’’تاریخِ گُم گَشتہ‘‘ مائیکل ہیملٹن مورگن۔ ۔ باب پنجم حصہ دوم —- ترجمہ و تلخیص: ناصر فاروق

0

بغداد، عہد عباسی، دارالخلافہ سے نوے میل دور شہر کوفہ میں ایک بوڑھا تجربہ گاہ میں بیٹھا بُری طرح کھانس رہا تھا، ارد گرد میزوں پر آلات اور مختلف سفوف سے بھری شیشیوںکا ڈھیر لگا تھا، وہ کئی مسودوں اور دستاویزات میں گھرا ہوا تھا۔ کئی مرتبانوں میں محلول، ادویات، اور کشید کردہ عطریات ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ ان سب پر مخصوص نام چسپاں تھے، وہ نام جن کے معنوں سے وہی واقف تھا۔ اُسے خود بھی ان ناموں کو لکھ رکھنے کی چنداں ضرورت نہ تھی، سب کچھ اُس کے حافظے میں محفوظ تھا۔ اُس کے ہاتھوں کا رنگ مختلف کیمیائی تجربوں سے اڑچکا تھا، کئی جگہ جلنے کے نشانات بھی نمایاں تھے۔ وہ مختلف بھاپوں اور گیس سے بھرے ماحول میںپھیپھڑے گلاتا رہا تھا۔ آنکھوں میں تھکن اتر آئی تھی اور بھنویں بغور دیکھنے پر ہی نظر آتی تھیں۔

باہر گلی میں عباسی حکومت کے چوکنے محافظ پہرہ دے رہے تھے، وہ اُن کی موجودگی میں خود کو محفوظ تصور کررہا تھا جبکہ درحقیقت وہ اُس کی حفاظت پرمامور نہ تھے بلکہ اُس کی نگرانی پر مقرر تھے۔ اُس کی جان بخش دی گئی تھی، صرف اس لیے کہ اُس کی زندگی بھر کی کامیابیاں اور خدمات قابل تحسین تھیں۔ اُس کی عمر اکیاسی برس تھی۔ وہ ایک سیاسی قیدی تھا، جسے ہارون رشید کے حکم پرنظر بند کیا گیا تھا۔ وہ محض اس بات پر خوش تھا کہ زندہ اور محفوظ تھا، کیونکہ وہ تحقیقی کام آخری سانس تک انجام دینا چاہتا تھا، یہی اُس کی اصل آزادی تھی، جس پر وہ بخوشی قانع تھا۔ یہی تحقیق اور تجربے اُس کی زندگی کا حاصل تھے۔

اس کھانستے ہوئے بوڑھے کا نام جابر بن حیان تھا۔ جسے یورپی ماہرین کیمیا میں Geber کے نام سے شہرت ملی، یہ الکیمی اور کیمسٹری کا بانی تھا، یہ دونوں الفاظ عربی زبان سے لیے گئے ہیں۔ گو کہ دونوں علمی اور تحقیقی سلسلے انتہائی مختلف سمتوں میں آگے گئے، ایک میں بہت بگاڑ آیا اور وہ ساحرانہ مہم جوئی میں خراب ہوا جبکہ دوسرا ایک معتبر اور قابل تحقیق علمی موضوع قرار پایا۔ علم کیمیا نے پوری دنیا میں دریافتوں اور ایجادات کا انقلاب برپا کیا۔ تاہم جابر کے لیےalchemy اور chemistry ایک ہی علمی موضوع تھے۔ جسے بعد میں علماء نے مصنوعی طریقہ سے ممیز کیا۔ اس بوڑھے کی طویل زندگی آزمائشوں سے بھری تھی۔ وہ ایک یمنی عرب تھا۔ فارس کے شہر طوس میں پیدا ہوا تھا۔ اُس کا باپ ایک دواساز تھا، مگر وہ صرف سردرد کا سفوف ہی تیار نہیں کررہا تھا بلکہ سیاست میں بھی ملوث رہا تھا، فارسی برامکہ خاندان کے حاشیہ برداروں میں شامل تھا۔ ایک دن جب امویوں کا زوال ہوا اور عباسی اقتدار میں آئے، برامکہ کی قسمت جاگ اٹھی، وہ وزراء بنائے گئے اور اعلٰی عہدوں سے نوازے گئے، جابر بن حیان کا باپ اور خاندان بھی شاہی دربار میں معزز قرار پائے۔ ہارون رشید کے دربار میں بطور طبیب تقرر پانے والا جابرایک دن پہلا سرکاری کیمیا گربن گیا۔ جابر کے لیے سیاست ایک زمینی ضرورت تھی۔ بطور ماہر کیمیا، اُس کے دل و دماغ اسرار رموزمیں لپٹے ہوئے تھے۔ ابتدائی مسلم ریاضی دانوں اور ماہرین فلکیات کی طرح وہ بھی یہ یقین رکھتا تھا کہ کائنات کے راز اردگردکی طبیعاتی دنیا میں ہی کہیں چھُپے ہیں، جنھیں تحقیق اور غوروفکر سے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ دیگر مسلم حکماء کی طرح اُس کا ایمان تھا کہ یہ دریافتیں رب کائنات کی نظرعنایت اور پیہم کوششوں سے ممکن ہوسکتی ہیں۔ جابر نے ساری زندگی ایک جانب جادو اور اسرارو رموز جاننے، اور دوسری جانب تجرباتی تحقیق پر صرف کی۔ اُس کی تحریریں واضح اور تہ درتہ اسرار میں لپٹی دونوں طرح کی ہیں۔ وہ چاہتا تھا کہ رمزنویسی سے صرف وہی لوگ استفادہ کرسکیں جو اُس کی تعمیر ی صورت گری کرسکیں۔ جابر نہ صرف مادہ کی روح سے واقف تھا بلکہ صوفیانہ طرز زندگی پر بھی عامل تھا۔ یہ مکتب فکرکائناتی سچ تک رسائی کے لیے انسانی عقل کو ’عقل کُل‘ تسلیم نہیں کرتا تھا، یہ فنا فی اللہ میں لذت آشنائی پریقین رکھتا تھا۔ الکیمی میں جابر کی پراسراریت نمایاں نظر آتی ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ وہ مصنوعی زندگی تخلیق کرنا چاہتا تھا، اوریہ کہ صدیوں بعد یورپیوں کواُس کی اس مبینہ خواہش سے کافی تحریک ملی۔ ڈاکٹر فاسٹس کی داستان گوئی میں، اور اس کی مزید جدید صورت فرینکنسٹائین کہانی میں بنیادی خیال جابر بن حیان کی تحریروں ہی سے اخذ کیا گیا تھا۔ یہ تاریخ گُم گَشتہ کی چند تلخ حقیقتوں میں سے ایک ہے کہ ازمنہ وسطٰی کے یورپی ادب کے شاہکار، جیسے کرسٹوفر مارلو کا ڈاکٹرفاسٹس، جوہان گوئٹے کا فلسفہ اور تصور جہاں اپنی اصل میں یورپی نہیں تھے، بلکہ یہ ایک ایسے آدمی کے کارنامے تھے، جو بغداد میں قدیم فارسی اور مصری جادوگر ی پر تحقیق کررہا تھا۔ کوئی کبھی بھی یہ نہیں جان سکتا کہ آیا جابر واقعی کوئی زندہ جسم تخلیق کرنا چاہتا تھا یا اُس کے الفاظ محض صوفیانہ رمزنویسی تھے۔ پراسرار اور مبہم طرز تحریر میں عربی زبان اُس کی معاون ثابت ہوئی۔ صوفیانہ، عارفانہ، یا روحانی کلام، شاعری، اور تحریروں میں عربی کے الفاظ اور اصطلاحیں اعداد اور شمار سے یوں منسلک نظرآتی ہیں، کہ کائناتی وحدت آشکارہوتی ہے۔ جابر بن حیان اپنے تصورات کوعلامتوں میں ملفوف کرنا خوب جانتا تھا۔ اسی سبب سے ایک دن جابر کے نام سے انگریزی اصطلاح gibberish مشتق کی گئی۔

جابر کے وقتوں میں کہ جب کوئی بھی علمی اسلوب ستاروں اور ہندسوں سے عاری مطالعہ پر مبنی نہ تھا، وہ علم کیمیا کے صوفیانہ اورروحانی جزو ترکیبی میں کشش محسوس کررہا تھا، جونظریہ کلیت کی نمائندگی کررہا تھا۔ ربانی کائنات میں یگانہ کلیت واضح تھی؛ کہیں کچھ اتفاقیہ یا بے مقصد دکھائی نہ دیتا تھا۔ مگر نویں صدی عیسوی کی یہ علمی لطافتیں اور باریکیاں تاریخ اور تراجم کی بھول بھلیوں میں گُم ہوگئیں، بعد کے یورپی محققین نے مسلم کیمیاگری کو بدنام کیا، ’’اپنی کیمسٹری‘‘ کی پیدائش نو کا دعوٰی کیا، اوریورپ کو’’جدید علم کیمیا ‘‘ کی جائے پیدائش قرار دیا۔

ؑعلمی و فکری تاریخ کا بیانیہ کس قدر غلط اور گُمراہ کُن ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جابر بن حیان نہ صرف ایک عارف اور صوفی تھا بلکہ شاید دنیا کا پہلا اصل کیمیا گر بھی تھا۔ اگرایک گروہ اُسے رمزنویسی کے سبب یاد رکھتا ہے تو دوسرا تحقیقی اور تجرباتی کامیابیوں کے باعث یاد کرتا ہے۔ جابر نے کہا تھا، ’’علم کیمیا کا پہلا لازمی اصول تجربہ ہے۔ جو تجربے نہیں کرتا، وہ مہارت کے معمولی درجے پر بھی نہیں۔ مگر تم، میرے پیارے شاگرد تجربے کرو عملی تحقیق کروتاکہ علم تک رسائی پاسکو۔ حکماء مال وزر کی کثرت سے تسکین نہیں پاتے بلکہ عملی تجربات میں کمال پرمسرت محسوس کرتے ہیں۔ ‘‘ کیا تحقیق میں تجربات کی اہمیت پر اس سے زیادہ واضح کوئی اظہار ہو سکتا ہے؟

عباسی خلفاء اور برامکہ وزرا کے عہد میں جابر بن حیان نے دوسو کتابیں تحریر کیں، بے شمار تجربات کیے، علم کیمیا میں نئے اکتشافات کیے، جن کی مدد سے جدید علم کیمیاکی راہ استوار ہوئی۔ سب سے پہلے اُس نے alembic(شیشے کا کیمیاوی برتن) ایجاد کیا، جوبارہ صدیوں تک عرق کشید کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جابر نے ہائیڈروکلورک تیزاب دریافت کیا، جو انسانی نظام ہاضمہ کا اہم جزہے۔ اُس نے شورے کا تیزاب دریافت کیا، جوطاقت وراور زہریلا ہے۔ جابر نے دو کیمیاوی سیال ملاکر ایک نیا جوہر تیار کیا، جسے بعد میں aqua regia(شور نمک تیزاب)نام دیا گیایا ماء الملوک پکارا گیا، یہ سونے اورپلاٹینم جیسی قیمتی دھاتوں کوپگھلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جابر بن حیان ہی تھا جس نے تین نئے مختلف اقسام کے تیزاب سنگتروں، سرکہ، اور شراب سے کشید کیے۔ یہ کیمیاوی تجربے فضول کھیل نہ تھے، وہ ہمیشہ اپنی دریافتوں کوعملی تجربات سے گزارتا تھا، تاکہ ہر ممکن استفادہ حاصل کیا جاسکے۔ اُس کی ان دریافتوں کے عمدہ نتائج نکلے، لوہے اور فولاد کو زنگ سے محفوظ بنایا جاسکا، شیشے کی مصنوعات سے ہرا پن صاف کیاجاسکا، کپڑے کوخشک اور پانی سے محفوظ water proof بنایاجاسکا، اور سونے پرنقش بنائے جاسکے۔ ایتھانل (الکحل) پربھی جابر کا کام بنیادی ہے، جسے بعد میں الرازی نے مزید بہتر بنایا۔ اُس نے ’القالی‘ کی اصطلاح اور تصوروضع کیا: ایسے عناصر یا مرکبات یا اشیاء جو ترشوں کی تعدیل کر دیتے ہیں۔ اُس نے کیمیاوی اجزاء، اوزان، پیمائش، اورکیمیاوی تعاملات کی تفصیلات پرمبنی کئی کتابیں رقم کیں۔ جابر نے ایک تجربہ گاہ تعمیر کروائی جواپنے دور کے اعلٰی سمعیارات کے مطابق تھی۔ اُس نے کلیہ پیش کیا کہ جب کیمیاوی اجزاء تعامل کرتے ہیں، تویہ انتہائی باریک صورتوں میں موافقت اختیار کرلیتے ہیں اور ساتھ ہی اپنی بنیادی خاصیت بھی برقراررکھتے ہیں، یہ ایٹم اور مالیکیولزکی جانب واضح اشارہ تھا۔ اُس نے ایک ایسا کاغذتیار کیا جس پرآگ اثر نہ کرتی تھی، اور ایک سیاہی بنائی جس سے لکھی تحریرتاریکی میں پڑھی جاسکتی تھی۔ جابر یہاں رُکا نہیں۔ اُس نے بالوں کے لیے رنگ تیار کیے اور سونے کے پانی سے لکھائی ممکن بنائی۔

