سفر نامچہ فلپ آئی لینڈ، وکٹوریہ ——– سیّدہ ایف گیلانی

0

موسمِ گرما کی بہت سی انتہائی گرم شاموں کے برعکس آج صبح کا درجہ حرارت بادِ بہار کا منظر پیش کر رہا تھا۔ موسم کی اس تبدیلی کا فائدہ اٹھا تے ہوئے ہمارا بھی کسی ایڈوانچر کا حصہ بننے کا دل چاہا۔ لہٰذا آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ کے دارالحکومت میلبورن کے مضافات پر نگاہ ڈالی تو قرعہ فلپ آئی لینڈکے نام نکلا۔ یہ جزیرہ میلبورن شہر سے تقریباً148کلومیٹر کے فاصلے پرجنوب مشرق میں واقع ہے۔ اس جزیرے کا نام ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے پہلے گورنر آرتھر فلپ کے نام پر رکھا گیا کیونکہ اسے دریافت کرنے کا سہرا اس کے سر جاتا ہے جو 5 جنوری 1798ء میں یہاں پہنچا۔ فلپ ایک جزیرہ ہی نہیں بلکہ بندرگاہ بھی ہے۔ اس کا کل رقبہ ایک سو مربع کلو میٹر ہے اور آبادی دس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

ناشتے سے فارغ ہو کر تمام فیملی ممبرزنے اپنا اپناسامان پیک کیا اوررختِ سفرباندھا لیکن ا چھی طرح تسلی کر لی کہ موسم میں کوئی تبدیلی تو نہیں آرہی کیونکہ آسٹریلیا میں موسم بدلتے دیر نہیں لگتی اور میلبورن کا موسم تو بالکل ہی قابلِ اعتبار نہیں۔ پاکستان میں چار موسم جو سال بھر میں دیکھے جاتے ہیں، یہاں یہ موسم ایک دن میں دیکھے جاسکتے ہیں؛یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ بہت محتاط رہتے ہیں اور اکثر گرمی میں بھی سردی کا سامان گاڑی میں رکھ کر سفر کرتے ہیں۔

ہم جیسے ہی سفر کے لیے روانہ ہوئے، موسم انتہائی انسان دوست تھا یعنی درجہ حرارت23ڈگری سینٹی گریڈ تھا مگر آسمان کچھ دھواں دار تھا۔ یہ دھواں آسٹریلیا کے ان علاقوں سے آرہا تھا جن کو گزشتہ دو تین ہفتوں Bushfire نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ آسٹریلیا کو قدرت نے جہاں بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے وہاں اس ملک کے باسیوں کی تھوڑی سی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں ہر سال موسمِ گرما میں بش فائر لاکھوں ایکڑ اراضی کو جلا کر راکھ کردیتی ہے۔ رہائشی مکانوں کی ایک بڑی تعداد بھی ملیا میٹ ہوجاتی ہے؛تاہم حکومت کی توجہ اور ہنگامی حالات پر قابو پانے کی صلاحیت کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان نہیں ہوتا۔ آج میرا موضوع Bushfire نہیں؛ تاہم موسم چونکہ بش فائر کا ہے اس لیے نہ چاہتے بھی اس کا ذکر ہو گیا۔

ہمارا سفر جاری و ساری رہا اور میلبورن کی میٹرو آبادی جنوب مشرق کی طرف کوئی پچاس ساٹھ کلو میٹر کے بعد اختتام پذیر ہوئی اور دیہی علاقہ شروع ہوتے ہی سڑک کے دائیں بائیں ہر طرف صنعتیں نظر آنے لگیں اور دونوں اطراف درخت قطار اندر قطار تاحدِ نظر دکھائی دینے لگے جن کے پیچھے دور دور تک کھلیان پھیلے ہوئے تھے۔ ان کھیتوں میں گندم کی فصل کٹ چکی تھی مگر ہر طرف اس کی باقیات کے بڑے بڑے بنڈل (hay bales )پڑے ہوئے تھے۔ پھر جو انواع و اقسام کے فارمز کا سلسلہ شروع ہوا تو کہیں بھیڑیں اور کہیں گائیں چراگاہوں میں چرتی نظر آنے لگیں نیز کہیں کہیں گھوڑے بھی گھاس پھونس سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ جس سے یہ اندازہ لگانا نہایت آسان تھا کہ ان فارمز پر گندم کے علاوہ دوسری فصلیں بھی اگائی جاتی ہیں۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور ان پہاڑیوں پر وقفے وقفے سے اکا دکا فارم ہاؤسز بھی نظر آنے لگے۔ کچھ ہی دیر بعد وہ پل بھی نظر آنے لگا جو سمندر کے اوپر تعیمیر کرکے وکٹوریہ کے main landقصبےSan Remo کو جزیرہ فلپ کے قصبے New havenسے ملایا گیا ہے۔ اس پل کی لمبائی کوئی چھے سو میٹر ہے۔ نیو ہیون میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب چاکلیٹ فیکٹری تھی جو لگتا ہے بہت سوچ و بچار کے بعد بنائی گئی ہے تاکہ سیاحوں کو اس کی سیر کراکے کچھ زرِ مبادلہ بھی حاصل کر لیا جائے۔ ہم نے بھی اپنی گاڑی کھڑی کی تو دیکھا کہ سیاحوں کی لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ یہ سب فیکٹری میں چاکلیٹ بننے کے پروسس کو دیکھنے اور فری چاکلیٹ سے لطف اندوز ہو نا چاہتے تھے۔ انٹری کے لیے ہر فرد کو سترہ ڈالر ادا کرکے ٹکٹ لینا پڑتا تھا۔ ہم کچھ دیر قطار میں لگے لیکن وقت مانع رہااور ہم نے فیکٹری کی سیر کا پروگرام ملتوی کیا اورنیو ہیون کی کھوج میں نکل پڑے۔ جیسے ہی تھوڑا آگے بڑھے تو سڑک کنارے ایک بورڈ نظر آیا جس پر لکھا تھا ”چرچل آئی لینڈ“ اس طرف ہے۔ جزیر ہ فلپ کے قصبے نیوہیون کو ایک اور پل کے ذریعے چرچل آ ئی لینڈسے ملایا گیا ہے اس کا کل رقبہ کوئی ایک سو پچیس ایکڑ ہے۔ یہ جزیرہ بھی وکٹوریہ میں آنے والے یورپین کا تاریخی ورثہ سمجھا جاتا ہے۔

سیاحوں کی attraction کے لیے یہاں بھی کچھ activitiesکا اہتمام کیا گیا تھا۔ مثلاً کشتی رانی سے لطف اندوز ہونے والوں کے لیے سمندر کے اس حصے کی سیر کا انتظام تھا۔ مچھلیوں کا شکار کرنے والوں کے لیے بھی سامان بہم پہنچایا گیا تھا۔ اسی طرح گالف کے کھلاڑی بھی اس کھیل سے لطف اندوز ہو سکتے تھے اور پیدل چل کر اس جزیرے کو دیکھنے والوں کے لیے walking track بنے ہوئے تھے۔ اس چھوٹے سے جزیرے پر بھی پانی کے ننھے ننھے تالاب تھے جن میں بارش کا پانی جمع تھا۔ ان تالابوں میں بڑی بڑی بطخیں اشنان فرمارہیں تھیں۔ دراز قد بڑے بڑے سینگوں والی گائیں خراماں خراماں چلتے ہوئے پیٹ پوجا میں مگن تھیں۔ اکا دکاگھوڑے بھی چہل قدمی کررہے تھے۔ یہ سب جانور ایک باڑ کے اندر مگر کھلے تھے۔ آسٹریلیا میں کسان گائیں، بھیڑ بکریوں اور گھوڑوں کو چارہ کاٹ کر نہیں ڈالتے بلکہ ان جانوروں کوباڑ لگاکر متعین حدود کے اندر کھلا رکھا جاتا ہے جہاں وہ اپنی مرضی سے من پسند گھاس پھونس سے اپنا پیٹ بھرتے رہتے ہیں پھر سرِ شام یا ضرورت کے تحت کسان انہیں حفاظتی کتوں کی مدد سے ہانک کر شیڈ میں پہنچا دیتے ہیں۔ کچھ دیر جزیرہ چرچل پر رہے اور پھر جزیرہ فلپ کوکھنگالنے لگے۔ ہم ڈرائیو کررہے تھے کہ اچانک ہم ایک ڈیڈ اینڈ پر پہنچ گئے۔ یہ انتہائی خوبصورتbeachتھی جہاں کچھ لوگ surfingمین مشغول تھے۔ ہم لوگ ریت پر اترے تو نیل گوں شفاف پانی کی سبک رفتار موجیں ساحل کی طرف بڑھتی اور اپنا سر پٹک کر واپس لوٹ جاتیں۔ میں نے جب یہ منظر دیکھا توایسا لگا جیسے مرزا اسداللہ غالب نے اپنے اس شعر میں اسی منظر کی عکاسی کی ہو۔

ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے

ہر موج ایک خوفناک آواز کے ساتھ دم توڑدیتی تھی۔ آبی پرندے sea gull ان موجوں پر جھولا جھولتے شاید کسی شکار کی تلاش میں محو تھے کہ یہ لہریں ان کے لیے کوئی مزیدار مچھلی کا تحفہ پیش کریں۔ اس ساحلِ سمندر کی اچھی بات یہ تھی کہ کسی انسان کی پھیلائی ہوئی گندگی کا نام ونشان تک نہ تھا؛البتہ کہیں کہیں سمندری جھاڑیوں کے کچھ حصے جن کی بناوٹ پائن کی طرح تھی اور پھل انگور کی طرح بکھرے پڑے تھے یا پھر کالے رنگ کے چھوٹے چھوٹے پتھر تھے جو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ سمندر کے اندر اس حصے میں چٹانیں کالے رنگ کی ہوں گی۔ یہاں کوئی خاطر خواہseashellsنظر نہیں آرہے تھے۔ چلتے چلتے سامنے نظر پڑی تو پانی کے اندر چھوٹا سا الگ تھلگ ٹیلا دکھائی دیا۔ ہم نے وہاں تک چلنے کی ٹھان لی اور تقریباً تین کلو میٹر تک چلتے رہے۔ اس دوران کچھ فاصلہ تو ریت پر طے کیا اور پھر ساحل کے کنارے بلندی پر آگئے اور اوپر آنے کے لیے ہمیں تقریباً تیس چالیسsteps چڑھنا پڑے جو سیاحوں کی سہولت کے لیے بنائے گئے تھے۔ جب اوپر آئے تو یہاں سے سمندر کا منظر بہت ہی دل فریب لگ رہا تھا۔ چھوٹے چھوٹے dunesتھے اور ان میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے سوراختھے، کہیں کوئی درخت نہ تھا بس چھوٹے قد کی جھاڑیاں تھیں جو عموماًریتلی زمین میں ہوتی ہیں۔ پیدل چلنے والوں کے لیے باقاعدہ راستہ بنایا گیا تھا۔ یہاں گاڑیوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ اس walking track پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کیمرے نصب کیے گئے تھے۔ یہ کیمرے اس علاقے کے جانوروں کی نقل وحرکت کو مانیٹر کرنے کے لیے لگائے گئے تھے۔ ہم نے چلتے چلتے ان سوراخوں کے اندر جھانکنے کی کوشش کی لیکن کچھ نظر نہ آیا تاہم کچھ آگے چل کر ایک سوراخ میں ایک پرندہ جو فاختہ جیسا تھا، بیٹھا نظر آیا جس کی چونچ قدرے لمبی تھی اور ساتھ ہی اس کے بچے بھی تھے۔ ہم آگے بڑھتے رہے اور اس ٹیلے تک پہنچ گئے جو سرخ رنگ کے پتھروں کا تھااور کسی انسانی ہاتھ کی کاریگری کا نمونہ دکھائی دیتا تھالیکن ایسا نہیں تھا بلکہ وہ تو قدرت کی صناعی کا مظہر تھا اور بہت پر کشش بھی تھا۔ اس ٹیلے کی عکس بندی اور درشن کے بعد ہم نے واپسی کی راہ لی تو اچانک راہ داری میں ایک جانور خراماں خراماں چلتا ہوا نظر آیا۔ اس کی چال بطخ کی طرح تھی مگر اس کی طرح تیز نہیں چل سکتا تھا۔ اس جانور کا رنگ گہرا بھورا اور جسم پر کانٹے تھے اور چونچ لمبی تھی۔ یہ آسٹریلیا کاnative جانور Echidnaتھا۔ اسے دیکھ کر بے حد مسرت ہوئی کہ کچھ تو نظر آیا اور ایسا محسوس ہوا کہ ہمیں آج کی سیر کا حاصل مل گیاہو۔ یہاں سے نکلے تو جزیرے کے دیگر حصوں کو چھان مارالیکن اس میں جو زیادہ قابل ذکر جگہ تھی وہ کوالا ریزرو تھا جو سفیدے کے درختوں پر مشتمل تھا اور کوالا ان کے پتوں سے اپنی پیٹ پوجا میں مصروف تھے۔

اس جزیرے کی سب سے بڑی activityپینگوئین پریڈ(penguin parade)تھی جو جزیرے کے دوسرے انتہائی سرے پر غروبِ آفتاب کے بعد نظارہ کی جاسکتی تھی۔ ہم نے اس طرف کا رخ کیا اور چند کلو میٹر ڈرائیو کرنے کے بعد ایک چیک پوسٹ آئی جہاں لکھا تھا کہ اس علاقے میں صرف وہی لوگ داخل ہوسکتے ہیں جن کے پاس ٹکٹ ہے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ آج کے سارے ٹکٹ فروخت ہو چکے ہیں۔ یہ جان کر بہت مایوسی ہوئی تاہم یہ کہہ کر دل کو بہلا لیا کہ کوئی بات نہیں penguinsتو ہم پہلے ہی South Australia کے وکٹر ہاربر سے متصل granite Iselandمیں دیکھ ہی چکے ہیں۔ گویا انگور کھٹے ہیں والی بات ہوگئی!چنانچہ فیصلہ یہی ہوا کہ اب گھر کی راہ لی جائے لہٰذا ایسا ہی ہوا اور جزیرے کے عین وسط سے گزرنے والی شاہراہ پر اپنا سفر جاری رکھاجس پر بڑے بڑے درخت قطار اند قطار کھڑے تھے۔ اسی شاہراہ پر ڈرائیو کرتے ہوئے ہم اچانک ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں لوگوں کا ہجوم تھا، قریب جاکر معلوم ہوا کہ یہاں کوئی میلہ لگا ہوا ہے جہاں سرفہرست wineفروخت ہورہی تھی۔ چونکہ اس میلے میں ہماری دلچسپی کا کوئی سامان موجود نہ تھا اس لیے ہم نے رکنا مناسب نہ سمجھااور واپس میلبورن کی راہ لی۔ کوئی دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ہم بخیر وعافیت گھر لوٹ آئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: