شہد سازی کے میٹھے راز —- لالہ صحرائی

0

اس مضمون میں شہد سازی کی صنعت کا ایک جامع تعارف پیش کیا گیا ہے تاکہ بیروزگار افراد، اضافی آمدنی کے متمنی حضرات، اس صنعت کے قیام کیلئے بنیادی سورسز رکھنے والے کسان، ہاری اور زمیندار صاحبان اس بزنس سے خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکیں۔

شہد کے مختلف وسائل:
بڑے پیمانے پر شہد کی رسد جن ذرائع سے ممکن ہے، ان میں امپورٹیج، مقامی پروڈکشن، اور جعلسازی شامل ہے۔

بیرونی دنیا سے جو برانڈڈ شہد امپورٹ ہوتا ہے اس کی مقدار چار سو ٹن سالانہ تک رہتی ہے جو کل مقامی کھپت کا صرف دو فیصد ہے۔

مقامی وسائل میں ایک مَین۔ہنٹڈ شہد ہے جس کی بلک۔سپلائی ممکن نہیں البتہ گاؤں گوٹھوں میں اپنے ایجنٹ مقرر کرکے تھوڑا بہت ضرور حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر یہ اتنا نہیں ہو سکتا کہ ملک گیر سطح پر جتنا چاہیں فراہم کر سکیں، عرف عام میں اسے جنگلی شہد کہتے ہیں۔

دوسرا فارمی شہد ہے جو جتنا چاہیں مل سکتا ہے، اس کی بلک۔سپلائی کا ماخذ ایپیکلچر یا ہنی۔بی۔فارمنگ ہے جو ایگریکلچر فارمنگ کی ایک شاخ ہے۔

عرف عام میں اسے بی۔کیپنگ اور قومی زبان میں مگس بانی کہا جاتا ہے۔

بی۔کیپنگ بطور صنعت:
خیبر پختونخواہ میں یو۔این۔او کے تعاون سے انیس۔سو۔اسی کے قریب افغان مہاجرین کو روزگار کیلئے مگس بانی کا کام شروع کرایا گیا تھا جو اب نجی شعبے میں بھی ایک باقائدہ کاٹیج انڈسٹری بن چکا ہے۔

یہ بزنس فاٹا، خیبر، چکوال اور آزاد کشمیر کے کئی علاقوں میں ہو رہا ہے لیکن چاروں صوبوں میں ہر اس جگہ پر ممکن ہے جہاں پھولدار فصلیں، باغات یا جنگلات پائے جاتے ہوں۔

پنجاب میں: اٹک، گجرخان، ڈسکہ، سرگودھا، لیلپور۔
سندھ میں: تھٹہ، میرپور خاص، حیدرآباد، گولارچی۔
خیبر میں: کرک، کوہاٹ، سوات اور بنوں۔
بلوچستان میں: کوئٹہ، زیارت، قلات اور نصیرآباد جیسے علاقے اس کام کیلئے نہایت موزوں ہیں۔

اس کام کے فروغ کیلئے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر، اسلام آباد، نے ایک ہنی۔بی ریسرچ انسٹیٹیوٹ قائم کر رکھا ہے جو مطلوبہ سامان، شہد کی مکھی اور مگس بانی کی مکمل تربیت فراہم کرتا ہے۔

بی۔کیپنگ کی افادیت:
یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ترقی کے امکانات بہت زیادہ ہیں، آپ ایک لاکھ ٹن شہد پیدا کرلیں تو بھی یہ مقامی اور عالمی منڈی میں ہاتھوں ہاتھ بک جائے گا۔

ضمنی فوائد میں اس کی پانچ عدد بائی۔پراڈکٹس ہیں جو چھتے کیساتھ موجود ہوتی ہیں، جس سائز کے فارم سے سالانہ دو لاکھ روپے کا شہد حاصل ہو، اسی سے اضافی پینتیس ہزار روپے کی یہ پراڈکٹس بھی حاصل ہو جاتی ہیں۔

Bee Wax, Pollen Grain, Royal Jelly, Propolis, & Poison.

ویکس یا موم:
یہ فرنیچر پالش، شو پالش اور کاسمیٹکس بنانے والوں کا خام مال ہے جو چھتے کی موم سے ملتا ہے۔

پولین گرین یا زرِ گل:
شہد کی مکھی رس چوسنے کے عوض پھولوں کے درمیان کراس پولینیشن کا کام کرتی ہے تاکہ فصل زیادہ ہو، اسلئے وہ پھولوں کا نر جز مادہ سے ملانے کیلئے اٹھا لیتی ہے اور فالتو مال اپنے چھتے میں جمع کرتی ہے، یہ چیز غذائی مرکبات اور ادویات سازی میں استعمال ہوتی ہے۔

رائل جیلی یا مکھی کا لعاب:
یہ نائٹروجن، منرلز اور ایسڈز پر مشتمل مکھی کے منہ کی رطوبت ہے جو اینٹی ایجنگ و قوت بخش ادویات میں استعمال ہوتی ہے۔

پروپولس یا گوند:
یہ پودوں سے حاصل شدہ جز ہے جو مکھی اپنے چھتے کے دفاع کیلئے اکٹھا کرتی ہے، جراثم کش ہونے کی بنا پر یہ چیز جلدی امراض اور زخم ٹھیک کرنے والی ادویات میں استعمال ہوتی ہے۔

پائزن یا مکھی کا ڈنک:
یہ چیز جوڑوں کے درد کی دواؤں میں استعمال ہوتی ہے۔

عالمی منڈی میں پروپولس کا ریٹ ہزار روپے کلو، موم گیارہ سو، پولین دو ہزار اور رائل جیلی تیس ہزار روپے کلو تک فروخت ہوتی ہے۔

بی۔کیپنگ کیلئے درکار سامان:
مگس بانی کیلئے ایک مخصوص طرز کی پیٹی، مگس دان یا بی۔ہائیو bee-hive خریدنا پڑتا ہے جس میں مکھی بھی شامل ہوتی ہے، اس کی قیمت پینتالیس سو روپے ہے۔

اس ڈبے کے اندر سات عدد چوکٹھے لگائے جاتے ہیں جن کے اندر مصنوعی خانے بنے ہوتے ہیں، فارمی مکھیاں ان خانوں کو اپنے مطابق درست کرکے شہد سازی کا کام شروع کر لیتی ہیں۔

ایک مگس دان میں بیس ہزار مکھیاں اکاموڈیٹ ہوتی ہیں جنہیں ایک کالونی کہا جاتا ہے، یہ کالونی ایک ماہ میں دو سے ڈھائی کلو اور سال بھر میں چوبیس سے تیس کلو تک شہد فراہم کرتی ہے۔

پراجیکٹ کی انویسٹمنٹ:
اگر آپ پانچ کالونیوں پر مشتمل ایک چھوٹا فارم بنانا چاہیں تو اس کیلئے پانچ عدد بی۔ہائیو کی قیمت مکھی سمیت بائیس ہزار پانچ سو روپے اور اس کے ساتھ پچپن سو کا ہینڈلنگ کا سامان ملا کر کل قیمت صرف اٹھائیس ہزار روپے ہو گی یعنی ایوریج ایک ڈبہ چھپن سو کا پڑے گا۔

پانچ کالونیوں پر مشتمل فارم ہاؤس ماہانہ دس سے بارہ کلو شہد فراہم کرے گا، جو آپ خود پیک کر کے ڈائیریکٹ عوام کو بیچ دیں تو بارہ سے پندرہ ہزار روپے ماہانہ کما سکتے ہیں۔

اگر بڑے سائز کا فارم بنانا چاہیں تو جتنے ڈبے بڑھاتے جائیں گے ان کی ایوریج قیمت چھپن سو سے کم ہوتی جائے گی کیونکہ سموکر، یونیفارم اور کوئین کیچر جیسی چیزیں وہی رہیں گی جبکہ سٹوریج کا سامان بڑھانا پڑے گا اس لحاظ سے انویسٹمنٹ درج ذیل ہوگی۔

پچاس کالونیوں کی قیمت دو لاکھ پینسٹھ ہزار، ایک سو کی قیمت پانچ لاکھ اڑتیس ہزار اور دو سو کی قیمت دس لاکھ سینتالیس ہزار روپے ہے جو نیشنل ریسرچ سینٹر نے جاری کی ہے۔

کاسٹ آف پروڈکشن:
شہد سازی کی صنعت میں انویسٹمنٹ کے بعد آپ کو اپنے فارم ہاؤس کی حفاظت، شہد اتارنے اور بیچنے کے علاوہ کچھ نہیں کرنا پڑتا۔

البتہ جب پھول کم ہوں یا ان کا موسم نہ ہو تو اپنی کالونی کی بقا کیلئے اس کے پاس شکر ڈالنی پڑتی ہے تاکہ مکھیاں اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکیں ورنہ وہ خود بھی بھوکی مریں گی اور نئے پیدا ہونے والے بچے بھی ضائع ہو جائیں گے۔

پچاس کالونیوں کی متوقع غذائی قلت دور کرنے اور ہینڈلنگ کے سامان کی متوقع ٹوٹ پھوٹ کو ریپلیس کرنے کی ضرورت ہو تو اس پر سالانہ پچاس ہزار روپے سے زیادہ خرچہ نہیں آئے گا۔

اس کے بدلے میں پچاس کالونیاں آپ کو سال بھر میں جتنا شہد فراہم کریں گی وہ تاجروں کو بیچ کر پانچ لاکھ روپے مل سکتے ہیں لیکن وہی شہد جب عوام کو ڈائیریکٹ بیچیں گے تو پندرہ لاکھ روپے بھی مل سکتے ہیں۔

