کیا کیانہ دیکھا، اردو کا طویل ترین، چشم کشا انٹرویو ——– نعیم الرحمٰن

0

منیر احمد منیر بلاشبہ اردو کے سب سے بڑے اور منفرد انٹرویو نگار ہیں۔ انہوں نے سیاست، فلم، ادب اور دیگر شعبوں کے افراد کے بہترین انٹرویو کیے ہیں۔ منیر احمد منیر کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ جس شخص کا مصاحبہ کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں پورا ہوم ورک کرتے ہیں اور بعض ایسی باتیں بھی اگلوا لیتے ہیں جو مذکورہ فرد آسانی سے کہنے کو تیار نہیں ہوتا۔ دوسرے وہ تحریر میں انٹرویو کے تمام گفتگو بلا کم و کاست کسی رد و بدل کے بغیر پیش کر دیتے ہیں۔ اردو، پنجابی یا انگلش میں جیسے جو لفظ بولا گیا ویسے ہی تحریر ہوتا ہے۔ اس سے تحریر میں روانی اور دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ اسی کے عشرے تک منیر احمد منیر پندرہ روزہ جریدہ ’’آتش فشاں‘‘ شائع کرتے تھے۔ جس میں ہر شعبہ زندگی سے متعلق افراد کے انٹرویوز شائع کیے جاتے تھے، پھر یہ انٹرویوز آتش فشاں پبلشرز کے تحت کتابی شکل میں بھی شائع ہوئے۔ اس ادارے نے کئی بے مثال کتب شائع کیں، پندرہ روزہ جریدہ بند ہونے کے بعد بھی آتش فشاں پبلشرز کی کتابوں کی اشاعت جاری رہی۔

منیر احمد منیر قائد اعظم کے حقیقی پرستار ہیں انہوں نے ’’گریٹ لیڈر‘‘ کے نام سے دو جلدوں میں قائد کی شخصیت کے بارے میں چھیالیس افراد کے انٹرویوز شائع کیے۔ قائد اعظم کے بارے میں کئی اور عمدہ کتب بھی ادارے سے شائع کی گئیں۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بارے میں’’المیہ مشرقی پاکستان پانچ کردار‘‘، ’’سیاسی اتار چڑھاؤ‘‘ اور ’’پاکستان۔ سیاسی جوار بھاٹا‘‘ بہت عمدہ کتب ہیں۔ حال ہی میں ’’نواز شریف اور بے نظیر‘‘، ’’ان کہی سیاست‘‘، ’’مٹتا ہوا لاہور‘‘ اور ’’اب وہ لاہور کہاں‘‘ جیسی کتابیں بھی منظر عام پر آئیں۔ لیکن منیر احمد منیر کے انٹرویوز پر مبنی جس کتاب نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی اور جس کے کئی ایڈیشنز شائع ہوئے۔ وہ راؤ عبد الرشید کے انٹرویو پر مبنی’’جو میں نے دیکھا‘‘ ہے۔ پاکستان کی سیاست اور اس کی بوالعجبیوں کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ لازمی ہے۔ منیر احمد منیر اس کتاب کا نیا اضافہ شدہ ایڈیشن بھی شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حال ہی میں منیر احمد منیر نے اردو کی تاریخ کا طویل ترین اور چشم کشا انٹرویو سابق آئی جی اور سابق ڈپٹی ڈائریکٹر انٹیلی جنس پنجاب حاجی حبیب الرحمٰن کا ’’کیا کیا نہ دیکھا‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ ایک ہزار پچاس صفحات پر مبنی اس انٹرویو میں پاکستان کی تاریخ کے بے شمار اہم واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ اس دلچسپ اورطویل انٹرویوسے کئی حقائق اورناگفتنی سامنے آئے ہیں۔ لیکن کتاب کی تین ہزارروپے قیمت ادارے کی دیگرکتب کے مقابلے میں بہت زیادہ اورعام قاری کی پہنچ سے باہرہے۔ قیمت کامسئلہ درپیش نہ ہوتویہ کتاب ’’جومیں نے دیکھا‘‘ سے زیادہ شہرت اورمقبولیت حاصل کرسکتی ہے۔

