ناف کے نیچے والے اور صغیر رحمانی کے دیگر افسانے —- محمد حمید شاہد

0

جب صغیر رحمانی نے ہندوستان سے اپنے افسانوں کا مسودہ بھجوانا چاہا کہ میں اس پر کچھ لکھ دوں تب تک ان سے بالمشافہ علیک سلیک ہوئی تھی۔ نہ کوئی فون یا خط اور نہ ای میل کا تبادلہ۔ صغیر رحمانی نے محمد غالب نشترسے رابطہ کیا اورمجھے مسودہ بھیج دیا۔ کچھ زیادہ عرصہ ہی یہ مسودہ میرے پاس پڑا رہا تاہم، ایک روز ہمت کی اور اسے پڑھ ڈالا تو خود پرافسوس ہوا تھا کہ ناحق اس کا پڑھنا التوا میں ڈالے رکھا۔ یہیں بتاتا چلوں کہ صغیر رحمانی افسانہ نگارہیں اور ناول نگار بھی۔ ان کا ناول “تخم خون” دو ہزار سولہ میں شائع ہوا تھا اور ادبی حلقوں میں خوب توجہ پائی۔ ان کا ایک ناول اور افسانوں کا ایک مجموعہ ہندی میں بھی چھپ چکا ہے۔ زیرنظر کتاب ان کے اردو افسانوں کا تیسرا مجموعہ ہے۔

اس سے پہلے کہ صغیررحمانی کے موصولہ افسانوں کی طرف آئوں، ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں، ہوا یوں کہ جومسودہ مجھے ملا، اس پرکتاب کا نام لکھا تھا “داڑھی”، اوہ تو کیا ایسا نام بھی افسانوں کی کسی کتاب کا ہوسکتا ہے؟ ممکن ہے، اس کے ترت نہ پڑھنے کا ایک سبب یہ بھی رہا ہو۔ میں نۓ صغیر رحمانی کو بھی لکھ بھیجا تھا کہ نام بدل لے۔ خیر میری یہ تجویز صغیر رحمانی کو پسند نہ آئی تھی۔ کتاب ان کی تھی میری تجویز ماننا نہ ماننا ان کا حق تھا۔ یہ حق نہ صرف انہوں نے استعمال کیا، جو عنوان میں نے اپنی تحریر کے اوپر جمایا تھا، (جی، وہی جواب اس تحریر پرآپ کونظرآرہا ہے) وہ بھی بدل کر “صغیررحمانی کا افسانوی اختصاص” کر لیا۔

عین آغاز میں بتاتا چلوں کہ صغیر رحمانی کے افسانے موضوع کے اعتبار سے دو طرح کا مزاج رکھتے ہیں اورلطف کی بات یہ ہے کہ ان دونوں قسموں کے افسانوں میں بیانیہ بہ ظاہر ایک سالگتا ہے مگربہت سلیقے سے ہمارے اس افسانہ نگار نے اسے اپنی نوع کے موضوع میں گوندھ کر بہت لطیف سطحوں پر الگ کر لیا ہے۔ کہہ لیجئے، بیانیہ اتنا سیدھا سادا نہیں ہے، کہ انہیں محض بیانیہ کہانیاں کہہ کر آگے ہو لیں؛ اس کے اپنے تخلیقی چھل بل ہیں، متن میں معنویت کی جوت جگانے والے اور اتنے تازہ کہ قاری کو پہلی سطر سے ہی گرفت میں لے لیں تو ساتھ ساتھ گھمائے پھرتے ہیں، حتٰی کہ کہانی ختم ہو جاتی ہے۔۔۔ لیکن صاحب، ختم ہونے کے بعد بھی کہانی کہاں ختم ہوتی ہے، یہ تو آخری سطرسے جی اٹھتی ہے، ققنس کی طرح اور پڑھنے والے کے لہو میں میں گردش کرنے لگتی ہے۔

میں نے موضوعات کے اعتبار سے، جن دو الگ طرح کے افسانوں کو ایک سی کامیابی کے ساتھ لکھ لینے کی اس قدرت کا اعتراف کیا ہے جو صغیر رحمانی کو عطا ہوئی ہے، اُن میں پہلی قسم تو ان افسانوں کی ہے جن میں فرد سے فرد کا تخلیقی سطح پر رشتہ معدومیت کی زد پر ہے ’’چائمس‘‘، ’’آخری لائن‘‘، ’’بوڑھے بھی تنگ کرتے ہیں‘‘، ’’سیڑھیاں‘‘ اور ’’میں، وہ اور جہانوی‘‘ جیسے پانچ افسانوں کو میں نے اس ذیل میں رکھا ہے۔ باقی بچ جانے والے بھی پانچ ہی افسانے ہیں، اور ان میں زندگی کا دائرہ پھیلتا ہے۔ یہاں معاملہ سیاسی، مذہبی اور سماجی معنویت سے ہوتا ہے۔ ان پانچ افسانوں کو بھی گنوائے دیتا ہوں؛ ’’داڑھی‘‘، ’’جہاد‘‘، ’’لیکن یہ۔۔۔‘‘، ’’ناف کے نیچے‘‘ اور ’’پہلا گناہ‘‘۔

افسانہ ’’چائمس‘‘ عورت کا قصہ ہے۔ ایسی عورت کا جومکمل ہونا چاہتی ہے۔ جس سماج کا ہم حصہ ہیں کہ اس میں عورت مکمل ہو بھی سکتی ہے؟ اور کیا وہ اپنی ممتا کے جذبے کی تسکین کے ساتھ مکمل ہو جائے گی؟ یہ سوال اپنی جگہ، مگر کیرتی جو چونتیس سال سے خود کونامکمل جان رہی تھی یقین رکھنے لگی ہے کہ وہ نو ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔ ایک ادھوری عورت، جسے اپنے شانت بدن سے نفرت ہونے لگتی ہے، گھن آنے لگتی وہ ڈاکٹر کے اس کہے کو کیسے مان سکتی ہے کہ ’’اس کے لیے پرگنینسی خطرناک ہے۔‘‘، ہوتی ہے توہو، وہ آدھی ادھوری نہیں جی سکتی تھی۔ اسے اپنے بدن کے ساتوں سرجگانے تھے۔ یہ سرجاگے بھی، مگرساتویں کے شروع میں ایسا درد جاگا کہ کیرتی سنہا کو اسپتال پہنچا دیا گیا۔ جس سے اسے مکمل ہونا تھا، اسے کیرتی کا پیٹ چاک کرکے باہر نکالا گیا۔ صرف چھہ مہینے اور کچھ دنوں کا آدھا ادھورا لوتھڑا اسے کتنا مکمل کرسکتا تھا۔ صاحب عجب کہانی ہے، عورت کے خالص تخلیقی اورلطیف جذبوں کے مطہر پانیوں سے ایک ایک لفظ کو غسل دے کر اس کہانی کوبُن لیا گیا ہے۔

