پان کی رنگین داستان ——– اظہر عزمی

0

پان کی لالی کہاں کہاں اپنا رنگ جماتی ہے؟

پان ہماری تہذیب کاحصہ ہے لیکن وقت کے ہاتھوں یہ بد تہذیبی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ پہلے اسے بنانے، پیش کرنے اور کھانے میں ہزاروں نخرے ہوا کرتے تھے لیکن یہ اس زمانے کی باتیں جب پان کھانے والے رتبے کے اعتبار سے اپنی peak پر ہوا کرتے تھے۔ راجہ، مہاراجہ، نوابین، روساء کے ایک اشارے پر خدمت گار بھاگے چلے جاتے تھے مبادا کہیں وہ یہ پیک کسی پر یا اپنے لباس پر ہی نہ تھوک دیں اور تھو تھو ہوتی پھرے۔

ہندوستان میں پان کی ابتدا کیسے ہوئی؟ تو صاحبو تاریخ بتاتی ہے کہ کرشنا جی بھی پان کھایا کرتے تھے لیکن پان میں کیا پڑتا تھا اس کا پتہ نہیں پڑتا۔ سوال یہ ہے کہ پان نے یہ تیکھا رنگ جمایا کیسے اور اس کے یہ اجزائے تر کیبی اس کا حصہ بنے کیسے؟ تاریخ کو کھنگالا تو اس میں سے کچھ ماضی کے پان ملے اور انہوں نے اصل کہانی کھولی اور اس سے پان کی بالی اور لالی عمریا کا پتہ چلا۔

مغل بادشاہوں کی عورت اور حکومت سے محبت کوئی دھکی چھپی نہیں۔ ایک مغل بادشاہ ہوا کرتے تھے۔ جہانگیر بڑے دل پھینک اور بڑے دل سمیٹ ہوا کرتے تھے۔ ان کی بہت ساری بیویوں میں سے ایک ہوا کرتے تھیں مہرالنساء۔ ان کے پہلے شوہر شیر افگن کو پہلے ادھر اُدھر کیا اور بن بیٹھے مہر النساء کے شوہر نامدار اور نام رکھ دیا نورجہاں اور بنا بیٹھے اس کا کل جہاں۔۔ شادی کیا کی دماغ بس ایک ہی طرف لگ گیا۔ ہر بات پر نورجہاں سے مشورہ، رائے۔ سمجھ لیں بھائی جہانگیر ہر وقت نور جہاں کے کولھے سے لگے رہتے۔ حکومتی امور نورجہاں کے ہاتھوں انجام پا نے لگے۔ نورجہاں کے فیصلوں میں عقل و دانش جھلکتی اور باتوں سے پھول جھڑتے مگر ہائے قدرت کی ستم ظریفی۔ ذہین حسین سب… مگر منہ سے بد بو آیا کرتی۔ جہانگیر کی سمجھ میں کچھ نہ آتا کہ اس بات پر نور جہاں کے منہ کیسے آئے۔ گھنٹوںگذارنے ہیں نور جہاں کے ساتھ۔ اب بغیر منہ کی عورت بھی بھلا کس کی۔ جتنی بھی ذہین عورت ہو بات تو منہ سے ہی کرے گی اور منہ سے آتی ہے بدبو۔

ایک دن بادشاہ کا بو سونگھنے والا آلہ جواب دے گیا۔ بلا لیا سارے درباری حکیموں کو تاکہ تدبیر کریں اس بدبو کی۔ بادشاہ کا حکم سر آنکوں پر (سر آنکھوں پر نہ ہو تو سر ہاتھوں میں نہ آجائے)۔ بادشاہ نے مسئلہ بتایا اور صاف صاف کہہ دیا حل مجھے ہر حال میں درکار ہے۔ تم نے خمیرے، کشتے، دوائیں، الائیں بلائیں بنا لیں۔ اب دافع بد بو بنائو مگر نورجہاں کو یہ کانوں کان خبر نہ ہو کہ اس کے منہ سے بو آتی ہے۔ بس

جو بھی بنائو اس کا مزہ اسے بھا جائے اور ہمارے مزے لگے رہیں۔ حکیموں کی تو دوڑیں لگ گئیں۔ جنگل جنگل اور نہ جانے کہاں کہاں مارے مارے پھرے پھر بالاخر کوئی ایک حکیم یا دو ایک حکیم مل کر ایک نسخہ کے ہی آئے۔ اس میں مرکزی حیثیت پان کے پتے کی تھی۔ باقی سب کچھ اس پر بچھا دیا جاتا یا ڈال دیا جاتا۔ پہلے پتے پر چونے کی سفید تہہ بچھائی جاتی اس پر کتھے کی تہہ اور پھرچھالیہ کے کترے ہوئے چند دانے۔ اس کے بعد لونگ، چھوٹی الائچی، سونف، ناریل وغیرہ۔ نسخہ کامیاب رہااور یوں نورجہاں سر سے منہ کو آتی ہوئی پوری کی پوری جہانگیر کے من میں سما گئیں۔ اب نور جہاں کے مشورے اور بھی سر چڑھ کر بولنے لگا۔

آپ کو پتہ ہے بادشاہوں کے سب سے بڑے کاسہ لیس کون ہوتے تھے ؟راجے، مہاراجے، نوابین وغیرہ۔ اب نقلم نقلی یہ پان اودھ اور حیدر آباد دکن جا پہنچا اور تہذیب کا حصہ بن گیا۔۔ بادشاہ کا منہ چڑھا اور ملکہ کا منہ لگا تھا اس لئے آئو بگھت میں کوئی کمی نہ آنے دی گئی بلکہ اسے چاندی کے ورق لگا کر ساتویں آسمان پر بٹھا دیا گیا۔ خوشی کا کوئی موقع اس کے بغیر نہ مکمل ہوتا۔ رشتے سے لیکر شادی تک دولہا دلھن کے بعد کوئی اہم ہوتا تو یہ پان۔ آج بھی نکاح کے بعد چند ایک علاقوں میں پان کا ایک ٹکڑا دولہا کھاتا ہے جبکہ دوسرا دلہن کو کھلایا جاتا ہے۔ حیدر آباد دکن نے تو اس سے رشتوں کی پہچان کرانا شروع کردی۔ جہاں کوئی نئی شادی ہوتی۔ دلھن گھر آتی تو دوسرے دن کمرے میں سب جمع ہوجاتے اور بیچوں بیچ بیٹھتی دلہن اپنا گھونگھٹ کاڑھ کر اور سامنے رکھا ہوتا یہ بڑا سا جہیز کا پاندان۔ دلہن باری باری سب کو پان دیتی، رشتے میں جو چھوٹا ہوتا۔ دلہن کو اپنا نام اور دولہا سے اپنا رشتہ بتاتا۔ پان لیتا سلام کرتا اور الٹے پائوں لوٹ جاتا۔ رشتے اور عمر میں بڑے لوگوں کے پاس دولہا کی بہنیں دلہن کو لے جایا کرتیں۔ دلہن پان پیش کرتی اور تعارف حاصل کرتی۔

ہندو مذہب کے مطابق پان کے ڈنٹھل میں دیوتا پاما کی رہائش ہے یہی وجہ ہے کہ پان کی ڈنٹھل الگ کردی جاتی ہے۔ جنوبی ہندوستان کے ایک مندر میں میں پہلے بھگوان کے ماتھے پر لگے مکھن کو پان کے پتے پر لگایا جاتا اور پھر اسے بطور تبرک تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ بہار میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے دولہا دلہن اپنے خون کا ایک ایک قطرہ پان پر ٹپکا کر اس بات کا اقرار کرتے ہیںکہ اب ہم ایک دوسرے کے لئے یک جان ہوگئے ہیں۔ بھارت میں ایک روایت کے مطابق منگنی کے موقع پر دلہن کا باپ دولہا کو پان کا تحفہ بھیجتا ہے۔ مہاراشٹر میں پان تکون کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ کلکتہ میں پان کو بیڑا کھایاجاتا ہے۔ کلکتہ میں 11پان کے پتوں کا شاہی بیڑا بنا کرتا تھا۔ نازک مزاج لکھنو میں اسی گلوری کے نازنیں نام سے پکارا اور کھلایا جاتا ہے۔

تھا بہت ان کو گلوری کا اٹھانا مشکل
دستِ نازک سے دیا پان بڑی مشکل سے
(ریاض خیر آبادی)

پان پیش کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے تھے۔ خوبصورت چمکتی نقش و نگار والی طشتری میں پان پیش کئے جاتے جس سے مہمان کے لئے عزت و احترام کا اظہار ہوتا۔ مردانے میں پان بھجوانے ہوں تو کسی بچے کو سر کے بالوں سے لے کر پیر کی جوتی تک دیکھا جاتا۔ بتا دیا جاتاطشتری سیدھے ہاتھ میں رکھنا اور خبردار جو ایک لفظ بھی منہ سے نکالا جب تک باوا، دادا نہ کہیں چپکے کھڑے رہنا۔

پان کھانے کی بھی رویات ہوا کرتی تھیں جو اب ناپید ہیں۔ چھوٹوں کا بڑوں کے سامنے پان کھانا بد تہذیبی مانا جاتا۔ سیدھے ہاتھ سے پان کھائیں۔ بائیں ہاتھ منہ پر رکھیں۔ منہ کھلا نظر آجانا اخلاقیات کے خلاف تھا۔ جن کو یہ آداب نہیں آتے تھے۔ لوگ تاڑ جاتے تھے کہ آدمی خاندانی نہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے گھر کے مرد کبھی کبھی طنز میں اجُڈ یا پھر ٹُچے کا لفظ استعمال کرلیا کرتے۔ بغیر اجازت پاندان کو ہاتھ لگا نا ایسا ہی تھا جیسے کسی کی جیب یا بٹوے میں ہاتھ ڈال دیا جائے۔ گذرے وقتوں میں پان کا پیشہ تنبولن کیا کرتی تھی۔ وجہ یہ ہے کہ فارسی میں پان کو برگِ تنبول کہا جاتا ہے۔ پان نے جب بازار کا رخ کیا تو بازاری ہو گیا اور اس کی عزت جاتی رہی۔ اب کہاں کے پان اور کہاں کی تنبولن ؟ تنبولن کا لفظ اب لغت میں رہ گیا ہے۔ تنبولن کے ایک معنیٰ پان بیچنے والے کی شرکِ حیات کے بھی ہیں۔

پوچھا میں تنبولن سے دکان پریہ جا
دل پھیر نہ پان کی طرح سے اپنا

ہمارے یہاں پان بیچنے والے کو پنواڑی کہا جاتا ہے جبکہ اب تو لوگ پان کھانے والے کو بھی پنواڑی کہنے لگے ہیں

یہ پان جب کوٹھے پر پہنچا تو طوائفوں نے پان کو شہرت د شہوت دوام بخشی۔ انداز دلبری کے سارے تیر اس سے ہی چلائے جانے لگے۔ منہ کی لالی سے کتنے ہی دل گھائل ہوئے۔ نورجہاں کے اس پان نے کوٹھوں پر کیا گل کھلائے، اللہ جانے کیا کیا کچھ ملایا جانے لگا ہے۔ نورجہاں کے لئے جہانگیر کا یہ چونچلا کوٹھے پر پہنچ کر بہت من چلا ہوگیا۔ اردو ادب بھی پان کی رنگینوں سے سجا ہے۔ پان کا پتہ بیل پر اُگتا ہوتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ یہ پان کی یہ بیل خوب مونڈھے چڑھی ہے بلکہ بہت منہ چڑھی ہے۔

پان ہندوستانی کی فلموں میں بھی اپنا چوکھا رنگ جماتا چلا آرہا ہے۔

پونے سے لائے پان رے ( فلم آبرو)

پان کھائے سیاں ہمارو (فلم تیسری قسم)

کھائی کے پان بنارس والا (فلم ڈان)

پان کی بات فلموں تک آگئی تو پھر موسیقی کے میدان میں بھی پان نے اپنے سُر خوب ہی بکھیرے ہیں۔ بڑے بڑے غزل گو اور قوال منہ پان نہ ہو تو منہ نہیں کھولتے۔ یہ بھی حسن ِاتفاق ہی ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنی ملکہ نورجہاں کیلئے پان کی ایک ختم نہ ہونے والی محفل سجا دی تو دوسری طرف ملکہِ ترنم نورجہاں نے اسی پان کے توسط سے ایک شہنشاہ غزل کو متعارف کرایا۔ قصہ کچھ ہوں ہے کہ ملکہ ترنم نورجہاں گلبرگ لاہور کی ایک دکان پر پان کھانے جایا کرتی تھیں۔ ایک روز وہ اپنی گاڑی بیٹھی پان کے آنے کا انتظار کر رہی تھیں کہ ان کے کانوں میں ریڈیو سے نشر ہونے والی مہدی حسن کی ایک غزل اپنا رس گھول گئی اور جب ملکہ ترنم نورجہاں کو آواز پسند آجائے تو پھر اس کا مقدر کیسے نہ جاگے۔ یوں خود بھی پان کے بے انتہا رسیامہدی حسن پر لاہور کی فلم نگری نے دیدہ و دل فرشِ راہ کردیا۔

ادب پان کی رنگینیوں سے سجا سنورا ہے۔ فارسی، ہندی اور اردو میں پان پر کیا کیا مضمون باندھے گئے ہیں۔ امیر خسرو جیسا عظیم المرتبت شاعر پان کے لئے رطب اللسان نظر آتا ہے:

نادرہ بَرگے چوگُل دربوستاں
خوب ترین نعمت ہندوستاں

میر نے کہا:

غنچہ ہی وہ دھان ہے گویا
ہونٹ پر رنگِ پان ہے گویا

جب امیر خسرو اور میر تقی میرنے کہہ دیا تو پھر ان کے بعد آنے والے کہاں خاموش رہتے۔ ذیل میں قارئین کے لئے قدغیرر معروف اشعار پیس کئے جارہے ہیں:

اٹھایا اس نے بیڑا قتل کا
کچھ دل میں ٹھانا ہے

چبانا پان کا خون بہانے کا بہانہ ہے
(مردان علی خان)

بالوں میں بَل ہے، آنکھ میں سرمہ ہے، منہ میں پان
گھر سے نکل کے پائوں نکالے، نکل پڑے
(امداد علی بحر)

گلوری رقیبوں نے بھیجی ہے صاحب
کسی اور کو بھی کھلا لیجئے گا
(واجد علی شاہ اختر)

چلا آتا ہے تنہا، کیا سجیلا میرا قاتل ہے
دہن پان خوردہ، آنکھیں سرمگیں، رخسار پر تِل ہے
(اکبر وارثی)

غالب خود پان کے شیدا تھے۔ رمضان کے دنوں میں غالب نواب مرزا حسین کے ہاں تشریف فرما تھے۔ غالب پان کھا رہے تھے کہ ایک روزہ دار آپہنچے۔ غالب کو پان کھاتے دیکھا تو بولے ـ “قبلہ آپ روزہ نہیں رکھتے؟ غالب نے اپنے تخلص کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا “شیطان غالب ہے”۔

پان کی دکانوں پر بھی پان کے لئے اشعار نظر آتے ہیں جہاں کھتا لگے شعرا ء تباہ آزمائی کرتے نظر آتے ہیں۔

کھتا نہیں ہے ظالم خونِ جگر ہے میرا
نازک لبوں کی خاطر میں پان بیچتا ہوں

پان کھانے کے لئے پیدا کیا انسان کو
پتے کھانے کو وگرنہ کم نہیں تھیں بکریاں

پان کھانے والوں کی پچکاری سب سے پہلے تو اپنے کپڑوں پرنقش نگاری کرتی ہے۔ پان کھانے والے منہ کے پینٹر ہوتے ہیں۔ ان سے بڑا تجریدی آرٹسٹ کوئی نہیں ہوتا۔ دیواروں پر وہ وہ شہ پارے تخلیق کرتے ہیں کہ بڑے بڑے پینٹر منہ پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کوئی دیوار خالی دیکھیں تو ان کا دل مچل مچل جاتا جاتا ہے اوردیوار کو کینوس بنا کر سکینڈوں میں اپنا کام کر جاتے ہیں۔ یہ پان ہی کی کرشمہ سازیاں ہیں کہ بندہ منہ میں پان آتے ہی تخلیق کار بن جاتا ہے۔

اردو میں پان کے محاورے اور ضرب المثال کا بھی بڑا زور ہے۔ مثلاً سات پان کا بیڑا، پان اور ایمان پھیرے سے ہی اچھا رہتا ہے۔ پا پھیرنا (وقت کاٹنا)، پان کھلائی(منگنی) پان کا لاکھا (پان کی لبوں پر سرخی)، پان دان کا خرچ، پان اٹھانا (ذمہ داری اٹھانا)۔ بیڑا اٹھانا وغیرہ وغیرہ

ضرب المثال بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھیں:
پان پرانا، گھرت نیا اور کلونتی نار مطلب پرانا پان، نیا گھی اور پاک دامن بیوی تب ملتی ہے جب خدا خوش ہو۔ پان سے پتلا، چاند سے چکلا( نہت نازک اورخوبصور پان کھلانا)

ہندی میں تو پان کی پہیلی بھی موجود ہے:

سات کبوتر، ساتوں رنگ
محل میں جاویں ایک ہی سنگ
ہرا رنگ ہے نج دو بات
مکھ میں دھرے دکھاوے جات
دیکھ جادوگر کا کمال
ڈالے سبز نکالے لال

ضرب المثال ہوں کہ محاورے۔ پہلیاںہوں کہ کھنکھناتے، شرارت بھرے جملے۔ ۔ ۔ پان کی شوخی اپنا رنگ جماتی رہے گی۔ پان جہاں بھی ہوگا اپنی تمام تر لالی اور ہوش ربائی کے ساتھ ہونٹوں کو لال کرتا رہے گا۔ ہر محفل میں پان کی یہ آواز آتی رہے گی:

یہ محفل جو آج سجی ہے
اس محفل میں ہے کوئی ہم سا
ہم سا ہو تو سامنے آئے


مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20