باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں —- اظہر عزمی

0

ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں
باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں

1988 میں ایک چھوٹی سی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں پہلی ملازمت ملی وہ بھی ڈیفنس پنجاب کالونی میں۔ تنخواہ مبلغ ایک ہزار روپے۔ والد صاحب نے دو پینٹیں ایک ساتھ سلوا دیں۔ والدہ کا شروع دن سے یہ فرمان رہا کہ تم کپڑوں کی عزت کرو گے تو کپڑے تمہاری عزت کریں گے۔ تاکید کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے جب بھی کپڑے اتارے، الٹے ہی اتارے جنہیں والدہ سیدھا کرتیں۔

خیر واپس چلتے ہیں اپنی جائے ملازمت پر۔ کہاں ہم لوئر مڈل کلاسیے اور کہاں ڈیفنس کا ہزار گز کا بنگلہ۔ جو شخص زندگی میں کبھی آدھے گھنٹے سے زیادہ AC میں نہ بیٹھا ہو، وہ 8 گھنٹے ایک ہی کرسی پر بیٹھا رہے تو سوچیں اس کے جسم کا کون سا حصہ ہوگا درد زدہ نہ ہوگا۔ لگتا تھا ٹھنڈ ہڈیوں میں بیٹھی نہیں بلکہ لیٹ گئئ ہے۔

کام وام ہمیں کیا آتا تھا۔ ٹرینی (اسے آپ ریل والی ٹرین کا ڈبہ سمجھ لیں جسے انجن گھسیٹتا ہے) کاپی رائٹر لگے تھے۔ بس ایک مرتبہ TJs (تنویر جمشید۔ ڈریس ڈیزائنر) کی میٹنگ میں گنتی پوری کرنے کے لئے بیٹھا دیئے گئے۔ پوری میٹنگ میں سہمے سہمے رہے۔ کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ ہم خوش تھے۔ محلے میں ہماری ملازمت کی بات پھیل چکی تھی۔ دوست یار اپنے لئےاور محلے کی عورتیں اپنے بچوں کے لئے ماڈلنگ کی درخواست کر چکی تھیں کہ ایک بھیانک خواب کی طرح ایک ہفتہ بعد ہمیں 250 روپے دیکر بہ یک جنبش قلم فارغ کردیا گیا اور “الزام” یہ لگایا گیا کہ یہ کام آپ کے بس کا نہیں۔ ہماری تو دنیا اندھیر ہو گی۔ خیر ایک دروازہ بند ہو تو کئی اور در کھلتے ہیں۔ ہم نے اپنی کریٹیو ڈائریکٹر مس یاسمین سے برخواستگی کی وجہ پوچھی تو بولیں کہ MD کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ تمھیں آئے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا ہے۔ کام آنے یا نہ آنے کا کیا سوال؟ بڑی دبنگ خاتون تھیں۔ نہ جانے اب کہاں ہیں لیکن میرے لئے وہ فرشتہ تھیں۔ کہنے لگیں گھبرانے کی کوئئ ضرورت نہیں تم ندیم فاروق پراچہ (مشہور لکھاری) سے کل جا کر مل لو۔ وہ اس وقت کورنگی روڈ اگفا لیبارٹری کے پیچھے واقع ایک ایجنسی میں کریٹیو ڈیپارٹمنٹ میں تھے۔ میں اگلے روز وہاں پہنچا تو بولے یہاں تو کوئئ جگہ خالی نہیں۔ تم ایسا کرو میرے والد فاروق پراچہ سے مل لو۔ ان کے پاس ویکینسی ہے۔ فاروق پراچہ صاحب اس وقت لال کوٹھی پر واقع ایک ایجنسی میں تھے۔ میں وہاں پہنچا۔ اللہ نے ان کے دل میں رحم ڈالا اور ملازمت مل گئی۔

