سلیم شہزاد کا ناول ’’پلوتا‘‘ ——– محمد تیمور

0

سلیم شہزاد صاحب بحیثیت ناول نگار مترجم نقاد اور شاعر کے طور پر ادبی حلقوں میں مشہور ہین ان کا پہلا سراہیکی ناول، گھان، بہت مشہور ہوا جس کو معروف شاعر اور دانش ور رفعت عباس نے کہا کہ سرائیکی زبان کو اپنا ناول مل گیا کیون کہ سراہیکی ناول کا یکسر رخ تیدیل کرنے کا سہرا سلیم شہزاد کے سر ہے پلوتا سلیم شہزاد کا دوسرا ناول ہے۔

یہ ناول سراہیکی میں لکھا گیا جلد ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا اس کا اردو میں ترجمہ معروف مترجم اور ناول نگار نجم الدین احمد صاحب نے کیا ہے۔ پلوتا میں توہم پرستی، قتل وغارت، انسانوں کا ناحق خون بہانا ، پیروں مریدوں، مزاروں کی پوجا پاٹ، چڑھاوے چڑھانا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پلوتا جدید دیگر ناولوں کی طرح مابعد جدیدیت تکنیک میں لکھا گیا ہے ناول فرضی کرداروں کی مدد سے لکھا گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک علاقے میں ایک قدیم درخت ہے جس کو پانچ ہزار وی کے نام سے جانا جاتا ہے اس سے کہانی آگے بڑھتی ہے گاوں دو طرح کے لوگ ہین ایک وہان کے قدیم باشندے اور دوسرے باہر سے انے والے حملہ آور جو اب وہاں آباد تھے قدیم باشندے پانچ ہزاروی کو ہی اپنا نجات دہندہ سمجھتے تھے اور اس کے پاس جا کر منتیں مرادیں پوری ہونے کی دعاوہیں مانگتے تھے وہ کہتے کہ بارشیں برسانے کا عمل بھی پنچ ہزاروی ہی کرتے ہیں بہت عرصہ سے گھٹا چھائی تھی اور بارشیں نہیں ہو رہی تھیں اس کی وجہ وہ پانچ ہزاروی کی ناراضگی سمجھتے تھے یہ وہی پنچ ہزاروی ہے جو باہر سے انے والے حملہ آوروں کی اطلاع ان تک پہنچاتااوران کو حملہ آوروں سے بچاتا تھا۔

پلوتا کے معانی بد دعا کے ہین یہ بددعا کیا تھی کس نے دی تھی جب پہلی مرتبہ ایک عورت کی خاطر خون زمین پر بہا جس کے داغ ابل رہے ہیں اور زمین ہچکولے کھارہی ہے تمھارا خون خونی کی نسل میں گل مل گیاہے اج انسان اتنا بیگانہ ہو گیاہے کہ ہر طرف تباہی وبربادی پھیلانے میں مصروف ہے رشتوں کی پہچان انسان نے ختم کر دی ہے ہر طرف تلواریں چل رہی ہیں لوگ مر رہے ہیں ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ اپنی تلوار سے دوسرے کی گردن اتار دے چادروں طرف گھوڑے، نیزے تلواریں،یوں چل رہے ہیں جیسے آج خون نہ بہا گیا تو زمین نہیں بچے گی لہو کی نہروں میں مرتے ہوئے لوگ گر رہے ہیں کسی کو کسی کا لحاظ نہیں جتنا اچھا ناول ہے اتنا ہی کمال کا ترجمہ بھی کیا گیا ہے مصنف اور مترجم دونوں مبارک باد کے مستحق ہیں یہ ناول ادب کے طالب علم کو ضرور متاثر کرے گا ناول عکس پبلیکیشن لاہور نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت نہایت مناسب یعنی 400 روپے ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20