نصابِ روحانیت – قابل توجہ امور ——— سراج الدین امجد

0

روحانیت کے مضمون کو نصاب کا حصہ بنانے کے حکومتی اعلان پر ملا جلا ردعمل  قرینِ فہم ہے۔ کچھ طبقات نے تحسین کی ہے تو کچھ حلقے روایتی طعن و تشنیع میں الجھے ہوئے ہیں۔یہ سب کچھ غیر متوقع نہیں  کیونکہ جس معاشرے میں علم و حکمت اور تجدیدِ دین  کے عنوان سے جملہ حقوق اپنے نام سمجھنے والے مفکرین اگر تصوف و روحانیت کو ‘متوازی دین’ قرار دیتے ہوں، نیز خانقاہ و مزار سے وابستہ لوگ استخواں فروشی اور استحصال دینی کے نمونے  بن جائیں اور درگاہیں خرافات و رسومات کا ایک جہاں آباد کیے ہوں تو روحانیت کے نام پر  انتہا پسندانہ اور یک رخا رد عمل خلافِ قیاس نہیں۔ تاہم  کچھ پڑھے لکھے احباب کی آراء سن پڑھ کر زیادہ مایوسی ہوئی کہ  بنیادی مقدمات ہی درست نہیں۔حکومتی پالیسی کے حسن و قبح اور  پسِ پردہ محرکات  پر بحث کیے بغیر  ہم اصل مسئلہ کے بارے چند نکات پر غور کرلیں تو  شاید کچھ سوالات کا جواب مل جائے اور ہیجان خیز ردعمل کی نفسیات سے مغلوب ہونے کی بجائے ہم کسی تعمیری سرگرمی کا حصہ بن سکیں۔

۱-  جب کبھی تصوف کو نصاب کا حصہ بنانے کی بات ہوئی یہ ناچیز اپنے احباب اور حلقہ تعلق میں ہمیشہ اس کا مُویِّد رہا کیونکہ اس کی ایک بنیادی وجہ ہمہ گیر اخلاقی ابتری کی پیش بندی ہے۔ اس سے اختلاف نہیں کہ ہم سینکڑوں مسائل  میں گرفتار ہیں اور نکبت و ادبار ہمارا گویا مقسوم بن چکا لیکن مِن حیثُ القوم ہمارا ایک بڑا مسئلہ “زوالِ اخلاق” ہے۔ تربیت  تعلیم سے وابستہ ہی نہ رہی تو اخلاقی تزکیہ کا رونا کس سے روئیں۔ نہ گھر کی چاردیواری اس کی امین بنی نہ درسگاہِ علمی اس کی ضمانت دے رہی۔لہذا کسی درجے میں ہی سہی روحانیت  کو نصاب کا حصہ بننا چاہیے۔ کم ازکم نئی نسل فکری و نظری طور پر ہی اخلاقیات کی اہمیت سے آشنا ہو۔ انسانی طبائع موعظت و نصیحت سے اثرپذیر ہوتی ہیں۔ تصوف اپنے اسالیب میں گئے گزرے حالات میں بھی نتیجہ خیزی کی ضمانت دے رہا ہو تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے ہاں  برتنے کا سلیقہ ہونا چاہیے۔