فاروق پراچہ مرحوم پکے پیپلے (پی پی پی) اور بہت دلچسپ، سادہ طبیعت اور خوش گفتار تھے۔ ایک زمانے میں ان کا بھٹو صاحب کے ہاں آنا جانا تھا۔ فاروق پراچہ صاحب جنگ اخبار میں سیاسی آرٹیکل لکھا کرتے تھے جو ادارتی صفحہ میں شائع ہوتا تھا۔ ہم ان کے under میں تھے۔ جب کبھی انہیں مضمون لکھنا ہوتا تو لنچ پر ہمیں لے کر بیٹھ جاتے وہ بولتے اور ہم لکھتے جاتے اور دو ایک روز میں وہ آرٹیکل جنگ میں چھپ جاتا۔ ایک دن آرٹیکل لکھوا رہے تھے۔ اختتام باقی تھا۔ نہ جانے دل میں کیا آیا بولے باقی تم لکھ دو۔ ہم نے باقی شاید ایک ہیراگراف ہی ہوگا، لکھ دیا اور کچھ روز بعد وہ آرٹیکل ہمارے پیراگراف کے ساتھ شائع ہو گیا ہم حیران کہ یہ کیا ہو گیا؟ (میں تا زندگی فاروق پراچہ صاحب کا ممنون رہوں گا کہ انہوں نے میری لکھنے کی صلاحیت اور سیاسی سوجھ بوجھ کو “تاڑ” لیا تھا۔)

اب ہمارا حوصلہ بڑھ گیا۔ دو ایک ماہ ہماری اس ایجنسی سے فراغت ہوگی اور ہم پہنچ گئے ندیم فاروق پراچہ کے پاس۔ اس ایجنسی میں کام زیادہ نہ تھا۔ دن بھر ندیم اور میں ادھر ادھر کی ہانکتے رہتے۔ ایجنسی میں جتنے بھئ اخبارات آتے چاٹ لیتا، سمجھیں یہاں آکر لاٹری کھل گئئ تھی۔

ذہن میں ایک بات تو بیٹھ چکی تھی کہ اب ہمیں خود لکھنا ہے۔ اس زمانے میں (1988) کیمپوچیا کا مسئلہ بڑا زوروں پر تھا۔ ہم نے لفظوں کی پوری کاری گری کرتے ہوئے ایک آرٹیکل ” آخر کیمپوچیا کا مسئلہ کب حل ہوگا؟ ” لکھ ڈالا اور ہمت کر کے جنگ اخبار کے دفتر پہنچ گئے۔ کوئئ جان پہچان نہیں۔ گیٹ پر ہی چوکیدار نے روک لیا۔ کیا کام ہے۔ کس سے ملنا ہے؟ اب کوئئ جاننے والا ہو تو بتائیں۔ بس یہی کہا بھائئ ایک مضمون لکھا ہے چھپوانے کے لئے دینے آیا ہوں۔ گو کہ سامنے مضمون ڈالنے کا بکس رکھا تھا لیکن چوکیدار نے وہاں تک نہ جانے دیا۔ میرے ہاتھ سے لیا اور خود ہی بکس میں ڈال دیا۔ ہم چلے آئے۔ سوچا ردی کی ٹوکری میں ہی جائے گا۔ ہمیں کون جانتا ہے۔ جنگ میں مضمون چھپنا کوئئ کھیل ہے وہ بھی ہم جیسے نئے لکھنے والے کا۔ آرٹیکل دے آئے اور کسی کو بتایا بھی نہیں۔

دو چار دن بعد میں صبح آفس جانے کے لئے کپڑوں پر استری کر رہا تھا۔ والد صاحب اخبار پڑھ رہے تھے۔ ایک دم کمرے سے ان کی آواز آئئ۔ “عزمی ادھر آو۔” میں نے کہا “ابو استری کر رہا ہوں “بولے ‘استری چھوڑو پہلے یہاں آو۔” میں کمرے میں گیا تو والد صاحب کے چہرے پر خوشی کے تاثرات تھے۔ جنگ اخبار کا ادارتی صفحہ مجھے دیتے ہوئے بولے “دیکھو تمہارا مضمون جنگ کے ادارتی صفحہ پر آیا ہے۔ میں نے دیکھا تو واقعی ریئس امروہوی کے قطعے کی نیچے اور جاوید جبار کے کالم کے ساتھ کیمپوچیا والا آرٹیکل میرے نام آظہر حسین عزمی کے ساتھ شائع ہوچکا تھا۔ میں تو خیر خوش تھا ہی لیکن میرے والد صاحب کی خوشی دیدنی تھی۔ کہنے لگے” تمھیں اندازہ ہے کہ جنگ میں مضمون کا وہ بھی ادارتی ضفحہ پر شائع ہونا کتنی بڑی بات ہے”۔

مجھے آرٹیکل شائع کی بے انتہا خوشی تھی مگر اس سے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ آج میرے والد صاحب میری وجہ سے بہت خوش تھے۔ شاید انہیں اپنے کسی خواب کی تعبیر ملنے کے آثار نظر آئے تھے۔ یہاں میں ایک بات بتاتا چلوں کہ میرے والد صاحب خاندان کے پہلے شاعر تھے۔ تخلص کوثر سلطان پوری تھا۔ بعد از روزگار آپ کا زیادہ تر وقت کتب بینی میں گذرتا یہی وجہ ہے کہ میں نے میٹرک تک آتے آتے بہت کچھ پڑھ لیا تھا۔

آرٹیکل کیا چھپا۔ والد صاحب نے اپنے تمام احباب کو بتا دیا۔ خاندان کے لوگ جو مجھے ناکارہ سمجھتے ان کے لئے باعث فخر ہو گیا کیونکہ میں پہلا فرد تھا جو اب جنگ میں چھپنے لگا تھا۔ 80 کے عشرے کے لوگوں کو جانتے ہیں کہ اس زمانے میں جنگ میں مضمون کے آجانے سے وہ عزت و شہرت ملتی تھی جو شاید آج ٹی وی چینلز پر آنے سے بھی ملتئ۔ بات ہو رہی تھی والد صاحب کی ۔ ۔ ۔ ۔ آج بھی سوچتا ہوں کہ یہ والدین بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں انہیں اولاد کے پیسے سے کوئئ غرض نہیں ہوتی۔ بس یہ تو اپنے لئے اپنی اولاد سے ہونے والے فخر کے لمحے تلاش کرتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت جب ان کی کمر خمیدہ ہو جائے اور آپ ان کا سر فخر سے بلند کردیں۔

میں بعد میں سیاست اور دیگر موضوعات پر مختلف اخبارات میں مسلسل آرٹیکلز لکھتا رہا اور والد صاحب سب کو بتاتے رہے۔ ان کا کوئی دوست ملتا تو اسے میرے ہر آرٹیکل کا پتہ ہوتا اور میں سر جھکائے آرٹیکلز پر ان کے تبصرے سنتا رہتا۔ میری خوشی آرٹیکل میں نہیں تھی میری اصل خوشی یہ تھی کہ میں اپنے والد کے خوابوں کو تعبیر دے دہا تھا۔ تنخواہ میری دو ڈھائئ ہزار ہوگی مگر والد صاحب کو لاکھوں کی خوشی مل رہی تھی شاید وہ خوشی جنہیں نوٹوں میں گنا بھی نہ جا سکتا ہو۔

میری بس ایک گزارش ہے کہ والد کو زندگی میں کم اہم نہ جانیں۔ وہ زندگی بھر آپ کے لئے ATM کارڈ بنا رہتا ہے۔ آپ اس کے لئے انبساط و فخر کا ATM کارڈ بن جائیں۔ بزرگی اور احترام کے نام پر اس سے دور نہ بھاگیں۔ اس کے پاس بیٹھیں۔ اس کی تنہائی دور کریں۔ اس نے آپ کو انگلی پکڑ کرچلنا سکھایا۔ کیا آپ اس کے پاس بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ جوان ہوتے بچوں کے والد اس بات کو زیادہ بہتر سمجھ اور محسوس کر سکتے ہیں۔ باپ مرتے نہیں ہیں کسی نہ کسی انداز میں آپ یا آپ کی اولاد میں زندہ رہتے ہیں۔ کبھی پوتا مسکرائے یا ہاتھ ہلا ہلا کر بات کرے تو آپ خوش ہو کر کہتے ہیں “دیکھو بالکل پاپا کی طرح کر رہا ہے”۔ کوشش کریں کہ آپ جب یہ بات کر رہے ہوں تو باپ آپ کے ساتھ ہی بیٹھا ہو ورنہ یہ آواز اس کے کانوں میں اگر پہنچی تو وہ شہر خاموشاں کی ایک اندھیری قبر میں نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا رہا ہوگا۔

تمہاری قبر پرجس نے تمہارے نام کا کتبہ لگایا ہے وہ جھوٹا ہے
تمہاری قبر میں، میں دفن ہوں تم مجھ میں زندہ ہو
(ندا فاضلی)

مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: