اقبال کا تصورِ عشق ——– انیلا رحمت

0

کلاسیکی شاعری میں عشق کا تصور عام ملتا ہے لیکن اِس میں اتنی وسعت اور جامعیت نہیں جتنی کہ اقبال کے ہاں ہے۔ کلاسیکی شاعری میں عشق صرف ہجرو وصال‘ محبوب کی ادائوں‘ ظلم وستم اور آہ و فغاں تک محدود تھا۔ اقبال کے ہاں عشق اپنی تمام تر معنویت اور جامعیت کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ اقبال نے عشق کو حقیقی معنوں میں پیش کیا ہے اور معنی و مفاہیم کا وہ پیراہن عطا کیا ہے جو کلاسیکی شاعری کے روایتی قصوں کے بوجھ تلے دَبا ہواتھا۔

اقبال نے تصورِ عشق میں آفاقیت پیدا کر دی ہے۔عشق کائنات کی روحِ رواں ہے‘ اس کے بغیر کائنات کا وجود ممکن نہیں۔ ڈاکٹر اسلم انصاری لکھتے ہیں کہ:

’’خودی کے تصور کے بعد اقبال کی شاعری کا سب سے اہم تصور عشق ہے جس کی بے تابی اور اضطراب ‘ سوز و گداز اور خلاقی انسان کو اپنی ذات کی وسعتوں اور زندگی کے برتر مقاصد سے آشنا کرتی
ہے‘‘۔

انسان جذبات اور خواہشات کا مجموعہ ہے انسان کے اندر ہزاروں جذبے اور خواہشیں پیدا ہوتی ہیں لیکن ہر جذبہ اور خواہش ایک حد تک انسان کو مضطرب کرتی ہے اور پھر اپنی موت آپ مر جاتے ہیں یا لاشعور کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ گویا بیک وقت جذبوں کا جنم بھی ہو رہا ہے اور اختتام بھی۔ اس کے برعکس عشق ایک ایسا جذبہ ہے جس کا آغاز ہے‘ عروج ہے لیکن اختتام اور حد کوئی نہیں یہ لازوال اور لامحدود ہے‘ ہر پابندی سے آزاد ہے ‘ زمان و مکاں کی قید سے بے نیاز آفاقی جذبہ ہے۔

می نداند عشق سال و ماہ را
دیر و روز و نزد و دور راہِ را

عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

اقبال کا عشق حقیقی ہے ‘ جس میں قنوطیت اور مایوسی کا کوئی گزر نہیں۔ اس میں بے مثال رجائیت اور یقین نظر آتا ہے۔ عشق وہ شے ہے جو ایک جست سے پوری کائنات کو مسخر کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں

بو علی قلندرکا زاویۂ فکر بھی یہی تھا کہ اگر عشق نہ ہوتا تو خدا تک رسائی ممکن نہ تھی حقیقتاً وہ متحرک جذبہ عشق ہی تھا جس نے ایک چھپے ہوئے خزانے میں جلوہ گر ہونے کی تحریک پیدا کی اور پوری کائنات کا وجود اور ظہور اسی امر کی گواہی ہے۔ بو علی قلندر کہتے ہیں:

اگر عشق نہ بودے بخدا کس نہ رسیدے
حسنِ ازلی پردہ زرح بر نہ کشیدے

اگر عشق نہ ہوتاتو کوئی خدا تک نہ پہنچ سکتا اور حسنِ ازلی اپنے چہرے سے پردہ نہ ہٹاتا۔ اقبال کے نزدیک بھی عشق کے بغیر خدا شناسی ممکن نہیں ۔ خدا تک رسائی کا واحد ذریعہ عشق ہے کیونکہ عقل اس قدر عیار ہے اور اس قدر محدود ہے کہ خدا تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ اقبال فرماتے ہیں:

’’خدا شناسی کا ذریعہ خرد نہیں ‘ عشق ہے ۔ جسے فلسفہ کی اصطلاح میں وجدان کہتے ہیں‘‘۔

اقبال اس وجدان کی حرارت آقائے دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ سے حاصل کرتے ہیں:

عشق دمِ جبرئیل ‘ عشق دلِ مصطفیؐ
عشق خدا کا رسول‘ عشق خدا کا کلام

عشق عرفانِ ذات اور روح کے ترفع کا نام ہے‘ عشق ایک قوتِ محرکہ ہے جو شخصیت کو نکھارتی ہے‘ زندگی کا بامقصد اور منظم بناتی ہے‘ خدا اور بندے کے درمیان رابطہ استوار کرتی ہے۔ عشق کائنات کے رگ و پے میں خون کی طرح گردش کر رہا ہے اور اسے آفاقیت عطا کرتا ہے ۔ عشق جس دل میں سما جاتا ہے اسے ابدیت حاصل ہو جا تی ہے ۔ موت عشق پر حرام ہے۔ اقبال عشق کو ایک ایسا خورشید سمجھتے ہیں جس پر کبھی شام نہیں آتی ‘ جو کبھی غروب نہیں ہوتابلکہ اسے ابدیت حاصل ہے اور یہ ہمیشہ چمکتا رہتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں:

عشق کے خورشید سے شامِ اجل شرمندہ ہے
عشق سوزِ زندگی ہے‘ تا ابد پائندہ ہے

مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصلِ حیات‘ موت ہے اُس پر حرام

اسی طرح سے اُنیسویں صدی کا نمائندہ شاعر مرزا غالب بھی عشق کو حاصلِ زیست قرار دیتا ہے کہ عشق ہی وہ جذبہ ہے ‘جس سے
زیست بامعنی ہے اور عشق ہی ہر درد اور پریشانی کی دوا ہے ۔ لیکن عشق بذاتِ خود لادوا ہے۔ غالب فرماتے ہیں:

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
درد کی دوا پائی‘ دردِ لادوا پایا

اقبال دیگر شعراکی طرح وصال کو ترجیح نہیں دیتے بلکہ وصال پر ہجر کو ترجیح دیتے ہیں ۔ وصال عشق کے لیے زہر قاتل ہے اور ہجر عشق کے لیے آبِ حیات ہے۔ وصل شوقِ عشق کا خاتمہ ہے ۔ اقبال کے نزدیک انسانی فطرت ہے کہ وہ جب تک کسی چیزکے حصول کے لیے جدوجہد کرتا رہتا ہے اس کے لیے اس چیز کی دلکشی برقرار رہتی ہے ‘ لیکن حصول کے بعد دلکشی اور اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔اقبال نامکمل طور پر سلگتے رہنے کو ہی ہمیشہ کی زندگی قرار دیتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں:

تو نشناسی ہنوز شوق بمیرد ز وصل
چیست حیات دوام؟ سوختن ناتمام

اقبال نے قیامِ یورپ کے دوران مفکرینِ اسلام کا وسیع مطالعہ کیااور مولانا جلال الدین رومی نے اقبال کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ رومی نے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے فنا فی اللہ کے بجائے بقائے ذات پر زور دیااور مایوسی اور نااُمیدی کے بجائے زندگی کے روشن پہلوئوں کو قلمبند کرکے لوگوں میں حرکت و عمل پیدا کرنے کی کوشش کی اور یہی اقبال نے بھی کیا۔ اپنے کلام کے ذریعے اپنی قوم میں تحریک پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ گوشہ نشینی کے بجائے اُمت کی بہتری کے لیے خود کو وقف کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ خانقاہوں سے نکل کر رسمِ شبیری ادا کرنے پر زور دیا:

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری

رومی عقل پر عشق کو فوقیت دیتے ہیں۔رومی کے جذبۂ عشق‘ تڑپ ‘ سوزوساز نے اقبال کو بے حد متاثر کیا اور رفتہ رفتہ رومی اقبال کے مرشد بنے اور اقبال مرید ہندی۔ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم نے اپنی کتاب’’فکر اقبال‘‘ میں لکھا ہے:

’’اقبال نے عشق کے مفہوم میں بڑی گہرائی اور وسعت پیدا کر دی ہے اور اس کے بارے میں وہ خاص طور پر عارف رومی کا شاگردِ رشید ہے ۔ اقبال نے حکمت و عرفان کے بیش بہا جواہر اسی مرشد سے حاصل کیے ہیں۔ لیکن عشق کے بارے میں وہ خاص طور پر رومی کا ہم آہنگ ہے‘‘۔

گویا اقبال نے اپنے مرشد مولانا رومی کو قافلۂ عشق کا سپہ سالار تسلیم کیا ہے اور ان کی مریدی پر فخر کیا ہے اور اس بات کا برملا اعتراف بھی کیا ہے کہ لاکھ حکیموں (عاقلوں) سے ایک کلیم(عاشقِ الہٰی) بہتر ہے۔

صحبت پیر روم سے مجھ پر ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سربجیب‘ ایک کلیم سر بکف

’حکیم‘عقل کے لیے استعارہ ہے اور ’کلیم‘ عشق کے لیے۔ عقل ایک ایسی شے ہے جو ہر کام سوچ سمجھ کر کرنے کی ترغیب دلاتی ہے۔عقل ہر کام میں نفع و نقصان دیکھنے کی عادی ہے۔ جبکہ عشق بے خطر کود پڑنے کا نام ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اقبال عقل کے خلاف ہیں۔ اقبال نے تو شوق کی منزل کے لیے عقل کو ’’چراغِ راہ‘‘ متعین کیا ہے۔اقبال کا مدّعا یہ ہے کہ عقل کے جال میں اُلجھنے کے بجائے اس کو چراخِ راہ بنا کر آگے بڑھا جائے۔

گذر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراخِ راہ ہے منزل نہیں ہے

اقبال عقل پر عشق کو اس لیے اہمیت دیتے ہیں کیوں کہ عقل ہمیشہ کشمکش کا شکار رہتی ہے۔ اس کی بنیاد شک پر ہے۔ یہ ناممکن اور ممکن کے درمیان اُلجھی رہتی ہے‘ ہر لمحہ وہم و گمان میں رہتی ہے۔ ایک کام نہ کرنے کے ہزاروں حیلے بنالیتی ہے۔منزلوں کی رہنمائی صرف عشق کر

سکتا ہے عقل کے پاس یہ فن نہیں۔
نشانِ راہ ز عقل ہزار حیلہ مپرس
بیا کہ عشق کمالِ یک فنی دارد

ہے ابد کے نسخہ دیرینہ کی تمہید عشق
عقلِ انسانی ہے فانی‘ زندۂ جاوید عشق

عشق لافانی ہے‘ زندہ جاوید ہے۔ اقبال کو عشق کی جرأ تِ رندانہ‘ یقین ‘ بے باکی اور ثابت قدمی پسند ہے۔ عقل فانی ہے‘ اس میں ثابت قدمی نہیں‘ خوف ہے‘ یقین نہیں بلکہ بے یقینی اور اُلجھن ہے۔بہادری کے بجائے بزدلی ہے جبکہ عشق ناممکنات کو ممکنات میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ عشق تخمین و ظن کے چکر میں نہیں پڑتا بلکہ بے خطر کود پڑتا ہے ۔ عقل ہر لمحہ نئے نئے بت تراشتی رہتی ہے۔ عقل بت تراش ہے اور عشق بت شکن ہے۔ عقل کفر ہے اور عشق عین اسلام ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

زماں زماں شکند آنچہ می تراشد عقل
بیا کہ عشق‘ مسلمان و عقل زناری است

عشق کے پاس وہ فن ہے کہ یہ فقیروں کو بھی بادشاہی کے گُر سکھا دیتا ہے ۔ عشق عطیہ خداوندی ہے ‘ یہ جس دل کو نصیب ہو جائے اسے مالامال کردیتا ہے ۔اس کا تعلق دُنیاوی آسائشوں سے نہیں ہے۔ جب عشق کی توفیق ملتی ہے تو سارے اسرارورموز کھلنے لگتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ عاشقوں کومعمولی نہیں سمجھنا چاہیے ۔ عاشقوں کے پاس شہنشاہی کے راز ہیں یہ بظاہر فقیر نظر آنے والے ہی اصل میں بادشاہ ہیں اور اپنی آستینوں میں یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں۔

جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ‘ ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

مولانا رومی کے نزدیک عشق کی بھٹی میں جلنے والا شخص کندن بن جاتا ہے۔ آتشِ عشق وجود کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے اور اس خاک سے نیا خمیر اُٹھتا ہے ‘ جو ہر بُرائی اور غلاظت سے پاک ہوتا ہے۔ عشق کا جام پینے والا لافانی ہوجاتا ہے ۔ عاشق دُنیا میں عاشق ہے‘ قبر میں عاشق ہے اور محشر میں بھی عاشق ہی اُٹھے گا۔

عقل اسرارورموز پر سوچ بچار تو کر سکتی ہے ‘ ادراک کر سکتی ہے لیکن عشق کائنات کو اُنگلیوں پر رقص کرتے دیکھ سکتا ہے ۔عقل صرف ظاہر اشیاء تک رسائی رکھتی ہے۔ جبکہ عشق کی ایک نوا حریمِ ذات میں شور پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ عشق ایسا سوز عطا کرتا ہے کہ عاشق کی ایک آہ آسماں تک جاتی ہے اور زخموں کو شعلوں کی سی تاثیر عطاکرتا ہے۔

میری نوائے شوق سے شور حریمِ ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بتکدۂ صفات میں

عشق کی گرمی سے شعلے بن گئے چھالے مرے
کھیلتے ہیں بجلیوں کے ساتھ اب نالے مرے

بزمِ کائنات کی ساری رونق اور ہنگامے عشق کی بدولت ہیں۔ اقبال کہتے ہیں:

عشق از فریاد ما ہنگامہ ہا تعمیر کرد
ورنہ ایں بزمِ خموشاں ہیچ غوغائے نداشت

مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں کہ عقل علم الکلام ضرور ہے لیکن عشق علم الکلام سے بالاتر ہے۔ عقل کی مثال کیچڑ میں پھنسے گدھے کے جیسی ہے ‘ جتنا زور لگائے گا اور پھنستا جائے گا۔

گرچہ تفسیر و زباں روشن گراست
ایک عشق بے زباں روشن تر است

عقل در سرحش چوخردر نجفت
شرح عشق و عاشقی ہم عشق گفت

عشق اپنا شکار خود کرتا ہے اور عقل جال میں پھنساتی ہے۔

عشق صید از زورِ بازو افگند
عقل مکار است و دامے می زند

عقل میں وہ خاصیت نہیں یا وہ فن نہیں جو خودی کی تربیت کے لیے لازم ہے ۔ خودی کی تربیت عشق کے ذریعے ممکن ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ عشق اور خودی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں یا ایک ہی منزل کے دومقام ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔ خودی عشق کا پہلا زینہ ہے۔ عشق کاخاصہ ہے کہ اس کا یقین اٹل اور پختہ ہوتا ہے اور خودی کے لیے بھی یقین محکم ضروری ہے لیکن اگر اس شک و شبہ کا گزر ہویا عقل کا دخل ہو تو اقبال کے نزدیک وہ عشق ہی نہیں ہے۔

وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک
اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا

لہٰذا عقل کی دلدل سے نکل کر عشق کی حدود میں داخلہ اور خودی کی تربیت عطیۂ الہٰی ہے۔

مہرو مہ و مشتری ‘ چند نفس کا فروغ
عشق سے پائدار تیری خودی کا وجود

ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم لکھتے ہیں:

’’عشق انسان کے اندر بصیرت اور قوت دونوں کا اضافہ کرتا ہے اور اسے ایسی حقیقت سے آشنا کرتا ہے جو زمانی اور مکانی نہیں ہے۔ عقل عالمِ مادی کو مسخر کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتی ہے۔ مگر عشق عالمِ مادی کو پرکار(خس و خاشاک) کے برابر سمجھتا ہے ۔ عشق کی قوت طبیعیات کے علم سے پیدا نہیں ہوئی اس کا مآخذ روحِ انسانی ہے جس کی باطنی قوتیں لامتناہی ہیں‘‘۔

اقبال بالِ جبریل کی نظم ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ میں کہتے ہیں:

عشق فقیہہِ حرم‘ عشق امیر جنود
عشق ہے ابن السبیل‘ اس کے ہزاروں مقام

اور زبورِ عجم میں کہتے ہیں:

من بندۂ آزادم ‘ عشق است امام من
عشق است امامِ من ‘ عقل است غلامِ من

اقبال نے فلسفہ و منطق کا عمیق نظر سے مطالعہ کیا ۔ رومی نے بھی فلسفہ و منطق پڑھا اور واعظ بھی دیتے رہے لیکن رومی کو بھی ایک ایسی کامل نگاہ کی تلاش رہی جس سے جذبۂ عشق پروان چڑھتا اور بلآخر رومی کو نگاہ ٔ شمس تبریزی کی صورت میں نصیب ہوئی جس نے ان کے سر سے عقل و منطق کا بوجھ اُتارا اور عشق کی دستار پہنا کر مرشدِ ہندی بنادیا۔مولانا رومی کو عشق نے جو لازوال سوزو تڑپ بخشا اس کا عکس ان کی شاہکار مثنوی میں واضح نظر آتا ہے ۔ مولانا رومی کی مثنوی کو فارسی کے قرآن کا درجہ حاصل ہے ۔ آٹھ سو سال بعد جب اقبال نے رومی کو پڑھا تو ان کو وہ نگاہِ عشق نظر آئی اور اقبال مریدہندی بن گئے۔ اقبال کہتے ہیں کہ رومی سے ہی میں نے روح کے راز معلوم کیے ہیں:

چو رومی در حرم دادم اذاں من
ازو آموختم اسرارِ جاں من

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20