٢–  دوسرا سوال یہ ہے کہ نصابِ روحانیت میں کونسی کتب شامل ہوں۔مقصدِ تعلیم سے آگہی ہو تو یہ بھی کوئی دقیق مبحث یا لاینحل مسئلہ نہیں۔روحانیت سے ہم تو تزکیہ و احسان ہی مراد لیتے ہیں۔ایسا طرز عمل جس میں عبادات و معاملات سے لیکر معیشت و معاشرت تک سنور جائیں۔ گویا روحانیتِ اسلام اخلاقِ محمدی کی تربیت کا ہی دوسرا نام ہے۔ رہا اسرارِ طریقت  کی دقیقہ شناسیوں اور فلسفہ ہائے وجود و شہود  کی نکتہ آفرینیوں کا مسئلہ تو نہ وہ عامۃ الناس کے لیے مطلوب ہے اور نہ کسی درجے میں مقصود۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شیخ سعدی کی “گلستان و بوستان” در اصل انہی عملی  مقاصد کی تکمیل کے لیے نصاب مدارس کا حصہ رہی ہیں  گو بعد میں فارسی زباندانی تک محدود ہوگئی۔ رہا یہ سوال  کہ نصاب میں اب  کیا شامل ہو۔ تو عرض  ہے کہ پوری پوری کتابیں نہ متقدمین کی ضرورت ہیں نہ متاخرین کی۔ بلکہ  باقاعدہ ایک نصاب مدون کرنے کی ضرورت ہے  مدونین نصاب کے لیے موزوں یہی ہے کہ امہاتِ کتبِ تصوف کو ہی مدار بنایا جائے تاکہ  اصل سرچشمہ خیر سے برکات سمیٹی جائیں۔  نصاب اگر جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بنانا ہے تو متقدمین، متوسطین ،متاخرین اور دورجدید کےصوفیہ کرام کے افکارو تعلیمات پر مشتمل ہوں توزیادہ بہتر ہے۔ اہم  کتب تصوف سے عموماً مراد  ابونصر سراج طوسی کی کتاب اللُمَع، ابو طالب مکی کی قُوتُ القلوب، ابوالقاسم قُشیری کا رسالہ قشیریہ، شیخ علی بن عثمان الہجویری کی کشف المحجوب، امام غزالی کی کیمیائے سعادت، شیخ عبد القادر جیلانی کی فُتوح الغیب، شیخ شہاب الدین سہروردی کی عَوارف المعارف اور شیخ ابن عطاء اللہ سکندری کی اِکمالُ الشِیَم  معروف و مشہور ہیں۔ ترکِ رذائل کے لیے یہ کتب اِکسیر ہیں۔ انسان دوستی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے پاک و ہند کے چشتی صوفیہ کی تعلمیات بڑی موثر ہیں۔نیز  رومی و جامی اور سعدی و حافظ کی شاعری سے بھی اقتباسات لیے جاسکتے ہیں۔مملکتِ خداداد پاکستان میں امن و آشتی اور اخوت باہمی کا پر چار کرنے کے لیے  صوفی شعرا مثلاً سچل سر مست، شاہ عبد اللطیف بھٹائی، حضرت سلطان باہو،  بابا بلھے شاہ، خواجہ غلام فرید، میاں محمد بخش  کا کلام  سوغات سے کم نہیں۔تصوف کے جدید نمائندگان میں حضرت واصف علی واصف، باباجی عرفان الحق،  پروفیسر محمود علی انجم، پروفیسر احمد رفیق اختر ، سید سرفراز شاہ، عبد اللہ بھٹی  کی کتب سے بھی استفادہ کرنا چاہیے۔ نصابی تشکیل میں جنابِ احمد جاوید صاحب،پیر ذوالفقار نقشبندی اور پروفیسر محمود علی انجم صاحبان ایسے عملی صوفیہ کرام اور صاحبانِ مشاہدہ و بصیرت  کی مشاورت نہایت کارآمد ہوگی ۔

۳–  کچھ لوگوں کی رائے میں موجودہ دور میں تصوف اور اس کے گونا گوں مظاہر ایک طرف خرافات و بدعات سے آلودہ ہیں تو دوسری طرف اباحیت زدگی اور وحدتِ ادیان ایسی سامراجی سازشوں کا من پسند موضوع لہذا اس سے اجتناب کیا جائے۔ اس خدشہ کا جواب یہ ہے کہ مغربی فکر سے مستنیر دینی تعبیرات تو تصوف بیزار حلقوں کا طرہ امتیاز ہیں لہذا اصل مسئلہ تصوف کا نہیں۔نیز مغربی حلقے اور تہذیبِ جدید کے علمبردار دین بیزاری کے لیے نت نئے اسالیب کے ساتھ نمودار ہوتے رہیں گے۔اس کا حل اپنی اعلی اقدار سے دستبرداری نہیں بلکہ بصیرت و حکمت کے ساتھ جوابی کاروائی ہے۔ملکی سطح پر کچھ لوگ (جیسے کچھ  دیوبندی و وہابی حلقے) مسلکانہ تنگ نظری کے باعث بھی تصوف کے نام سے الرجک ہیں۔ان کا خیال ہے کہ افغانستان جنگ میں جہاد کے نام پر ہماری جو آؤ بھگت ہوئی اب وہ بریلوی حلقوں کے پاس نہ چلی جائے لہذا وہ مدارس کے پلیٹ فارم سے مغرب کے ساتھ ڈائیلاگ کے تو علمبردار ہیں لیکن تصوف کے نام پر متوحش نظر آتے ہیں۔ باقی خواہش ہماری یہی ہے کہ تصوف و روحانیت کو مقامی و غیر ملکی ہر قسم کی آلائشوں سے پاک مثالی طرز عمل میں ہی ڈھلنا چاہیے۔رہیں بیرونی سازشیں تو مغربی ایجنڈے کی ترویج بذریعہ تصوف قبول ہے نہ تجدید و اجتہاد کے نام پر!