حاجی حبیب الرحمٰن 26مارچ 1928ء کوجالندھر میں پیداہوئے۔ بطورطالب علم انہوں نے تحریکِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ اکتوبر1947ء میں یونیورسٹی گراؤنڈ میں اپنے محبوب قائد کوبطورگورنرجنرل قریب سے دیکھنے اوران سے ملنے کااعزاز بھی انہیں حاصل ہوا۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ اورعربی میں ماسٹرزکی ڈگری حاصل کی۔ بعدازاں اسی کالج میں تاریخ کے لیکچرر بھی رہے۔ سی ایس ایس کرنے کے بعدانہوں نے پولیس سروس جوائن کرلی۔ پولیس ٹریننگ کالج ساردا مشرقی پاکستان سے پاس آؤٹ ہوئے۔ بطور اے ایس پی پہلی تقرری سکھر میں ہوئی۔ قصور، کراچی، سرگودھا اورہزارہ میں ایس پی رہے۔ پشاور اورلاہور میں بحیثیت ایس ایس پی تعینات رہے۔ پنجاب انٹیلی جنس میں ڈی آئی جی اورڈپٹی ڈائریکٹرخدمات انجام دیں۔ سندھ اورپنجاب کے آئی جی بھی رہے۔ 1980ء میں انہیں پولیس فاؤنڈیشن کامینجنگ ڈائریکٹربنایاگیا۔ وہیں سے وہ 1989ء میں ریٹائرہوئے۔ اس دوران حاجی حبیب الرحمٰن کوپاکستانی سیاست، حکومت اورمختلف حکمرانوں کوقریب سے دیکھنے کاموقع ملا اور وہ کئی اہم واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ اوراس دلچسپ انٹرویو میں انہوں نے کئی حقائق سے پردہ اٹھایاہے۔

منیراحمدمنیرپیش لفظ میں بالکل درست لکھتے ہیں۔ ’’اگرچہ خودنوشت بھی تحقیق کے لیے ایک ماخذہے۔ میرے نزدیک انٹرویوکاپلہ اس حوالے سے کہیں بھاری ہے، کہ یادداشتیں قلم بندکرنے کے دوران میں بعض حقائق ارادۃً چھوڑدیے جاتے ہیںاوربعض ویسے ہی رہ جاتے ہیں۔ یاپھرکئی حقائق وواقعات سے عدم شعوران کے پسِ پُشت اوراِخفاکاسبب بن جاتاہے۔ مثلاً انٹرویو ’جومیں نے دیکھا‘ کے دوران راؤ رشیدمیرے کئی سوالات پرمُصرہوجاتے تھے۔ اب ان باتوں کی کیااہمیت ہے؟ لیکن میراتاکیدی عدم اتفاق انہیں لب کشائی پرمجبورکردیتا۔ اگر وہ خود نوشتی کرتے، تحریران کی کس قدراُکھڑی اُکھڑی، سطحی اوراوپری ہوتی۔ خودنوشت میں خانہ پُری، مسودے پرباربارکاغوراورکسی کی ناراضی کاخوف بھی اہم واقعات کے قلم زدہونے کاسبب بن جاتاہے۔ پھراپنے متعلق سچ کون لکھے گاہرکوئی عبداللہ شاہ نہیں۔ روزنامہ الفلاح پشاورکے مالک ومدیرعبداللہ شاہ نے اپنی یادداشتیں لکھیں، خودکوبھی نہ بخشا۔ اُف! یہ المیہ بھی دیکھاکہ بعض یادیں لکھنے پرتب آمادہ ہوئے جب ان کی اپنی یادداشت اورحافظہ جواب دے گیا۔ پھران کے قلم سے ایک مضحکہ خیزتحریر ہی سامنے آئی۔ خودنوشت کے حوالے سے نواب محمداکبربگٹی کے بیان کاوہ تراشہ میرے پاس کہیں پڑاہے جس کالب ِ لباب یہ تھاکہ یہ جھوٹ سے مملوہوتی ہے۔ ’استادِ صحافت ڈاکٹر عبدالسلام خورشیدمرحوم لکھتے ہیں کہ جب کوئی آپ بیتی قلم بند کرتاہے تواَناکے عنصرکوفراموش کرنااس کے بس کاروگ نہیں ہوتا۔ ‘ایس ایم ظفرنے بڑے دھوم دھڑکے سے اپنی یادداشتیں شائع کیں۔ لیکن ایوب خان کابینہ سے اپنے استعفٰے کے ذکرمیں حقائق سے اِعراض کیا۔ تفصیل اس واقعے کی الطاف گوہرنے ’لکھتے رہے جنوں کی حکایت ‘ میں بیان کردی۔ ‘‘

اس بارے میں ایک اوردلچسپ واقعہ منیراحمدمنیرنے درج کیاہے۔ ایوب خان نے بھٹوکی جگہ اٹارنی جنرل سیدشریف الدین پیرزادہ کو وزیر خارجہ نامزدکیا۔ حلف برداری کے بعدان کاجوسوانحی خاکہ اخبارات کوجاری کیاگیا اس میں یہ بھی درج تھاکہ موصوف قائداعظم کے پرائیویٹ سیکریٹری رہے۔ مادرِ ملت نے فی الفوراس کی تردیدکی۔ جس کی وضاحت یاردِعمل پیرزادہ کی طرف سے نہیں آیا۔ میں نے کراچی میں شریف الدین پیرزادہ کاانٹرویوکیااوریہ سوال خاص طور پران سے کیاکہ آپ قائداعظم کے پرائیویٹ سیکریٹری بھی رہے؟انہوں نے جواب دیا۔ نہیں۔ میں ان کے سیکریٹریٹ میں ملازم تھا۔ جن خبروں پروہ نشان لگادیتے، میرے ذمہ انہیں کاٹ کرکاغذپرپیسٹ کرناتھا۔ اس کے باوجود پیرزادہ صاحب اپنی ہرتالیف پراپنے سوانحی خاکے میں اورجہاں تہاںخودکوقائداعظم کاپرائیویٹ سیکریٹری ظاہرکرتے رہے۔ حالانکہ 1940ء کے بعدمطلوب الحسن سید، سیداحمدسیدیعقوب، جیکوئم ایگزیوئرلوبو اورکے ایچ خورشیدقیامِ پاکستان تک قائداعظم کے سیکریٹری رہے۔ یہ حقائق شریف الدین پیرزادہکے دعوے کی شدید تردیدکرتے ہیں۔ یہاں اکبربگٹی کاقول سچ ثابت ہوتاہے۔

کتاب کانام خواجہ میردردکے اس شعر
اذیت، مصیبت، ملامت، بلائیں
ترے عشق میں ہم نے کیاکیانہ دیکھا

قسم قسم کی واقعات، شواہداورتجربات کی رنگارنگی کے سبب ’’کیاکیانہ دیکھا‘‘ موزوں محسوس ہوا۔ حاجی حبیب الرحمٰن نرے پولیس آفیسرہی نہیں تھے۔ کثیرالمطالعہ، موسیقی اورآرٹ سے بھی گہرالگاؤ۔ دینی علوم پربھی گہری دسترس تھی۔ انہوں نے قرآن کی تفسیربھی لکھی۔ گلبرگ میں ان کی تدفین کے موقع پرعبیداللہ بیگ نے کہا’’علم کاایک خزانہ دفن ہورہاہے۔ ‘‘یہ بات ہمارے کتنے آئی جی یادیگرافسران کرام کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔

ایک دلچسپ واقعہ حاجی حبیب الرحمٰن نے سنایا۔ ’’ایس پی اشرف مارتھ کے بہنوئی قتل ہوگئے، ان کے قل تھے اورمولوی صاحب نے ایسی بات سنائی، کہ ایک آدمی نے کہاکہ میں نے قبرمیں دیکھامیری والدہ کوفرشتے دوزخ میں لے جارہے ہیں۔ پیرسائیں نے کہا، اس کی تُوفکر نہ کر۔ تُوایک لاکھ دفعہیہ آیت کریمہ پڑھ لے اورتیری ماں بخش دی جائے گی۔ اس نے کہاکہ پیرسائیں وہ تو جارہی ہے جہنم کی طرف کھچا کھچ۔ ایک لاکھ آیت کریمہ پڑھنے میں کتنی دیرہوجائے گی۔ انہوں نے کہا۔ توفکرنہ کر، میرے پاس پڑھی پڑھائی رکھی ہوئی ہے۔ مجھے توپسینہ آرہاتھاکہ یہ کیاباتیں کررہے ہیں۔ ادھرپڑھی پڑھائی رکھی ہے، یہ لے۔ میں نے تیری ماں کوبخش دی۔ پھرکہتاہے کہ میں دیکھ لیاکہ وہ جنت جارہی تھی۔ ہمارے اعمال کدھرگئے۔ اگریہ مان لیں۔ فرض کیجیے کہ ایک آدمی اپناعمل، اچھاعمل دوسرے کوٹرانسفرکرسکتاہے، ادھر ہم نے سوئم پر، چالیسویں پرختم قرآن کیا، سب کچھ کیا۔ سب نے پڑھا۔ اب ایک قبرہے اس پرتوکھاتے پیتے لوگ ہیں۔ وہ توچوبیس گھنٹے وہاں حافظ بٹھالیں گے۔ ان کے اِدھربھی عیش، اُدھربھی عیش۔ شایدساری عمرمیں نہ کوئی روزہ رکھاہونہ نمازپڑھی ہو۔ ادھرحافظ بٹھادیے چوبیس گھنٹے۔ اس کوروزایک دوقرآن مجید جارہے ہیں۔ ‘‘

کیاکیاخرافات ہم نے مذہب کے نام پرشروع کررکھی ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی امیرمرجائے توقبرپرچوبیس گھنٹے قرآن پڑھواکروہ بخشش کروالے گا اورکوئی غریب مرجائے کہ اس کے وارثوں کوتوروزی روٹی کی فکرکرناہے۔ وہ کسی سے کیاپڑھوائیں۔ اس کی توبخشش ممکن ہی نہیں۔ یہ عیسائی عقیدے کے مطابق ہے کہ آپ کوئی جرم کریں اورجاکرپوپ سے معافی مانگ لیں۔ پانچ شلنگ اس کودیدیں۔ کسی نے ریپ کیا، قتل کیا، چوری کرکے آیااورچرچ میں اعتراف گناہ کرکے معافی مانگ لی۔ عیسائی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ ہی ان کے گناہوں کا کفارہ اداکرگئے ہیں۔ ہمارے سامنے تواسوہ ء رسول ہے۔ رسول پاکﷺ ایک دفعہ جب حج پرنہیں گئے توانہوں نے کسی کونہیں بھیجا۔ اپنی قربانی حضرت ابوبکرؓ کودیدی۔ وہاںجاکے قربانی کرلینا۔ لیکن کسی نے بھی رسول پاک ﷺ کی طرف سے حج نہیں کیا۔ انہوں نے پوری زندگی میں ایک ہی حج کیا۔

