری طرح قدیم کتب خانوں کے جن میں وہ مدفون ہیں مرہون منت ہیں جن کو، مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ بجائے حرم سرائوں سے تشبیہ دینے کے زیادہ عمدگی اور شکر گزاری کے ساتھ ان شفاخانوں کے مانند کہا جا سکتا ہے جو مذہبی عمارتوں کے ساتھ اس نظر سے ملحق کر دیئے جاتے ہیں کہ ان میں بوڑھے اور کمزور آدمی آرام پائیں اور جہاں خاموشی کے ساتھ بغیر کسی کام کے یہ اپاہج اکثر اس تعجب خیر عمر تک پہنچ جاتے ہیں جس میں ان کا وجود نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ تم نے اپنے ہم عصروں کا ذکر اس طرح کیا ہے گویا وہ اب تک مروج ہیں۔ ان کی کتابیں کہاں دیکھنے میں آتی ہیں؟ ہم رابرٹ گروٹیسٹ آف لنکوں Robert Grotest of Lincoln کا  کیا ذکر سنتے ہیں؟ کسی شخص نے اس سے زیادہ اپنا نام یادگار چھوڑنے کے لیے کوشش نہیں کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے دو سو کتابیں لکھی ہیں۔ اس نے گویا کتابوں کا ایک مینار تعمیر کیا تھا جس سے اس کا نام صفحۂ دنیا پر باقی رہتا، مگر افسوس وہ مینار مدت ہوئی کہ کُہنہ اور فرسودہ ہو کر گر پڑا اور صرف کہیں کہیں اس کے اجزائے پریشان کا نشان مختلف کتب خانوں میں پایا جاتا ہے جہاں قدیم اشیاء کے شائق کا ہاتھ بھی شاذ و نادر ان کے آرام میں خلل انداز ہو سکتا ہے۔ ہم جیرالڈ کیمبرینس Girald Cambrensis کا کیا حال جانتے ہیں جو مورخ، فلسفی، علم الہٰیات کا ماہر، شاعر اور قدیم اشیاء کا دلدادہ تھا؟ اس نے دو مرتبہ لاٹ پادری کے عہدہ کو نامنظور کیا تا کہ وہ علیحدہ کمرے میں بند ہو کر آئندہ نسلوں کے لیے کتابیں لکھیں لیکن آئندہ نسلیں بھول کر بھی اس کی دماغ سوزی اور جگر کاوی کی تلاش نہیں کرتیں۔ ہنری آف ہنٹنگڈن Henry of Huntingdon ہی کو کون جانتا ہے؟ جس نے انگلستان کی عالمانہ تاریخ کے علاوہ نفرت دنیا پر ایک رسالہ لکھا جس کا بدلہ دنیا نے بھی اس کو فراموش کر دینے سے اتارا۔ جوزف آف اگزیٹر Joseph of Exeter کا کیا حوالہ دیا جاتا ہے جس نے اپنے زمانے میں قدیم زمانوں کی انشا پردازی میں معجز نمائی کا کام کیا تھا؟ اس کی تین بڑی رزمیہ نظموں میں سے ایک تو ہمیشہ کے لیے سوائے چند حصوں کے نابود ہو گئی باقی دو کا حال صرف وہی لوگ جانتے ہیں جو علمِ ادب کی نہایت قدیم اور عجیب کتابوں کی تلاش میں رہا کرتے ہیں، رہیں اس کی عشقیہ نظمیں اور ہجویں وہ تو بالکل ہی نیست و نابود ہو گئیں۔ آج کل جان والس دی فرانسسکن John Walls the Fransiscan کی کونسی کتاب مروج ہے جس نے شجر حیات کا لقب حاصل کیا تھا۔ ولیم آف مامسبری William of Malmsbury کا سائی میوں آف ڈرہام Simeon of Durham کا بینیڈکٹ آف پیٹر بارد Benedict of Peterborough کا جان ہنیول آف سنیٹ ایلیانس John Hanvill of St. Alleans کا، فلاں کا، اور فلاں کا کون جام جانتا ہے؟

