ڈاکٹر حمیرا اشفاق صاحبہ کےافسانوی مجموعہ ’’کتبوں کے درمیان‘‘ ——– محمد تیمور

0

ڈاکٹر حمیرا اشفاق صاحبہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں اپ ادبی دنیا میں بحیثیتِ محقق، نقاداور فکشن نگار اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔ کتبوں کے درمیان ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے لیکن پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپ ایک عرصہ سے افسانے لکھ رہی ہیں۔ کتبوں کے درمیان، میں ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے معاشرے میں پسے ہوئے عام طبقے کے مسائل، عورتوں کے حقوق کی پامالی عورتوں کے لیے تعلیم جیسے بنیادی حق کے دروازے بند کرنے والے اور جن کے مرنے اور جینے کے فیصلے وڈیرے جاگیر دار اور پنچائیت کرتی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کی نئی نئی ایجادات کے بعد غریبوں کے استحصال کو اور عورتوں کو بطور ٹیشو پیپر استعمال کر کہ پھینک دینا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور عورتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

ڈاکٹر حمیرا اشفاق لکھتی ہیں

کہانی لکھنے کا جواز ہر تخلیق کار کے پاس نہیں ہوتا میرے پاس بھی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ؒلیکن میرے شعور اور لاشعور میں گونجتی آوازوں کو صرف الفاظ کے ذریعے ہی کاغذ پر منتقل کیا جاسکتا ہے میں نے بغیر کسی تکنیک کا سہارا لیے اپنے اندر جنم لینے والے سوالوں کو کہانی کی شکل میں ڈال دیا ہے۔ پہلا افسانہ مسٹر چرچل ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ سرمایہ دار نئے نئے ایجادات کے بعد کس طرح مزدوروں کا استحصال کر رہا ہے۔

لکھتی ہیں۔در اصل ہم پرانا مال ہین اس لیے ہمیں گوداموں میں پھینکے جانے کی کوشش ی جارہی ہے گذشتہ برسوں میں جھانکتے ہوئے وہ کہنے لگے پہلے کام انسان کرتے تھے اب ہر کام مشین کے ذریعے ہوتا ہے ہم پانچ لوگ ریلوے کے آفس میں جاب کرتے تھے پھر تین کو نکال دیا گیا اس میں ایک کردار مسٹر چرچل ہے جو مزدوروں کے حق میں آواز بلند کرتا ہے اور مزدوروں کے خلاف آڑڈر کینسل کروانے میں کامیاب تو ہو جاتا ہے لیکن تب تک وہ فوت ہو جاتا ہے۔

افسانہ گھگو گھوڑے میں ایک غریب باپ جو مٹی کے گھوڑے بناتا ہے اور ان کو اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ میلے میں فروخت کرتا ہے اس کو پورے دن میں صرف پچیس روپے بنتے ہیں دس روپے وہ اپنے بیٹے کو جھولا لینے کے لیے دیتا ہے اور اس کا بیٹا چابی والے گھوڑے کی فرمائش کرتا ہے جو دس روپے کا کہا ہے یوں گھگو گھوڑے چابی والے گھوڑے سے ہار جاتے ہیں۔

یہ افسانہ بھی سر مایہ دارانہ نظام کےمنہ پر ایک تماچہ ہے۔ افسانہ روشنی کا سفر، میں۔ عورتوں کو تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم رکھنے والے جاگیر داروں وڈیروں اور پہنچائت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے لکھتی ہیں۔

میں سندھ کی بیٹی ہوں مجھے زمین میں گاڑ دو گے تو میں کسی اور طرف سے راستہ بنا لوں گیتو سندھ کی بیٹی نہیں بدنامی ہےگھر کے اندر مر بیٹھ۔ شیدو نے سمی کو دروازے کے اندر دھکا دیتے ہوئے کہااور زور سے دونوں پٹ بند کر کہ کنڈا لگا دیا ماں ایک کونے میں کیکری کی ناکافی چھاؤں میں بیٹھی حیران آنکھوں سے دونوں بہن بھائی کی لڑائی دیکھ رہی تھی شیدو ماں کے قریب آکر زور سے دھاڑا تو وہ اور بھی سہم گئی. یہ نہیں جائے گی کسی سکول شکول ساری پنچائیت کا فیصلہ یے اب اگر گھر نہ بیٹھی تو برادری سے باہر سمجھو اماں پھر کر لینا اس منہ زور گھوڑی کی شادی۔
افسانہ کتبوں کے در میان، ان وڈیروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو نچلے طبقے کی عورت کو محض ٹیشو پیپر کی طرح استعمال کر کہ پھینک دیتے ہیں۔

ثمینہ نے ایک خط میں بتایا تھا کہ زینو سے ایک وڈیرے کے بیٹے نے زبردستی نکاح کر لیا تھا وہ نکاح نہیں کتبہ تھا جس پر اس کے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کا نشان تھا پھر کیا ہوا وڈیرے کی بیٹی پروٹے سٹے کی پاداش میں سوکن آئی تو زینو کو مجرم جان کر کم سے کم جو سزا تجویز کی گئی وہ موت تھی زینو کا باپ تو زندہ تھا عورت کا خون بہا بھی آپسی فیصلوں میں طے ہوتا ہے کبھی زمین کے بدلے اور کبھی معصوم عورت کو ونی کرار دے کر ڈاکٹر حمیرا اشفاق کے سلوب نہایت سادہ ہے ہر کہانی پڑھتے ہوئے اگلی کہانی پڑھنے کو دل کرتا ہے یہ ان کا پہلا افسانوں مجموعہ ہے لیکن پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک عرصہ سے کہانیاں لکھ رہی ہیں یہ اَفسانے اردو ادب میں ایک مفید اضافہ ہیں ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کو ضرور متاثر کریں گے یہ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیے ہیں اور اس کی قیمت نہایت مناسب صرف 500 روپے ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20