شبِ تاریک ——– ڈاکٹر امتیاز عبد القادر

0

(زیر نظر مضمون ۷ اگست ۲۰۱۹ء کو تحریر میں لایا گیا تھا۔ کشمیر میں چونکہ مواصلاتی نظام بھی ’پابہ زنجیر‘ تھا اس لئے بروقت کسی اخبار یا رسالہ کو ارسال نہ کر سکا۔ پانچ ماہ انیس دن بعد مواصلاتی نظام ’نیم آزاد‘ ہوا ہے۔ اس لئے اب موقع ملا ارسال کرنے کا۔ راقم)

۵ا گست کا سورج بھی اہلیانِ کشمیر کے لیے تازہ مصیبتوں کی ’نوید‘ ساتھ لایا ہے۔ جموں و کشمیر کو آئینِ ہند میں موجود دفعہ ۳۷۰ کے تحت خصوصی پوزیشن حاصل تھی، وہ آج ہندوستان کی پارلیمنٹ نے منسوخ کر کے اپنے تئیں کشمیریوں کے ’تابوت‘ میں آخری کیل ٹھونک دی۔ یہ خصوصی درجہ کشمیر کو آںجہانی ہری سنگھ کے دورِ ’زوال‘ میں سن ۱۹۴۷ء کو ملا تھا، جس میں اہم ترشِق یہ تھی کہ بیرون ریاست کا کوئی بھی باشندہ وادی میں زمین نہیں خرید سکتا، کوئی ملکیت نہیں بنا سکتا اور یہاں کی سرکاری نوکریوں کے لئے ہندوستان کا کوئی بھی باشندہ درخواست نہیں دے سکتا۔ بھاجپانے سوچے سمجھے منصوبے اور حکمتِ عملی کے تحت اس دفعہ کا آج بڑی شان سے ’جنازہ‘ نکال دیا۔ گزشتہ سال سے ہی وادی میں خوف و ہراس کا عالم ہے۔ دینی جماعتوں پر قدغنیں لگائی گئیں۔ چند تاجروں سے قومی تحقیقاتی ادارہ نے پوچھ تاچھ کی جوکہ ہنوز جاری ہے۔ مزاحمتی قیادت کو پابہ زنجیر کیا گیا۔ حالات کی سنگینی کا یہ عالم کہ ہند نواز جماعتوں کو بھی حکومتِ ہند نے اپنی اوقات یاد دلا دی۔ کشمیر کے سابقہ وزرائِ اعلٰی نیشنل کانفرنس کے عمر عبد اللہ اور پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی کو ۴ا گست کو پہلے گھروں میں نظر بند رکھا گیا بعد ازاں جیل منتقل کیا گیا۔ علاوہ از ںیشنل کانفرنس کے سرپرستِ اعلٰی فاروق عبد اللہ کے ساتھ ساتھ تین سو کے قریب وادی کے ہند نواز سیاسی کارکنوں کو گھروں میں مقفل رکھا گیا۔ یہ چہرہ ہے اس ملک کا جسے دنیا کا سب سے بڑا ’جمہوری‘ ملک ہونے کا دعوٰی ہے۔ ان اقدامات کو دیکھ کر خود ہند نواز سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کی تاریخ کا تاریک ترین باب ہے۔ جمہوریت کا جنازہ ہے۔

کشمیر محصور ہے۔ میں یہ نالئہ درد ایسے ماحول میں رقم کر رہا ہوں جبکہ یہاں تاریکی ہر سُو پھیلی ہوئی ہے۔ ظلم و ناانصافی، قتل و غارت گری، مفلسی و کسمپرسی اور معاشی بدحالی کی تاریکی۔ ماحول ایسا ہے کہ مانو تمام روشنیاں گل ہو چکی ہوں۔ فضا خاموش اور سوگوار ہے۔ امن و انصاف کی قبا چاک ہے۔ امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ کھڑکیاں، دریچے، روشن دان سب بند ہو گئے ہیں۔ قلم، سیاہی اور قرطاس بھی ’پابہ زنجیر‘ ہیں۔ پرندے بھی گھونسلوں میں جا چھپے ہیں۔ ظلم کی کالی گھٹا چھا جانے سے اندھیرا کافی پھیل گیا ہے۔ یہاں آواز، روشنی، ہوا اور نقل و حرکت پر بھی پہرے بٹھا دئے گئے ہیں۔