“آخری لائن” میں بھی خالص تخلیقی اورلطیف جذبوں کو کہانی بنا لینے کا ہنرملتا ہے، مگر صاحب، یہاں کہانی آخری سطروں میں سارا معاملہ اوندھا دیتی ہے۔ تخلیق کے بھید بھنور کہتی اس کہانی میں، لکھنے والا جس موضوع کو لکھ رہا ہے (نہیں، بلکہ مجھے کہنا چاہیے کہ محض لکھ نہیں رہا، ’’چائمس ‘‘ کی کیرتی کی طرح تخلیقیت کا کرب سہتے ہوئے جنم دے رہا ہے) اس میں بازار، انسانی نفسیات کو اتھل پتھل کیے ہوئے ہے۔ کہانی کو ایک سے زیادہ سطحوں پر بنتے ہوئے صغیر رحمانی نے لکھنے والے کے اندر سے اس انسان کو ڈھونڈھ نکا لا ہے جسے بازار نے شقی القلب بنایا ہوا ہے۔ وہ زمانہ گیا جب اتنے ہی پاءوں پھیلائے جاتے تھے جتنی چادر میسر ہوتی تھی، کہ اب تو ہماری ضرورتیں بازار متعین کرتا ہے، ایسے میں رشتوں سے رشتوں کی حدّت کا الگ ہونا یقینی تھا، سو وہ ہوا۔ اعتماد سے اعتماد کی استقامت چھین لی گئی، محبت سے محبت کی کشش کوجد ا کیا گیا۔ انسان میں انسانیت نہیں رہی، سارا معاشرہ پیدا واری اشیا کی صورت ہو گیا۔ یہ وہ موضوع تھا جسے لکھی جانے والی کہانی میں لکھا گیا ہے مگر وہ کہانی جو لکھنے والے کے وجود سے چھلک پڑتی ہے، تیزاب کی طرح، اس نے اس عہد کے انسان کے چہرے کو اور بھی مکروہ بنا دیا ہے۔ ٹی وی اشتہارات کی سدھائی ہوئی صارفی ذہنیت جیت جاتی ہے۔ جی ایسی صارفی ذہنیت جس میں ضرورت ہو یا نہ ہو، نان سٹیک پین اہم ہوجاتا ہے، یوں کہ اس پردیوالی پر چھوٹ مل رہی ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ نفیس ترین جذبوں کی کہانی لکھنے والا بھی ہسپتال کے باہرسڑک کنارے ایک مجبورباپ کے بیٹے کی لاش پر چھچھلتی نظر ڈالتا ہے اور نان اسٹیک پین خریدنے نکل جاتا ہے۔

افسانہ ’’بوڑھے بھی تنگ کرتے ہیں‘‘ شرما وِلا کے مکینو ں کا قصہ ہے۔ کہہ لیجئے، شرما وِلا کے اے پی شرما، ان کے دو بیٹوں، بہوؤں اورسونو نام کے ایک پوتے کی کہانی ہے۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ آخر میں یہ محض اُس زندگی کی کہانی ہوجاتی ہے جو ہمارے وجودوں سے نکل گئی ہے۔ کسی کو بھی اس زندگی کے یوں بہہ نکلنے کا دھیان نہیں ہے، بس ایک اے پی شرما ہے جوبدن کی ہر دراڑ میں سے حیاتی کے پانیوں کو بہہ نکلنے سے روک رہاہے۔ اے پی شرما ملازمت سے سبک دوش ہو چکا ہے مگرزندگی سے سبک دوش ہونا نہیں چاہتا، مرنے سے پہلے مرنا نہیں چاہتا اورایسے جتن کرتا ہے جو اس کی اولاد کی نظرمیں بوڑھوں کونہیں جچتے۔ ماں بہن کی گالیاں بکتے احمد بھائی کی دکان پر بیٹھنا ہو یا اوور کوٹ ہیٹ بھول کرسردی میں واک پر نکل جانا، اپنے دوست گجادھر کے ساتھ ہلا گلا کرنا ہو یا کمپیوٹر پرنیٹ سرفنگ، یہ سب مرنے سے پہلے جیے چلے جانے کے حیلے ہی توہیں۔ ہم اِس طرح بوڑھوں کو کہاں جینے دیتے ہیں۔ ہمیں یہ جوشاندہ پیتے ہوئے، کھانستے ہوئے، ہائے ہائے کرتے، بستر پر لیٹے آخری گھڑیاں گنتے نظرآئیں تو بھلے لگتے ہیں، سو کہانی کے اے پی شرما کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ اسے سمجھایا جاتا ہے کہ محلے میں اور بھی بوڑھے ہیں، ان کی طرح رہیے۔ صغیر رحمانی کی کہانی والا بوڑھا، جو مر مر کی جینا نہیں چاہتا تھا چپکے سے مر جاتا ہے۔

افسانہ ’’سیڑھیاں‘‘ کو مصنف کے اس ایک جملے سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ’’سیڑھیوں کی یہ خوب صورتی ہوتی ہے کہ وہ بلندی کو چومتی ہیں اور پستی کو بھی۔‘‘ چوہدری شجاعت حسین کی یہ کہانی اس کے والد چودھری عنایت حسین کی بلندیوں اور پستیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مجھے اس افسانے کے جس کردار نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ امینہ بائی کاہے، وہی امینہ بائی جو بلندیوں کا حاصل تھی، شام کی محفل میں طاوَسی رقص پیش کرنے والی، چودھری عنایت حسین کے قلب میں بیتابیاں بھرنے والی اوران کے سامنے ایک موری پر بیٹھ کر پانی چھوڑ تے ہوئے ایک خاص طرح کی موسیقی پیدا کرنے والی۔ افسانے میں بتایا گیا ہے کہ اس خاص موسیقی سے چودھری عنایت حسین اتنے مسرور و محظوظ ہوا کرتے تھے کہ کئی علاقے اس کے نام کر دیے۔ وقت ایک پہلو پر کہاں پڑا رہتا ہے، سو اس نے کروٹ لی۔ ملک تقسیم ہوگیا، چودھری عنایت حسین نے امینہ بائی کے لیے وطن ترک نہ کیا۔ مگربتایا جاچکا کہ وقت تو پہلو بدل چکا تھا زمینداری جاتی رہی، امینہ بائی دق کی مریضہ ہو کر مر گئی۔ لیجئے یہاں یہ بھی بتانا ہوگا کہ یہ کہانی امینہ بائی اور چوہدری خاندان کی بلندی اور پستی کی نہیں اُس سیڑھی کی ہے جسے وقت نے اپنے سنہرے ہاتھوں میں تھام رکھا ہے۔ اس سیڑھی کی خوب صورتی یہ ہے کہ اس پر ربّو جولاہے کا بیٹا انوربھی پاوں دھرسکتا ہے اور چودھری خاندان کا معرفت حسین بھی۔

اسی قبیل کے آخری افسانے ’’میں، وہ اور جہانوی‘‘ میں سب کچھ ٹھیک ہے، مگر کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ یہاں ماں باپ اور اولاد جیسے رشتے ہیں مگران کے بیچ کہیں ایسا رخنہ رہ جاتا ہے کہ بظاہر جڑے ہوئے نظر آنے والے تعلق میں سے ان رشتوں کی مہک معدوم ہو جاتی ہے۔ اماّں سوتیلی نہیں سگی تھی مگر کمیش کو تھن سے تازہ نکلا گرم سادودھ دیتی اور بیٹی کو پانی ملایاہوا۔ اس کا خیال تھا بیٹا نام ونسب بڑھانے والا تھا۔ اگرایسا تھا، تو بیٹی کیا تھی ؟ یہ وہ توہین تھی جو سندھیا کی برداشت سے باہر تھی۔ بعد میں قائم ہونے والے رشتے پر بھی اسی توہین کے چھینٹے پرتے رہتے۔ آرو، اس کا محبوب شوہر، جو سوتے ہوئے اور بھی پرکشش لگتا، اس سے قائم ہونے والا رشتہ پریم کا تھا، مگر غیر برادری والے پریمی سے شادی انہی ہتک کے چھینٹوں کا نتیجہ بھی تھی۔ سندھیا کومحبت مل گئی مگر اس محبت کو شاداب رکھنے کے کچھ اور تقاضے تھے۔ صغیر رحمانی نے اس کہانی میں بہت چابکدستی سے ان تقاضوں کو نشان زد کر دیا ہے اور اس صورت حال کو بھی جو بہ صورت دیگر بیان نہ ہو پاتی مگر کہانی کے بیانیے میں گندھ کر قاری کی حسیات کا حصہ ہو جاتی ہے۔ سورج کا ڈوبنا ہو یا کہانی کے اختتام میں یہ جملہ؛ ’’ممّی، اب آپ اپنا لنچ باکس کیوں نہیں لے جاتیں، باہر کا کھانا صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا۔‘‘ بہت کچھ سجھا دیتا ہے۔

