وحید احمد کا ناول ’’مندری والا‘‘ ——– محمد تیمور

0

وحید احمد ادبی دنیا میں ناول نگار اور شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ مندری والا ناول میں علاقائی لسانی مذہبی، فرقہ واریت دہشتگردی غیر ملکی ہتھ کنڈوں با اثر اور بے ضمیر کٹھ پتلیاں طبیعات مابعد طبیعات سیاست تاریخ اخلاقیات نفسیات کو نہایت خوبصورت انداز سے بیان کیا ہے۔

مندری پنجابی لفظ جس کو اردو میں بھی مندری ہی کہا جاتا ہے مندی ایک بالی یا کاٹنے کی طرح ہوتی ہے جو عموماً کان میں ڈالی جاتی ہے۔

یہ ناول مندری والے اور اس کی بیٹی شینا کی کہانی ہے جو اس انسانوں کی دنیا سے الگ ایک پر سکون ماحول میں رہنے کو ترجیع دیتے ہیں کیونکہ اس دینا میں مذہب کے نام پر ایک دوسرے کو قتل کیا جاتا ہے ہر طرف خوف کی دکانداری یے ہر شخص نے دہن کی الماری میں یہ در تہ خوف سجا رکھا ہے سب اسی جنس کا کارو بار کرتے ہیں خوف کے تاجر ہیں سب اسی پیدا وار کے خریدار ہیں لوگ خوف کے سہارے زندگی گزارتے ہیں کتنے لوگ ہیں جو مذہب کو رومانوی نظریہ سمجھ کر اپناتے ہیں موت کے خوف سے اپناتے ہیں ان کے مذہب سے موت نکال دی جائے تو ان کا مذہب اپنی موت آپ مر جاتا ہے خوف کا پہیہ چلتا ہے کارخانوں اور سڑکوں پر خوف کا پرندہ ہوا میں اڑتا ہے۔

انسانوں سے بو آتی ہے حکومت کی بو ہوتی ہے جو پھیلتی ہے اور مشام جام میں سوہیوں کی طرح چھبتی ہے شریانین اڈھیڑتی یے نہیں پھاڑتی یے سوچ مفلوج کرتی ہے ضمیر کا گلہ گھونٹتی ہے قویٰ مضمحل کرتی ہے خکومت مردار جسم کی طرح ملک کے تمام شہروں قصبوں گاوں کھلیانوں پہاڑوں ندیوں دریاوں اور سمندروں میں پڑی ہوتی ہے کئی کھوپڑی اور پھٹے پیٹ کے ساتھ جس کی انتڑیوں میں گدھ چونچوں اور پنجوں کے نشتر چھبو کر مرا ہوا فضلہ ہوا میں اچھالتے ہیں حکومت کی بق ہوتی ہے کھانے نہیں دیتی سونے نہیں دیتی جینے نہیں دیتی پاکستان کی سیاست جوکسی دوسرے کے ہاتھوں استعمال ہوتی ہے کواور امریکہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے صفحہ نمبر 110 لکھتے ہیں۔

میں اور کنگ ہنی مون کے لیے دنیا بھر کی سیر کو نکلےکبھی ہوائی جہاز، تق کبھی ٹرین کبھی بحری جہاز تو کبھی بس کبھی ساہیکل تو کبھی پیدل اور چھوٹی سی شینا اس لمبے سفر میں ساتھ کبھی بیمار ہو جاتی تو ہم رک جاتے ہھر چلنے لگتے چلتے چلتے بغداد پہنچے ایران اور عراق جنگ ہو رہی تھی کنگ حسب معمول اس میں دلچسپی لی الٹے سیدھے مشورے دیئے ایران اور عراق دونوں سے کہا کہ ہماری طرف سے لڑو کنگ چونکہ دیوانہ ہے ایک فوجی دستے کے ساتھ چل نکلا اس کا خیال تھا کہ وہ عراقی فوج ہے حالانکہ وہ ایرانی تھے یہ ان کے ساتھ مارا مارا پھرتا رہا کئی دن بعد واپس آیا تو بولا یہ میں کس کی جنگ لڑ رہا ہوں ایران کی یا عراق کی شعیہ کی یا سنی کی مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا میں نے کہا، ہیل ودیو، تم جہاں ہنگامہ دیکھتے ہو شامل ہونے کی کوشش کرتے ہو ناول زبان نہایت سادہ اور عام فہم ہے دلچسپ اتنا کہ پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے یہ ناول جدید ناولوں میں بہترین اضافہ ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20