کشمیری ۵ا گست سے اپنے اعزاء و اقارب کے حال و احوال سے بےخبر ہیں کیونکہ تمام مواصلاتی ذرائع پر بھی ’کرفیو‘ نافذ ہے۔ ذی روح ’لاشوں‘ کے ساتھ ساتھ موبائل، ٹیلی فون، انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن وغیرہ کا ’گلا‘ بھی دبا دیا گیا ہے۔

سڑکیں سنسان ہیں۔ گلیاں اور بازار ویران۔ عید کی آمد ہے لیکن ہمارا وجود سکونِ خاطر سے کوسوں دور۔ آئے دن ہندوستانی زیرِ انتطام کشمیر ماضی کا سفر طے کر کے ’پتھر کے زمانے‘ (stone age) میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف اکیسویں صدی میں دنیا ’گلوبل ولیج‘ کی صورت ایک ’ڈبے‘ میں قید ہو کر رہ گئی ہے اور انگوٹھے کے ایک کِلک سے انسان دنیائے جہاں کی خبر پلک جھپکتے میں معلوم کر سکتا ہے، وہیں کشمیر بھی ایک بستی ہے جہاں حکمرانوں کا جب دل چاہے وہاں کے باشندوں کو پوری دنیا تو کیا بغل میں رہنے والے ہمسائیوں سے بھی بے خبر رکھنے کا سامان کرتے ہیں۔ زندگی کی ضروریات سے لاتعلق کیا جاتا ہے۔ کرفیو، پابندیاں لگا کر والدین کو اپنے بچوں سے، طلباء کو علم سے، مزدوروں کو رزق سے، بیماروں کو دوا سے، زندگی کو ’حیات‘ سے دُور کیا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں زندگی کی رفتار کافی تیزی سے ’بہہ‘ رہی ہے، ترقی پَر پھیلائے آغوشِ ثریا میں پناہ گزیں ہے لیکن یہاں اس بہائو و ترقی پر جمود طاری کیا جاتا ہے۔ یہ ما قبل تاریخ کی کوئی کہانی نہیں بلکہ ما بعد جدید دور میں سانس لے رہے ہندوستانی زیر ِ انتطام کشمیر کے باشندوں کی گزشتہ ستّر سال سے آئے دن کی کہانی ہے۔

وقت کی بڑی ’جمہوریت‘ نے ہر گلی، کوچے اور نُکڑ پر کالے کالے سائے کھڑا کئے ہیں جنہوں نے عوام کی سانس اور ہوا پر بند باندھے رکھا ہے۔ لب سی لئے گئے ہیں۔ پُر امن احتجاج کی اجازت ہے نہ ماتم کرنے کی آزادی۔ کشمیر تاریخ کی بدترین غلامی کے دور سے گزر رہا ہے۔ یہاں کی عوام ہلاکو، چنگیز، ہٹلر وغیرہ سے ’دلی ہمدردی‘ رکھتے ہیں کہ وہ ’مفت‘ میں بدنام ہوئے ہیں۔ اُن کی ارواح شرمندہ ہون گی۔ وہ زندہ ہوتے تو کشمیریوں کی حالت زار دیکھ کر عش عش کرتے۔ جمہوریت کے نام پر وہ سب قوانین یہاں نافذ ہوتے ہیں جو کبھی مطلق العنان حکمرانوں، ڈکٹیٹروں نے بھی نہیں سوچے ہون گے۔

کشمیر دنیا کا سب سے بڑا ’تجربہ گاہ‘ ہے، جہاں چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کی طرح انسانوں پر تجربات ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر ایک ’عجائب خانہ‘ بھی ہے۔ یہاں محسنوں کو دھتکارا جاتا ہے، تختہ دار پر لٹکایا جاتا ہے اور غداروں کی غداری پر جشن منایا جاتا ہے۔ ان کے نام پر پُل، اسٹیڈیم، ہال اور اسپتال تعمیر کئے جاتے ہیں۔ یہ موقف تبدیل کرنے والوں، تاریکی میں دھکیلنے والوں کے ناموں کی مالا جپتے ہیں اور بعد ازاں پشیمان بھی ہوتے ہیں۔

سیاست کے دلالوں نے جنت ارضی کو جھنم زار بنا کے چھوڑا ہے اور ابھی بھی اس آگ کو بھٹکانے کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت کشمیر اک شہرِ خموشاں کی مانند ہے، یہاں کئی دہائیوں سے قبرستان سا ’امن‘ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آسمان نے بھی ہم سے مُنہ پھیر لیا ہے۔ اقوامِ عالم آںجہانی گاندھی جی کے بندروں کے مثل ہیں۔ اقوامِ متحدہ مظلوموں کی لاشوں اور تابوتوں پر اپنی روٹیاں سینکتے رہے ہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ وہ ’کفن چوروں کی تنظیم ہے۔‘