چھوٹی کتاب نے ایک آزمائشی لہجے میں کہا

’’تم مجھے کس قدر قدیم خیال کرتے ہو؟ تم ان مصنفوں کا ذکر کر رہے ہو جو میرے زمانہ سے بہت پیشتر گزرے ہیں اور جن کی تصنیفات یا فرانسیسی زبان میں ہیں یا لاطینی میں، گویا ایک طریقے سے انہوں نے اپنے آپ کو خود جلا وطن کرانے کا تہیہ کیا اور وہ فراموشی کے مستحق بھی تھے مگر میں جناب مشہور ونکن ڈی ورڈ Wynkyn de Worde کے مطبع سے دنیا میں آتی تھی۔ میں اپنی مادری زبان میں اس وقت لکھی گئی تھی جبکہ زبان مقرر اور قائم ہو چکی تھی اور حقیقت میں عمدہ خالص انگریزی کا نمونہ خیال کی جاتی تھی‘‘۔

(مجھے یہ ظاہر کر دینا چاہیے کہ یہ خیالات اس قدر کثرت کے ساتھ قدیم الفاظ میں ادا کیے گئے تھے کہ مجھے ان کو موجودہ زبان کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے ضرورت سے زیادہ دقّت اٹھانی پڑی۔

’’میں معافی چاہتا ہوں‘‘ میں نے کہا

’’کیونکہ میں نے تمہاری عمر کا غلط اندازہ کیا، مگر اس سے کچھ بحث نہیں تمہارے زمانہ کے تقریباً تمام مصنف گوشۂ گمنامی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور ڈی ورڈ کی شائع کی ہوئی کتابیں، کتابیں جمع کرنے والوں کے نزدیک نایاب خیال کی جاتی ہیں۔ زبان کی صفائی اور عمدگی جس پر تم نے اپنے دعوے کی بنیاد رکھی ہے، ہر زمانہ کے مصنفوں نے یہاں تک کہ لائق رابرٹ آف گلوسیسٹر Robert of Gloucester (جس نے اپنی تاریخ اصلی مقفیٰ سیکسن میں لکھی تھی) کے زمانہ تک کے کتاب نویسوں نے غلط بھروسہ کیا ہو، اب تک بھی بہت اشخاص اسپینسر Spencer کے خالص انگریزی کے صاف چشمہ کا ذکر کیا کرتے ہیں۔ گویا زبان ایک چشمی یا کنویں میں سے نکلی ہے اور مختلف زبانوں سے مرکب نہیں جو دائمی انقلاب پذیر اور قابلِ تغیر و تبدل ہے۔ یہ وجہ ہے! جس نے انگریزی علم کو ادب کو نہایت انقلاب پذیر بنا دیا ہے۔ پس جس شہرت کی بنیاد اس پر قائم کی جائے گی وہ ضرور چند روزہ ہو گی تاقتیکہ خیال کو اس سانچے کی نسبت کسی زیادہ پائدار اور مستقل شے میں نہ ڈھالا جائیگا، خیال کو بھی اور چیزوں کے ساتھ فنا ہو گا پڑیگا۔ اس سے نہایت مشہور مصنف کے غرور اور فخر کو بھی صدمہ پہنچنا چاہیے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ زبان جس پر اس نے اپنی شہرت کی بنیاد رکھی ہے رفتہ رفتہ بدلتی جاتی ہے اور زمانہ اور وقت کے رسم و رواج کی تبدیلی کے تابع ہے۔ وہ پچھلے زمانہ پر نظر ڈالتا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس کے ہم وطن متقدمین کی جگہ جو کبھی اپنے زمانے میں یکتائے دہر خیال کیے جاتے تھے متاخرین دکھائی دیتے ہیں۔ چند مختصر قوتوں نے ان کے نام کو پردۂ خفا میں چھپا دیا ہے اور ان کے کمالات کی خوبیاں صرف کتاب کے کیڑوں کے قدامت پرست دماغوں کو بامزہ کرتی ہیں اور وہ پہلے سے سوچتا ہے کہ یہی اس کی کتابوں کا حال ہو گا، اگرچہ اس کے زمانے میں ان کی بہت تعریف ہوتی ہے اور صفائی زبان کا نمونہ خیال کی جاتی ہیں مگر امتدادِ زمانہ کے باعث قدیم اور متروک ہو جائینگی ’’یہاں تک کہ ان کی زبان خود اپنے وطن میں اس قدر بعید از فہم ہو جائیگی جس قدر اہرام مصر کے نقوش یا وہ کتبے جو صحرائے ترکستان میں پائے جاتے ہیں‘‘ ’’میں تمہیں یقین دلاتا ہوں‘‘ ذرا جوش کے ساتھ میں نے یہ اور کہا ’’جب میں کسی موجودہ کتب خانے کو دیکھتا ہوں کہ وہ نئی کتابوں سے پُر ہے جن کی نہایت عمدہ مطلّا جلدیں بندہی ہوئی ہیں، تو مجھے نیک دل ژرکیز Xerxes کی طرح رونا آ جاتا ہے، جو اپنی فوج کا ملا حظہ کرنے کے بعد جو بڑی شان و شوکت سے آراستہ تھی یہ خیال کر کے ایک صدی کے اندر ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہے گا آنکھوں میں آنسو بھر لایا تھا۔‘‘

’’آہ‘‘ چھوٹی کتاب نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا

’’اب میں سمجھی! یہ بات ہے۔ ان میں موجود بیہودہ لکھنے والوں نے تمام قدیم مصنفوں پر سبقت حاصل کر لی ہے میں خیال کرتی ہوں، سر فلپ سڈنی کی آرکیڈیا Sir Philip Sydney’s Arcadia کے علاوہ آج کل اور کچھ نہیں پڑھا جاتا ہو گا۔ سیک ول کے شاندار پلیز Sackville’s Plays اور مرر فار مجسٹریٹس Mirrir for Magistrates یا لاجواب جان لیلی John Lyly کا ادق طرز بیان خلایق کی پسندِ طبع ہو گا۔

’’تم نے پھر غلطی کی‘‘ میں نے کہا

Image result for Westminster Abbey library’’جن مصنفین کی کتابیں تم سمجھتی ہو آج کل اس وجہ سے مروج ہونگی کہ اُس وقت جب تمہاری خریداری کم ہوتی جا رہی تھی تو یہ بہت بک رہی تھیں مدّت سے گوشۂ گمنامی میں پڑی ہیں۔ سر فلپ سڈنی کی آکیڈیا Sir Philip Sydney’s Arcadia کا ذکر اب شاز و نادر کیا جاتا ہے جس کی نسبت اُس کی تعریف کرنے والوں نے نہایت زور سے پیشن گوئی کی تھی کہ یہ کتاب ہمیشہ مقبول خلایق رہیگی اور جو درحقیقت عمدہ خیالات، نازک تصاویر اور زبان کی شستگی اور سلاست سے پُر ہے۔ سیک ول پردۂ خفا میں مستور ہے اور لیلی کا بھی جس کی تصنیفات کبھی شاہی دربار کی تفریح کا باعث تھیں اور جن کی فقرات لوگوں کے دلنشین ہو جایا کرتے تھے اب کوئی اُس کا نام بھی نہیں جانتا۔ سب کے سب مصنف جنہوں نے اس زمانہ میں تصنیفات کیں اسی طرح صفحۂ دنیا سے مع اپنی کتابوں اور بحث و مباحثہ کے معدوم ہو گئے ہیں۔ دریائے ادب کی پیہم امواج ان کے اوپر سے گزر گئی ہیں اور اب وہ اس قدر گہرے پانی میں غرق ہو گئے ہیں کہ صرف کبھی کبھی کوئی جفا کش غوطہ زن بڑی محنت سے ان کا کوئی جزو تلاش کر کے بطور نمونہ سطح آب پر لاتا ہے تا کہ متقدمین پرست لوگوں کی تفریح طبع کا باعث ہو۔‘‘