دوسری نوع کی جن کہانیوں کا ذکر یہاں بعد میں آئے گا، اُن میں فرد اور اجتماع سے کہیں زیادہ اس عصری حسیت سے معاملہ اہم ہو جاتا ہے جس نے ہمارے تہذیبی امی جمی کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے۔ موجودہ عہد کو دانش وروں نے دہشت کا زمانہ کہا ہے۔ ایسا زمانہ کہ جس میں انسانی زندگی بے توقیر ہو گئی ہے۔ قوت اور پیدواری منابع پر قبضے کا چلن عام ہے۔ ملکوں پر یا تو براہ راست حملہ کر دیا جاتا ہے یا پھر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے عالمی سامراج، مقامی کٹھ پتلی حکمرانوں کو اپنا ہرکارہ بنا لیتا ہے۔ عالمی سامراج نے داخلی ہرکاروں کی مدد سے دہشت کے اس زمانے میں ہماری حسیات کوبالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ میں نے کہیں جو لکھا تھا وہ یہاں بھی دہرا تا ہوں کہ ایک زمانہ تھا، ہم خوف‘ نفرت‘ غصے اور مایوسی کو الگ الگ محسوس کرنے اور بیان کر دینے پر قادر تھے، اب یوں لگتا ہے، ایسا ممکن نہیں رہا ہے۔ خوف کب نفرت میں ڈھلتا ہے اور نفرت کب غصے کے بعد مایوسی میں‘ ہم چاہیں بھی کو ڈھنگ سے جان نہیں پاتے۔ مسلسل حراس نے آدمی سے اس کے حواس چھین لیے ہیں۔ جس عہد میں ہم جی رہے ہیں اسے محض حواس باختگی کا زمانہ ہی نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں زندگی کے لطف اور اس کے اندر موجود تخلیقیت کو لذت اور افادیت سے بدل لیا گیا ہے۔ جی صاف لفظوں میں کہوں تو یوں ہے کہ تخلیقی عمل جو انسانی زندگی کو ایک خاص لطف سے ہمکنار کرتا تھا وہ آج کے عہد کی بظاہر ترجیحات میں کہیں نہیں ہے۔ میڈیا کی مقبولت اور پھیلاو نے جس نمائشی اور لذیذ زندگی کو مابعد جدیدیت والے جدید تر آدمی کے لیے نمونہ بنا دیا ہے اس نے تہذیبی اور اقداری نظام میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ ایسی دراڑیں آپ ان افسانوں میں بھی دیکھ سکتے ہیں جو اوپر بیان ہوئے مگر انہیں بہت واضح صورت میں دوسری قبل کے افسانوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلا ًدیکھیے کہ ’’جہاد‘‘ ان دنوں تک کہ جب تک روس افغانستان میں پسپا نہیں ہوا تھا، سامراجی قوتوں کا محبوب بیانیہ تھا۔ بدلی ہوئی صورت حال میں، جہادی آدمی مردود ہو گیا ہے مگر اپنے رد کیے جانے تک اس آدمی نے اس مذہبی اصطلاح کے معنی تک بدل کر رکھ دیے ہیں۔ ’’جہاد‘‘ نامی افسانے کا شمس، دین کے جس تصور کی تبلیغ کر رہا ہے، اس کی صورت بہت بگڑ چکی ہے، اب تو اس کی نسل بھی اس بگاڑ کا شکار بن رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارے افسانہ نگار نے اس کردار کو اہمیت دی ہے جو اپنے بچوں کی پرورش اپنی محنت سے کمائے ہوئے رزق سے کرتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ افسانہ پڑھتے ہوئے ہم بھاگلپور، میرٹھ، ممبئی، گجرات کے واقعات پر کڑھنے والے، ایران، عراق، افغانستان اور پاکستان کے لیے تڑپنے والے جہادی تبلیغی ملاسے کہیں زیادہ اس محنت کش درزی کے قریب ہو جاتے ہیں جو ایک حادثے میں زخمی ہونے والے اپنے پڑوسی کو خون دینے نکل کھڑا ہوتا ہے کہ آخر کو دونوں کا خون ایک سا ہے۔

جس طرح کا جہادی مبلغ ’’جہاد‘‘ میں شمس کے کردار میں دکھایا گیا ہے، ایسے ہی لائق نفرین کرداروں سے مل کر وہ فسادی طبقہ تشکیل پاتا ہے، جس نے داڑھی والے ہر شخص کو دہشت گرد بنا دیا ہے۔ وہ دہشت گرد ہے یا نہیں مگر اپنے اس حیلے میں ہم اسے دہشت گرد کے طور پر دیکھنے کو مجبور ہیں۔ افسانہ ’’داڑھی‘‘ فی الاصل داڑھی اور دہشت گرد کا افسانہ نہیں ہے، یہ تو اس دہشت زدگی کا افسانہ ہے جو ہمارے وجودوں سے گندی پیپ کی طرح رس رہی ہے۔ ایک عجب طرح کی بے چینی، گھبراہٹ، اضطراب ہے جو ہم کہیں بھی ہوں ہمیں چپکے سے آ لیتا ہے اور اندر سے ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ چپے چپے پر پولیس ناکے، تلاشی، میٹل ڈیکٹٹر، سونگھتے کتے، جگہ جگہ بالو بھری بوریاں، ان کے پیچھے بندوق سنبھالے کمانڈوز، چلتے چلتے کہیں بھی روک لیا جانا، سامان کا کھلوایا جانا اور ایک ایک چیز کو باریکی سے دیکھنا، یہ انسانی انا پرلگنے والے مسلسل چرکے ہیں۔ انہی کے بیچ کہانی کا ایک کردار مشکوک ہو جاتا ہے، کیوں کہ اس کے چہرے پر داڑھی ہے۔ وہ منھ کیوں چھپاتا ہے؟ وہ ادھر ادھر دیکھتا کیوں ہے؟ وہ اٹھ کر کیوں گیاہے؟ کہانی ختم ہو جاتی ہے، کچھ بھی غلط نہیں ہوتا مگر کیا جو ہو رہا ہے وہ سب صحیح ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جو کہانی اپنے آخر میں اُچھالتی ہے اور مسلسل تذلیل سے دوچار انسانی وجود کا احتجاج ہو جاتی ہے۔