یہاں پر یہ بات بھی واضح کر دوں کہ فارمی شہد کو کمتر قرار دینے کیلئے مکھی کو شکر کھلا کر شہد تیار کرانے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے مگر میری ریسرچ کے مطابق شکر صرف آف سیزن میں مکھی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے ڈالی جاتی ہے۔

مکھی کو شکر کھلا کر تجارتی پیمانے پر شہد بنوانا کنورژن کے اصولوں سے ممکن تو نظر نہیں آتا پھر بھی میں چونکہ ذاتی طور پر اس کام کو نہیں جانتا اسلئے ممکن ہے کسی نے کوئی ایسا رستہ نکال رکھا ہو، اگر یہ سچ ہو تو پھر ان بنجر علاقوں کے لوگ بھی شہد کی فارمنگ کر سکتے ہیں جہاں پھول یا فصلیں نہیں ہوتیں۔

بی۔کیپنگ کیلئے درکار عوامل:
شہد کی کاشتکاری نہایت آسان، کم خرچ اور منافع بخش کاروبار ہے، اس کیلئے فقط چند چیزیں درکار ہیں۔

مناسب علاقہ:
ایسا زرعی یا جنگلی علاقہ جہاں بیس کلومیٹر کے دائرے میں پھول موجود ہوں، شہد کی مکھی ان کی تلاش میں بیس کلومیٹر تک جا سکتی ہے۔

اگر ایک علاقے میں پھولدار فصلوں کا موسم ختم ہو جائے اور دوسرے علاقے میں موجود ہو تو ان ڈبوں کو دوسری جگہ پر ٹرانسپورٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔

فارمنگ کی جگہ:
چند مرلے کی خالی سپیس جہاں پانی اور روشنی موجود ہو مگر دھوپ، بارش، آندھی، سردی اور چور سے بچاؤ کر سکیں، وہاں اپنی کالونیاں رکھ سکتے ہیں۔

حفاظت کا طریقہ:
مختلف موسموں میں آندھی، طوفان، گرمی، سردی، بارش، بیماریوں اور کیڑوں سے حفاظت کا طریقہ پتا ہونا چاہئے۔

ضروری انویسٹمنٹ:
دس بارہ ہزار روپے کی پارٹ ٹائم ماہانہ آمدنی کیلئے اٹھائیس ہزار کی لاگت سے پانچ کالونیوں کا چھوٹا فارم بنایا جا سکتا ہے۔
بیروزگار افراد پچاس ہزار کی ماہانہ آمدنی کیلئے ڈیڑھ لاکھ کی لاگت سے پچیس کالونیوں پر مشتمل فارم ہاؤس بنا سکتے ہیں۔
اور وسیع تجارتی مقاصد کیلئے جس قدر وسائل دستیاب ہوں اتنا بڑا کام کیا جا سکتا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ ابتداء میں صرف پانچ کالونیاں ہی بنائی جائیں تاکہ اسے ہینڈل کرنے کا تجربہ حاصل ہو جائے پھر جتنا چاہیں بڑھاتے جائیں۔

حصولِ تربیت اور سامان کا ذریعہ:
شہد کے چھتے پر میٹھے کی شوقین چیونٹیاں بطور خاص حملہ کرتی ہیں، ساون چڑی، کالی چڑی، کچھ قسم کے کیڑے اور بچھو شہد کی مکھی کھا جاتے ہیں، چھتوں کے اندر سنڈیاں اور جوئیں بھی پیدا ہو جاتی ہیں، جن کے آگے مکھیاں بے بس رہتی ہیں۔

شہد چوروں سے خطرہ کم ہے کیونکہ ماہر چور بھی جب ایک کالونی پر حملہ کرے گا تو باقی اسے سبق سکھا دیں گی، پھر بھی یہ ایک خطرہ ضرور ہے۔

تیار چھتے سے شہد نکانے سے قبل کوئین۔کیچر کی مدد سے ملکہ مکھی کو پنجرے میں ڈالنا پڑتا ہے تاکہ شہد نکال کے اسے واپس چھتے میں ڈال دیا جائے۔

مس ہینڈلنگ کی وجہ سے ملکہ اڑ جائے تو باقی مکھیاں بھی اس کے ساتھ ہی چلی جاتی ہیں اور اگر یہ مر جائے تو نئی مکھیاں پیدا نہیں ہوں گی، حاضر مکھیاں اپنی ایک ماہ کی طبعی عمر پوری کرکے مر جائیں گی اور کالونی اجڑ جائے گی۔

محال سازی یعنی کنبہ بڑا ہونے پر نئے چھتے بنانے کیلئے مکھی کو ہجرت سے روکنا تاکہ وہ کہیں اور جانے کی بجائے اسی فارم میں ایک نئی کالونی بنا لے۔

شہد نکالتے وقت کتنا شہد مکھیوں کی خوراک کیلئے باقی چھوڑنا ہے اور چھتے میں سے بائی۔پراڈکٹس کیسے الگ کرنی ہیں۔

موسمی اثرات سے بچاؤ، چوروں، پرندوں اور حشرات الارض کے حملے سے کالونی کی حفاظت اور شہد کی پراسیسنگ و سٹوریج کیلئے درکار مکمل تربیت اور سازوسامان سمیت سب کچھ آپ کو نیشنل ریسرچ سینٹر، اسلام آباد سے مل جائے گا، ان کے ضروری لنکس آخر میں درج کر دیئے گئے ہیں۔

فارمنگ کیلئے جگہ کا انتخاب:
پانچ دس ایکٹر والا زمیندار، ہاری یا کسان اگر پچاس کالونیوں کا شہد کاشت کرے تو اسے دس مرلے تک جگہ درکار ہوگی جس سے ایک لاکھ روپے سے زائد ماہانہ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔

بڑے رقبے والے کسان ایک ایکٹر میں سے دو کنال پر سو یا دو سو کالونیاں رکھیں اور باقی چھ سات کنال پر پھول لگا دیں تو سو کالونیوں سے ماہانہ ڈھائی لاکھ روپے اور دو سو سے ماہانہ پانچ لاکھ کا شہد حاصل کر سکتے ہیں جو ایک ایکٹر کی سالانہ زرعی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔

غیر زمیندار بندہ چھوٹے پیمانے پر شہد کاشت کرنا چاہے تو زمیندار سے دس مرلے جگہ کرائے پر لے سکتا ہے، جو زمیندار پولینیشن کی اہمیت کو سمجھتے ہیں وہ اتنی جگہ بغیر کرائے کے بھی دے دیتے ہیں، کیونکہ اس کے بدلے میں شہد کی ہزاروں مکھیاں اپنی لاکھوں پروازوں کے دوران اس کی فصلوں کے دس لاکھ سے زائد پودوں کی کراس پولینیشن کر سکتی ہیں جس سے فی ایکٹر پیداوار میں بھرپور اضافہ ہوگا۔

زمیندار نے مفت فراہم کردہ جگہ پر جب کوئی فصل لگانی ہو تو یہ ڈبے اٹھا کے کسی دوسری خالی جگہ پر بھی منتقل کئے جا سکتے ہیں۔

اگر ایک ایکڑ زمین پچاس ہزار روپے ماہانہ کرائے پر بھی لیں تو کسان کو چھ لاکھ روپے سالانہ کرایہ مل جائے گا جو ایک ایکڑ کی سالانہ زرعی آمدنی سے کہیں زیادہ ہے اور بی۔کیپر کو بھی اس پر سو کالونیاں کاشت کرکے اچھا خاصا نفع مل جائے گا۔

آپ کے گھر کے اطراف میں دس سے بیس کلومیٹر کے اندر کوئی ایسا علاقہ موجود ہے جہاں پھولدار فصلیں، باغات یا جنگلات وغیرہ ہوں تو اپنے گھر کی چھت یا اپنے کسی خالی پلاٹ پر بھی فارم بنا سکتے ہیں۔

زرعی زمینوں کے قریب جو رہائشی کالونیاں بنتی ہیں ان میں اکثر پلاٹ سالوں تک خالی رہتے ہیں، اپنے یا کرائے کے ایسے پلاٹ پر بھی چاردیواری کرکے فارم بنایا جا سکتا ہے۔

لیکن اس کام میں ایک احتیاط یہ کرنی ہوگی کہ غیر متعلقہ بندہ فارم ہاؤس کے پاس نہ جائے ورنہ اسے حملہ آور سمجھ کے ہزاروں مکھیاں جان لیوا حملہ کر سکتی ہیں اسلئے جہاں بھی فارم بنایا جائے وہاں عارضی دیوار، خطرے کا بورڈ، لال دائرہ، سرخ جھنڈیاں، حفاظتی باڑ یا خاردار تار جو بھی ممکن ہو ضرور لگائی جائے۔

شہد کی مقامی پیداواری مقدار:
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، پشاور آفس، کی رپورٹ کے مطابق بی۔کیپنگ فارمز کی سالانہ پیداوار سات ہزار پانچ سو میٹرک ٹن ہے، جس میں سے دو ٹن کے قریب ایکسپورٹ ہو جاتا ہے اور بقیہ مقامی ضروریات پوری کرتا ہے۔

نیشنل ریسرچ سینٹر کے مطابق مختلف علاقوں میں تین لاکھ کالونیاں شہد پیدا کر رہی ہیں، پڑتال کیلئے ان کی پروڈکشن کیلکولیٹ کی جائے تو اوپر والی رپورٹ کی تصدیق ہو جاتی ہے۔

لیکن اس موضوع پر معروف بڑے اخبارات نے جو مضامین شائع کئے ہیں ان میں شامل آل پاکستان بی۔کیپرز ایسوسی ایشن کے بیانات کافی مختلف ہیں۔

ان کے مطابق پچاس سے ساٹھ ہزار بی۔کیپر سالانہ تیس ہزار ٹن کے قریب شہد پیدا کرتے ہیں، ان میں سے دس ہزار بی۔کیپرز ان کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔

اس مقامی پروڈکشن میں سے دس ہزار ٹن شہد عرب ممالک کو ایکسپورٹ ہوتا ہے جن میں بڑا خریدار یمن ہے جو اس شہد کو اپنی پیکنگ میں دیگر ممالک کو بیچتا ہے، بقیہ بیس ہزار ٹن شہد اپنے ملک میں ہی کھپ جاتا ہے۔

اس بات کی پڑتال کی جائے تو اتنا شہد پیدا کرنے کیلئے بارہ لاکھ کالونیوں کی ضرورت ہے لیکن یہ چیز فراہم کرنے والا ادارہ صرف تین لاکھ کی تصدیق کرتا ہے۔

آل پاکستان بی۔کیپرز ایسوسی ایشن کا بیان ایک ہی صورت میں درست ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ اس کام کے ماہر ہونے کی بنا پر محکمے سے نئی کالونیاں خریدنے کی بجائے مطلوبہ ڈبے خود بنا کر محال سازی کی مکھی سے نئی کالونی بنا لیتے ہوں جو عین ممکن کام ہے۔

محال سازی کیا ہے:
ایک چھتے میں لگ بھگ بیس ہزار مکھیاں ہوتی ہیں لیکن ان کی طبعی عمر صرف ایک ماہ ہوتی ہیں اسلئے ملکہ مکھی ہر روز تین ہزار انڈے دیتی ہے تاکہ کنبہ بھی برقرار رہے اور آبادی بھی بڑھے۔

ان انڈوں میں سے جب کوئی نئی ملکہ پیدا ہو تو پرانی ملکہ اضافی کنبہ لیکر دوسری جگہ نیا چھتہ بنانے نکل جاتی ہے، اسے محال سازی کہتے ہیں، اس موقع پر انہیں نیا ڈبہ فراہم کر دیا جائے تو یہ کہیں اور جانے کی بجائے قریب ہی اپنا نیا گھر بنا سکتی ہیں۔

شائد یہ وہی کالونیاں ہوں گی جو محکمے کے اعداد و شمار میں شامل نہ ہو سکیں۔

ہول سیل ریٹ پر شہد کی اصل قیمت:
یہ اس سلسلے کا سب سے اہم سوال ہے کہ بی۔کیپرز کے فارم ہاؤسز پر اس شہد کی فی کلو قیمت کیا ہے جو عوام الناس کو ہزار روپے کلو یا اس سے بھی مہنگا ملتا ہے۔

میں نے اوپر جو آمدنی کی پروویژن بتائی ہے وہ ڈائریکٹ پبلک مارکیٹنگ ریٹ کے حساب سے بتائی ہے لیکن فارم ہاؤسز پر شہد کا ریٹ ناقابل یقین حد تک کم ہوتا ہے۔

نیشنل ریسرچ سینٹر نے فارمنگ کی انویسٹمنٹ، پروڈکشن کاسٹ اور انکم کے بارے میں جو فیزیبلٹی رپورٹ شائع کی ہے اس میں وہ عام شہد کا سیلز ریٹ صرف اسی روپے کلو بتاتے ہیں اور بیری کے شہد کی قیمت صرف ڈھائی سو روپے فی کلو شمار کرتے ہیں، اس رپورٹ کا لنک آخر میں درج ہے۔

بی۔کیپرز ایسوسی ایشن کے مطابق وہ لوگ عام شہد دو سو سے ڈھائی سو روپے فی کلو اور بیری کا شہد چار سو سے پانچ سو روپے فی کلو تک بیچتے ہیں۔

شہد میں جعلسازی کا رجحان:
ملاوٹ شدہ یا نقلی شہد کیسے تیار ہوتا ہے اور اس دونمبری کو کیسے پکڑا جائے اس پر کئی آراء موجود ہیں مگر حتمی بات صرف وہی لوگ جانتے ہیں جو اس کام کے کاریگر ہیں۔

میرا خیال یہ ہے کہ اصلی شہد کی پہچان کیلئے جو بھی طریقے بتائے جاتے ہیں وہ بذات خود مشکوک ہیں اور بیشتر طریقے جعلسازوں نے خود ہی پھیلا رکھے ہیں تاکہ ان طریقوں پر کوئی جانچ پڑتال کرے تو ان کا ملاوٹ شدہ یا جعلی شہد اصلی ثابت ہو جائے۔

اس بات پر بحث کرنے کی بجائے تاجروں کو یہ صلاح دینا زیادہ بہتر ہے کہ جس قیمت میں نقلی شہد تیار ہوتا ہے جب اسی قیمت میں اصلی شہد مل جاتا ہے تو اس گناہ بے لذت کی بجائے آل پاکستان بی۔کیپرز ایسوسی ایشن، ترناب روڈ، پشاور سے رابطہ کرکے ان کے دس ہزار ممبرز کی لسٹ لے لیں اور فارم ہاؤسز سے سستے داموں ڈائریکٹ خریداری کرلیا کریں۔

اس کے اوپر ہینڈلنگ کاسٹ اور پرافٹ کی ویلیو ایڈیشن ڈالنا آپ کا حق ہے جو دو سو فیصد تک بھی جائز ہے، جیسے چکن کا گوشت تین سو روپے کلو ملتا ہے مگر ہوٹل سے چکن کڑاہی ہزار روپے کلو تک ملتی ہے مگر اپنے بزنس میں خود ہی شکوک و شبہات پیدا کرنے کی بجائے سچ بولیں اور شفاف تجارت کو اپنائیں۔

اصلی شہد میں درجہ بندی کا رجحان:
بنیادی طور پر یہ مضمون چونکہ بی۔کیپنگ کے کاروبار سے متعلق ضرورت مندوں کی رہنمائی کیلئے لکھا گیا ہے اسلئے نہایت ضروری ہے کہ شہد کی معروف درجہ بندی پر تفصیلی گفتگو کی جائے تاکہ فارمی شہد کو جو کمتر سمجھا جاتا ہے اس مغالطے کو دور کرکے اس طرف قدم بڑھانے والوں کا اعتماد بھی بحال کیا جاسکے۔

ہر خطے کے ماحولیاتی اعتبار سے دنیا میں بیس ہزار قسم کی شہد کی مکھیاں پائی جاتی ہیں مگر ان سب کی جبلت اور خاندانی نظام بالکل ایک جیسا ہے جس میں محال سازی کے وقت یہ ایک جگہ پر عارضی قیام کرتی ہیں۔

اس قیام کے دوران سکاؤٹ مکھیاں بیس کلومیٹر کے دائرے میں پھولوں کا ذخیرہ دریافت کرکے کارکنوں کو روٹ سمجھاتی ہیں اور چھتہ تیار کرکے دیتی ہیں۔

نکھٹو یا ڈرون ملکہ سے ملاپ تک، ملکہ انڈے دینے تک اور نرسیں بچے پالنے تک محدود رہتی ہیں، کارکن شہد بناتی ہیں اور چوکیدار حملہ آور سے حفاظت کرتی ہیں، ان سب کی عمر ایک ماہ اور ملکہ کی عمر دو سال ہوتی ہے، سائز میں بڑی ہونے کیساتھ ملکہ کے سر پر کراؤن بھی ہوتا ہے۔

اگر بچوں میں نئی ملکہ پیدا ہو جائے تو پرانی ملکہ نئی محال سازی کیلئے معقول ٹیم کیساتھ دوسری جگہ چلی جاتی ہے، اگر دو یا تین نئی ملکائیں پیدا ہو جائیں تو جو پہلے جوان ہوگی وہ چھوٹی ملکاؤں کو اپنے ڈنک سے مار کے چھتے کا نظام سنبھال لے گی، اس کے علاوہ یہ کسی کو ڈنک نہیں مارتی، ملکہ کے علاوہ جو مکھی بوقت ضرورت اپنا ڈنک استعمال کرتی ہے وہ دو دن بعد مر جاتی ہے خواہ اس کی طبعی عمر ابھی پوری نہ ہوئی ہو۔

اسی جبلت اور نظام کیساتھ پاکستان میں تین قسم کی مکھیاں پائی جاتی ہیں۔

ان میں پہلی apis florea ہے، یہ جنگلی مکھی ہے، اس کا کنبہ اور چھتہ ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے اسلئے ایک چھتہ سالانہ تین چار کلو سے زیادہ شہد نہیں دے سکتا، چھوٹی مکھی کا جنگلی شہد اسی کو کہتے ہیں جو سب سے اعلیٰ سمجھا جاتا ہے۔

دوسری apis ceran ہے، جو پہاڑی مکھی ہے، یہ بھی چھوٹا کنبہ رکھنے کی بنا پر چھ کلو تک سالانہ شہد فراہم کرتی ہے اور یہ بھی چھوٹی مکھی کا جنگلی شہد ہی کہلاتا ہے۔

تیسری apis dorsata ہے جسے عرف عام میں ڈومنا یا بڑی مکھی کہتے ہیں، اس کا تین فٹ بائی ڈیڑھ فٹ کا چھتہ سالانہ پچاس کلو تک شہد فراہم کرتا ہے، یہ بھی جنگلی ہے مگر بڑی مکھی ہونے کی وجہ سے اس کی پیداوار کو دوسرے درجے کا شہد سمجھا جاتا ہے۔

یہ تینوں مکھیاں جنگل کے علاوہ ہر گاؤں کے آس پاس شیشم، کیکر، بیری، جھاڑی، کپاس حتیٰ کہ مکان کی چھت پہ پڑے کاٹھ کباڑ میں بھی اپنا چھتہ ڈال لیتی ہیں، انہیں جنگلی کہنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ آزاد منش اور تند مزاج ہونے کی بنا پر انہیں مصنوعی چھتے پر یا فارم ہاؤس میں نہیں پالا جا سکتا۔

