خان صاحب! اجازت ہو تو گھبرا لیں‎ ——– راجہ قاسم محمود

0
  • 1
    Share

وزیراعظم صاحب! آپ کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے دیکھ کر جو خوشی ہوئی تھی وہ اب بھی یاد ہے۔ کتنے ہی دوست احباب کو ناراض کر کے آپ کا ساتھ دیا تھا۔ آپ پر یقین تھا کہ آپ ہمارے انتخاب کو درست ثابت کرکے ہمیں فخر سے یہ کہنے کا موقع دیں گے کہ ہم تاریخ کے درست مقام پر کھڑے تھے۔

خان صاحب! آپ نے اپنے پہلے خطاب میں فرمایا تھا کہ گھبرانا نہیں ہے۔ ہم نے آپ پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ مشکلات کا مقابلہ کریں گے اور گھبرائیں گے نہیں۔
خان صاحب! سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا آپ کی بات پلے باندھے ہوئے مگر افسوس کہ اب ہم تھوڑا گھبرانا شروع ہو گئے ہیں۔

خانصاحب، گھبرا تو ہم اس وقت ہی گئے تھے جب ساہیوال میں تین بچوں کے سامنے ان کے والدین اور بہن کو ریاستی گولیوں سے بھون ڈالا گیا مگر آپ نے دورہ قطر سے واپسی تک ہمیں گھبرانے سے منع کر دیا۔ تب کیفیت یہ تھی کہ

آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو

پھر آپ قطر سے واپس تو آ گئے مگر قاتل نہ صرف آزاد ہیں بلکہ بیگناہ بھی قرار دئیے جاچکے تو خان صاحب تھوڑا سا گھبرانا تو پڑے گا۔

پنجاب میں 1982 کے بعد ایک جوہری تبدیلی کی خواہش لیے ہم نے مان لیا کہ سردار عثمان خان بزدار وسیم اکرم پلس ہیں اور اب تک معلوم ہوتا ہے کہ بزدار صاحب کی کارکردگی سے آپ خوش ہیں۔ تو وزیر اعظم صاحب کچھ سوالات ذہن میں گردش کرتے ہیں

کیا افسر شاہی (بیوروکریسی) پر بزدار صاحب کا مکمل کنٹرول ہے؟ اور وہ کس طرح اپنے پیشرو سے بہتر بیوروکریسی سے کام لے؟
آپ کا سب سے اہم ایجنڈا پولیس اصلاحات اس پر پنجاب حکومت کی جانب سے اقدامات کہاں تک پہنچے؟
افسوس کہ ناصر درانی جن کی نوید آپ نے پہلے خطاب میں سنائی تھی جلد ہی مایوس ہوکر دل ہار گئے۔ اس کے بعد ہمیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔
جناب وزیراعظم صاحب پولیس کا حال ویسا ہی ہے جیسا کہ آپ دھرنے کے دنوں میں ذکر کیا کرتے تھے۔

اگر بزدار صاحب اپنی اور اپنے وزراء کی کارکردگی سے مطمئن ہیں تو پنجاب اسمبلی یا کسی اور مناسب فورم پر ہم کو آگاہ کریں کہ سترہ ماہ میں کس کس شعبے میں اصلاحات کو نافذ کیا گیا؟ کہاں کہاں میرٹ کی پاسداری کی گئی؟ تعلیم اور صحت جیسے اہم ترین شعبوں میں کیا کام ہوا؟ پھر بااختیار بلدیاتی نظام لانے کس حد تک سنجیدگی ظاہر کی گئی۔
خان صاحب ہم گھبرائے ہوئے ہیں کہ کہیں آپ کے وسیم اکرم پلس اصل میں سلیم جعفر یا منصور اختر نہ ثابت ہوں۔

خان صاحب آپ سے پچھلے پانچ سال بھی شکایت تھی کہ آپ اسمبلی میں نہ جا کر پارلیمان کو کمزور کرنے کے مرتکب ہوئے۔ افسوس آپ اب اس کو اہمیت نہ دے کر اس کو اپنے پیشرو وزیراعظم کی طرح کمزور کر رہے ہیں۔ آپ کے وسیم اکرم پلس تو آپ سے بھی زیادہ جری نکلے جو پچھلے چھ سات ماہ سے اسمبلی نہیں گئے۔ پارلیمان کی اس بے توقیری نے ہماری پارلیمانی روایات میں کوئی اچھا اضافہ نہیں کیا۔خان صاحب اس کمزور ہوتی پارلیمان سے ہم واقعی گھبرا گئے ہیں۔

خان صاحب! ہمیں معلوم ہے ہے کہ سابق حکمرانوں نے ملک کو معاشی تباہی طرف دھکیلا، جس کا نتیجہ ہم مہنگائی کی صورت میں بھگت رہے ہیں مگر سوال ہے آپ کی اور آپ کی ٹیم کے زیرانتظام بیوروکریسی اور پرائس کنٹرول کمیٹی کی نااہلی کی ذمہ داری کون اٹھائے؟ جس کی وجہ سے یہ طوفان بے قابو ہوچکا ہے اور عام آدمی کے لئے اشیائے خوردنوش تک رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ ان کمیٹیوں کو فعال کرنے کی ذمہ داری وزیر اعظم صاحب آپ کی اور بالخصوص آپ کی صوبائی ٹیموں کی ہے۔ حکومت کہاں ہے؟ قانون کہاں ہے؟
خان صاحب اس روز بروز بڑھتی مہنگائی سے ہم تھوڑے گھبرا گئے ہیں۔

خاں صاحب آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ ایک کھلاڑی کے بل بوتے پر آپ میچ نہیں جیت سکتے اس کے لیے پوری ٹیم کو اپنی کارکردگی دکھانی ہوتی ہے۔ مگر آپ کے وزراء گفتار کے غازی نظر آتے ہیں، وہ اپنی متعلقہ وزارت کے علاوہ ہر موضوع پر بات کرتے نظر آتے ہیں، انہیں بتائیں کہ جان بیشک اللہ کو دینی ہوتی ہے مگر ثبوت عدالت میں پیش کرنے ہوتے ہیں۔ آپ کی اس کمزور ٹیم کو دیکھ کر مقابل سیاسی جماعتیں چیلنج کرنے میں حق بجانب لگتی ہیں کہ ہمارے پاس بہتر ٹیم موجود ہے۔
خان صاحب آپ کی اس کمزور ٹیم کی کارکردگی پر ہم گھبرائے جاتے ہیں۔

خان صاحب! پی آئی اے اور اسٹیل مل جیسے ادارے جو مسلسل نقصان میں تھے کی پچھلے ڈیڑھ سال میں کیا پراگریس رہی؟ کتنا نقصان کم ہوا؟ ان میں انتظامی بہتری لانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟

خان صاحب! آپ نے کئی ٹاسک فورس قائم کی تھیں، ان کی کیا کارکردگی ہے، ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں سول سروسز کی اصلاحات کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس نے اب تک کیا کیا اصلاحات متعارف کرائیں؟

خان صاحب! خود احتسابی کا عمل جلد از جلد شروع کریں ورنہ آس دل کا ساتھ چھوڑنے لگی ہے، گھبراہٹ بڑھنے لگی ہے۔۔۔۔ دیکھ لیجئے خان صاحب! وقت کم ہے۔

احتساب اور نظام انصاف (بالخصوص سانحہ ماڈل ٹاؤن) میں اصلاحات اور بی آر ٹی پر گلہ پھر سہی کہ مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: ’حلقہ احباب‘ میں شامل میرے پرانے کالم میرا سیاسی ایجنڈا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ عمران خان
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20