مرد انکار نہیں کر سکتا؟ —- رقیہ اکبر

0

ہمارا عجیب مزاج ہے کہ ہم واقعات کو ان کی معروضی شکل میں نہیں پرکھتے بس سطحی انداز میں کسی ایک بات کو پکڑ کر بحث شروع کر دیتے ہیں۔ کسی بھی ڈرامہ رائٹر کو محض اس کے ڈرامے کے پس منظر میں جج کرنا ہرگز مناسب رویہ نہیں۔ اس لئے جب ہم خلیل الرحمان قمر کے حوالے سے بات کریں تو ہمیں ان کی ذاتی رائے کو ڈرامے کے کرداروں سے الگ کر کے دیکھنا ہو گا جبھی ہم درست تجزیہ کرسکتے ہیں۔

ہم ڈرامے سے باہر نکل کر خلیل الرحمان قمر کا اس دعوے پہ بات کرتے ہیں کہ مرد انکار نہیں کر سکتا عورت انکار کر سکتی ہے (جو آجکل موضوع بحث بنا ہوا ہے)۔ عمومی مشاہدے کی بنیاد پرکیا گیا یہ دعوی، جسے اگر میں یوں کہوں کہ مرد انکار نہیں کرتا (اگرچہ کر سکتا ہے) تو شاید زیادہ قرین قیاس ہو۔ مرد انکار کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے لیکن انکار کرنا مرد کیلئے ایک کار مشکل ضرور ہے۔

آپ غور کریں تو مرد کی نفسیات کے حوالے سے خلیل الرحمان کا یہ دعوی سو فیصد درست ہے۔ بلکہ میرے خیال میں تو مرد کی نفسیات یہ ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ انکار نہیں کرتا بلکہ پہل بھی اکثر وہی کرتا ہے۔

آپ تجربہ کر لیں راہ چلتی اگر ایک لڑکی کسی بھی مرد کو سیٹی مار کے اپنی طرف متوجہ کرے تو کون سا مرد ہو گا جو نظر انداز کرے، آگے نہ بڑھے یا کم از کم مسکرا کے انجوائے نہ کرے۔ (ما سوائے چند ایک کے)
جبکہ اگر مرد سیٹی مار کے یا کسی بھی دوسرے انداز میں عورت کو چھیڑے تو کتنی خواتین ہوں گی جو اس چھیڑ خانی کو اچھا سمجھیں؟ شاید پچاس سو میں سے کسی ایک دو کو چھوڑ کر باقی کی خواتین اگر جوابی طور پر شدید ری ایکشن نہ بھی دیں تب بھی اس حرکت سے نفرت ضرور کریں گی۔

یہ بالکل سچ ہے کہ مرد کو ذرا سا نرم لہجہ دکھاو وہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ فورا ہی پٹڑی سے اتر جاتا ہے۔ آئے دن ہماری خواتین سوشل میڈیا پہ یہ شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ فرینڈ ریکوئسٹ ایکسیپٹ کرتے ہی مرد انباکس آ کر سلام دعا شروع کردیتے ہیں؟ بلاوجہ فری ہونے کی کوشش کرتے ہیں؟
یہ شکایات ہمیشہ خواتین ہی کرتی ہیں جبکہ مرد خواتین کے انباکس آنے اور فری ہونے کی شکایت کم ہی کرتے پائے گئے۔ کیونکہ اکثر مرد خوش ہوتے ہیں جب کوئی خاتون ان سے دوستی کرے جبکہ خواتین اسے عموما ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔

اسکی وجہ عورت اور مرد کی نفسیات میں فرق ہے۔ مرد جس بات کو فخریہ لیتا ہے اپنے لئے آنر سمجھتا ہے سینہ تان کے یاروں دوستوں میں اکڑ کر کہے گا کہ چار لڑکیوں نے اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی، اس پر فدا ہیں۔ وہیں لڑکی یا عورت اس بات ہرگز فخر نہیں کرے گی کہ آتے جاتے لڑکے اسے چھیڑیں (واضح رہے یہاں بات محبت کی نہیں ہو رہی)۔

اب آپ اسے اس کا نخرہ کہیں یا مضبوطی خواتین بہرحال تعلقات بنانے میں اکثر انکار ہی کرتی ہیں۔ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ عورت کسی بھی غیر مرد سے تعلقات استوار کرنے میں جلدی کرتی ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ اس نفسیاتی کمزوری کی وجہ سے کیا مرد کو چھوٹ مل جانی چاہئے تعلقات بنانے، افیئر چلانے کیلئے؟
کیا اس کا مواخذہ نہیں ہونا چاہیئے؟
کیا وہ سزا کا حقدار نہیں ہے جیسے کہ عورت ہے؟

اس حوالے سے مذہب اور معاشرہ کیا کہتا ہے اور مذکورہ رائٹر کیا کہتا ہے دونوں باتوں پہ روشنی ڈالتے ہیں۔

مصنف اپنے ڈرامے کی حد تک تو مرد کی اس نفسیات کو اس کا حق کہتا ہے اور اس بنیاد پر اسے مارجن دینے کی بات بھی کرتا ہے۔ اس کا ثبوت اس کے ڈرامے کے “اچھے کرداروں” کے ڈائیلاگز ہیں۔ مگر واضح رہے یہ ڈرامہ ہے مصنف نے کسی بھی انٹرویو میں اس خیال کی حمائت نہیں کی یا کم از کم میری نظر سے نہیں گزری یہ بات۔

“مرد کی بےوفائی پر عورت اسے معاف کر دیتی ہے تو مرد کیوں نہیں کر سکتا” کے جواب میں یہ کہنا کہ “مردوں سے اپنا حق ضرور مانگو لیکن مردوں کے حقوق میں سے حصہ مت مانگو” دراصل مرد کے منہ پر طمانچہ ہے۔ معلوم نہیں مصنف نے کس زعم میں اتنا غلط کانسیپٹ دیا اور مردوں کیلئے گناہ، بےوفائی اور بدکرداری کو ان کا حق کہہ کر برائی کیلئے راستہ ہموار کر دیا۔ یہ اعتراض تو خود ان مردوں کو کرنا چایئے جنہیں اس ڈرامے میں سرٹیفائڈ “بےوفا” اور “بدکردار” کہہ دیا گیا، جو دن رات مرد کی وفاداری اور پاکیزہ کردار کی ڈفلی بجاتے رہتے ہیں۔ جو اس ڈائیلاگ کو بھی اپنے حق میں سمجھ کر بغلیں بجا رہے ہیں، نجانے اس کی حقیقت کو سمجھنے سے کیوں آنکھیں چرا رہے ہیں۔

اب دیکھتے ہیں کہ قانون شریعت اور معاشرہ کیا کہتا ہے اس بارے میں۔

اللہ نے تو انکار کی صلاحیت اور طاقت دونوں کو دی کسی کو کم کسی کو زیادہ مگر ساتھ ہی دونوں کیلئے ایک ہی جیسی سزا مقرر کر کے واضح کر دیا کہ چاہے کسی کے پاس یہ ہمت یا طاقت کم ہے یا زیادہ انکار کرنا بہرحال دونوں پر لازم ہے جو نہیں کرے گا وہ محض اس لئے چھوڑ نہیں دیا جائے گا کہ اس میں یہ طاقت کم تھی۔
اسی طرح قانون میں بھی دونوں کیلئے برابر کی ہی سزا اور ایک ہی جیسا قانون ہے۔
البتہ معاشرے میں جس صنف کے پاس طاقت ہے اختیار ہے اس نے یہ مارجن بزور حاصل کرلیا مگر وہ اسے جتنا چاہے جسٹیفائی کرلے اللہ کے ہاں اس کا کوئی عذر قابل قبول نہیں۔

ڈرامے پہ بات کی جائے تو ایک قلمکار عموما وہی لکھتا ہے جو وہ معاشرے میں دیکھتا ہے کم یا زیادہ۔
بعض اوقات کوئی ایک واقعہ زندگی پہ اتنے برے اثرات ڈال جاتا ہے کہ سالوں کے خوبصورت تجربات و واقعات اس ایک واقعے کی بدصورتی اور غلاظت تلے دب جاتے ہیں اور کبھی کبھار کوئی رائٹر بس اسی ایک واقعے پہ ہی پورا ڈرامہ بنا ڈالتا ہے تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا یا ہو ہی نہیں سکتا۔ ہمارے ساتھ نہیں ہوا، ہم نے نہیں دیکھا، کسی بھی امر واقعے کی صحت سے انکار کیلئے کوئی ٹھوس جواز نہیں۔ اس لئے اگر ایک رائٹر نے ایسے کسی واقعے کو دنیا کے سامنے پیش کیا تو ہمیں پیش کرنے کے انداز پہ تو اعتراض ہو سکتا ہے واقعے کے ظہور پذیر ہونے سے انکار نہیں کر سکتے۔

کسی بھی ڈرامے کی کامیابی کا انحصار بہت حد تک اس کی کہانی کی بنت پر ہوتا ہے بعض اوقات ایک بہترین پلاٹ کا حامل ڈرامہ صرف کہانی کی بنت اور کمزور مکالموں کی وجہ سے مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔ اور کامیاب اور سچے لکھاری کی یہی پہچان ہے کہ وہ خود کو اپنی کہانی کےکرداروں میں ڈھال کر ان خیالات کو اپنے لفظوں میں بیان کرے جو درحقیقت اس کردار کے خیالات ہوسکتے ہوں اور مکالمے /ڈائیلاگ بھی اسی کردار کی نفسیات کو سامنے رکھ کر لکھے جائیں۔ اب چاہے مصنف ان خیالات سے اتفاق نہ بھی کرتا ہو مگر اس کا فرض ہے کہ وہ ان کرداروں کے نظریات، خیالات اور محسوسات ناظرین تک پہنچائے۔
اس لئے اکثر مکالمے کردار کی ڈیمانڈ ہوتے ہیں مصنف کی ذاتی رائے نہیں۔ اسی لئے مصنف کو ڈرامے کی بجائے اس کے بیانات کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیئے۔ البتہ اس کے ذریعے جو نارمز سیٹ کرنے کی کوشش کی ہے وہ قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ کس بھی معاشرے کیلئے بالخصوص وہ معاشرہ جس کی تقویت کیلئے خود خلیل صاحب کہتے ہیں کہ “اگر مرد کی غیرت نہ رہی تو یہ معاشرہ دھڑام سے گر جائے گا”۔
مگر خود خلیل الرحمان نے مرد کی اسی غیرت کا قتل کر دیا زنا جیسے گناہ کبیرہ کو بےوفائی جیسے اخلاقی جرم کے برابر لا کھڑا کر کے بلکہ اس سے بھی چھوٹا جرم بنا کر پیش کر کے۔

حیرت ہوتی ہے کہ اس ڈرامے میں عورت کی بےوفائی کو تو مثال بنا کر بار بار کوٹ کیا جا رہا لیکن اس کی بدکرداری کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
کسی دوسرے مرد سے شادی کرنے کیلئے شوہر سے طلاق لینا نہ تو جرم ہے نہ گناہ۔ بلکہ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے مرد کی دوسری شادی کیلئے کہا جاتا ہے کہ شکر کریں نکاح کیا ہے گناہ کے راستے پہ تو نہیں چلا۔
مگر افسوس وہ خلیل الرحمان قمر جو عورتوں کو مخاطب کر کے کہتا ہے “میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی عورت پہ جو شوہر کے جاتے ہی غیر مرد کیلئے اپنی مٹھی کھول دے”، وہی خلیل الرحمان قمر ایک ایسے بےغیرت شوہر کو ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے جو بیوی کی غیر مرد کے ساتھ نائٹی میں تصویریں دیکھ کر ہرگز غصہ نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے کہ ’’میں نے دیکھا تم کتنی خوش لگ رہی ہو‘‘۔
جو بیوی کے بوائے فرینڈ کے فون میں بیوی کے معاشقے کی ریکارڈنگ سن کر آپے سے باہر نہیں ہوتا، اس کی غیرت نہیں جاگتی بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ ’’ہاو بیوٹیفل وائس شی از” مگر غصہ اسے صرف اس وقت آتا ہے جب وہ بیوی طلاق کی بات کرتی ہے۔

بیشک یہ حقیقت ہے کہ رشتہ بچانے کیلئے یا کسی کو جانے سے روکنے کیلئے بعض اوقات مارجن بھی دینا پڑتا ہے، رسی بھی تھوڑی ڈھیلی کرنی پڑتی ہے تاکہ جانے والا رک جائے یا رسی ٹوٹنے سے بچ جائے لیکن مارجن دینے اور غلط کام کو تحسین آمیز سند دینے میں بہت فرق ہوتا ہے۔

یہاں صرف مارجن نہیں دیا گیا بلکہ “محبت میں شرک کی معافی نہیں” جیسے ڈائیلاگز نے اس احساس کو پختہ کیا کہ ناجائز مراسم کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن طلاق کو نہیں۔
کیا بےوفائی زنا سے بڑا جرم ہے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ استغفراللہ

کیا پھر ایسی غیرت پہ تین حرف نہ بھیجے جائیں؟

کیا کہتے ہیں خلیل الرحمن قمر صاحب؟

یہ بھی پڑھیں: حقوق نسواں از علامہ اقبالؒ —– تالیف و تلخیص: لالۂ صحرائی
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20