پشتو – اردو ملاپ : انداز جداگانہ —— سمیرا امام

0

زیست کی نیّا سبک خرامی اور سکون سے منزل کی جانب گامزن تھی زندگی یوں ہی تمام ہو جانی تھی اگر اس میں شادی نام کا تلاطم نہ برپا ہوتا۔ اس تلاطم کے برپا ہوتے ہی سبک خرامی اور آہستہ روی خواب ہوئے اور کشتی بیچ منجدھار چکرانے لگی۔ آج تک ڈوبتے ابھرتے رہنے کا سفر جاری ہے۔ آج بھی ڈوب جانے کا دھڑکا جی کو لگا رہتا ہے۔

شادی بذات خود ایک ایسے امتحان کا نام ہے جس کا نصاب غیر مطبوعہ اور پرچہ تفہیمی ہوتا ہے۔ سب سوالات لازمی اور کوئی سوال ادھورا چھوڑنے یا نہ کرنے پہ نیگٹو مارکنگ ہوتی ہے۔

ہماری شادی کی کہانی کچھ اس لحاظ سے بھی عجیب اور انتہائی غریب اس لئیے تھی کہ میرا تعلق نستعلیق پشتو بولنے والے گھرانے سے  اور میاں حضور نستعلیق اردو دان۔ اب خیبر اور کراچی کے سنگم کی کیا داستان ٹھہری وہ الگ ہی کہانی ہے۔

ہمارا گھرانہ صرف ایک پختون گھرانہ ہی نہیں تھا بلکہ قبائلی بندشوں میں جکڑا پختون گھرانہ تھا۔ (کوئی مار دھاڑ والے ظالم لوگ نہیں تھے بس اپنی اقدار سے سختی سے جڑے نرم میٹھے اور سیدھے لوگ تھے)۔ میاں محترم ہر بندش سے آزاد مغلیہ طمطراق کے عادی تھے۔ ہم سخت جفا کش، وہ حلوہ کھانے سے جن کے دانت ہلے جاتے تھے۔

یہ سب باتیں بھی ثانوی حیثیت کی حامل ہیں اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب ہم سے تمام کھانوں کے نام پوچھے جاتے ہیں۔ یقین جانئیے ہماری والدہ کے ہاتھ میں بے حد ذائقہ تھا۔ مرغ مسلم گو کہ بارہ مسالوں کا تیار کردہ نہ ہوتا لیکن انگلیاں چاٹنے پہ مجبور کر دیتا وہی ذائقہ ہم نے اپنی والدہ سے ورثے میں پایا۔ زندگی میں پہلی بار صاحب نے فرمائش کی بیگم آپ کے ہاتھ کی کوئی ڈش ہونی چاہیئے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہم نے کہا ابھی لیجیئے۔ کھانا پکانے سے ہمیں ایسا شغف ہے کہ صبح سے شام تک باورچی خانے میں ہنڈیا میں ڈوئی لگانی پڑے ہمارے ماتھے پہ شکن نہ آنے پائے گی۔

زندگی کی پہلی فرمائش سوچا آج تو ہاتھوں کا ہنر دکھا ہی دیں۔ لہک لہک کے خوشی سے ڈش تیار کی گئی۔ جب کھانے کے لئیے پیش ہوئی تو استفسار ہوا کیا پکایا ہے؟
چاول بنائے ہیں۔
چاول کا کیا بنایا؟
چاول کا کیا بنایا جاتا ہے ہم نے تو بس چاول پکائے ہیں۔
ارے کوئی تو نام ہوگا۔
کس کا؟
جو پکایا۔
ہاں نا نام ہے نا۔ چاول پکائے ہیں نا۔
ارے کیا گندم بھی پکاتی ہو؟
جی کیوں آپ کے ہاں نہیں پکتی کیا گندم؟
ہمارے ہاں روٹی پکتی ہے گندم کی۔
نئی کیا بات ہے وہ تو سب کے ہاں بنتی ہے۔

اور ہمارے ہاں چاولوں سے بریانی ‘پلاؤ’ قبولی اور طاہری وغیرہ بنتا ہے۔ پلاؤ بریانی یقین جانئیے نام سنے ضرور تھے لیکن فرق ہر گز نہیں معلوم تھا کہ ہوتا کیا ہے۔ ہمارے لئیے بریانی کی تعریف فقط یہ تھی کہ جو چاول الگ سے ابال کے پکائے جائیں جن پہ زردے کا رنگ ڈالا جائے انھیں ہمیں اماں حضور سے یہ کہہ کے پکواتے رنگ والے چاول بنا دیں اب انھیں بریانی کہتے ہیں، ہمیں اس سے کیا کہتے ہوں گے۔ ہماری والدہ ان ناموں سے ناآشنا تھیں۔ شادی ہماری انیسویں سن میں انجام پا گئی تھی۔تک ہم نے صرف کالج اور کتابوں کا منہ دیکھا تھا۔ کسی بھی کیمیکل ری ایکشن کا نام پوچھتے جھٹ بتا ڈالتے، چلئیے فائیلم کا ہی پوچھ لیتے وہ بھی بتا دیتے۔ اس پہ بھی بس نہیں تو قانون اور فقہ کے مسائل پوچھتے نہ بتاتے تب بات تھی۔

اب ہماری والدہ نے کھانا پکانا تو سکھا رکھا تھا لیکن نام تو انھیں ہمارے مشکل سے یاد تھے کھانوں کے کہاں آتے۔ بس یہ ڈش ایسے پکا لی تو ذائقہ ترش ویسے پکا لی تو میٹھا اور ایسے ویسے پکا لی تو نمکین۔ بات ختم۔

اب امتحان کا پہلا سوال تھا جواب نہ دیتے تو فیل ہو جاتے۔ہم نے اپنی جہالت پہ پردہ ڈالا۔ آپ کھا کے بتائیے کیا پکا ہے اور کیسا پکا ہے۔

کھانے کے بعد کا تبصرہ ملاحظہ کیجئیے۔ پلاؤ پکایا تھا لذیذ تھا بیگم۔ ذائقہ ہے ہاتھ میں۔ اب سچ جھوٹ تو وہ جانیں ہم بڑے خوش ہوئے۔ اسی خوشی کے نتیجے میں ان کی دوست کے اہل خانہ کی آمد پہ وہی مرغ مسلم جو والدہ بنایا کرتیں بھون ڈالا۔ اہل خانہ کے ساتھ بچے بھی موجود تھے اور ہم اس زمانے میں حلوے مانڈے بنانے میں خاندان بھر میں بڑا نام رکھتے تھے۔ پس اسی نام کے پیش نظر بچوں کے لئیے سوجی کا حلوہ بنا ڈالا۔ لیکن یہ حلوہ سوجی بھون کے نہیں یا جاتا تھا۔ اس کا طریقہ مختلف تھا۔خیر خدا خدا کر کے کھانا تیار ہوا۔ اب جب پیش کرنے کا مرحلہ آیا تو وہی مشکل سوال درپیش بیگم کیا پکایا ہے۔ آج ہم نے بھی ٹھان لی یہ روز روز کا سوالنامچہ ہمارے بس سے باہر تھا۔ عرض کیا پکایا تو ہم نے مرغ کا سالن ہے لیکن اگر آپ اس کا نام پوچھنے والے ہیں تو ہمارے پکائے گئے تمام کھانے بے نام ہیں آج سے اگر بغیر نام کے یہ حلق میں اٹکتے ہیں تو آپ ان کے نام رکھنے کی ذمہ داری اٹھا لیں۔

بڑی خوشی سے انھوں نے ذمے داری قبول فرما لی۔ ارشاد ہوا چلئیے آپکی طرف کی کوئی ڈش ہے آپکے آبا ؤ اجداد کے نام پہ اسے مرغ نادری (بادشاہ نادر شاہ کے نام پہ) کا نام دیتے ہیں۔ شکر خدا کا اپنے آباء کے نام.پہ مرغ اکبری نہیں رکھا گیا کہ اکبر کے دین الہی سے ہمیں ویسے ہی بڑا اختلاف تھا۔

طعام پیش ہوا دوست نے بھی حق دوستی ادا کرنے میں کسر نہ چھوڑی نوالہ منہ میں ڈالتے ہی سوال داغا۔ بھابھی بڑا لذیذ کھانا ہے قورمہ تو نہیں یہ۔ عثمان کیٹرنگ والوں سے تو نہیں منگوایا۔
ہائیں وہ کو ن ہیں؟
آپ عثمان والوں کو نہیں جانتیں؟
نہیں بھیا۔
میاں صاحب نے کمک فراہم کی۔ کھانا ہماری بیگم نے خود بنایا ہے مرغ نادری ہے ان کے ہاں پکتی ہے۔ ہمیں بیان سن کے اچھو لگ گیا۔ مرغ بھی کیا نادری اور اکبری ہوتے ہیں آج تک نہ سمجھے ہم۔

حلوے کی باری آئی۔یہاں بھی سکون نہیں۔ بھابھی جس چیز کا حلوہ ہے۔ خدا گواہ ہے اس وقت تک ہم نے اس بات کو کبھی نہیں جانا تھا کہ حلوہ سوجی کے بغیر بھی کسی شے کا بنتا ہوگا۔ کہ ہماری والدہ کو سوجی کے حلووں کی اتنی اقسام پکانی آتیں کہ کبھی کسی اور حلوے سے ہمارا واسطہ ہی نہ پڑا۔
بتایا سوجی کا حلوہ ہے بھائی۔
مشکوک نگاہوں سے ہمیں گھورا گیا۔ ہم نے بھی پرواہ نہ کی دعوت بخیر گزری لیکن ہم نے ہر کھانے کا نام ایجاد کرنے میں نام کما لیا ہے۔ وہ تمام خواتین جو صوبہ پختونخواہ سے تعلق رکھتی ہیں ہمارے اس درد سے بخوبی واقف ہوں گی۔ (یہ آج کی خواتین کی بات نہیں ہو رہی)۔

ایک کھانے پہ کیا موقوف زبان و بیان کا فرق ہی اتنا تھا کہ اگر میاں سمجھ دار نہ ہوتے تو آج ہمارا گھر اجڑا ہوا ہوتا۔
ہماری ایک دوست ہماری ملاقات کو آئیں۔ ہم نے مل کر پرانی یادیں خوب تازہ کیں۔ صاحب کو ملاقات کا احوال سناتے ہوئے پنجابیوں کی مشہور زمانہ غلطی کر دی۔ ہمارا المیہ بھی یہ تھا پیدا ہم پنجاب میں ہوئے، پلے بڑھے تعلیم سب پنجاب میں۔گھر کا ماحول پکا خیبرانہ۔ اب ہم پہ دونوں رنگ گہرے۔ احوال سناتے ارشاد فرمایا آج ہم نے خوب عیاشی کی۔ یقین مان لیں معصومانہ عیاشیوں اور نوابانہ عیاشیوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ محترم آگ بگولہ ہوگئے اہل زبان تھے عیاشی پہ بھڑک اٹھے۔ بیگم مطلب کیا؟ مطلب وطلب کیا عیاشی کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ اب یہاں تو حال تھا دس روپے کی پیپسی پی لی جاتی تو عیاشی ہو گئی۔ آنگن ٹیڑھا دیکھنے پہ عیاشی ہوگئی۔ ایک گھنٹہ بہن بھائیوں سے ہنسی مذاق پہ عیاشی ہوگئی۔ اب اتنی عیاشیوں پہ ہمیں کہاں فرصت تھی کسی اور عیاشی کا خیال ذہن میں آتا۔

خیر خدا کی کرنی محترم سمجھ گئے بیگم کی نا سمجھی کو، سمجھایا یہ لفظ مت استعمال کیا کریں۔ دل بوجھل اب ہم عیاشی کیسے کریں گے۔

اس کے چند ہی دن بعد بازار گئے خوار ہو کے گھر آئے صاحب سے فرمایا ذلیل ہو گئے آج تو۔
وہ پھر آگ بگولہ۔ ذلیل کیسے ہوئے۔
ارے چل چل کے
اف بیگم لفظ سوچ سمجھ کے ادا کیجئیے۔
بھئی اب اس سے زیادہ سوچ کے کیا کہہ لیتے ہم۔

الفاظ کے گھماؤ پھیر کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ درد بھری داستان کا ایک واقعہ مزید بھی ہے۔ محترم کچھ دن سے جو بھی بات کرتے اخروٹ کہہ کے ہمیں مخاطب کیا جاتا۔
دیکھ اخروٹ بات سمجھ
پکی اخروٹ ہے
آپ تو ہماری اخروٹ ٹھہریں۔
ایسا محبت بھرا خطاب تاریخ اور مستقبل میں پھر کبھی نہ ہوا۔ ان دنوں ہم بے حد خوش۔ سوچا ہمارا پیار کا نام رکھ چھوڑا ہے۔ چاہے اخروٹ ہی سہی۔

ایک دن ہماری نند سے گفتگو کے درمیان کچھ بے تکلفی کے کلمات میں محترمہ نے وہی اخروٹ والا طرز تخاطب اختیار کر لیا۔ ابے اخروٹ ہو تم۔۔۔یہ وہ۔
اب ان کے منہ سے ویسے سنتے تو شاید محسوس نہ کرتے لیکن میاں صاحب پہلے عرض کر چکے تھے۔ تو اب غصہ سوا نیزے پہ۔ کہ چلئیے مانتے ہیں آپ ہمیں پیار سے بلا بیٹھتے ہیں تو پوری دنیا میں نام نشر کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی۔

کچھ دن غصہ دبائے ہم نے آخر ایک دن پوچھ لیا۔ وہ آپ ہمیں اخروٹ کیوں کہتے ہیں۔
جی۔ آپ کو؟
کیوں کیا کسی اور کو بھی کہتے ہیں؟
جی یہاں تو لفظ عام ہے۔
کونسا لفظ؟
اخروٹ کا۔ اور کونسا
کس خوشی میں عام ہے۔
بھئی پٹھانوں کو چھیڑنے کو کہا جاتا ہے۔
یقین جانئیے اس دن اگر وہ ہمارے ہاتھوں قتل نہیں ہوئے تو اس سے بڑا احسان میں نے ان پر اور کوئی نہیں کیا۔

ہماری والدہ نے زندگی کے چالیس سال پنجاب میں گزارے پر کیا مجال جو اردو کا ایک لفظ سیکھ کے دیا ہو۔ داماد ملا شدھ اردو دان۔ داماد پہ کیا موقوف سمدھن کی اردو سننے لائق۔ ہمیں بڑی حیرت ہوتی ہماری ساس کو اردو آتی ہے۔ اس سے زیادہ حیرت تب ہوتی جب وہ اردو میں شعر پڑھ دیتیں۔ ہم نے تو بزرگوں کے منہ سے فقط رحمان بابا کو ہی سنا تھا یہ عاشقانہ و درد مندانہ اشعار گھر کے کسی بڑے کو بھی آتے ہیں کمال حیرت کا مقام تھا۔ اور اس دن ہم فوت ہوتے ہوتے بچے جس دن امی حضور نے اردو میں ہی گانا گنگنا ڈالا۔ ارے انھیں تو واقعی اردو آتی ہے پر کیسے۔

اس کا جواب ہمیں کچھ یوں ملا۔ خالہ ساس سے گفتگو کے دوران وہ فرمانے لگیں۔ بھئی ہمیں پٹھانی سیکھنے کا بہت شوق ہے۔ پٹھانی نہیں پشتو کہئے آنٹی۔ (ارے ہماری زبان کا نام ہی بدل ڈالا۔۔۔ غضب خدا کا۔۔۔ اس بات پہ تو خیبر پختونخواہ میں دنگے ہونے کا امکان ہے)۔
ہاں پشتو سیکھنے کا بڑا شوق ہے۔ پٹھانوں کے تو بچوں کو بھی پشتو بولنی آتی ہے۔
تو نییں آئے گی کیا اماں باوا کی زبان جو ٹھہری۔
تب سمجھ آیا امی حضور کو مہدی حسن کی غزلیں کیوں آتی ہیں۔ سردار علی تکر تو ہماری اماں کو بھی ازبر تھے۔

ہم پشتو بولتے ارشاد ہوتا بہت تیز بولتی ہیں۔ ایک دن ہماری بہن نے انتہائی منہ بنا کے پوچھا۔
بات سنو تمھارا میاں کونسی زبان بولتا ہے؟
اردو لالئی۔
اردو کیا ایسے بولی جاتی ہے؟
کیسے؟
جیسے وہ بولتا ہے۔
ارے اتنی اچھی اردو ہے ان کی۔ صرف اردو دان ہی نہیں شاعر اور ادیب بھی ہیں۔
ارے بھاڑ میں گئے ہمیں ان کا بولا ہوا ایک لفظ سمجھ نہیں آتا۔
اس دن کے بعد غور کرنے پہ پتہ چلا موصوف کے بولنے کی رفتار تیزگام سے زیادہ ہے۔

اتنے انواع و اقسام کے رنگ ہم میں یکجا ہیں کہ ایک کی سمت مشرق دوسرے کی مغرب ہے۔ اور ان تمام علاقائی و لسانی فرق سمیت ہم ساتھ ہیں۔ اور یہ ثبوت ہے باہمی یگانگت کا۔ ہم نے ایک ساتھ اے این پی کے نقص گنوائے۔ اچھائیوں کی تعریف بھی کی ہم نے ایک ساتھ ایم کیو ایم پہ تنقید کی تجزیہ بھی کیا جہاں سراہنا تھا سراہا بھی۔

مجھ سے پوچھا جاتا ہے مہاجر پٹھان قوم سے نفرت کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ مجھے آج تک کوئی ایسا مہاجر دکھائی نہیں دیا۔ مجھ سے سوال ہوتا ہے پٹھان مہاجر سے نفرت کرتے ہیں میں نے وہ پٹھان بھی نہیں دیکھے۔ یہی نہیں میں نے عمر پنجاب میں گزاری سوال ہوتا ہے پنجابی کیسے ہیں میں نے انھیں بہترین پایا۔ میں نے پنجاب میں انسانیت کا احترام دیکھا میں نے پٹھانوں میں وطن سے محبت اور مہمان نوازی کا جذبہ دیکھا۔ میں نے مہاجروں میں نرمی اور شائستگی دیکھی۔
پھر جانے آگ کہاں لگی ہے؟ تعصب کی بو کہاں سے آتی ہے؟
میں اس راز کو نہیں پا سکی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20