دنیا میں بسنے والے ’انسان‘ اپنا اخلاقی فریضہ بھول چکے ہیں۔ کتنی ’بانام‘ و ’بے نام‘ قبریں ’آباد‘ ہو چکی ہیں جن میں کشمیریوں کو ان کے خوابوں، آرزئوں اور تمنائوں کے ساتھ تہہ خاک پہنچایا گیا۔ اس مٹی کی کتنی باعفت بیٹیاں ہیں، جن کی عصمتیں ڈنکے کی چوٹ پر اور دبے پائوں بھی ’محافظوں‘ نے تار تار کی۔ اس کے باوجود اقوامِ عالم کے کانوں اور آنکھوں پر دبیز پر دے اور ضمیر کفن میں لپٹے ہوئے ہیں۔

غلامی انسان کے شب و روز کو ذلت و خواری کے پردہ میں لپیٹ دیتی ہے اور اشک و خوں کے سیلاب میں غرق کر دیتی ہے۔ کشمیر ستّر سال سے اس بے رحم سمندر میں غرقآب ہے۔ یہاں ہوا سسکیاں بھر بھر کر روتی ہے جیسے کسی کی خشک آنسوئوں میں ڈوبی ہوئی پکار ہو۔ فضا پُرنم رہتی ہے، گہری گہری کہر آلود نمنا کی۔۔۔ جیسے بُرباد آرزئوں، خواہشوں اور تمنائوں میں ڈوبی ہوئی پکار ہو! آسمان کی چھاتی ابر آلود ہے، سُرخ لہو نُما ابر جیسے ہمارے حالات کا عکس ہوں اور زمین کی وسعت گرد آلود جیسے ہمارے نصیب میں بس ’خاک ہونا‘ ہی لکھا ہو۔۔۔! کاش اس پُر آشوب وادی سے ’فرار‘ کی کوئی سبیل ہو۔ یہاں ہم روز مرتے ہیں۔ زندگی کیا ہے، اس احساس سے ہم نا آشنا ہے۔ عزت و قار، اقبال یہ ہم بس کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ ذلت و خواری کی اگر کوئی جیتی جاگتی تصویر ہے تو وہ ہندوستان کا ’اٹوٹ انگ‘ کشمیر ہے۔۔ اس وسیع کائنات میں ہمارے لئے اک آزاد ’دنیا‘ عنقا ہے۔ اس کی پُرفریب نیرنگیاں اور اس کی دلکش رنگینیاں سراب آسا ہیں اور ایسی نا پائیدار جیسے کنول کی پتی پر لرزا ںاک قطرئہ حیات۔۔۔۔ ہماری اِس دنیا میں ہوا کراہتی ہے، چاند اشکبار ہے اور کائنات وحشت زدہ۔۔۔۔!

دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ کیا اس دور میں کشمیریوں کا حق نہیں کہ وہ اس شریدہ دنی اسے دور کوئی ایسا کنجِ سکون تلاش کرے جہاں روح میں انعکاس پیدا کرنے والے نغمے بکھر رہے ہوں؟ جہاں اطمینان ذرے ذرے پر چھا رہا ہو جہاں سپیدئہ سحر، حیاتِ نو کا پیغام لاتا ہو۔۔۔۔؟

ہم پر ’تسلطِ خزاں ‘آخر کب تک؟ تشدد کے پنجوں کی گرفت آخر کب تک؟ تسلطِ خواب و خامشی آخر کب تک۔۔۔۔۔؟ درختوں کی آڑ میں آفتاب غروب ہو رہا ہے۔ ہر شے شام کے بھورے بھورے دھندلکے میں ملفوف ہے اور قطرہ ہائے اشک کی طرح جنباں۔ دھندلی کرنیں تاریکی کا تعاقب کرتے ہوئے غائب ہو گئیں۔ فضا میں ایک مہیب سا خوف سانس لے رہا ہے اور ہر طرف تاریکی ہے۔ ۔ ۔ ایسی گردشِ لیل و نہار آخر کب تک؟

جو رو استبداد کے سرد پنجے آگے بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ہوا سسکیاں بھرتی ہوئی چل رہی ہے اور میری نگاہِ یاس اس اداس منظر کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ دل کسی بچھڑے ہوئے پرندے کی مانند سہما ہوا سا ہے اور روح بیمار کی کراہ کی طرح اداس اداس۔۔۔ وادی میں آسمان بے رونق ہے اور زمین کا ’چہرہ‘ زرد جیسے نبضِ کائنات میں دوران خون تھم گیا ہو۔ اس زہریلے ماحول میں دم گھٹا گھٹا جاتا ہے اور صدائے درد میں کانپتی ہوئی آواز فضا میں لہرا رہی ہے۔

آج مرحوم شیخ محمد عبد اللہ اور مرحوم مفتی محمد سعید کی روحیں بھی رنجیدہ ہون گی۔ انہیں بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا ہو گا۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی، اپنی توانائیاں، اپنی چالاکیاں اور اپنی صلاحیتیں جن کی تعلیمات سن کر عملانے میں صرف کی تھیں، آج اُن آقائوں کا قہر اُنہی کی آل پر ٹوٹا۔ جن کے پیچھے پیچھے چل کر انہوں نے اپنے وجود کو تھکایا، آج ان کے گناہوں کی سزا ان کی اولاد کاٹ رہی ہے۔ جس ’تخت‘ پر ان کا اور ان کی اولاد کا دل راج کر رہا تھا، آج وہ بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ جو کبھی آشنا تھے، آج وہ نا آشنا ہو گئے۔ جو کبھی خمیدہ کمر ہو کے ملا کرتے تھے، آج اکڑ کا ہیولا بنے ایستادہ ہیں۔ جو کبھی ان کے لئے ہٹو بچو کی صدائیں بلند کرتے تھے، آج وہ بیدردی سے انہیں سُوئے قفس لے جا رہے ہیں۔ جنہوں نے تاریخ سے کبھی سبق نہ لیا، آج خود اتِہاس بن گئے۔ جو کبھی اُن کے رفیق تھے، آج وہ رقیبِ رُوسیاہ بن گئے۔ جو ’آزاد‘ تھے، آج غلامی ان کو ’مبارک‘ ہو۔۔۔ عالمِ برزخ میں آج دونوں مرحوم ’لیڈران‘ ماتم کناں ہون گے۔ ان کی روح افسردہ ہو گی۔ پشیماں ہونگے کہ اس ’جمہوریت‘ پر اعتبار کر کے کتنی بڑی چُوک ان سے سرزد ہوئی۔ آںجہانی گاندھی ؔاور آںجہانی نہروؔ کی روحوں سے وہ گلے شکوے کر رہے ہونگے۔ سردار پٹیلؔ کی روح بھی گنگ ان کی شکایتوں کو گوش گزار کر رہی ہو گی اور وہ سوالیہ نگاہوں سے آںجہانی اٹل بہاری واجپائیؔ کی روح کو تک رہے ہون گے۔ ’شیرِ کشمیر‘ اور ’مردِ مومن‘ کو آج احساس ہوا ہو گا کہ وہ برسرِ اقتدار رہ کر بھی کبھی’ آزاد‘ نہیں تھے۔ انہیں یہ احساس اندر ہی اندر کھو کھلا کر رہا ہو گا کہ انہوں نے ضمیر کا سودا کیوں کیا؟ ضمیر نے آج انہیں سبق دیا ہو گا کہ ضمیر فروشی کتنا گراں سودا ہے۔ ان کی روحیں آج بھی غلامی کے بوجھ سے دبی جا رہی ہونگی اور دل اس قابلِ نفرت احساس کی تاب نہ لا کر چُور چُور ہوںگے۔ لیکن یہ پشیمانی آخر کس کام کی؟

کشمیر پر ایسی شب طاری ہے جس کی صبح ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں سے آفتاب کا کبھی گزر ہوا ہے نہ ہو گا۔ اقبالؔ نے کبھی ہندوستان میں غلامی کے جمائو کے بارے میں شکوہ کیا تھا کہ؎

شب ہندی غلاماں را سحر نیست
بایں خاک آفتاب را گزر نیست

آج وہی شکوہ ہم بھی کرتے ہیں۔ یہاں بھی غلامی کا جمائو ہے، یک رنگی ہے۔ خون ارزاں ہے۔ خوابوں کے شجر پر تیشہ چلایا جاتا ہے۔ سوچ، فکر اور نظریہ پر پہرہ ہے۔ جملہ حقوق غیر محفوظ ہیں۔ قانون کے بھیس میں لاقانونیت ہے۔ محافظوں کی صورت میں قزاقوں کا ڈیرہ ہے۔ جمہوریت کی آڑ میں آمریت کا راج ہے۔ ایسے میں جملہ اقوامِ عالم کی بے حسی و چشم پوشی ہم پر اُن کے حق میں چار ’تکبیرات‘ کو ’واجب‘ کر دیتی ہے۔۔۔۔!

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20