پچھل پیری کا ہفتہ والا اجلاس برائے فروغ سوڈو فیمنزم — محمود فیاض

0

شہر سے ملحق قصبے کے کھیت کے ساتھ جڑے مکان کی ڈیوڑھی میں بیٹھے دادا پوتا ڈوبتے سورج کی آخری کرنیں گن رہے تھے۔ ۔ ۔ اچانک دادا نے جھرجھری لی اور کوئی آیا خیال ذہن سے جھٹک دیا۔ ۔ ۔ کیا ہوا دادا؟ دس سالہ پوتے نے جو اپنے دادا سے بے پناہ مانوس تھا، فوراً پوچھا، آپ کو سردی لگنے لگی ہے تو آپ کی شال لادوں اندر سے۔ ۔ ۔ نہیں نہیں بیٹا! اب موسم بدل گیا ہے، سردی نہیں ۔ ۔ بس اندھیرے کا خیال آتے ہی مجھے اپنے بچپن کی ایک خوفناک یاد آ جاتی ہے، جب میرا سامنا ایک عجیب مخلوق سے ہوا تھا۔

کیسی مخلوق دادا؟ ڈائنا سور جیسی؟ یا ایلین جیسی؟ پوتے نے تجسس دکھایا تو دادا مزید بتانے کے لیے راضی ہو گیا۔
وہ بہت وخوفناک مخلوق تھی، میں جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کر کے اپنے گاؤں واپس آ رہا تھا، وہ راستے میں ملی تھی۔ اسکے بال پاؤں تک لمبے تھے، اس کے ہاتھوں کے ناخن انگلیوں سے بھی لمبے اور ٹیڑھے مڑے ہوئے تھے جیسے ۔ ۔ ۔ جیسے ۔ ۔ جی دادا میں سمجھ گیا آپ آگے بولیں۔

اور ۔ ۔ ۔ اور اسکے دانت بھی لمبے لمبے تھے۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ ۔ اور کہہ رہی تھی، ادھر آؤ، میرے ساتھ آؤ ۔ ۔ ۔ میں تمہیں ٹافیاں دونگی۔ ۔ ۔ میں ٹافیوں کے لالچ میں اسکے ساتھ چلا جاتا مگر پھر جب وہ مڑی تو میں نے اسکے پاؤں دیکھے، ۔ ۔ ۔ اسکے پیر الٹے تھے۔ ۔ ۔ وہ پچھل پیری تھی ۔ ۔ ۔ اور میری ماں یعنی تمہاری پڑدادی نے مجھے بتایا تھا کہ جنگل میں پچھل پیریاں ہوتی ہیں جو کبھی کبھی انسانوں کو گھیر کر لے جاتی ہیں۔ ۔ ۔ بس میں پھر لکڑیاں پھینک کر بھاگا، اور گھر آ کر سانس لیا ۔ ۔ ۔ اس کے تین دن تک مجھے سخت بخار رہا اور میری ماں میرے سر پر برف کی پٹیاں لگاتی رہی ۔ ۔ ۔ دادا نے پھر سے ایک جھرجھری لی ۔ ۔ ۔

ہممم ۔ ۔ دادا میں سمجھ گیا، یہ کوئی بہت ڈراؤنی مخلوق ہے، ۔ ۔ کیا یہ اب بھی ہوتی ہے؟ کیا مجھے بھی پچھل پیری مل سکتی ہے؟ اسکول جاتے ہوئے؟ پوتا زرا سا خوفزدہ نظر آیا ۔ ۔ ۔
ہا ۔ ۔ ہا ۔ ۔ ہا ۔ ۔ ۔ دادا کے بوڑھے پھیپھڑوں سے جوان قہقہہ آزاد ہوا ۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ہاہاہا ۔ ۔ نہیں میرے بچے ۔۔ وہ تو پرانے زمانے کی باتیں تھیں ۔ ۔ اب پچھل پیریاں نہیں ہوتیں ۔ ۔ بھاگ گئیں، سب ۔ ۔ جنگل بھی کم کم رہ گئے ہیں ۔ ۔ اور شہروں میں تو بالکل بھی نہیں ۔ ۔ نہ نہ تم بالکل نہ ڈرو ۔ ۔

قصبے سے زرا دور کھیتوں کے پار بڑی نہر کے ساتھ جنگل پھیلا ہوا تھا، جو ملک کی سرحد تک جاتا تھا۔ اس جنگل کے ایک کونے میں جہاں دن میں بھی رات کا سماں رہتا تھا، ۔ ۔ چمگادڑوں نے شور مچا رکھا تھا۔ ۔ ۔ جھینگر بھی اپنے گلے رات بھر ریاض کے لیے صاف کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ یکایک ایک دھپ کی آواز آئی جیسے آسمان سے کوئی گولہ زمین پر آگرے ۔ ۔ ۔ اور ایک انسانی قد کا وجود درخت کے نیچے نظر آیا ۔ ۔ ۔ لمبے بال جو پاؤں کو چھو رہے تھے، ۔ ۔ ۔ گھٹنوں سے ٹخنوں کو چھوتے بازو، ۔ ۔ ۔ الٹے پیر ۔ ۔ ۔
چمگادڑیں ڈر کر درختوں کی شاخوں سے چپک گئیں، جھینگروں کا شور تھم گیا، ایک گھور خاموشی چھا گئی۔ ۔ ۔
پچھل پیری ایک درخت کے نیچے مٹی کے بنے ایک چبوترے پر بیٹھ چکی تھی۔ ۔ اندھیرے سے مانوس آنکھیں دیکھ سکتی تھیں کہ چودھویں کے چاند کی جو روشنی گھنے درختوں سے بمشکل چھن کر پہنچتی تھی، وہ پچھل پیری کے خدوخال دیکھنے کے لیے ناکافی تھی۔ ۔ ۔
دس منٹ بھی نہ گذرے تھے کہ قطار در قطار پچھل پیریاں اندھیرے جنگل سے نمودار ہوئیں اور ایک دائرہ بنا کر بیٹھ گئیں۔ ۔ ۔ سب کے حلیے ایک جیسے تھے، بس قد سے اندازہ ہوتا تھا انکے چھوٹے بڑے ہونے کا۔ ۔ ۔ سب کے لمبے چولوں میں ایک نکتہ روشنی کا جگمگاتا تھا، جیسے جیب میں جگنو قید کر رکھا ہو۔

چبوترے والی پچھل پیری کھڑی ہوگئی، اور دونوں بازو فضا میں بلند کیے، اسکی آواز خوفناک حد تک نسوانی تھی ۔ ۔ ۔
کیا سب پہنچ گئیں؟ ۔ ۔ ۔ کتنی بار سمجھایا ہے کہ وقت پر اجلاس کے لیے پہنچیں ۔ ۔ میں کب سے تم لوگوں کا انتظار کر رہی تھی۔ ۔ ۔
پچھل پیریوں نے منمنا کر اپنی اطاعت کا اظہار کیا، اور گروپ ہیڈ نے اپنی بات جاری رکھی۔ ۔ ۔
خوشی کی بات ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اور ہماری تحریک ملیا میٹ ہو چکی۔ ۔ ۔ اب جدید دنیا میں ہمارا وجود نہیں رہا ۔ ۔ ۔ اس بات سے ہمیں مایوس ہونے کی بجائے طاقت ملی ہے۔ ۔ کیونکہ جب دشمن آپ سے غافل ہو، اسکو ختم کرنا آسان ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ہماری تاریخ آدم زادوں کی راہ میں روڑے اٹکانے، اور انکو ڈرانے دھمکانے سے بھری پڑی ہے ۔ ۔ ۔ یہی ہماری زندگیوں کا مقصد ہے، اور اسی سے ہمیں آخرت میں مکتی ملے گی۔ ۔ ۔
پہلے زمانوں میں بھی ہم نے ہمیشہ عورت کا روپ دھارا، اور لوگوں کو گمراہ کیا۔ ۔ ۔ اب بھی ہم اسی روپ میں دنیا میں فساد پھیلانے کے لیے تیار ہیں۔ ۔ ۔ مزے کی بات ہے اس میں نقصان عورت کا ہوگا ، اور گالیاں اسکو پڑیں گی ۔ ۔ مقصد ہمارا پورا ہوگا۔

مگر پہلے زمانے میں عورت بننے کے لیے بہت کھڑاگ کرنا پڑتا تھا، صاف ستھرے رہنا، خوشبوئیں لگانا، خوبصورت نظر آنا ، کتنا عذاب کام ہے۔ ۔ ۔ مگر کیا کریں ۔ ۔ کرنا پڑتا ہے ۔ ۔ اگر عظیم مقصد سامنے ہو تو ہر پچھل پیری یہ قربانی دے لیتی ہے ۔ ۔
البتہ اب ٹیکنالوجی نے یہ آسان کر دیا ہے۔ اب عورت بننا، اور عورت کہلانا بہت آسان ہو گیا ہے۔ نکالو اپنے اپنے موبائل اور لگاؤ 420 نمبر والا فلٹر ۔ ۔ ۔ اور بن جاؤ عورت۔ ۔ ۔
میم ۔ ۔ میم ۔ ۔ ۔ ایک چھوٹے قد کی پچھل پیری منمنائی
ہاں بولو، کیا بات ہے، ہیڈ نے اسکی طرف نظر گھمائی۔
میم، یہ جو لڑکیاں باقی فلٹر لگاتی ہیں کیا وہ بھی ہم میں سے ۔ ۔ ۔ ؟
نہیں، نہیں، گروپ ہیڈ نے ایک دم اسکی بات کاٹ دی، خبردار یہ دھوکا بھی مت کھانا ۔ ۔ باقی کے فلٹر تو عورت کو خوبصورت دکھانے والے ہیں، کیونکہ اسکو خوبصورتی پسند ہے، یہ صرف 420 والا فلٹر خاص ہمارے کام کا ہے۔ ۔ کیونکہ یہ الٹے پیر بھی سیدھے کر دیتا ہے ۔ ۔ بس اتنا یاد رکھو۔

میم ایک بات تو بتائیں، ایک اور پچھل پیری دائرے میں سے کھڑی ہوگئی، آپ ہمیشہ ہمیں عورت کا روپ دھانے کو کہتیں ہیں، کیا ہم مرد بن کر یہ کام نہیں کر سکتیں، لوگوں میں فساد پھیلانے والا ۔ ۔ ۔ ؟
یہ اچھا سوال ہے، گروپ ہیڈ نے اپنے سر میں لمبے ناخنوں سے خارش کرتے ہوئے کہا،
پہلی بات تو یہ کہ عورت بننے سے تمہیں عورت کی ہمدردیاں فوراً مل جائیں گی۔ ۔ کیونکہ موجود انسانی ہسٹری میں یہ وہ وقت ہے جب پوری انسانی آبادی مردوں سمیت عورت پر ماضی میں ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرنے کو تیار ہورہی ہے۔ ۔ اور عورت کو مظلوم سمجھا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ تو یاد رکھو، جو مظلوم ہوتا ہے، وہ اپنے جیسے حلیے والے ہر انسان کو مظلوم سمجھ کر فوراً اسکی حمایت کرتا ہے۔
اور دوسری بات عورت بننے کی ہماری صدیوں پرانی تاریخ ہے۔ پچھل پیریوں نے ہمیشہ عورت بن کر جو دھوکے دیے ہیں، اس میں مرد و عورت دونوں آ جاتے ہیں، جبکہ مرد بن کر دھوکہ دو تو مرد بھی مارتے ہیں اور عورتیں بھی۔
اور تیسری بات، پچھل پیری مسکرائی، اس کے دانت اندھیرے میں چمکنے لگے ۔ ۔ مرد زات کو عورت سے بڑی ہمدردی ہوتی ہے، خوبصورت عورت سے تو حد سے زیادہ ، اکثر مردوں کو تو عورت کا دوپٹہ پہن کر بھی بہلایا جا سکتا ہے، یہاں تو ہم پورا بدن اوڑھ لیتی ہیں۔ ۔ ۔ ہی ہی ہی ۔ ۔ ۔ کمینی ہنسی فضا میں پھیلی تو باقی پچھل پیریاں بھی ہنسنے لگیں ۔ ۔ ۔ درختوں کے تنوں سے چپکی چمگادڑوں نے خوفزدہ ہو کر ۔ ۔ کوں ۔ ۔ کوں ۔ ۔ کی آوازیں نکلانا شروع کر دیں ، جیسے انکو قیامت دکھائی دے جائے۔

تو اب اس ہفتے کی رپورٹ پیش کرو، گروپ ہیڈ واپس اپنے چبوترے پر بیٹھ گئی۔
ایک لمبے قد کی پچھل پیری کھڑی ہوئی اسکے ہاتھ میں سات انچ اسکرین کا ٹیب تھا۔ وہ اس میں سے دیکھ کر کہنے لگی،
میم، جیسے آپ نے کہا تھا، انسانوں کو جوڑوں کی شکل میں ہنسی خوشی دیکھنا اور اپنے بچوں کو پاس بٹھا کر شام کی روٹی پکاتی عورت کے پاس بیٹھا مرد ہمیں زہر سے بھی برے مناظر لگتے ہیں، ہم نے اس منظر کو بدل دینا ہے۔ ۔ ۔ اس ہفتے بھی ہم نے اس پر بہت کام کیا ہے ۔ ۔ عورت کا روپ دھار کر ہم نے عورتوں کو سمجھایا ہے کہ انکے حقوق پر مردوں نے جان بوجھ کر قبضہ کر لیا تھا، اس لیے اب مرد انکے دشمن ہیں۔ انکو چاہیے کہ کسی مرد پر بھروسہ نہ کریں، اور کوشش کریں کہ اپنے ساتھی مرد کو ہر رات چیک کریں کہ کہیں وہ کسی اور کے ساتھ رات گذار کر تو نہیں آیا ۔ ۔ آپ تو انسانی سائیکالوجی جانتی ہیں، کسی کو روزانہ شک کی نگاہ سے دیکھیں تو وہ چڑ کر وہی حرکت کرتا ہے جس کے بارے میں سوال کیا جائے ۔ ۔ ۔تو ہمیں شیطان کی مدد سے امید ہے کہ جلد اس کا نتیجہ آنے لگے گا ۔ ۔ ۔ گھر گھر میں لڑائیاں شروع ہو چکی ہیں ، طلاق کے دفتر بھر گئے ہیں ۔ ۔
اور ۔ ۔ ۔ لمبے قد والی نے رک کر ٹیب کی اسکرین پر صفحہ اسکرول کیا اور پھر رپورٹ پڑھنے لگی، ۔ ۔ ۔
اور میم، ہم نے مردوں میں سے انکو جو انسانی جذبات کو مقدم رکھتے ہیں، مزید شہہ دی کہ وہ عورتوں کے حق کی خاطر ایسے مردوں سے دو بدو ہو جائیں جو مردوں کے حق کی بات کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ہم نے انکو سمجھا دیا ہے کہ مردوں کے حق کی بات کرنا بیوقوفی اور ضد ہے ، پس جو مرد مردوں کے حق کی بات کرے اسکو انپڑھ جاہل، اور میساجنسٹ قرار دے کر اسکی خوب ٹرولنگ کریں۔

یقین کریں میم، ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ بہت سی اچھی عورتیں بھی برابری کی بات کرتے ہوئے مرد کے حق کی بات نہیں کرتیں، کیونکہ انکو ہماری حمایتی عورتیں اور پچھل پیریاں ایسا مزہ چکھاتی ہیں کہ وہ توبہ توبہ کر اٹھتی ہیں۔
لمبے قد والی پچھل پیری نے ٹیب کو سائیڈ بٹن سے آف کرتے ہوئے کہا۔ اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔

بہت اچھے بہت اچھے، گروپ ہیڈ نے سب کی طرف تحسین آمیز نظروں سے دیکھا اور کہنے لگی، میں امید کرتی ہوئی کہ آپ سب اسی جذبے سے کام کرتی رہیں گی تاوقتیکہ مرد اور عورت مل جل کر رہنے کی بجائے اپنے اپنے لشکر بنا کر ایک دوسرے پر حملہ آوور نہ ہوجائیں۔ انکے درمیان نفرت اور بیزاری کی دیوار جس قدر اونچی ہوگی اتنا ہی اچھا ہے۔ ۔ ۔ ابھی کئی عورتیں موجود ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ عورت کو جو موجود عزت، مان مرتبہ ملا ہے، وہ مردوں ہی میں سے بہتر انسانوں کی کوششوں اور حمایتوں سے ملا ہے۔ اس سوچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ بات انکے ذہنوں میں بٹھانے کی ضرورت ہے کہ عورت نے آج تک جو بھی کیا ہے وہ صرف اور صرف عورت نے خود کیا ہے۔ ۔ ۔ بس آج کا اجلاس یہیں ختم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔

سب پچھل پیریاں الٹے پیروں کھڑی ہوگئیں، گروپ ہیڈ چبوترے سے اتر آئی اور جنگل سے باہر جانے والے راستے کی طرف جانے لگی۔ ۔ باقی سب پچھل پیریوں نے لاگ آؤٹ کر دیا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20