پہاڑی مکھی تھوڑی معتدل مزاج ہے اسلئے وہ فارم ہاؤس میں پالی جا سکتی ہے اور اچھے ماحول میں پندرہ کلو تک پروڈکشن بھی دے دیتی ہے مگر جب اس سے بھی بہتر مکھی موجود ہے تو اسے کیوں نہ ترجیح دی جائے۔

بی۔کیپنگ کیلئے جو مکھی سب سے بہتر ثابت ہوئی ہے وہ آسٹریلیا کی apis mellifera ہے، عرف عام میں اسے یورپی یا فارمی مکھی کہتے ہیں۔

چھوٹی مکھی، پہاڑی مکھی اور فارمی مکھی میں صنفی طور پر کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ فارمی مکھی مگس دان میں بھی رہ لیتی ہے اور تیس کلو تک سالانہ پیداوار بھی دیتی ہے لیکن اسے کمتر قرار دیکر اس کا شہد تیسرے درجے کا سمجھا جاتا ہے۔

پھر جسے اول درجے کا شہد قرار دیا جاتا ہے اس میں بھی ذیلی اصناف بیان کی جاتی ہیں جس سے کل ملا کے ترتیب یوں بنتی ہے۔

1۔ چھوٹی مکھی کا جنگلی بیری کا شہد۔
2۔ چھوٹی مکھی کا جنگلی جڑی بوٹیوں کا شہد۔
3۔ چھوٹی مکھی کا مکس فروٹی شہد جس میں کیکر، سیب، مالٹے، لیچی، سرسوں و سن فلاور شامل ہیں۔
4۔ بڑی مکھی کا شہد
5۔ فارمی مکھی کا جنگلی بیری کا شہد۔
6۔ فارمی مکھی کا مکس فروٹی شہد
7۔ فارمی مکھی کا شکر کا شہد

پہلی چار اقسام کا کوئی خاص اوریجن نہیں مل سکتا کہ بطور صنعت یہ کہاں سے حاصل ہوتا ہے تاکہ ویریفکیشن کی جا سکے جبکہ اس کی بلک۔سپلائی بھی کہیں نہیں مل سکتی لیکن آخری تین اقسام خیبر اور چکوال کے مدار میں جابجا موجود ہیں جہاں جنگلی بیری کی بھی بہتات ہے۔

شہد کی درجہ بندی کا تکنیکی تجزیہ:
حقیقت میں شہد ایک ایسا سیرپ ہے جس میں کاربوہائیڈریٹس، کیلشیم، پروٹین، اینزائمز اور وٹامنز سمیت کئی قسم کے صحت افزاء اجزا پائے جاتے ہیں، اس سیرپ کا متواتر استعمال جسم کے نظام میں اعتدال لاتا ہے، سکون آور نیند دیتا ہے، یادداشت کو بڑھاتا ہے، فالتو چربی کنزیوم کرتا ہے، کھانسی کیلئے اکسیر ہے، جلی ہوئی جلد پر لگایا جائے تو جلن کم کرنے اور انفیکشن سے بچانے میں معاون ہوتا ہے۔

قدرت کی ہر نعمت کے ذائقے، رنگ اور خوشبو میں ہمیشہ تنوع ہوتا ہے لیکن ایک ہی قسم کی متنوع اقسام کے بنیادی فائدے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اس لحاظ سے شہد خواہ کسی بھی مکھی اور کسی بھی فروٹ کا ہو اس کی کمپوزیشن، نیوٹریشن فیکٹس اور فوائد میں سوائے رنگ، خوشبو اور ذائقے کے کوئی اور فرق نہیں پڑتا۔

طبی دنیا سیب کو مفید قرار دیتی ہے مگر کسی خاص قسم کا سیب کھانے پر کوئی زور نہیں دیتی، یہ صرف انفرادی پسند ہو سکتی ہے کہ کس بندے کو کونسا سیب زیادہ اچھا لگتا ہے۔

اسی طرح شہد کی کوئی خاص قسم انفرادی پسند تو ہو سکتی ہے جس کیلئے وہ زیادہ رقم خرچنا چاہے تو ضرور خرچ کر لے مگر شہد کے فوائد حاصل کرنے کیلئے اس کا صرف خالص ہونا ضروری ہے خاص قسم کا ہونا ہرگز ضروری نہیں۔

بالفرض اس بات کو سچ مان لیا جائے کہ مکھی کی قسم سے شہد کی کوالٹی پر لازمی اثر پڑتا ہے تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا کی بیس ہزار اقسام کی مکھیوں کے شہد میں ہماری چھوٹی مکھی کا جنگلی شہد شائد پچاسویں یا انیس سو پچاسویں نمبر پہ آتا ہو۔

قرآنِ پاک میں جب مختلف رنگوں والے شہد کو شفا کہہ دیا گیا ہے اور مکھی کی قسم اور شہد کی کوالٹی کیلئے کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی تو ہمیں بھی اس مشقت میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔

۔۔۔۔۔
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ : تو پہاڑوں میں، اور درختوں میں اور لوگ جو چھتریاں اٹھاتے ہیں ان میں اپنے گھر بنا۔
۔سورۃ النحل، 68۔

پھر ہر قسم کے پھلوں سے اپنی خوراک حاصل کر، پھر ان راستوں پر چل جو تیرے رب نے تیرے لیے آسان بنا دیے ہیں۔ اس طرح، اس مکھی کے پیٹ سے وہ مختلف رنگوں والا مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ یقینا ان سب باتوں میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سوچتے سمجھتے ہوں۔
۔سورۃ النحل، 69۔
آسان ترجمۂ قرآن، مفتی محمد تقی عثمانی۔
۔۔۔۔۔

ان دونوں آیات کی تلاوت سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دنیا بھر میں پائی جانے والی شہد کی مکھیوں کی ہزاروں اقسام کو ایک جیسے خام مال اور ایک جیسے پراسس سے ایک ہی جیسی پراڈکٹ تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ اس لحاظ سے جنگلی مکھی اور فارمی مکھی باہم مقابلے میں نہ صرف ہم پلہ قرار دی جا سکتی ہیں بلکہ ایک کنڈیشن ایسی بھی ہے جس کے تحت چھوٹی مکھی کو اس مقابلے سے خارج کرکے فارمی مکھی کو فاتح بھی قرار دیا جا سکتا ہے، وہ کنڈیشن یہ ہے کہ:

“اور لوگ جو چھتریاں اٹھاتے ہیں ان میں اپنے گھر بنا”

اس حکم پر کونسی مکھی پورا اترتی ہے؟
کیا یہ اس مکھی کی بات نہیں جسے مصنوعی چھتے فراہم کرکے بی۔کیپنگ کی جاتی ہے؟

سائنٹیفک ریسرچ کے مطابق ہمارے ہاں پائی جانے والی چھوٹی اور بڑی دونوں ہی مکھیاں انسانی کی بنائی ہوئی چھتری پر اپنا گھر نہیں بناتیں، البتہ ہمارے صحن کے درخت یا چھت پر پڑی لکڑی کیساتھ اپنی مرضی ہو تو بنا بھی لیتی ہیں۔

انسان کی اٹھائی ہوئی چھتری پر گھر بنانے کا حکم صرف فارمی مکھی ہی من و عن مانتی ہے تو کیا اول الذکر دونوں کو شہد کی مکھی ماننے سے انکار کیا جا سکتا ہے؟

اگر اس تفاوت کے باوجود انہیں شہد کی مکھی ماننے سے انکار نہیں کیا جا سکتا تو کسی اور تفاوت کی بنیاد پر ان سب کی پراڈکٹس میں بھی درجہ بندی کو اہمیت دینا کوئی ضروری نہیں ہے۔

مقامی تجارت کے انداز و اطوار:
میں نے یہ مضمون اس نظریئے سے لکھا ہے کہ کسی ضرورتمند کو فائدہ پہنچے تو وہ دعائیں دے سکے، اسلئے میں تاجروں پر کوئی تنقید نہیں کرنا چاہتا خاص طور پہ ان حالات میں کہ جب کاروبار نہایت مشکل مراحل سے گزر رہے ہیں۔

تاہم جو لوگ اس مضمون سے متاثر ہو کے اس بزنس میں آنا چاہیں ان سے یہ درخواست ضرور کروں گا کہ اپنے شہد کو شہد کہہ کے بیچیں اور اسے گولڈن گوٹہ کناری، لیس و مغزی والا انمول شاہکار قرار دیکر سونے کے بھاؤ بیچنے کی بجائے اس کی قیمت فروخت عام انسان کی قوت خرید کو مدنظر رکھ کے مقرر کریں تاکہ ہر ضرورتمند اس نعمت سے مستفیض ہو سکے۔
۔۔۔۔

اس مضمون کے ماخذات:
۔ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر، اسلام آباد۔
۔ نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر، اسلام آباد۔
۔ ہنی۔بی ریسرچ انسٹیٹوٹ، اسلام آباد۔
۔ بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کی گائیڈ بک
۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، پشاور آفس۔

PARC > NARC > HBRI Site:
http://www.parc.gov.pk/index.php/en/hbrihome

Contact Nos of PARC, NARC & HBRI:
http://www.parc.gov.pk/index.php/en/2013-12-12-06-55-15

Feasibility of Cost & Income by NARC:
http://www.parc.gov.pk/index.php/en/faq-s/60-faqs/85-honey-production

Barani Zarie Tehqiqati Idara Chakwal:
barichakwal@yahoo.com
Phone: 0543-594499, 0543-594501

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20