گلوبل ازم کی حکومت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثاقب ملک

0

مجھے یہ دیکھ اور پڑھ کر ہنسی آتی ہے کہ ہمارے پچھلی صدی میں ذہنی مقیم دانشور اور انکی تانوں پر سر پیٹنے والی تماش بین مخلوق اس ادراک سے یکسر محروم ہوچکی کہ دنیا کہاں جا رہی ہے اور کہاں جا چکی ہے. روایتی دائیں اور بائیں بازو کو تحلیل ہوئے دو عشرے ہونے کو ہیں مگر یہاں پر دونوں نام نہاد بازو ندیدے پن کی تلوار ایک دوسرے پر سونت کر اپنی دانست میں لبرل سیکولر ازم یا مذہبی اور علمی جہاد کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں. بظاہر جنگ اسلام بمقابلہ مغربی اقدار چل رہی ہے اس لئے ہمارے مجاہدین نے اسکو مذہبی رنگ دیگر اپنی جنت کشید کرنے کے شارٹ کٹ کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا. تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ ہم نے نبی کریم محفل صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت کو اپنی گناہوں سے لتھڑی زندگی کا کفارہ جانتے ہوئے جنت کے ٹکٹ حاصل کرنے کا شارٹ کٹ سمجھا ہوا ہے اور یہ ہماری کوئک فکس نیچر کا ثبوت ہے.

ہمارے مذہبی ذہنوں کی اجتماعی سوچ جنت حاصل کرنے کے سستے طریقوں تک محدود ہے ناکہ وہ خدا اور اسکے قرب کے اسلامی ٹیسٹ کو پاس کرنے کی جانب توجہ دیتے۔ اس طبقے کی ذہنی ساخت دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے سے ہی قاصر ہے اور مزید بدقسمتی یہ کہ یہ صرف ایک وجہ ہے، دیگراہم وجوہات اسکے علاوہ ہیں لیکن انکا تذکرہ پھر کبھی سہی. دوسری جانب لبرل سیکولر طبقہ مذہب دشمنی کی آڑ لئے بیٹھا ہے اور اسکی تنگ نظری اور خبث باطن بار بار اسلام، قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت میں ابل ابل کر آتا رہتا ہے. یہ تعفن زدہ فکری کیڑے مغرب کے تھوکے ہوئے تقریباً ناکارہ ہوتے افکار کو اپنے دماغ میں بطور تبرک انڈیلتے رہتے ہیں. دونوں طبقات بدلتی دنیا کی خاک سے بھی واقف نہیں یا جو واقف ہیں اور واقعی کچھ علم رکھتے ہیں وہ تالیاں بجوارہے اور واہ واہ کے سنہری جال میں پھڑ پھڑا رہے ہیں.

جب سے معیشت گلوبل ہوئی ہے یہ دنیا کسی فکری بازو کے بجائے کارپوریشنز کی دنیا بن چکی ہے. اب تقریباً ساری دنیا مک ڈونلڈ، کے ایف سی، کوک پیپسی اور دیگر ایک جیسے برینڈز سے استفادہ کر رہی ہے. پہناوا کلچر، میوزک، فلمز انٹرنیٹ، فیس بک، ٹویٹر، وٹس ایپ، ایمزون، گوگل اور یو ٹیوب مشترکہ انسانی ورثہ بن چکا ہے. یہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے نا رہیں گے. اب مقابلہ گلوبل ازم یعنی آزاد دنیا کے پیروکاروں اور نیشنل ازم یعنی اپنی اقدار اور قبیلے کے محافظوں کی کشمکش ہے جس میں نیشنل ازم کی شکست یقینی ہے صرف کیوں، کب اور کیسے پہ معاملہ لٹکا ہوا ہے.

دراصل دنیا کی اکثریت کی اقدار ایک جیسی ہوچکی ہیں اور جو ممالک ان میں شامل نہیں ہو رہے وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں. ایران، چین، شمالی کوریا، سعودی عرب، پاکستان بھارت وغیرہ ایسے ممالک ہیں جو ابھی تک مکمل طور پر اس رنگ میں رنگے نہیں گئے لیکن چین تو اس میں داخل ہوچکا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو ایک تہذیب کے طور پر لیتے ہیں تو انکے خیال ہے چین اپنی تہذیب کی بنیادوں کو قائم رکھے گا لیکن اسکا سنگل پارٹی سسٹم اور کلچر جو اب صرف دیہات تک محدود رہ چکا ہے انکی اپنی ترقی کے ساتھ ساتھ معدوم ہونے کے قریب تر ہوتا جائے گا. بھارت بھی تقریباً شامل ہوچکا ہے. ایران اور کوریا کے پاس زیادہ وقت نہیں اور پاکستان سی پیک کے بعد مکمل طور پر گلوبل ازم کے تابع ہوجائے گا. اس میں سی پیک کا قصور نہیں، وقت ہی ایسا آنے والا ہے. یہ اگلے 20 سے 30 برس کی کہانی ہوگی.

مستقبل یعنی اگلے 30 سے 40 برس میں جب تھری ڈی پرنٹرز، مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹس اور الگورتھمز، آٹو ڈرائیور انڈسٹری، سپر ہیومن، سایبورگ وغیرہ پوری دنیا کو تبدیل کرینگے تو بیروزگاری اور مواقع کی نئی اور دنیا کی تاریخ کی تیز ترین لہر اٹھے گی تب یہ گلوبل معیشت تمام ممالک کو ایک دوسرے پر اتنا ڈپینڈنٹ کر چکی ہوگی کہ بقول یوال نوح ہراری جو اسرائیلی تاریخ دان ہیں اور گلوبل مقابلہ نیشنل ازم کی سوچ کے نمایاں وکیل ہیں کہ انفرادی ممالک اس وقت تن تنہا اس چیلنج سے نبرد آزما نہیں ہوسکیں گے. اس وقت میکسیکو میں بنی دیوار کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی. یہ بات ہمارے لیے باعث تشویش ہونی چاہئے مگر کسی کو خبر ہی نہیں.

بات کو مختصر کروں تو یہی کہنا پڑے گا کہ تیسری دنیا کے ممالک کے مزید برے دن آنے والے ہیں. صرف پاکستان کو لیں تو آپ سوچیں ہمارے گلیشیر جس رفتار سے پگھل رہے ہیں ہم 20 سے 40 برس بعد کس طرح پانی حاصل کرینگے؟ اس دوران جو سیلاب اور قحط سالی آئے گی اس سے کس طرح نمٹیں گے؟ ہماری زراعت جدید نہیں ہوسکی وہ کیسے اور کب ہوگی؟ دنیا شاید انڈسٹریل ایج سے مکمل باہر آ چکی ہوگی تو ہمارا ذریعہ معاش روبوٹ صاف کرنا ہوگا؟ کیا ہمارا تعلیمی نظام ریولیونٹ ہوگا؟ اس نوع کے کئی سوالات ہیں. ممکن ہے سب کچھ ایسا نہ ہو جیسا کہ اندازے لگائے جا رہے ہیں اور ممکن ہے کہ اس بھی زیادہ خوفناک ہو.

آخری بات یہ ہے کہ آپ ٹرمپ، مودی اور پوٹن کو دیکھ کر اور بریگزٹ کو دیکھ کر یہ نہ سمجھیں کہ دنیا نیشنل ازم کی فتح کی جانب جا رہی ہے کیونکہ امیگریشن اور نوکریاں آگے بھی ایشو رینگی. دوسری جانب ایک خدشہ یہ ہے کہ جان بوجھ کر جارح مزاج نیشنل ازم کے پیروکاروں کو پروموٹ کیا جا رہا ہے تاکہ ایک بڑی جنگ لائی جا سکے. بڑی تباہی کے بعد اس دنیا کو ایک پیج پر لانا زیادہ مشکل نہیں ہوگا. عین ممکن ہے کہ کچھ باتیں آپکو سازشی تھیوریاں لگیں مگر یہ حقیقت ہے. اب یہ گلوبل حکومت ہوگی کس شکل میں ہوگی؟ کیا کوئی ادارہ ہوگا؟ کیا یہ دجال ہوگا؟ کیا یہ یاجوج ماجوج ہونگے؟ کیا یہ چین ہوگا یا امریکہ یا کوئی اور ملک بطور گلوبل نمائندے کے؟ کیا گلوبل ڈکٹیٹرازم ہوگا؟ ہمیں نہیں معلوم کیا شکل ہوگی.

سب سے اہم بات ہم یہ روک نہیں سکتے. ہم نے اپنی جگہ بطور مسلمان اور پاکستانی کے بنانی ہے. کیسے؟ شاید خدا کے علاوہ کسی کو بھی نہیں معلوم. دنیا کے فیصلے کرنے والے کائنات کے رب کے گرینڈ پلان کے مہرے ہیں. جیسے کہ ہم انکے پیادے ہیں.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: