خلیل الرحمان قمر صاحب!  تسی گریٹ ہو —- خرم شہزاد

0

لوگ کہتے ہیں کہ خلیل الرحمان قمر میں بے پناہ غرور ہے اور وہ اپنے لکھے ڈائیلاگ کے سامنے کسی کے کام کو مانتے ہی نہیں۔ میرے پاس تم ہو، ڈرامے نے ان کا غرور کہیں یا دعویٰ، سب سچ ثابت کر دکھایا۔ وہ سب لوگ جو خلیل الرحمان قمر صاحب کو لکھاری ماننے سے انکاری تھے، وہ بھی آخری قسط دیکھنے کے لیے ٹی وی اسکرینوں کے سامنے ایسے بیٹھے تھے جیسے مائیکل اینجلو کا کوئی شاہکار ابھی ان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

’’ڈرامے میں بے شمار جھول تھے، کہانی آخری قسط میں لکھاری کے ہاتھ سے نکل گئی تھی‘‘ جیسے بے شمار تبصرے آپ نے ان دو چار دنوں میں پڑھے ہوں گے لیکن کوئی پوچھے کہ اتنے جھول والی فضول اور بے مقصد کہانی کو دیکھنے پر آپ کو کس نے مجبور کیا تھا کہ ڈرامہ تو ڈرامہ، صاحبان نے تو کمرشل بریک بھی فرض عین سمجھ کر دیکھی۔ بہت سے اسلام کے ٹھیکیداروں کی طرف سے ڈرامے کو اسلامی اصولوں اور احکام کے خلاف بتایا جا رہا ہے کہ اس میں طلاق کا مذاق بنایا گیا، حلالہ کا مذاق بنایا گیا اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا لیکن ان سے پوچھا جائے کہ جناب آپ نے ایسے واہیات ڈرامے کو اپنے گھر میں چلنے کی اجازت کیوں دی اور آخری قسط تک دیکھنے کے لیے آپ کو کس نے مجبور کیا تھا۔ مشرقی روایات اور گھرانوں کے آخری نمائندوں کا بورڈ اٹھائے بہت سے لوگ توبہ توبہ کرتے نظر آئے کہ حد ہی کر دی ایسا بھلا کہاں ہوتا ہے کہ مرد یوں کر دے، عورت یوں چلی جائے وغیرہ وغیرہ، لیکن ان سے پوچھا جائے کہ حضرت ایسا بھی کہاں ہوتا ہے کہ جن باتوں پر سرعام توبہ توبہ کرنی ہو وہیں باتیں گھر میں بہو بیٹیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھی جائیں اور انہیں بھی بتایا جائے کہ ایسا ہو بھی سکتا ہے۔

ڈرامے کی آخری قسط کے دن پاکستان بھر میں یوم مہوش و دانش و رومی قرار دے دیا گیا تھا اور اگلے دن پورا پاکستان دانش کے سوگ میں رہا۔ ان دو دنوں میں پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے مہنگائی، غربت، بیماری لاچاری، روٹی، نوکری، بچوں کی تعلیم، گیس کی عدم فراہمی، پٹرول کی بڑھتی قیمت، ٹیکسوں کا بوجھ، کرپشن، حکومتی ناکامی کی داستانیں سب سیارہ مریخ کی باتیں تھیں جن سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف قوانین، کشمیر کا کرفیو، ایران امریکہ جنگ، اسرائیل، فلسطین، عراق مصر اور شام کی صورت حال سمیت کسی بھی عالمی مسئلے اور تنازعے کے لیے ہمارے پاس یہ دو دن بالکل وقت نہیں تھا کیونکہ پہلے دن مہوش اور رومی کی استانی کا مستقبل ہمارے لیے سب سے بڑے سوال تھے اور دوسرے دن دانش کی موت ہماری زندگیوں کا المیہ بن چکی تھی۔ فیس بک، ٹوئیٹر سمیت سارے سوشل میڈیا پر پورے اہتمام سے ہم نے اپنی سوچ کا مظاہرہ کیا کہ کہیں بھی پاکستانی ٹاپ ٹرینڈ میرے پاس تم ہو، مہوش، دانش کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔ نوٹیفیکشن بند ہونے نے جلتی پر تیل کا کام کیا کہ دانش کی موت کا دکھ سوا ہو گیا۔ خواتین نے یوں رو رو کر دوپٹے بھگوئے کہ والد یا والدہ کا مرنا تو کبوتروں کی موت لگنے لگا۔

یہ سب کیا تھا؟ یہ خلیل الرحمان قمر کا جادو تھا۔ اگر خلیل الرحمان قمر کا لہجہ تلخ ہوتا ہے، اس کا انداز قطعیت لیے ہوتا ہے تو یہ سب اس کا حق ہے کہ وہ ایک شخص پورے پاکستان کو اپنی طرف نہ صرف متوجہ کروانا جانتا ہے بلکہ اپنے آپ کو ڈسکس کروانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ خلیل الرحمان قمر صاحب تسی واقعی گریٹ ہو کہ ڈرامے کی ایک قسط نے پورے پاکستان کے چہرے پر پہنے ہوئے بے شمار نقاب اتار دئیے۔ یہ کام واقعی خلیل الرحمان قمر ہی کر سکتا ہے کیونکہ جو اپنے لکھے کو حرف آخر سمجھتا ہے وہی اصل اور مکروہ چہرہ سامنے لا سکتا ہے، باقی تو سب سے قبولیت کی سند پاتے پاتے اپنی روح کھو دیتے ہیں۔

کیا تھا اس ڈرامے میں۔۔۔ عورتوں سے پوچھیں تو ہزار باتیں بتائیں گی لیکن سچ یہ ہے کہ اس ڈرامے نے پاکستان کی ہزاروں لاکھوں عورتوں کو احساس کمتری اور خود ترسی میں مبتلا کر دیا۔ ان کے خوابوں میں بھی وہ شہزادے پھر لوٹ آئے جنہیں ان کے والدین نے ان سے چھین لیا تھا یا زندگی کی کسی مجبوری کی وجہ سے انہیں کسی اور کی ڈولی میں بیٹھنا پڑا۔ ان شہزادوں کے لوٹ آنے کے خواب اور بھلے پانچ کروڑ نہ سہی چند لاکھ ہی سہی وہ شہزادے اِن کے شوہروں کے منہ پر ماریں اور انہیں اپنے ساتھ لے جائیں گے، وہ لاشعوری سوچ تھی جس نے بہت سی خواتین کو اس ڈرامے کے ساتھ باندھے رکھا۔ سنگھار میزوں کے سامنے اب گھنٹوں بیٹھی بہت سی خواتین آئینے سے پوچھتی ہیں کہ کیا میں اتنی بھی خوبصورت نہیں جتنی وہ تھی کہ جس کے لیے دوسرا مرد پانچ کروڑ لے آیا۔ خواتین کے اسی احساس کمتری اور خود ترسی کے جذبے نے ڈرامے کی ریٹنگ میں چھپر پھاڑ کردار ادا کیا۔

مرد حضرات کے کیا ہی کہنے، بھلے آپ جتنے بھی نیک اور شریف ہوں لیکن توبہ توبہ کرتے ہوئے بھی ڈرامے کو آخری قسط تک دیکھا ہے تو کیا وجہ؟ صرف یہ کہ دیکھیں دوسروں کی بیوی کو حاصل کرنے کے طریقے کون سے ہیں؟ بھلے آپ متفق نہ ہوں لیکن ہزاروں والد صاحبان نے رومی کو دیکھ کر اپنی نالائق اولاد پر ایک نظر ضرور کی ہو گی جنہیں ان کا کوئی احساس نہیں اور ایک رومی تھا جو پڑھائی کم لیکن ابا کے لیے سیٹنگ کی فکر میں زیادہ رہتا تھا۔

خلیل الرحمان قمر صاحب آپ کے کام میں بھلے جتنے بھی کیڑے نکالے جائیں، جتنے مرضی نقائص کی نشاندہی کی جائے لیکن یہ حقیقت میرے افسوس کو بڑھا دیتی ہے کہ آپ کے ایک چھوٹے سے ڈرامے نے اس معاشرے کے نجانے کون کون سے چہرے نمایاں کر دئیے۔ شائد اگلے کسی ڈرامے کی یہی کہانی ہو کہ ایک ایسا بھی معاشرہ تھا جہاں لوگ حقیقی زندگی میں ایک دوسرے کے گلے کاٹتے تھے لیکن ڈرامے کے کرداروں کی موت پر والدین کے مرنے سے زیادہ دکھی رہتے تھے۔ خلیل الرحمان قمر صاحب تسی واقعی گریٹ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: مرد انکار نہیں کر سکتا؟ —- رقیہ اکبر

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20