پی۔آئی۔اے کی سربراہی کا مسئلہ — لالہ صحرائی

0

اس ادارے کی سربراہی کیلئے موزوں ترین افراد میں سے ایک وہ ہے جو کسی اعلیٰ بزنس ایجوکیشن اکیڈمی سے تعلیمیافتہ ہو اور ایک وسیع درجے یا ملک گیر بزنس نیٹورک کو کامیابی سے چلانے کا کم از کم دس سالہ عملی تجربہ رکھتا ہو۔

عملی تجربہ اسلئے ضروری ہے کہ اپنی افرادی قوت کے قول و فعل، مزاج، مارکیٹ کے حالات، اپنے ادارے اور اطراف کے نظام کا صحیح ادراک ہونا چاہیئے، جس میں کہیں حکمت سے کام لینا پڑتا ہے، کہیں بیک۔فٹ پر اور کہیں جارحانہ طرزعمل اپنانا پڑتا ہے اور کہیں کتابی اصولوں کی بجائے جگاڑ کو ترجیح دینی پڑتی ہے تاکہ ادارے کے جن شعبوں میں ناگزیر ضروریات مار دے رہی ہوں انہیں دوسرے شعبوں میں بچت کرکے ادارے کو پرافٹ میں لایا جا سکے۔

ایسا فرٹائل بندہ اپنے ماتحت ایڈمن، فائنانس، انجینئیرنگ، مارکیٹنگ، آپریشنز اور پالیسی کے شعبوں میں چار پانچ مستعد ڈائیریکٹرز لیکر باآسانی یہ ادارہ چلا سکتا ہے۔

مگر ایسا فرد اپنا کام دھندا یا پرائیویٹ سیکٹر کا آزادانہ ماحول چھوڑ کے ایسی جگہ پر کیوں آئے گا جہاں کرپٹ انتظامیہ اور سیاسی دباؤ کے ماحول میں کام کرنا بھی دشوار ہو اور بعد میں احتسابی عمل سے بھی گزرنا پڑے۔

اس سلسلے میں کمپیٹینٹ مگر کم تجربہ کار، کتابی اصولوں پر چلنے والے یا انا کے مارے ہوئے بیوروکریٹ ٹائپ لوگ یہ کام نہیں کر سکتے، ہم نے ایسے کئی لوگ دیکھے جو باہر سے بزنس کی اعلیٰ تعلیم تو لے کے آئے مگر مقامی حالات و مزاج کے مطابق نہ ڈھلنے سے اپنے انپڑھ باپ کا کامیاب بزنس بھی کتابی اصول لاگو کرکے برباد کر بیٹھے۔

اب تک جتنے لوگوں نے پی۔آئی۔اے کو نقصان دیا ہے ان میں ایسے ہی Imperfect امپرفیکٹ یا پھر بدنیت اور کرپٹ لوگ شامل تھے۔

دوسرا فرد اسی ایجوکیشنل کیڈر کے ان بیوروکریٹس میں سے ہو سکتا ہے جو مختلف ٹیکنیکل و انجینئرنگ بیسڈ اداروں کی کامیاب سربراہی کا تجربہ رکھتے ہیں، جیسے کے۔الیکٹرک، سوئی گیس اور اسٹیٹ آئل کا سربراہ وغیرہ ہیں۔

کے۔الیکٹرک میں جو ہمہ جہت بہتری آئی ہے اس کا مکمل کریڈٹ اس کے سربراہ کو جاتا ہے جو لندن کی ایک مشہور بزنس ایجوکیشنل اکیڈمی سے تعلیمیافتہ ہے، اس نے نہایت حکمت کیساتھ کرپٹ اور کام چور عناصر کی جگہ مستعد عملہ، فرسودہ اطوار کی جگہ سادہ طریقہ کار، ریپڈ ریسپانس کسٹمر کئیر اور ایفیشئینٹ مینٹیننس سسٹم مہیا کرکے ادارے کو ایک نئی زندگی بخشی ہے۔

اس ٹارگٹ کو حاصل کرنے کیلئے اس نے نہ صرف اربوں روپے کا لانگ ٹرم لون انویسٹ کیا جو پرافٹ سے ناک۔آف ہوگا بلکہ ان اصلاحات کے خلاف ایک طویل اور شدید ہڑتال بھی بھگتی مگر ان سب مشکلات کے باوجود وہ اپنا نظام لانے میں کامیاب ہو گیا۔

ان فلاز کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ اگر کہیں فالٹ آتا تھا تو پہلے آپریشن کی ٹیم آگے آتی، پھر انہیں انڈرگراؤنڈ کیبل ہینڈلرز کی ضرورت پڑتی، کیبل والوں کو سب اسٹیشن والوں کی، سب اسٹیشن والوں کو ٹرانسفر والوں کی، اس طرح ہر ایک فالٹ کئی کئی دن تک مختلف ٹیمیں دستیاب نہ ہونے یا اوورلیپنگ کی وجہ سے لٹکا رہتا تھا، اب فالٹ کی نوعیت کے مطابق ایک ہی مکمل ٹیم آتی ہے جو بڑے سے بڑا فالٹ بھی چند گھنٹوں میں نارمل کر دیتی ہے۔

ایسے بیوروکریٹک پروفیشنلز بھی پی۔آئے۔اے کو بطریق احسن سنبھال سکتے ہیں مگر حساس معاملات میں مسافر جانوں کی اہمیت کے پیش نظر یہ کوئی بھی بولڈ فیصلہ لینے سے ڈرتے ہوئے متعلقہ ماہرین کے محتاج رہیں گے اور ائیرکرافٹ، اسٹورز، مینٹیننس، فاضل پرزہ جات کے معاملات میں کیا چیز اہم ہے اور کیا چیز غیر اہم، کونسا کام کم خرچ میں کہاں سے چل سکتا ہے اور کہاں پر قیمتی اشیاء کی ہی ضرورت ہے ان معاملات میں بلیک میل ہوتے رہیں گے جو کاسٹ آف آپریشنز پر بہت نمایاں فرق ڈالتے ہیں۔

ایروناٹیکس میں مینٹیننس کی ضرورت بہت فریکؤینٹ ہوتی ہے، ہر مخصوص دورانیے کی پرواز مکمل ہونے کے بعد کئی چیزیں ریفریش کرنی اور کئی بدلنی پڑتی ہیں، جن میں کئی قسم کے پرزے اور ٹائر سرفہرست ہیں، ان کے پرزے بھی بہت مہنگے ہوتے ہیں، معمولی اشیاء میں کاربن اسٹیل کا ایک اسکرو جو عام مارکیٹ میں سو روپے کا ملتا ہے وہی ایروناٹیکل سپلائیز کی دنیا میں چھ سو تک بھی جا پہنچتا ہے، اسلئے کمیشن خور مافیا کی وجہ سے ایسی مس۔مینجمنٹ واقع ہو سکتی ہے جو خسارے کا باعث بنتی ہو۔

اسی کی ایک مثال میں اپنے کیرئیر سے بھی دے سکتا ہوں جہاں پاورفیکٹر پینلٹی روکنے کیلئے مجھے اپنے ادارے میں ایک کنٹرولر لگوانا تھا جس کی قیمت ایک لاکھ روپے تھی، انجینئر نے کہا اس الیکٹریکل ڈسٹری بیوشن روم کا ٹمپریچر پینتیس سے چالیس ڈگری رہتا ہے جو اس کنٹرولر کیلئے پچیس کرنا پڑے گا، یہ اس کی کتاب میں لکھا ہوا ہے ورنہ یہ سال بھر میں خراب ہو جائے گا، مطلب پچاس ہزار کا اے۔سی پھر بارہ گھنٹے اے۔سی چلنے کا سال بھر میں دو لاکھ روپے کا اضافی خرچہ بتا رہا تھا، میں نے کہا اے۔سی نہیں لگوانا، سال بعد لاکھ کا یہی پرزہ نیا لگوا لیں گے، لیکن وہی کنٹرولر دس سال تک چلا البتہ پانچ سال کے بعد دو بار ریپئر کرانا پڑا جس پر پچیس پچیس ہزار کا خرچہ آیا، میری جگہ کوئی اور ہوتا جو کمپیریٹیو کیلکولیشن نہ کرتا تو وہی کرتا جو انجینئیر نے کہا تھا، گویا زرا سا بولڈ سٹیپ لیکر دس سال میں بیس لاکھ کی بچت ہوگئی۔

