فکشن، کلامیہ اور ثقافتی مکانیت ——– ڈاکٹر ریاض توحیدی

0

فکشن کی ثقافتی شعریات کا مکالمہ

کسی بھی زبان کا فکشن (داستان، لوک کہانی، ناول، افسانہ) مقامی تہذیب و ثقافت کا عکاس ہوتا ہے۔ اب چونکہ مابعد جدید دور کی حیرت انگیز علمی، ادبی، تہذیبی، فکری اور سائنسی تبدیلیوں اور ترقیوں کے زیراثر تخلیق کار کا تخئیل بھی مقامیت سے نکل کر عالمگیریت کی وسعتوں میں میں اڑان بھرنے کی مشق کرنے میں لگا ہوا ہے اور کئی تخلیقات عالمگیر صورتحال کو فنی ڈسکورس بناتی نظر آتی ہیں تاہم اس کے باوجود شعر و فکشن کا معتد بہ حصہ پھر بھی مقامیت کی آب و ہوا سے پھل پھول رہا ہے اور زیادہ تر وہ افسانے یا ناول اپناحیرت زا یا متاثرکن تاثر چھوڑنے میں کامیاب رہتے ہیں جو مقامیت کی ثقافتی خوشبو سے غیر مقامی فضا کو معطر کرتی ہیں۔ جیسے ‘کشمیر کا ثقافت آمیز فکشن جب کشمیر سے باہر کے قارئین کی نظروں سے گزرتا ہے تو ہی ان کے سامنے یہاں کی زمانی و مکانی صورتحال اور تہذیبی و ثقافتی، سیاسی وسماجی اور فکری و معاشرتی منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ آج جب ہم چھوٹی بڑی تہذیبوں کا شعر و فکشن پڑھتے ہیں تو ان تہذیبو ں کی ثقافتی رنگارنگی اور تہذیبی جلوؤں کی داستانیں آنکھوں کے سامنے رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں، جس میں رسم و رواج، عقائد و نظریات، جنگ و جدل، سیاست و معاشرت، عقل و فکر وغیرہ متنوع پہلوؤں کا فنی خاکہ شامل ہوتا ہے۔ فکری و فنی، علمی و ادبی اور تنقیدی تناظر میں یہ سب مباحثہ زمان و مکان (Time and Space) کے ثقافتی مطالعہ (Cultural Study) میں آتا ہے اور پیش نظر تصنیف ’’فکشن، کلامیہ اور ثقافتی مکانیت‘‘ (ٖFiction’ Discourse and Cultural Spatiality) کا ناقدانہ مکالمہ (Critical Discourse) انہیں فکری و فنی، علمی و ادبی اور تنقیدی و اسلوبیاتی مباحث کے دانشورانہ ڈسکورس کا فکر انگیز مطالعہ پیش کرتا ہے۔ مطالعہ کے دوران نہ صرف صاحب تصنیف (فرخ ندیم۔ ۔ ۔ استاد‘ شعبہ انگریزی، انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد) کی دانشورانہ فکر اور ناقدانہ نظر کا قائل ہونا پڑتا ہے بلکہ علمی و ادبی بصیرت اور تجزیاتی و لسانی اپروچ سے آنکھیں بھی روشن ہوجاتی ہیں۔ فرخ ندیم کی علمی بصیرت اور کتاب کے مباحثہ کے اختصاص اور اہمیت کا احاطہ کرتے ہوئے مبسوط اور معلومات افزا پیش لفظ میں ڈاکٹر روش ندیم لکھتے ہیں:

’’ان (فرخ ندیم) کی زیر نظر اولین تنقیدی و تجزیاتی کتاب نہ صرف اردو تنقیدی میں ایک نئے موضوع اور زاویۂ نظر کے حوالے سے تازگی کی حامل ہے بلکہ اپنے اسلوب اور تجزیاتی انداز میں بھی نئے پن کا اضافہ لئے ہوئے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ اس منفرد موضوع اور اس کے ہمہ جہت اطلاق کے ساتھ ساتھ مصنف کی تہہ دار فکرواسلوب، جملہ سازی، الفاظ سازی، اصطلاح سازی اور مطالعہ و معلومات کے نتیجے میں اظہار کی پیچیدگی عام طریقہ تحریر سے ہٹ کر ہے۔
دراصل یہ تازہ تر موضوعات کی حامل معاصر تنقید کا انفرادکے ساتھ ساتھ نیا اسلوب بھی ہے جو پچھلے چند برسوں سے وضع ہورہا ہے۔‘‘ (فکشن ‘کلامیہ اور ثقافتی مکانیت‘ پیش لفظ:ص ۳۱)

اگرچہ مذکورہ اقتباس میں کتاب کے خصائص کا اچھا احاطہ کیا گیا ہے جو کہ حق بجانب ہے تاہم ’’اردو تنقیدی میں ایک نئے موضوع‘‘ کا اشارہ محلِ نظر ہے کیونکہ اردو تنقید میں متون کے ثقافتی ڈسکورس پر کئی کتب اور مضامین پہلے ہی شائع ہوچکے ہیں۔ جن میں سید عبدالباری کی ایک ضخیم کتاب ’’لکھنو کے شعر و ادب کا معاشرتی و ثقافتی پس منظر‘‘ پروفیسر علی احمد فاطمی کی تنقیدی کتاب ’’ناول کی شعریات‘‘ میں شامل مضمون ’’ناول کے سماجی اور تہذیبی سروکار‘‘ ’’پروفیسر قدوس جاوید کی کتاب ’اقبالؔ۔ ۔ ۔ تخلیقیت، جمالیات اور مابعد جدید شعریات‘‘ کا ایک مضمون ’’اقبال، سماجی و ثقافتی جمالیات‘‘ وغیرہ شامل ہیں تاہم اس کتاب کی یہ ایک اہم خصوصیت قرار دی جاسکتی ہے کہ اس میں پہلی بار فکشن کے ثقافتی سروکار پر ’سائنٹفک مائکرو اسٹڈی، کے تحت منظم طور پر تنقیدی نقطہ نگاہ سے ارتکاز کیا گیا ہے۔

ثقافت ایک وسیع المفہوم اصطلاح ہے۔ مخصتر طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ثقافت کا دائرہ کار کسی بھی سماج کے عقائد، رہن سہن، مذاہب، معاشرت، معشیت، مادیت، علوم و فنون اور افکار و زبان پر محیط ہے۔ یا ‘بقول ای۔ بی، ٹیلر:
’’ثقافت کل طرزِ حیات پر محیط ہے۔‘‘ (E.B. Tylor….Primitive Culture.Vol.VII.P.7)

اب جبکہ کسی بھی سماج میں کوئی فن پارہ یا فکشن تخلیق ہوتا ہے تو لازماََ وہ اس سماج کے کسی بھی ثقافتی پہلو کی ساخت کی عکاسی کرے گا کیونکہ تخلیق کار تجربے کی بنیاد پر اس ثقافتی پہلو کو متن کا حصہ بناتا ہے تو فکشن  میں ثقافتی پہلو کے انہیں مباحث اور متن میں ثقافتی تجربوں کی موجودگی کو پیش نظر کتاب میں تنقیدی اسالیب کے تحت موضوع گفتگو بنایا گیا جیسا کہ مصنف کتاب کے ابتدائیہ ’’عصری تنقید اور ادبی ثقافت‘‘ میں اس پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے:

’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب خاص اور عام (انسان)خاص اور عام تجربات سے گزرتے ہیں اور یہ تجربات ادیب خاص طور پر فکشن کے تخلیق کار کے فکری نظام کا حصہ بنتے ہیں تو (لا) شعوری طور پر آزادی کے مستحکم اور مضطرب نقوش متشکل ہوتے ہیں۔ فکشن کی تہوں میں ان نقوش کا تحرک موجود ہوتا ہے جس سے مکانی حالتیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ آج کی فکر کا اہم حصہ یہ بھی ہے کہ متن میں موجود مشہور لسانی ترکیب ’آزادیٔ اظہار، کی تعریف اور اس کا تعین کیا جائے اور تقابلی موازنہ کرتے ہوئے دیکھا جائے کہ ایک خاص خطے کے ادبی (فکشنل) متون (آزادی ٔ اظہار کے تناظر میں) عالمی ادب کے مقابلے میں ارتقا کی کس ا سٹیج پر کھڑے ہیں۔‘‘ (فکشن ‘کلامیہ اور ثقافتی مکانیت:ص ۳۷)

اس طرح سے محولہ بالا اقتباس کتاب کے تنقیدی مکالمے کا اشاریہ ہے کہ اس میں کس قسم کے مباحث پر ارتکاز ہوا ہے۔ معیاری فکشن ایک طرح سے ثقافت کا فنی ساختہ (Artistic Counterfeit) ہوتا ہے۔ تاہم اس میں حقائق کی تہذیبی اضافیت (Cultural relativity) پوشیدہ ہوتی ہے جس کی صدائے باز گشت قرأت کے دوران قاری کی سماعت سے ٹکراتی رہتی ہے، کیونکہ اس میں کسی بھی سماج یا خطہ کی ثقافتی نشیب و فراز کے جلوے نظر آتے ہیں۔ زیر نظر تصنیف فکشن متون میں پوشیدہ انہیں ثقافتی حقائق کا مطالعہ جدید تنقیدی تھیوریز کی روشنی میں ثقافتی تنقید کے اطلاقی عوامل کے توسطہ سے پیش کرتی ہے۔ تھیوری کے مقصد کی اجمالی وضاحت کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ:

’’تھیوری کا سادہ سا مطلب یہ (ہے) کہ ثقافتی اور ادبی متون کو تھیورائز کرنا یعنی ایسی تنقید لکھنا جو فلسفیانہ انداز سے ادبی فن پارے اور اس کی مبادیات کو پرکھے اور اس کی نظریاتی اساس کو واضح کرے۔ ‘‘(ص:۳۹)

تھیوری کی مذکورہ توضیح اگرچہ در ست ہے تاہم ’’ثقافتی اور ادبی متون‘‘ کو الگ الگ لکھنا تھیوری کے دائرے کار کو محدود کردیتا ہے۔ بہتر ادبی متون لکھنا ہی ہوتا کیونکہ ادبی متن میں خود بخود ثقافتی جز متنی نظام میں موجود ہوتا ہے۔ تاہم تھیوری کا اطلاق اس متن پر بھی ہوسکتا ہے جس میں ثقافتی عنصر کم یا نا ہونے کے برابر ہو۔ اگر ایسے سوچیں تو تھیوری کی حد محدودہوجاتی ہے۔

کتاب میں ایک جگہ خوبصورت بات کہی گئی ہے کہ ’’ایک ادبی یا فکشن متن کلامیوں کی تجربہ گاہ ہے، جس میں مصنف، راوی، اور کردار اپنی لسانی تشکیلات کی وجہ سے خصوصی پہچان رکھتے ہیں۔‘‘(ص۴۹)۔ کتاب کا بنیادی تنقیدی ڈسکورس بھی فکشن متون خصوصاََ ناول اور تھوڑا بہت داستان کے تجرباتی کلامیوں کو موضوع گفتگو بنا رہا ہے جس کے متعلق خود مصنف بھی لکھتا ہے کہ’’۔ ۔ ۔ اس کتاب میں داستان اور خاص طور پر ناول کا مکانی جائزہ لیا گیا ہے۔‘‘(ص:۴۰) متن کا وجودی رشتہ اگرچہ تخلیق کار کی سوچ سے ہی جڑا ہوتا ہے کیونکہ جب تک وہ اپنی سوچ کو متن کا روپ نہ دے تو متن خلامیں وجود نہیں پاسکتا تاہم متن خلق ہونے کے بعد اپنی شناخت خود قائم کرتا ہے اور یہی شناخت قرأت کی پہچان بن جاتی ہے اور کبھی تخلیق کار کی موجودگی اور کبھی متن کی خود مختاری اپنی تفہیمی سمت طے کرنے میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ قرأت کے تفاعل میں تخلیق کار اور متن کے اختصاصی رول سے متعلق لکھا گیا ہے کہ ’’قرأت کے عمل میں پہلے متنی مکان ہے پھر ادیب کی ذات۔ ‘‘ (ص:۷۳)۔ اس کے باوجود یہ بات بھی خاطر نشیں رہے کہ متنی مکان کی تفہیم و توضیح کے دوران کبھی کبھی ادیب کی ذات (موجودگی) کا احساس معنویت کے اعتبار کو کم تر بنا دیتا ہے۔ بقول نار تھروپ فرائی: ’’There is really no such thing as self-expression in literature.‘‘ (Northrop Fry:Methology and Idealogy 😛 203) فرخ ندیم کے خیال ’’قرأت کے عمل میں پہلے متنی مکان ہے پھر ادیب کی ذات۔ ‘‘ اورفرائی کی متن کے فنی جواز سے متعلق تنقیدی رائے ’’ادب میں خود اظہاری کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔‘‘ اپنے اپنے مباحثے میں صائب‘ تاہم اعتدال کا یہی تقاضا ہے کہ کسی بھی متن کی تفہیم کے دوران حسب ضرورت دونوں چیزوں پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ (خیر یہ ایک بحث طلب موضوع ہے۔ جس پر الگ سے مکالمہ باندھنے کی ضرورت ہے۔) البتہ بیشتر متون ایسے بھی ہیں جو تخلیق کار کے مکان (ماحول) کی ہی عکاسی کرتے ہیں اور ایسے متون کی معروضی توضیح یا اشارے اس کتاب میں کئی اہم ناولوں اور کرداروں کے سنجیدہ مطالعات میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ جیسے: Jane Eyre.Wide Sargasso sea.Season of Migration to the North.Prospero.Caliban.The House of the Siprits. Ice Candy Man.Tess of the D’ Urbervilles. poetics of space.The Second Sex .
ٹیڑھی لکیر (شمن)، غلام باغ (زہرہ)، راجہ گدھ (سیمی شاہ)، کئی چاند تھے سرِ آسمان، گریز، گلیوں کے لوگ، مکان وغیرہ شامل ہیں۔