جابر نے مقناطیسیت میں بھی بڑی کشش محسوس کی۔ اُس نے روغن، چربیgreases، رنگوں، اورنمکیات کی درجہ بندی کی، جو بعد میں فن کوزہ گریceramic میں استعمال ہوئی۔ جب تک اُس کی نظراور پھیپھڑوں نے ساتھ دیا، وہ کام میں جُتا رہا۔ اپنے ہمعصروں کی مانند، اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی، وہ محسوس کرتا تھا کہ جیسے کچھ نہیں کرپایا تھا۔ ڈھلتی عمر میں ایک سوال اُس کے ذہن میں سراٹھاتا رہاتھا کہ کون ُاس کے بعد اس کیمیاگری کا وارث ہوگا؟ گھر سے باہرسوائے سرکاری ہرکاروں کے کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ وہ کیمیا گر کون ہوگا؟ کیا وہ کوئی شاگرد ہوگا؟ عباسی بغداد سے ہوگا؟ یا دور کہیں خراسان سے ہوگا؟

زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا، جب وہ بستر مرگ پر تھا، اور نظربند بھی تھا۔ ایک جانشین، جسے جابر نہ جانتا تھا، پیدا ہوچکاتھا۔ وہ نہ اُس کا کوئی شاگرد تھا، نہ ہی کوئی فارسی النسل تھا، بلکہ اُسی کی طرح ایک عرب تھا۔ وہ ابھی بہت چھوٹا تھا۔ لکھنا پڑھنا سیکھ رہا تھا۔ شہر کوفہ میں رہتا تھا۔ نام اُس کا الکُندی تھا۔ اُس کا والد عباسی حکومت میں گورنر تھا۔

وہ کافی خوش نصیب تھا، اُس نے المامون کا بھرپور دور پایا تھا۔ اپنے زیادہ تر بہترین تحقیقی کام اسی عہد میں مکمل کیے تھے۔ یعقوب ابن اسحاق الکندی نے جابر بن حیان کے کام کوبھرپور انداز میں آگے بڑھایاتھا۔ وہ کیمیا گری سے بھی آگے نکل گیاتھا۔ اُس نے موسیقی، دوا سازی، فلسفہ، ریاضی، اور علم فلکیات میں کمال حاصل کیا، ان تمام علوم میں حیرت انگیز طورپر361کتابیں اور مقالے تحریر کیے۔ الُکندی نے مادہ اور طبیعات پرسنجیدہ سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی، ایسے جواب جنھوں نے اگلی بارہ صدیوں تک عظیم دماغوں کو کائنات کی تفہیم میں مدد دی۔ الکُندی مامون کے دارالحکمت کا معزز رکن تھا۔ ارسطو کا علمی معتقد تھا۔ اُسے جابر سے بہتر سیاسی اور علمی مرتبے عطا کیے گئے۔ مگرپھر وقت کے ساتھ کُندی نے جانا کہ کچھ بھی ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، یہاں تک کہ وقت اور تقدیر بھی۔ علم کیمیا کے دائرے میں، الکُندی نے عطریات، تیل، مرہم، اورمحلول پرکافی کام کیا۔ اُس نے اُس علم پرانتھک محنت صرف کی جسے دنیا نے بعد میں pharmacology (علم الادویہ) کا نام دیا۔ اُس نے دواؤں کی درجہ بندی کے لیے ایک پیچیدہ اعدادی نظام وضع کیا، اور کم لاگت کی متبادل دوائیں متعارف کروائیں۔