لیکن جس آپریشن کیساتھ انسانی زندگیوں کی بقا مشروط ہو وہاں بڑے سے بڑا بولڈ ایڈمنسٹریٹر بھی کوئی رسک نہیں لے سکتا الا یہ کہ اسے خود پتا ہو اور اعتماد ہو کہ فلائٹس آپریشن میں کونسی چیزیں نظرانداز کی جا سکتی ہیں اور کونسی وائٹل امپورٹینس رکھتی ہیں، یہ قابلیت صرف اس سِیٹ کیلئے موزوں تیسرے بندے کے پاس ہی ہو سکتی ہے۔

اس سلسلے کا تیسرا، آخری اور پرفیکٹ چوائس ائیرفورس کا کوئی اعلیٰ عہدیدار ہی ہو سکتا ہے، ایسا فرد ائیرکرافٹ کی تمام انجینئیرنگ اور تکنیکی ضرویات سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے، اسٹورز اینڈ سپیئرز اور مینٹیننس میں ادارے کو کہاں ہونا چاہئے، کیا ضروری ہے کیا نہیں، مختلف فلائٹس اور روٹس کیلئے پائلٹس کی ذہنی کیفیت، ریسٹ، میڈیکل فٹنس کیسی ہونی چاہئے، کس حد تک مالی فوائد دینے چاہئیں، کہاں سے ناجائز مطالبات کی حد شروع ہوتی ہے۔

مطلوبہ ٹیکنیکل و پروفیشنل افرادی قوت، اسٹورز و مینٹیننس جیسی ضروریات پوری کرنے کیلئے بنیادی اور متبادل سورسز کیا ہیں، اور آپریشنل روٹس کیسے ترتیب دیئے جائیں کہ ری۔فیولنگ سستی جگہوں سے ممکن ہو سکے، لو۔پرافٹ اسٹیشنز کا خرچہ کیسے کم کیا جائے جو بڑی تعداد میں موجود ہیں، بلیک میلر افرادی قوت، لیبر یونینز، کرپٹ عناصر اور بھرتیوں کے معاملات میں سیاسی عناصر کے دباؤ کو کیسے ہینڈل کرنا ہے، جس بندے کو ان تمام باتوں کا پتا ہوگا وہی بلیک میلنگ یا مس۔مینجمنٹ کا شکار ہوئے بغیر کاسٹ۔افیکٹیوو آپریشنل پلان کیساتھ اس ادارے کو منافع میں لا سکتا ہے۔

بالکل یہی صورتحال قومی شپنگ لائن یا بندرگاہوں کو ہینڈل کرنے میں بھی درپیش ہو سکتی ہے جہاں سربراہی کیلئے ایک ایڈمرل باقیوں سے بہتر امیدوار ثابت ہو سکتا ہے۔

جو فرد ائیرمارشل کی سطح سے ریٹائر ہوتا ہے وہ اپنے کیرئیر میں اسکواڈرن لیڈری کے دور سے ان تمام ضروری چیزوں کو ہینڈل کرتے کرتے اعلیٰ سطح تک پہنچتا ہے اور اس سطح پر براڈ۔سپیکٹرم میں ان معاملات سے آگاہ ہوتا ہے جو پورے ادارے کو بحسن خوبی چلانے کیلئے درکار ہیں۔

ایسا عہدیدار جو کرپٹ نہ ہو، ادارے کو منافع میں چلا رہا ہو اس پر محض اسلئے انگلی اٹھانا کہ وہ ایک حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی ہے لہذا اسے ایک سول ادارے کی سربراہی نہیں دینی چاہئے، یہ مناسب رویہ نہیں۔ ایسا اعتراض اٹھانے سے قبل ادارے کا سارا ماحول، اس کیلئے درکار قابلیت اور دستیاب چوائسز کو مدنظر رکھ کے ہی ایسا سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ معقول سول انڈمنسٹریٹر کی موجودگی میں کسی فوجی افسر کو ترجیح کیوں دی گئی، لیکن جب مناسب متبادل ہی موجود نہ ہو تو پھر ایسا اعتراض کرنا تعصب کے سوا کچھ نہیں۔

اس کے باوجود سول سوسائٹی، عدلیہ یا سیاسی اداروں کو یہ بات پسند نہیں تو پھر اس کا مناسب حل یہ ہوسکتا ہے کہ جیسے فائٹر پائلٹس کو سول ایوی ایشن میں آنے پر نئے سرے سے فلائینگ کا ایک ایکسٹینڈڈ کورس کرایا جاتا ہے تاکہ وہ فائٹر پلین اور سول پلین میں ساخت اور ہینڈلنگ کے فرق کو سمجھ سکیں، اور اپنے ذہن سے مرنے مارنے والی بات اور ہائی سپیڈ زگ۔زیگ فلائینگ کی عادت نکال کے انسانی زندگیوں کو سموتھ فلائیٹ سے بحفاظت ٹرانسپورٹ کرنے کیلئے درکار دھیرج پیدا کر سکیں، پھر کامیاب ٹیسٹ کے بعد ہی انہیں مسافر طیارہ اڑانے دیا جاتا ہے۔

اسی طرح پہلے کچھ ابتدائی کیرئیر والے ایوی۔ایشن انجینئیرز یا پائلٹس کو فائنانس اور بزنس ایڈمنسٹریشن کا ایک ایک کورس کرایا جائے پھر انہیں کسی بیرونی ائیرلائن کی ایڈمنسٹریشن میں کم از کم دو دو سال کی ٹریننگ دلوائی جائے اور یہ شرط رکھی جائے کہ جب بھی ان کی ضرورت پڑے گی یہ جہاں بھی ہوں گے غیر مشروط طور پر واپس آکے اپنی خدمات ادارے کیلئے وقف کریں گے، بلکہ یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ ٹریننگ کے بعد انہیں یکے بعد دیگرے ادارے کی فائنانس، ایڈمنسٹریشن، پلاننگ اور انجینئرنگ کی برانچوں میں تعینات کیا جائے تاکہ وہ پورا نظام سمجھ سکیں، پھر بہتر کارکردگی دکھانے والوں کو ڈائریکٹرشپ پر لایا جائے، پھر نائب سربراہ اور آخر میں سربراہ مقرر کیا جائے، اس طرح بتدریج مطلوبہ پروفیشنلز پیدا کئے جا سکتے ہیں مگر یہ بہت طویل المدتی اور صبر آزما کام ہے اور سو فیصد رزلٹ دینے والا بھی نہیں کیونکہ ایک پروفیشنل ڈگری لینے کے بعد عموماً بندے کا ذہن صرف نوکری مائینڈڈ اور متعلقہ فیلڈ میں ہی کیرئیر بنانے تک محدود ہو جاتا ہے، ایسے ذہن کو اضافی بوجھ دیکر ہمہ جہت بنانا کافی مشکل ہوتا ہے، لیکن جو بندہ ابتدائی سطح سے لیکر تیس سال تک ایسے متوازی نوعیت کے کام متواتر کرتا آیا ہو اس کیلئے کچھ مشکل نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ بدنیت اور کرپٹ نہ ہو۔

اس کمی کو پورا کرنے کیلئے کچھ اور طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے جو ارباب اختیار یا سمجھداروں کو مناسب لگے مگر اس کمی کو پورا کئے بغیر آپ فوجیوں کی محتاجی سے نکل نہیں سکتے۔

اور تب تک سول سوپرمیسی کے نام پہ، نَک میرا نیواں تے جُگ جُگ جیواں والے، نعرے مارتے بھی بالکل اچھے نہیں لگتے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20