کتاب کے دیگر مقالے جس قسم کے تنقیدی ڈسکور س پر مدار رکھتے ہیں اور ناولوں کا تجزیہ پیش کرتے ہیں‘ اس کی بحث مصنف کے درجہ ذیل اقتباس سے ظاہر ہوجاتی ہے:

’’فکشن مکان میں محض سائنز (Signs)‘ نشانات کی دروبست سے متشکل نہیں ہوتا بلکہ یہ سائنز ہی اہم لسانی، سماجی و ثقافتی رشتے ہوتے ہیں۔ ادب اگر زندگی ہے تو سب سے پہلے تلاش اس زندگی کی (کرنی) ہے جو لسانی تشکیلات میں رواں دواں ہے‘ ادب آرٹ میں متشکل زندگی ہے اس لئے ان لسانی و ثقافتی اکائیوں کا فنی جائزہ لینا ہوگا کہ تخئیل کے وفور کی کونسی لہر اس بیانیے کی رگوں میں دوڑتی ہے، کس قسم کا تصورِ مسرت کاشت کیا گیا ہے‘ کونسا رنگ سیاسی ہے اور کونسا طبقاتی، کونسا قدری ہے اور کونسا اقتداری ہے۔ کوئی ہیرو ہے تو کن شرائط پر ہیروشپ  کی ترجمانی ملتی ہے، ولن ہے تو کس نوعیت کے حدود کی خلاف ورزی پر اس کے خلاف تعزیراتی قدم (اقدام) اٹھائے جارہے ہیں۔‘‘ (ص:۷۳)

اس کے ساتھ ساتھ اردو تنقید کے مروجہ عمومیت کے تاثراتی روّیہ کے برعکس تنقید کے تجزیاتی عوامل کی اہمیت پر لکھا گیا ہے کہ:

’’ہمارے ہاں عمومیت نے تنقیدکو تاثراتی بنادیا ہے اور یہی رجحان سکۂ رائج الوقت ہے۔ نقاد کا وظیفہ تاثراتی تنقید پیش کرنا نہیں بلکہ تخلیق میں متنائی گئی زندگی کی تہوں میں سوال تلاش کرنا ہے۔ متن کی تہہ داری میں ان پیداواری رشتوں اور ان ذرائع کی کھوج لگانا ہے، جو دکھ یا خوشی کا سبب بنتے ہیں۔‘‘ (ص:۷۴)

مصنف کے مذکورہ خیالات اگرچہ اپنی جگہ اہم ہیں کیونکہ آج بھی ادبی تنقیدسے نابلد افراد کسی کتاب یا فن پارے پر تاثراتی کلمات (جن میں کبھی کبھی چند خوبیوں یا خامیوں کا ذکر ہوتا ہے نہیں تو توصیفی کلمات ہی نظر آتے ہیں) یا کسی ناول یا افسانے کی کہانی دوہرانے کو تنقید سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجو د کئی معتبر ناقدین کا کام ناقدانہ بصیرت اور تجزیاتی عمل کا عمدہ نمونہ پیش کرتا ہے۔ پاکستان کے ناقدین (ڈاکٹرسید عبداللہ، وقار عظیم، وزیر آغا کے سوا) کا مجھے کم معلوم ہے کیونکہ ان کی زیادہ تر کتابیں میری نظر سے نہیں گزری ہیں تاہم ہمارے ہاں (اگر عصری تنقیدی منظر نامے کو ہی ملحوظ نظر رکھیں) پروفیسر گوپی چند نارنگ، پروفیسر حامدی کاشمیری، پروفیسر وہاب اشرفی، شمس الرحمن فاروقی، وارث علوی، پروفیسر عتیق اللہ، پروفیسر ابوالکلام قاسمی، پروفیسرعلی احمد فاطمی، پروفیسر طارق چھتاری، پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر قدوس جاوید وغیرہ کئی ناقدین کی نگارشات تنقیدی لوازمات کے عملی اطلاق کی بہترین مثالیں پیش کرتی ہیں۔ تنقید کے اسی عمومی رویہ سے عدم اطمانیت کا اظہار کرتے ہوئے نظریہ ساز نقاد پروفیسر حامدی کاشمیری نے اپنی تنقیدی تھیوری ’’اکتشافی تنقید‘‘ (جو کہ عمومیت کے اسیر لوگوں کے لئے کسی چیلنج سے کم نہ تھی) کی ضرورت و اہمیت کی وضاحت کئی دہائیوں پہلے کی تھی اور عملی طور پر بھی جاندار تحریریں پیش کی تھیں:

’’گزشتہ تین دہوں سے میں ادب کے مروجہ نظریات سے حتی الوسع استفادہ کرتا رہا ہوں لیکن ساتھ ہی محسوس کرتا رہا ہوں کہ ایک بدلتے، کثیر المقاصد اور چیلنج پیش کرنے والی ثقافتی صورت حال کے پیش نظر ادب کی ماہیت اور تفاعل کے تناظرات کی درستگی وقت کی اہم ضرورت ہے‘ اسی ضرورت کی آگہی کے مطابق میں قدیم و جدید ادب کی  تحسین کاری کے ضمن میں مروجہ تنقیدی معائر اور رویوں میں مناسب تبدیلیوں کو روبہ عمل لاتا رہا۔ ۔ ۔ ۔ میں اس بات پر اصرار کرتا رہا کہ ادب مخصوص لسانی عمل کے تحت اپنے انفرادی وجود کو پالیتا ہے۔ اس کا وجود وہ تخلیقی تجربہ ہے جو لفطوں کی ساختگی اور ان کے تہہ در تہہ رشتوں سے خلق ہوتاہے۔ ۔ ۔ ۔‘‘ (اکتشافی تنقیدکی شعریات:ص :۱۰۔ ۹)

کتاب کے مباحث میں ایک اہم مباحثہ عصری ڈیجیٹل زندگی میں فکشن کے بدلتے بیانیہ اور نئے موضوعات پر بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ:

’’اب سائنس اور ہارر فکشن مین ڈیجٹیلائزڈ ہوچکے ہیں۔ مشینی ہیجان کے باعث اب ہر قسم کے جن، بھوت، چُڑیلیں اور آسیب آڈر پر دستیاب ہیں۔ یہ نیا متن صارفی منشور ہے جس سے انسانی ہیئت اور اس کا فوٹو گرافک امیج تیار ہورہا ہے۔  فاصلے اور قربتیں اب قدر اساس نہیں بلکہ Digital کلچر کی رفتار سے متعین ہوتے ہیں۔‘‘ (فکشن، کلامیہ اور ثقافتی مکانیت:ص:۱۱۹)

میں سمجھتا ہوں کہ مصنف کے اس خیال پر اردو فکشن سے وابستہ افراد کو غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کئی لوگ ابھی تک فکشن کی نئی اقسام ہارر فکشن، فینٹیسی فکشن، نینو فکشن، مائکرو فکشن وغیرہ کا نام سن کر چونک اٹھتے ہیں۔ حالانکہ اب اردو میں کئی برسوں سے بہت سارے نمونے پیش بھی ہوئے ہیں۔ تاہم ہماری سوچ اور متن میںزیادہ تر افسانے اور افسانچے کا تصور ہی غالب حالت میں موجود ہے۔ باقی رہا تکنیکی طور پر موضوعاتی ٹریٹمنٹ کا مسئلہ تو اس کی تو بات ہی نہیں۔ متن کی تشکیل اور معنوی رد تشکیلی پرکھ کے تعلق سے امان آنند کے الفاظ میں بھی اچھی وضاحت کی گئی ہے کہ:

’’۔ ۔ ۔ ضروری نہیں کوئی متن اپنے خیال یا موضوع کے حوالے سے خود وضاحتی ہو۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ادبی متن میں درون متن یا اس کی زریں سطح پر جو ہلچل ہوتی ہے وہی متن کا منشا ہوتی ہے۔ ‘‘ (ص:۱۳۸)

تصنیف کے جن مقالوں ’’عصری تنقید اور ادبی ثقافت‘‘ ’’فکشن ‘کلامیہ اور ثقافتی مکانیت‘‘ ’’(مابعد)جدیدیت‘ ثقافتی سمتار (ولاسٹی) اور وجودی مکان‘‘میں ثقافتی‘ تنقیدی‘ مکالماتی‘ لسانی‘ ساختیاتی‘ موضوعاتی‘ مکانی و زمانی‘ ادبی‘ تاریخی وغیرہ موضوعات کوتنقیدی اور فلسفیانہ مباحثہ بنایا گیا ہے۔ ان کا اطلاقی عمل تھیوریز کے تجزیاتی فکرونظر سے’’ (مابعد) نوآبادیات‘ آئیڈیالوجی اور (اردو) ناول‘‘ ’’نائن الیون اور شناختی مکان و بحران‘‘ ’’تقسیم مابعد تقسیم: ثقافتی لکیریں‘‘ ’’(سرمایہ دارانہ) آزادی اور غصب وتسلط: روح عصر‘‘ مقالوں میں نظر آتا ہے۔ ان مقالوں میں اردو کے کئی اہم ناولوں ’’فردوس بریں‘‘ ’’فسانۂ مبتلا‘‘ (ڈپٹی نذیر احمد)’’ امراؤجان ادا‘‘ (مرزا ہادی رسوا) ’’آگ کا دریا‘‘ (قرۃ العین حیدر) ’’بارش سنگ‘‘ (جیلانی بانو) پر جزوی جبکہ چند عصری ناولوں ’’کتنے چاند تھے سرِآسمان‘‘ (شمس الرحمن فاروقی) ’’گریز (عزیز احمد)‘‘ ’’نولکھی کوٹھی‘‘ (علی احمد ناطق) ’’کبوتروں کی پرواز‘ مترجم :حمیرا اختر‘‘ (رسکن بانڈ) ’’گلیوں کے لوگ‘‘ (اقبال حسن خان) اور ’’مکان‘‘ (پیغام آفاقی) شامل ہیں۔

؎ان ناولوں کا تجزیہ معروضی انداز سے کیا گیا ہے جو کہ تجزیاتی تکنیک کا عمدہ ثبوت فراہم کرتی ہے کیونکہ ان میں کہانی دوہرانے یا سرسری طور پر موضوع کا تعارف پیش نہیں کیا گیا ہے بلکہ ہر ناول کے موضوعاتی سروکار‘ثقافتی عوامل‘زمانی ومکانی تفاعل‘لسانی وموضوعاتی پیش کش اور خصوصی طور پر کرداروں کی فکری‘ سیاسی‘ سماجی‘ نفسیاتی‘ جنسی‘ ثقافتی وغیرہ کئی مسائل و موضوعات کا متنی و بین المتنی (حسب مناسب انگریزی ناولوں کے تقابلی تجزیے)کا شاندار فلسفیانہ اور تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔

دوران گفتگو تاریخ اور فکشن کے مابین مماثلت اور افتراق پر بھی اظہار خیال کیا گیا ہے کہ

’’تاریخ کا مورخ یا فکشن کا راوی دونوں تخلیق کار ہوتے ہوئے مختلف سمتوں میں سفر کرتے ہیں۔ عام طور پر’’ مؤرخین بادشاہوں‘ وزراء اوراشرافیہ کے عروج وزوال کی داستان لکھ کر تاریخ رقم کردیتے ہیں لیکن ایک سنجیدہ فکشن نگار صرف کچھ ’ہونے‘ پر اکتفا نہیں کرتا نہ ہی اس کی منشا میں ایک خاص واقعہ کی ظاہری(کہانوی) تصویر کشی ہوتی ہے بلکہ وہ خاص وعام کرداروں کی واقعیت اور ’سراپائیت‘ میں محو ہوکر ان کی ان خوبیوں ‘خوابوں اور نفسیاتی کمزوریوں کو متن کرتا ہے جو کسی واقعہ میں اہم محرکات رہے ہوں۔ وہ ان کرداروں سے منسلک جزئیات نگاری سے پلاٹ کو مزید نکھارتا ہے۔‘‘(ص۲۶۵)

مجموعی طور پر یہ تصنیف ’’فکشن ‘ کلامیہ اور ثقافتی مکانیت‘‘ اپنے منفرد اسلوب اور ڈسکورس کے تحت فکشن شعریات کے منطقی و معنوی تفاعل کے توسطہ سے اردو فکشن (ناول) خصوصاََ معاصر اردو ناول کے لسانی ‘ساختی‘ موضوعاتی اور ثقافتی جہات کو جدید تنقیدی تھیویرز کے اطلاقی عمل کے معنی خیز مباحثوں سے موضوع گفتگو بنا رہی ہے اور دوران قرأت ایک تو قاری کی بصیرت افروزی میں اضافہ ہوتاہے اور ساتھ ہی صاحب کتاب کے عمیق مطالعہ‘ سنجیدہ ارتکاز اور تنقیدی نظر و علمی بصیرت سے بھی آشنائی ملتی ہے۔ ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ چند معروضات بھی پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک تو کتاب میں خیالات کی تکرار نظر آتی ہے جس کی وجہ سے قاری اکتاہٹ کا شکار ہوجاتا ہے‘ اس کے برعکس اگر کتاب کے اگلے ایڈیشن میں خیالات کو اجمالی لیکن جامع انداز سے پیش کیا جائے گا تو کتاب کی قراتی اور تفہیمی اہمیت بڑھ سکتی ہے اور کتاب کے مباحثے اپنامجموعی تاثر موثر انداز سے چھوڑ سکتے ہیں ‘علاوہ ازیں کئی جگہوں پر انگریزی اصطلاحات یا جملے غیر موزوں انداز سے شامل کئے گئے ہیں۔ پہلے انگریزی اصطلاح پھر بریکٹ میں اردو ترجمہSigns (نشانات)‘ یا صرف انگریزی الفاظ ‘ Ontologically سیگنفائر‘ سیگنفائڈ وغیرہ استعمال ہوئے ہیں جبکہ ان کے اردو مترادفات موجود ہیں۔ جیسے یہ جملہ کتنا عجیب لگتا ہے۔ ’’Ontologically دیکھا جائے۔‘‘

کتاب کے مطالعہ کے تعلق سے یہ بات ضروری ہے کہ اس اہم اور گہرے مباحث کی کتاب کا مطالعہ کرنے سے پہلے شامل کتاب تاثرات (رفاقت راضی) اور پیش لفظ (ڈاکٹرروش ندیم ) پر نظر دوڑانا بہتر رہے گا کیونکہ پیش لفظ میں کتاب کے موضوع‘ مباحثہ‘ اصطلاحات اور ڈسکورس کا شاندار احاطہ کیا گیا ہے اور کتاب کو سمجھنے کے لئے مفید دکھائی دیتا ہے۔ یہ کتاب فکشن تنقید میں قابل قدر اضافہ قرار دی جاسکتی ہے کیونکہ یہ کسی بھی فکشن متن کو کھولنے اور پرکھنے کے سائنٹفک اپروچ اور تکنیکی لوازمات کی بصیرت افروز رہنمائی کرتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20