یہ زندگی کے دیگرامورسے متعلق حاجی صاحب کی گفتگوکالب لباب ہے۔ سیاست کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ’’میں جنگ اخبارکے دفتر میں بیٹھاہواتھاجب میرمرتضٰی بھٹوکے قتل کی خبرآئی، اب یہ کیس زیرسماعت ہے۔ میںاس پرکوئی کمنٹ نہیں کر سکتالیکن مجھے بہت کچھ پتاہے۔ میںنے اسی وقت کہا، قلم کاغذاٹھاؤ، ملزموں کے نام ابھی لکھادیتاہوں۔ کیونکہ مجھے پتاچل گیاکہ میرمرتضٰی کوجوگولیاں لگی ہیں وہ چھ فٹ کے فاصلے سے چلائی گئی ہیں۔ چھ فٹ کافاصلہ یہی ہے جہاں آپ بیٹھے ہیں۔ یہ کرسی چھ فٹ کے فاصلے پر ہے۔ اس فاصلے سے کون فائرکرسکتاہے۔ وہ غیرمانوس آدمی کو، یاوردی والے آدمی کواتنانزدیک نہیں آنے دے گا۔ اس کے ساتھ توچھ سات اس کے ساتھی تھے۔ ہرایک کے پاس ہتھیارتھا۔ توچھ فٹ کے فاصلے سے کون گولی چلاسکتاہے۔ اس کااپناساتھی۔ اوراس نے بلٹ پروف جوپہنی ہے جیکٹ، گولیاں اس کے نیچے لگی ہیں۔ ایک گولی گردن پرلگی ہے۔ اس کامطلب ہے کہ اس کوپتاتھاکہ گولی کہاں لگانی ہے۔ جس نے فائرنگ کی ہے اس کوبھی ادھرہی ماردیاگیا۔ ٹھیک ہے یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ۔ یہ چونکہ پبلک ہے اس لیے آگے آپ اندازہ لگائیں کہ کون۔ ایک سب انسپکٹرحق نوازکوبھی ماردیا۔ میں اس پراتناہی کمنٹ کرتاہوں کہ جولیاقت علی کاقاتل تھاوہ بھی ادھرہی ماراگیا، جس نے کینڈی کوقتل کیاتھا، وہ قاتل اگرزندہ رہتا۔ ایف بی آئی کے آدمی کینیڈی کے قاتل کوٹرائل کے بعد باہرلارہے تھے۔ دونوں طرف ایف بی آئی کے آدمی ہیں۔ اس کوان دونوں محافظوں کے درمیان گولی ماردی گئی۔ یہی قصہ یہاں ریپیٹ ہواہے۔ یہ توپلان ہے۔ زرداری کی انوالمنٹ پرمنہ بندرکھتے ہوئے حاجی حبیب الرحمٰن نے پولیس سے کہاکہ تم نے اس کوسترکلفٹن میں کیوں نہیں اندرجانے دیا کہ جب گھر چلا جائے تو گھرمحاصرے میں لے لیں۔ اورصبح سویرے اس کوگرفتارکرلیں۔ انہوں نے کہاکہ پرائم منسٹرکے یہ آرڈرتھے کہ سونٹی کلفٹن کاتقدس پامال نہیں ہوناچاہیے۔ سیونٹی کلفٹن کے اندرنہیں۔ باہرجوکرناہے کرلو۔ ‘‘

مرتضٰی بھٹوکے اہم ترین قتل کیس کے بارے میں حاجی صاحب نے کچھ نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ دیاہے۔ صرف دیکھنے اورسمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پورے انٹرویومیں کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ ایک جگہ وہ کہتے ہیں۔ ’’سعودی عرب جائیں یاکہیں اورجائیں۔ جتنی اہمیت وہ پولیس کے بیان کو دیتے ہیں۔ جتنی اہمیت وہ پولیس کی تفتیش کودیتے ہیںوہ اورکسی کونہیں دیتے۔ پولیس کاایک احترام ہے، وہاں پر۔ اگرآپ مجھ پراعتماد کریں گے تومیں آپ کااحترام نہیں کھوؤں گا۔ میں اکثرجگہوں پرکہتاہوں کہ پریذیڈنٹ آف پاکستان، پرائم منسٹرآف پاکستان، گورنر، چیف منسٹراس کے بیڈٖروم کے باہر، اس کے گھرکے باہرکون پہرہ دے رہاہے؟ پولیس کاسپاہی۔ اس کے پاس لوڈڈ رائفل ہوتی ہے۔ وہاں اس پرآپ نے اعتماد کیا۔ آج تک کسی پولیس سپاہی نے چیٹ کیا؟اس کوغصہ آئے اندرچیف منسٹرلیٹے ہوئے ہیں۔ گورنرصاحب لیٹے ہوئے ہیں۔ پرائم منسٹرصاحب لیتے ہوئے ہیں۔ لوڈڈ رائفل لے اندرچلاجائے اوراس کوختم کردے۔ آپ بھی جانتے ہیںکہ آپ نے پرائم منسٹر، پریذیڈنٹ، چیف منسٹر، گورنرکی جان ومال کی حفاظت کے لیے اس پراعتمادکیا۔ لیکن ایک چھوٹاساملزم آتاہے آپ نے قانون میں یہ شق رکھی ہوئی ہے کہ پولیس آفیسرکے سامنے اقرارجرم قابلِ قبول نہیں۔ اوربھی بہت ساری دفعات قرآن کریم کے خلاف ہیں قرآن کریم میں توکوئی گواہ نہیں ہے، کوئی صفائی کاگواہ نہیں ہے، کوئی استغاثہ کاکوئی گواہ نہیں ہے۔ ‘‘

حاجی حبیب الرحمٰن نے پاکستان کی تاریخ اورسیاست کے اہم گوشوں کے بارے میں بہت کچھ کہاہے۔ ’کیاکیانہ دیکھا‘ کے ہرصفحے پرایک نیاانکشاف ہے۔

ڈکیتی کے بارے میںاپنے پہلے کیس کے بارے میں حاجی صاحب کہتے ہیں کہ ایس ایچ اونے سات ملزمان گرفتارکرلیے۔ ان میں سے ایک کے بارے میں پوچھاتوبتایاگیا۔ یہ حاجی ڈکیٹ ہے۔ میں نے کہا، ہاں مجھے بھی اس کی تلاش تھی۔ حاجی آیا میں نے اسے کرسی پربٹھایاتواس کویقین نہیں آرہاتھا۔ کہ علاقے کے اے ایس پی نے اسے کرسی پربٹھایاہے۔ کہتاہے کہ ہماری ساری زندگی میں پہلاواقعہ ہے کہ ایک افسرنے ہمیں عزت دی۔ سائیں ہم جب تک ادھرآپ ہیں جوکہیں گے وہی کہیں گے۔ یہ ایک عمدہ مثال ہے کہ ایک اچھاپولیس افسرملزم سے کس طرح حقائق اگلواسکتاہے۔ حاجی حبیب الرحمٰن نے کئی اہم کیسوںکوسلجھایا۔

ایک گاؤں میں قتل ہوگیا۔ حاجی صاحب وہاں گئے توبڑابھائی رورہاتھا، بہت زیادہ۔ نمبردارتھا۔ انہوں نے پوچھاکیاہواتھا۔ وہ کہتاہے کہجی تین آدمی آئے۔ انہوںنے فائرکیااورچاچے کے اوپرفائرلگااوروہیں وہ ڈھیرہوگیا۔ بڑالڑکا، جوان تھااس کا، پھرکہتاہے کہ میں توبھاگا اباکواطلاع دینے۔ جوکھیت میں ہل چلارہاتھا۔ میں اباکوبتایاکہ چاچے کوگولی لگی ہے۔ تین آدمی تھے۔ ایک نے فائرکیا، ایک کوٹھے پہ تھا۔ ایک ادھر۔ باپ سے پوچھاتواس کے کہا۔ میرابیٹابھاگتاہواآیااس نے بتایاکہ چاچے کوگولی لگی ہے۔ میں نے پوچھاتم نے کیاکیا۔ کہتاہے، میں سیدھاتھانے چلاگیا۔ میںنے تھانیدارکورپورٹ کی۔ وہ میرے ساتھ آیا۔ اسے بتایا۔ جی ادھرانہوں نے رائفل پھینک دی۔ میں نے بات سنی۔ اورایس ایچ اوکوکہاکہ اس کواریسٹ کرلو۔ میں نے کہا، انسانی فطرت ہے۔ اس کے چھوٹے بھائی کوگولی لگی ہے۔ اس کابیٹاآکے بتاتاہے۔ وہ سیدھاتھانے جاتاہے۔ تھانے جانے کااس کوہوش ہے؟وہ توکہے گا، میرے بھائی کوگولی لگی ہے کدھرگولی لگی ہے، کیاہوا۔ جبکہ وہ کہتاہے کہ کھیت میں پتاچلاتومیں سیدھاتھانے چلاگیا۔ اس مطلب ہے اسے پتاتھاکہ کیاہوا۔ اوروہ جان بوجھ کرجائے وقوعہ سے پہلے ہی چلاگیاہل چلانے کے کھیتوں میں۔

ایک ہوشیارپولیس آفیسرکس طرح جرم کی ابتدائی معلومات سے کس طرح سراغ لگاتاہے۔ یہ اوربے شماراس ایک ہزارصفحات کے انٹرویو میں موجود ہے۔ یہ پاکستانی سیاست اوردیگرمعاملات کی الف لیلہ ہے۔ ہرصفحہ ایک نیاانکشاف ہرموضوع چشم کشا۔ اس بھرپورشاندار انٹرویوکی اشاعت پرمنیراحمدمنیرمبارک باد کے حقدارہیں۔ یہ دلچسپ کتاب پاکستانی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے ہرقاری کوپڑھنا چاہیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20