افسانہ ’’لیکن یہ۔۔۔۔‘‘ میں صغیر رحمانی نے ’’جہاد‘‘ والے مولوی شمس کو کریم بخش سے بدل لیا ہے اور ’’داڑھی‘‘ والے مشکوک کردار کو کریم بخش کے بیٹے اسلام سے۔ جس نہج پر زمانے کی ہوا باندھ دی گئی ہے اس میں شمس کریم جیسے مثبت کردار کے حامل لوگ بھی اپنی ساری تعظیم اور تکریم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور وقت کے رحم و کرم پر یوں بے بس کر دیے گئے ہیں کہ اپنی اولاد کو بھی مذہب کی ان تعلیمات کے مطابق ڈھال نہیں سکتے جنہیں وہ ساری زندگی درست سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ امن اور سلامتی کی تعلیم دینے ولے کریم بخش کا بیٹا، دہشت گرد ہو جاتا ہے۔ افسانہ نگار نے کمال مہارت سے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا بھی ہے اور الگ کرکے دکھایا بھی ہے۔ صبح صبح دو گھنٹے محلے کے بچوں کو مفت اردواورعربی کی تعلیم دینے والاکریم بخش، ابھرے ناک، پچکے گال اورکھچڑی داڑھی والا، جو سفید کرتا پاجامہ پہنتا اوربھی اجلا لگتا تھا، گول ٹوپی پہنے اور کاندھے پرچارخانے گمچھے کو دھرے، مار دیے جانے والے ایک دہشت گرد کی لاش شناخت کر رہا ہے : ’’چلیے کریم بخش۔۔۔۔، شناخت کیجیے۔۔۔۔۔، اس نے ابھی ابھی چالیس بے گناہوں کو۔۔۔۔۔۔۔، کیا اب بھی آپ کہیں گے۔۔۔۔۔ اسلام ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔ اسلام ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ کریم بخش لاش کو دیکھتا ہے اوراسے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ اسی کا بیٹا اسلام ہے۔ تاہم وہ زور دے کر کہتا ہے ’’لیکن۔۔۔۔۔۔۔ یہ اسلام نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اسلام اصل میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ ایسی صورت حال میں اس طرف کوئی دھیان نہیں دیتا کہ ایسے میں تو سب اس دہشت گردی کو دیکھ رہے ہیں جو اسلام سے چپک کر رہ گئی ہے۔

افسانہ ’’ناف کے نیچے‘‘ میں اسی صورت حال کو ایک اور رُخ سے دیکھا گیا ہے۔ یہاں باقاعدہ دہشت کے اسباب نشان زد ہو رہے ہیں۔ سماجی ناہمواری، عدم اعتماد، انسانی تذلیل غرض ہرپہلو سے اور ہر زاویے سے دہشت زدگی ور دہشت گردی کی طرف بڑھتے سماج کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ کہانی کی تیکنیک سے افسانہ نگار نے سماجی تقسیم کواوربھی نمایاں صورت میں دکھادیا ہے۔ کہانی انسانی تذلیل کے تسلسل میں بندھے ایک کنبے سے شروع ہوتی ہے، تکریم پانے کی تاہنگ میں تبدیلی مذہب کا ارادہ کرنا اور اس کردار کا عدم پتہ ہو کر پھر سامنے آ جانا، اپنے اپنے عقیدوں کی سدھائی ہوئی نفسیات کے تضادات کو یوں سامنے لے آتا ہے کہ سارے میں تشدد پھوٹ پڑتا ہے۔ شمالی ٹولے کے ایک تاریک کمرے سے شروع ہونے والی کہانی، گول گنبد والی عبادت گاہ کے صحن سے ہوتی، نوکیلے گنبد والی عبادت گاہ کے چبوترے پر پہنچتی ہے تو بظاہر ایک نظرآنے والے معاشرے کے سارے تضادات باہراُبل پڑتے ہیں، یوں جیسے آگے کو نہ کھلنے والا گٹر اُبل پڑتا ہے اوراندر چھپی ہوئی ساری غلاظت سامنے آجاتی ہے۔ کہانی کچھ اور مراحل بھی طے کرتی ہے جیسے گاءوں کے فٹ بال میدان اور سیاسی پارٹی کا دفتر، یہ وہ مراحل ہیں جہاں اس تصادم اور معاشرتی تضاد سے سیاسی مفاد حاصل کرنے کے جتن ہوتے ہیں حتی کہ انسانیت کی لاش بدبو چھوڑنے لگتی ہے۔

اس کتاب کا آخری افسانہ ’’پہلا گناہ‘‘ بظاہر ناظرہ بی کے کوٹھے کی کہانی ہے۔ محض کوٹھے کی نہیں، ناظرہ بی بی کی اپنی اور اس کی سب سے چھوٹی لڑکی ثریا جان کی کہانی بھی ہے۔ اِسے لکھتے ہوئے افسانہ نگار کی نظر میں وہی سماج رہا ہے جو اندر سے سفاک ہو چکا ہے۔ کوٹھے کے منظر نامے میں ناظرہ بی بی کی اپنی کہانی (جس میں اس کے ساتھ ایک مولوی کا اولین جنسی تجربہ موجود ہے) اور اس کی چاروں بیٹیوں کے وجودوں کی تخلیق میں کام آنے والے نطفوں کی شناخت سے ایک پس منظر فراہم کیا گیا ہے۔ کہانی وہاں سے آغاز پاتی ہے جہاں سے چوتھی بیٹی پہلی بار اپنے فطری بہاءو سے پاک ہورہی ہے۔ ثریاجان کی نتھ اترنے کا دن دراصل اس کا اپنی ماں اور بہنوں کی طرح رنڈیوں کی جماعت میں باضابطہ شامل ہونے کا دن ہے۔ ایسے میں وہ اپنے حافظے پر زور دے کر اس شکل و صورت کو یاد کرنے کی کوشش کرتی ہے جس کا مادہ ثریاجان کی شہ رگ میں دوڑ رہا ہے۔ وہ حد درجہ کوشش کے باوجود اس کے تعین میں ناکام رہتی ہے۔ ایسی الجھن اسے باقی تینوں بچیوں کے حوالے سے نہیں ہے تاہم ثریاجان کے حوالے سے اُسے اتنا یاد ہے کہ ان دنوں افراتفری اور سراسیمگی کی بوچھاڑ کا زمانہ تھا۔ دکانوں کو آگ لگا دی جاتی اورسڑکوں پرخون بے قیمت بہہ رہا تھا۔ کیا بچی، کیا جوان اور کیا بوڑھی۔ عزت وناموس روئی کے گالوں کی طرح ہوا میں اڑ رہی تھی۔ گلی کوچوں، چوک چوراہوں پر حیوان، درندے، بھیڑیے رقص کر رہے تھے۔ لاغر، بے بس، بے حس اور کسی قدر مصلحت پسند نظام تماشابین بنا ہوا تھا۔ سب کچھ اس کی دستر س سے باہر تھا۔ اس کا وجود جیسے درہم برہم ہو کر بکھر چکا تھا۔ ایسے میں ثریا جان نے اس کے وجود میں کروٹ لی تھی۔ ناظرہ بی بی کو خیال آتا تھا کہ شاید یہی وجہ رہی ہو گی کہ وہ کبھی ثریا جان کے مزاج کے انوکھے پن کو سمجھ نہ پائی اور ہر گھڑی اس کے متعلق بے اطمینانی کا شکار رہی ہے۔ اس پس منظرسے کہانی کا وہ دہشت والا منظر جڑا ہوا ہے جو موجودہ صورت حال کی تصویر کھینچ کر رکھ دیتا ہے۔ ثریا جان کے کمرے سے فیروزخون سے تربہ تر جانگیے میں باہر نکلتا ہے۔ اس کے پیچھے دروازے پر ثریاجان کھڑی ہے۔ اس کے ہاتھ میں ناظرہ بی کے پیتل کی دستی والا سروتا ہے جس سے خون ٹپک رہا ہے۔

آخر میں مجھے کہنے دیجئے کہ صغیر رحمانی نے بہت خوب صورتی اور سہولت سے روح عصر کو اپنی کہانیوں کے تانے بانے میں بُن لیا ہے۔ خالص فکشن کے قرینے سے رواں، تازہ اور زندہ بیانیہ تخلیق کرتے ہوئے وہ اپنے متن میں ایسا وصف پیدا کر لیتا ہے، جو بس اسے ہی ودیعت ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ افسانے، اس لائق ہیں کہ انہیں توجہ سے پڑھا جائے۔ اوریہ بھی کہ یہ افسانے اپنے اندر ایسی صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان کا لفظ لفظ اپنے پڑھنے کے لہو میں گردش کرنے لگے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20