گل افشانیٔ تحریر: افضل رضوی کی ’در برگِ لالہ وگل‘ پر تبصرہ —- پروفیسر محمد رئیس علوی

0

افضل رضوی صاحب کی ’در برگِ لالہ وگل‘ جلد اول شعر وادب اور خاص طور پر اقبال شناسی کے موضوع پر ایک منفرد و ممتاز تصنیف ہے۔ اقبال کی شاعری میں موجود پھولوں، پتوں، شاخوں، سبزہ، سجر، خاروخس اور چمن، باغ وبہار سے وابستہ لفظوں کی تلاش و تشریح و توضیح کا ایک انوکھا موضوع وضح کرکے مصنف نے ایک بے بہا خزانے کی دریافت کی ہے۔ افضل رضوی صاحب نے گویا غالب ؔ کے سوال

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے

کے جواب و تشریح کے لیے اقبال کی شاعری کے خیابانوں کا انتخاب کیا ہے۔ یہ ایک بہت مشکل کام تھا جس میں شعر، ادب، فلسفہ اور تاریخ کے ساتھ ساتھ نباتات کی سائنسی، روائیتی اور علامتی حیثیتوں کو دیکھنا اور پر کھنا شامل تھا۔

’در برگِ لالہ وگل‘ جلد اول کی تحریر و تقریر کے دوران افضل رضوی صاحب نے آٹھ مراحل کا ذکر کیا ہے۔ ان تمام مراحل سے اول تا آخر تک گزرنے کا عمل نہایت توجہ، انہماک، ذوقِ سلیم،ادبی آگہی، شعری تفہیم اور وسیع وعمیق مطالعہ کا کام تھاجو کئی برسوں پر محیط رہا ہے۔

جلد اول میں مصنف نے اقبال کے کلام میں سے اٹھارہ نباتات بشمول ارغوان، انگور،انار، انجیر،باغ، ببول، بید، برگ، گل، گندم، چمن اور چنار کے رنگ و رموزسے پردہ اٹھایا ہے۔لالہ کے پھول کے بیان میں افضل صاحب نے سو صفحات تحریر کیے ہیں۔شعرِ اقبال میں لفظ چمن کے استعمال کی تہہ داریوں کے ذکر میں انہوں نے ستر صفحات رقم کرتے ہوئے ”چمن“ کے ہر پہلو اور جہت پر گفتگو کی ہے۔

افضل صاحب نے اقبال کے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں لکھے گئے اشعار و نظم میں موجود ان لفظوں یا ناموں کو ڈھونڈا اور جگایا ہے۔وہ لکھتے ہیں۔

مثلاََ: جب وہ لالہ کی سخت کوشی کی مثال دیتے ہیں تو دراصل وہ انسان کو اس کی محنت اور مشقت یاد دلا کر اسے جدو جہدکی طرف راغب کرتے ہیں۔ ’در برگِ لالہ وگل،ص،6

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لاالٰہ الا اللہ

افضل صاحب نے اقبال کے کلام میں آنے والے ان گلہائے رنگ رنگ اور شجر ہائے ثمردار و سبزہ وخار کی ادبی، شعری اور علامتی حیثیتوں کی نہ صرف وضاحت کی ہے بلکہ مختلف مقامات و صورتِ حال میں ان کی تغیر پذیر علامتی کیفیت کو نظر انداز نہیں کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں۔

زبورِ عجم حصہ دوم میں ’جامِ ارغواں‘ کی ترکیب لاکر معرفت کے اصولوں کو اپنانے کی تلقین کی گئی ہے۔ ’در برگِ لالہ وگل،ص،12

افضل صاحب نے اپنے موضوع کی فطرت سے قربت اور رنگ وجمال کی بو قلمونی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اقبال کے اردو و فارسی کے تمام شعری مجموعوں کو جس طرح ورق در قرق، مصرع مصرع،لفظ لفظ پڑھا، سمجھا اور ان کا تجزیہ کیا ہے ساتھ ہی ان لفظوں کی جن زاویوں سے تعبیر تطبیق کی ہے وہ نہ صرف اقبال سے ان کی اتھاہ عقیدت کا مظہر ہے بلکہ اردو شاعری کے تشریحی ادب میں بھی یہ ایک نایاب عمل ہے۔

افضل صاحب نے اپنی جستجوئے تحسین طلب میں شاعری سے آگے دیکھتے ہوئے اقبال کے خطوط کو بھی شامل کرکے ان کی فکر وشخصیت کے کم دیدہ گوشوں کی طرف بھی رہنمائی کی ہے۔انہوں نے جا بجا قرآنِ کریم کی آیات اور احادیث مقدسہ کے حوالوں سے بھی اقبال کے کلام کی تہہ داریوں تک پہنچنے کی کمال کوشش کی ہے۔

انجیر کا ذکر کرتے ہوئے وہ قرآن مجید کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔

انجیر کی قسم اور زیتون کی قسم اور طور سینین کی اور اس امن والے شہر کی بے شک انسان کوبہترین ترتیب سے تخلیق کیا گیا۔’در برگِ لالہ وگل،ص،30

ایک جگہ وہ لالہء صحرا کی معنویت بیان کرتے ہوئے اقبال کا یہ شعر،

تازہ کن آئینِ صدیقؓ و عمرؓ
چوں صبا بر لالہئ صحرا گذر

کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

ایک مرتبہ پھر حضرت ابو بکر ؓ  اور حضرت عمر فاروق ؓ  کا سا انداز ِ حکومت اختیار کر لے اور لالہئ صحرا کے اوپر سے بادصبا کی طرح گذر جا یعنی اپنی قوم کو طاقتِ ایمانی کی دولت سے مالا مال کردے۔’در برگِ لالہ وگل،ص،104

افضل صاحب نے لفظ ’باغ‘ کے ذکر میں اقبال کے اس الہامی شعر کا حوالہ دیا ہے جس میں تہذیب آدم کا نکتہئ آغاز تخیل کی تجریدی صورت کے ساتھ لفظوں میں یو ں ابھرتا ہے کہ پکاسوکے برش سے اترتے ہوئے رنگ بھی ماند پڑ جاتے ہیں۔

باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں؟

کارِ جہاں دراز ہے
اب مرا انتظار کر!
’در برگِ لالہ وگل،ص،30

اب ذرا باغ سے باہر آئے بغیر ایک نظر افضل صاحب کے آئینہء انتخاب میں اقبال’چمن‘ کو دیکھتے ہیں۔
ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمہ ء گُل!

یہی ہے فصلِ بہاری، یہی ہے بادِ مراد؟

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی!

ضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کردے
چمن کے ذرّے ذرّے کو شہیدِ جستجو کر دے

ابھی یہیں ٹھہرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اقبال نے’برگ‘ کو اپنی شاعری میں کس طرح برتا ہے اور افضل صاحب نے ہمیں اس حوالے سے کون کون سی تصویریں دکھائی ہیں۔

ساحرِ الموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش
اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات!
’در برگِ لالہ وگل‘،ص،266

سفر زندگی کے لیے برگ و ساز
سفر ہے حقیقت، حضر ہے مجاز
’در برگِ لالہ وگل‘،ص،267

پہلے شعر میں سرمایہ داری کی عہد بہ عہد سازشوں اور دوسرے میں ایک حقیقت بے قیام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔جس کو مسلمانوں نے اکثر بے حقیقت جان کر وقت بے وقت نطر انداز کیا ہے۔

’در برگِ لالہ وگل‘ کا مطالعہ کرنے والوں کو ابتدا ہی میں یہ احساس ہو جائے گا کہ اقبال کے اشعار میں آنے والے پھولوں، پودوں اور سبزہ وثمر کی لطافت وکثافت و نزاکت وتوانائی و طاقت کو افضل صاحب نے جس طرح اپنی تحریر میں سمیٹا ہے وہ یقیناً حیران کن ہے۔ انہوں نے پودوں، پھولوں، پتیوں، پھلوں، سبزہ وخار وخس کے بارے میں؛ ادبی مضامین میں نہایت کم یاب سائنسی حقائق اور ان کی صفات و اثرات کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں؛ انہوں نے افضل صاحب کو اقبال کے شارحین میں ایک نئے اور منفرد مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔

افضل صاحب نے متن میں آنے والے تاریخی، ادبی، سیاسی ناموں، مقامات اور کتب کی ضروری تفصیلات بھی حاشیے میں رقم کر دی ہیں جس سے تصنیف کے بارے میں ممکنہ طور پر تشنگیئ تفسیر کے گلہ کاروں کو سیراب کر دیا ہے۔

افضل صاحب نے قاری کو یہ بھی بتایا ہے کہ اقبال کے گل و ثمر اور برگ وشجر حقیقتاً ان کی شاعری مشعل بردار کرداروں کی طرح ہیں؛ جن کے اپنے رنگ، راہیں، ادائیں اور مزاج ہیں جو ہمیں زندگی کے تاریک مرحلوں اور مقامات میں راستہ دکھاتے ہیں۔کہیں وہ ہمارے دلوں میں حاصلہ کی آگ روشن کرتے ہیں، کہیں وہ عہدِ گزشتہ کی کوئی یاد دلا کر ہمیں دوبارہ میدانِ عمل کی طرف لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور کہیں وہ ہماری کشتیئ جستجو کو جمال ِ حق کی طرف لے جانے والے ناخدا کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر کوئی افضل صاحب کی تحریر کردہ ان تشریحات کی تفصیل میں جائے تو یہ خود ایک کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔

میں ’در برگِ لالہ وگل، کی تحریر کو صوتی طور پر نغمہ ہزار اور معنوی طور پر حظِ گلزار سے تعبیر کرتا ہوں۔ خدا ان کے قلم کو اسی طرح مشک بار رکھے۔

یہ بھی پڑھیے: دَر برگِ لالہ و گل : افضل رضویؔ کی کتاب: ایک مطالعہ ۔ ڈاکٹر رئیس صمدانی

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20