’’اپنے نزدیک‘‘ میں نے کہا

’’میں اس زبان کے تغیر و تبدل کو خدائے بزرگ کے ایک دور اندیشانہ حفظ ما تقدم پر محمول کرتا ہوں جس سے تمام دنیا کا عموماً اور مصنفوں کا خصوصاً فائدہ متصور ہے۔ تشبیہاً ہم یہ دلیل پیش کر سکتے ہیں کہ ہم روز مرہ نباتات کی مختلف اور خوبصورت قسموں کو دیکھتے ہیں جو اگتی ہیں، پھلتی پھولتی ہیں، تھوڑے عرصہ تک کھیتوں کی آرائش کا سامان ہوتی ہیں اور آخر کار مرجھا کر خاک میں مل جاتی ہیں اور اب اپنے جانشینوں کے لیے رستہ چھوڑ دیتی ہیں۔ اگر یہ حالت نہ ہوتی تو قدرت کی رنگا رنگ گلکاریاں اور کثرتِ نباتات بجائے رحمت کے زحمت ہو جاتیں۔ زمین کثرتِ نباتات کی شکایت کرتی اور سطح زمین بالکل ایک جنگل کی طرح ہو جاتی۔ اسی طرح عالموں اور طبّاع لوگوں کی تصنیفات زائل ہوتی رہتی ہیں اور آئندہ کتابوں کے لیے جگہ چھوڑ جاتی ہیں۔ زبان رفتہ رفتہ بدلتی رہتی ہے اور اُس کے ساتھ اُن مصنفوں کی کتابیں بھی زائل ہوتی رہتی ہیں جنہوں نے اپنے خاص زمانہ میں نام پیدا کیا تھا، ورنہ ذہن وجودتِ طبع دُنیا میں ضرورت سے زیادہ کتابیں پیدا کر دیتی اور دماغ ادب کے بے شمار ذخیرہ سے بالکل مبہوت ہو جاتا ہے۔ پہلے زمانہ میں اس کثرتِ تصنیف میں کچھ رکاوٹیں تھیں۔ کتابیں ہاتھوں سے لکھی جاتی تھیں اور یہ کام دیر میں اور بہت محنت سے ہوتا تھا، وہ یا تو جھلّی پر لکھی جاتی تھیں جو قیمتی ہوتی تھیں، یہاں تک کہ اکثر ایک کتاب کو تراش دیتے تھے اور اُس پر دوسری کتاب لکھتے تھے یا پیپیریس Papyrus پر جو آسانی سے ٹوٹ جاتا تھا اور جلد خراب ہو جاتا تھا۔ فنِّ تصنیف ایک محدود اور غیر مفید پیشہ تھا جس میں اکثر گرجا کے فقراء اپنی فرصت اور آرام کے اوقات میں خانقاہوں کے کمروں میں مصروف رہتے تھے۔ قلمی نسخوں کے فراہم کرنے میں دشواری ہوتی تھی اور صرفِ کثیر کرنا پڑتا تھا اور یہ کام قریب قریب خانقاہوں تک محدود تھا اِنہیں حالات کی وجہ سے کسی حد تک ہم نے متقدمین کے خیالات سے کافی فائدہ نہیں اُٹھایا، اُن کی جودتِ طبع کے چشموں سے ہم مستفیض نہیں ہوئے اور موجودہ تیز فہمی اُن کے خیالات کے طوفان میں غرقاب نہیں ہوئی مگر چھاپہ اور کاغذ کی ایجاد نے اِن تمام رکاوٹوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اُنہوں نے ہر شخص کو مصنّف بنا دیا ہے اور ہر دماغ کو اپنے خیالات کتابوں میں ظاہر کرنے اور تمام دماغی دنیا میں شائع کرنے کے قابل کر دیا ہے۔ اِس ایجاد کے نتائج تعجب خیز ہیں۔ علمِ ادب کا نالہ کناروں سے اُبل چلا ہے، دریا بن گیا ہے بلکہ سمندر ہو گیا ہے۔ چند صدی پہلے پانسو ۵۰۰ یا چھ سو ۶۰۰ قلمی کتابیں ایک بڑا کتب خانہ خیال کی جاتی تھیں مگر تمہاری رائے ایسے کتب خانوں کی نسبت کیا ہو گی جن میں تین چار لاکھ کتابیں موجود ہوں، سیکڑوں مصنف ایک ہی وقت میں کام کر رہے ہوں اور مطابع نہایت زور کے ساتھ روز بروز بڑھتے جا رہے ہوں اور کتابوں کی تعداد دونی اور چوگنی ہو رہی ہو؟ تاوقت یہ کہ کوئی اتفاقیہ وفا میوز Muse کے بچّوں میں نہ پھیلے، اب کہ وہ اس قدر بچّے دے رہی ہے کہ مجھے آئندہ نسل کا خوف ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ آئندہ زبان کی تبدیلی کافی نہ ہو گی۔ تنقید سے اس بارہ میں بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ یہ فن ادب کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے اور اُن آبادی کی رکاوٹوں کے مشابہ ہے جن کا ذکر سیاست مدن کے عالم کیا کرتے ہیں۔ اس واسطے نقادانِ فن کی کثرت میں خواہ بُرے ہوں یا پہلے حتیٰ الامکان کوشش کرنی چاہیے۔ مگر مجھے اندیشہ ہے کہ یہ سب بے سود ہو گا، تنقید کو جو کچھ وہ کرے کرنے دو، لکھنے والے لکھیں گے، چھاپنے والے چھاپیں گے اور دُنیا آخر کار اچھی کتابوں سے بھر جائیگی۔ پس تھوڑے دنوں میں کسی شخص کی زندگی صرف کتابوں کے نام جاننے کے لیے کافی نہ ہو گی۔ بہت سی اشخاص جن کی معلومات آج کل بیحد وسیع ہیں بجز رسالوں کے پڑھنے کے اور کچھ نہیں پڑھتے اور بہت جلد وہ زمانہ آنے والا ہے جبکہ ایک عالم ایک گھومنے والی فہرست کتب سے زیادہ بہتر نہ ہو گا۔

’’میرے مہربان!‘‘ چھوٹی کتاب نے میرے چہرے کے سامنے ایک خشک جمائی لیکر کہا

’’میرے دخل در معقولات کو معاف فرمائیے۔ لیکن میں دیکھتی ہوں کہ آپ زیادہ تر سچ کہہ رہے ہیں۔ میں ایک مصنّف کا حال دریافت کرتی ہوں جس کی کچھ کچھ شہرت ہو رہی تھی جب میں نے دنیا کو چھوڑا۔ اُس کی شہرت بہر حال عارضی خیال کی جاتی تھی، عالم اُس کا نام سُن کر ناک بھوں چڑھاتے تھے کیونکہ وہ بیچارہ نیم تعلیم یافتہ شخص تھا جو لاطینی زبان بالکل نہیں جانتا تھا اور یونانی سے محض بے بہرہ تھا اور امیروں کے محفوظ جنگلوں میں سے ہرن چرانے کے لیے مارا مارا پھرتا تھا۔ مجھے خیال ہے اُس کا نام شیکسپیئر تھا۔ میں فرض کیے لیتی ہوں کہ وہ گوشۂ گمنامی میں جا پڑا ہو گا۔‘‘

’’برخلاف اِس کے‘‘ میں نے کہا

’’یہ اُس شخص کے قدموں کی برکت ہے کہ اُس کے زمانہ کا علمِ ادب معمول سے زیادہ دیر پا رہا ہے۔ اکثر ایسے مصنّف پیدا ہوتے ہیں جن پر زبان کی تبدیلی کا اثر (بظاہر معلوم ہوا کرتا ہے) نہ ہو گا وہ انسانی خصلت کے ناقابلِ تغیر اصول کو خوب سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ اُن عظیم الشان درختوں کی مانند ہوتے ہیں جو کسی دریا کے کنارے پر کٹہرے ہوں اور جو اپنی بڑی اور گہری جڑوں سے، جو سطحِ زمین میں خوب گڑی ہوتی ہیں اور مٹّی کو خوب مضبوط پکڑے رہتی ہیں، اپنے گرد کی مٹی کو ہمیشہ بہنے والی دہار سے محفوظ رکھتے ہیں اور بہت سے پودوں کو قائم رکھتے ہیں اور شاید بیکار سرکنڈوں کو ہمیشہ تک قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، یہی حال شیکسپیئر کا ہے جس کو ہم زمانہ کی دست برد سے محفوظ دیکھتے ہیں اور جس کی زبان آج کل بھی مستعمل ہے اور جس نے بہت سے مصنّفوں کو صرف اس وجہ سے دیر پا بنا دیا ہے کہ اُس کے قریب کے زمانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن وہ یہی (مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے) رفتہ رفتہ زمانہ کا اثر قبول کرتا جاتا ہے اور اُس کی اصلی زبان کو شارحوں کی کثرت نے اس طرح بدل ڈالا ہے جیسے انگور اور معمولی سبیلیں قریب قریب اصلی درخت کو جس کے گرد چمٹی رہتی ہیں اپنے سینے کے اندر دفن کر لیتی ہیں یعنی بالکل چھپا لیتی ہیں۔

یہاں چھوٹی کتاب نے اپنے بازئوں کو اٹھانا اور آواز نکالنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ آخر کار اس نے بہت زور سے قہقہہ لگایا اور وہ ہنسی سے بیتاب ہو گئی اور اس کا دم پھول گیا۔ ’’بہت خوب!‘‘ وہ چلّائی جس قدر اپنا سانس درست کر سکتی ’’بہت خوب! اور اس طرح تم مجھے یقین دلانا چاہتے ہو کہ اس زمانے کا علم و ادب ایک بدمعاش ہرن کے چور کی بدولت باقی ہے اس آدمی کی بدولت جس کو ایک حرف نہیں آتا تھا۔ ایک شاعر کی بدولت غالباً ایک شاعر اور اس پر پھر اُس نے بہت زور سے قہقہہ لگایا۔

میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ بیہودہ برتائو کسی قدر مجھے ناگوار گزرا جس سے بہر کیف میں نے اس خیال سے در گزر کیا کہ وہ ذرا کم تہذیب کے زمانہ میں لکھی گئی تھی لیکن باوجود اس کے میں نے ارادہ کیا کہ میں مسئلہ زیر بحث سے دست بردار نہ ہوں گا۔

’’ہاں‘‘ میں نے پھر تیقین کے ساتھ کہا

’’ایک شاعر! کیونکہ اُسے تمام مصنّفوں سے زیادہ عمدہ موقع اپنی یادگار دنیا میں قائم رکھنے کا ملا ہے۔ اور دماغ سے لکھتے ہیں اور وہ دل سے لکھتا ہے، پس جو کچھ وہ لکھتا ہے دل ہی میں جا اُترتا ہے وہ قدرت کے مناظر کی نہایت عمدہ تصویر کھینچتا ہے۔ جس کی خوبیاں ہمیشہ یکساں رہتی ہیں اور دلچسپ معلوم ہوتی ہیں۔ نثّار بے انتہا اور بکثرت ہیں، صفحے کے صفحے معمولی باتوں سے بہرے ہوئے ہیں اور اُن کے خیالات آخر کار ناگوار معلوم ہونے لگتے ہیں لیکن ایک اصلی شاعر کے نزدیک ہر چیز صاف، دل کو لُبہانے والی اور روشن ہوتی ہے۔ وہ نہایت عمدہ خیالات کو نہایت عمدہ زبان میں بیان کرتا ہے۔ وہ اُن کو ہر ایک اُس چیز سے جس کو وہ قدرت کے کارخانے میں یا ہنر اور فن میں نہایت عجیب دیکھتا ہے مثال دیکر سمجھاتا ہے، وہ انہیں انسانی زندگی کی تصویروں سے مالا مال کر دیتا ہے جو روز مرّہ اُس کی آنکھوں کے سامنے گُزرتی ہیں۔ لہٰذا اُس کی تصنیفات میں وہ روح، وہ خوشبو (اگر میں اُسے اِس نام سے موسوم کر سکتا ہوں) اُس زمانہ کی پائی جاتی ہے جس میں وہ زندگی بسر کرتا ہے۔ وہ اُن ٹوکریوں کی مانند ہوتی ہیں جو اپنے محدود دائرے میں زبان کی دولت اور اُس کے جواہرات کو بند کر لیتی ہیں اور جن کو اِس طریقہ سے آئندہ نسلوں تک آسانی کے ساتھ پہنچایا جاتا ہے۔ طرز بیان اکثر اوقات پُرانا ہو جائے اور اس بات کی کبھی کبھی ضرورت پیش آئے کہ اُسے دوسرے طریقہ پر بیان کریں جیسے کہ چاسر Chauser کا حال ہے۔ لیکن جواہرات کی چمک اور اصلی قیمت نہیں بدلتی۔ علم ادب کی تاریخ پر نظر ڈالو! کس قدر سستی کی مہیب وادیاں نظر آتی ہیں جو راہبوں کے قصوں اور بحث و مباحثہ سے پُر ہیں۔ کتنی علم الہٰیات کی دلدلیں ہیں! کتنے علمِ تصوّرات کے خشک میدان ہیں۔ صرف کہیں کہیں شاعرانِ نازک خیال کی زیارت ہو جاتی ہے جو بطور نشانات، صفحاتِ زمانہ پر باقی ہیں تا کہ شاعرانہ فہم و ذکاوت کی صاف روشنی کو ایک زمانہ سے دوسرے زمانہ تک پہنچاتے رہیں۔

میں زمانئہ حال کے شاعروں کی قصیدہ گوئی میں مصروف ہونے والا تھا۔ جبکہ دروازے کے یکایک کُھلنے نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ یہ پاسبان تھا جو مجھے اِطلاع دینے آیا تھا کہ کتب خانہ بند کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ میں نے چاہا کہ چھوٹی کتاب سے کچھ رخصتی الفاظ کہوں۔ لیکن لائق چھوٹی کتاب خاموش تھی اور اُس کے بازو بند ہو گئے تھے۔ اُس وقت سے ابتک دو تین مرتبہ کتب خانہ میں گیا اور اُس سے پھر ہمکلام ہونے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئی اور آیا یہ تمام پریشان مکالمہ دراصل وقوع میں آیا یا یہ اُن نامعقول خوابوں میں سے ایک ہے جن کا میں مریض ہوں، میں آج تک اس بات کو معلوم نہیں کر سکا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20