۴–  کچھ لوگوں کے خیال میں جدید تصورِ ریاست تصوف سے ہم آہنگ نہیں ۔لہذا تعلیمات تصوف ریاستی سطح پر کیسے بروئے کار لائی جا سکتی ہیں۔یہ بھی خلطِ مبحث ہے۔ بنی نوعِ انسان کے مسائل اسی حرص و آز کے عفریت کی تباہ کاریاں ہیں تصوف جن کا توڑ کرتا ہے۔ لہذا انسان دوستی،جمہوریت اور بہت سارے نظاموں کو برتنے والے اگر اس سرچشمہ خیر سے کچھ حاصل کرلیں تو کوئی حرج نہیں۔اسلامی تصوف بھی شرفِ انسانیت، عدل و انصاف اور خداخوفی کے جذبات ہی پیدا کرتا ہے۔ باقی یہ ملحوظ خاطر رہے کہ دنیا بھر میں اچھائی اور نیکی کی جتنی دعوت و تبلیغ بھی  ہو سارے لوگ نہ اچھے ہوسکتے ہیں نہ ہی اس  کائنات رنگ و بو میں ممکن۔ ہاں اپنے حصے کی اچھائی کی ترویج ضروری ہے۔

۵–  تصوف کے نصاب تعلیم کا ایک علمی و تحقیقی فائدہ یہ  ہوگا کہ مستقبل میں کالجز اور یونیورسٹیز میں اس مضمون میں اعلی تحقیقی کام کے راستے کھلیں گے۔ مُتونِ تصوف اور مخطوطات پر کام سے ہمیں بزرگانِ دین کے افکارِ عالیہ کی عظمتوں سے شناسائی ہوگی۔ ایسی علمی سرگرمی مغربی تہذیب کے غلبے کا تریاق بھی ہوسکتی ہے۔

۶– تصوف بالخصوص پاک و ہند کے مزاجِ تصوف میں مجبور و مقہور انسانیت اور بے آسرا لوگوں کے جسمانی و روحانی عوارض کا علاج بھی اہم گوشہ رہا ہے۔ جس میں خدا ترس اور نیک لوگوں نے بڑی خدمت بھی کی ہے گو جعلی پیروں اور ڈھونگی عاملین کی تباہ کاریاں بھی کم نہیں ۔تاہم  ارتکاز توجہ، یکسوئی اور مراقبہ سے ڈیپریشن اور کئی نفسیاتی جسمانی عوارض کا کامیاب علاج بھی ہوسکتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر جدید نفسیاتی اصولوں کے تحت ہم اس میں  مزید تحقیق و جستجو کریں تاکہ سائنسی طرز پر نتائج حاصل کرسکیں اور بڑے پیمانے پر انسانیت کی خدمت ممکن ہو۔

اس مضمون کا اختتام ایک ایسے شعر پر جو روحانیت کی معنویت کو خوب آشکار کرتا ہے، آپ بھی پڑھیں اور لطف اندوز ہوں
مباش درپئے آزار وہر چہ خواہی کن
کہ در طریقتِ ما غیر ازیں گناہ نیست

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20