الکُندی نے زمین پرگرتے پتوں، پھلوں، پتھروں، اور عماراتی اشیاء کا گہرا مشاہدہ کیا، اور زمین کی کشش پر تعجب کا اظہار کیا۔ مگراُس کا اہم ترین کام شاید relativity (اضافیت)پرانتہائی غوروخوض اور سنجیدہ خیالات تھے، مادہ اور زمان و مکاں کے تعلق پرفکرانگیز تحریریں تھیں۔ یہاں تک کہ اُس نے عربی میں “relativity” کی اصطلاح کا متبادل تک استعمال کیا، جسے ہزار سال بعد زیورخ کے غیر معروف یہودی نوجوان ریاضی داں نے مقبول بنایا۔ دونوں کی ’’اصطلاحات‘‘ کا محض زبان اور ہزاریے کی دوری کے باوجود ایک سا ہونا محض اتفاق لگتا ہے، کیا کوئی چُھپا ہوا تعلق ان عظیم دماغوں کے درمیان متوازی خطوط پرحرکت کرتا نظر آتا ہے؟ الکُندی کہتا ہے،

’’وقت کا وجود محض حرکت کے تابع ہے؛ جسم حرکت کے ساتھ؛ حرکت جسم کے ساتھ۔ ۔ ۔ اگر کہیں حرکت ہوگی تولازما کسی وجود سے جُڑی ہوگی؛ جہاں جسم ہوگا وہاں حرکت لازمی ہوگی۔ ‘‘

نویں صدی کے بغداد میں زمان ومکاں کا یہ متناقض نکتہ نظر شاید حادثاتی یا اتفاقی یا قیاسی رہا ہو۔ جسے اُس کے بہت سے ماننے والوں نے نظر انداز کیا، یا متنازع قرار دیا، یا قابل اعتنا ہی نہ جانا۔ یہ سب صرف مسلمانوں نے ہی نہیں بلکہ اسحاق نیوٹن اوررینے ڈیکارٹ جیسے بڑے سائنس دانوں اور مفکروں نے بھی قابل غورنہ جانا۔ الکُندی کے پاس اپنے اس مقالے کوثابت کرنے کے لیے کوئی شماریاتی یا ریاضیاتی ذریعہ نہ تھا۔

الکُندی نے cryptography رمز نویسی میں بھی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ گوکہ صدیوں تک خفیہ طرز تحریر کی کئی شکلیں موجود رہیں، مگر الخوارزمی کے بعد اعلٰی ریاضیاتی طرز تحریرمیں رمز نویسی زیادہ معیاری قرار پائی۔ خاص طورپرحکومتوں، رہنماؤں، اور جاسوسوں کے لیے یہ رمز نویسی استعمال ہوئی۔ الکُندی نے پہلی بار رمز نویسی میں frequency analysis تعدد ارتعاش کا تجزیہ کیا۔ ایک ایسا طریقہ جس سے خفیہ تحریر کوپڑھا یا سمجھا جاسکے: جوالفاظ بالترتیب سب سے زیادہ استعمال کیے گئے ہوں انھیں سادہ کاغذ پربالترتیب لکھا جائے، تو پیغام واضح سامنے آجاتا ہے۔ اسی طرح علامتوں کی فریکوئنسی کا مطالعہ اور تجزیہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں سیاسی چپقلش میں الکُندی بنو موسٰی کی دشمنی کا شکار ہو گیا۔ اُسے قید وبند اور جسمانی صعوبتوں سے گزرنا پڑا، یہاں تک کہ اُس کا کتب خانہ بھی عارضی طور پر ضبط کر لیا گیا۔ آگے زندگی میں پھر اُسے سیاسی سرپرستی حاصل ہوئی، مگر مادی دنیا میں کسے دوام حاصل ہے؟ یوں ابیہ سب کچھ الکُندی کے لیے غیر اہم ہو چکا تھا۔ بالآخر اُس نے لکھا، ’’اپنی آنکھیں بند کر لو، نگاہیں نیچی کر لو، جب رذیل لوگ رہنما بن جائیں، توبے بسی سے مٹھیاں بھینچ لو، گھرکے کسی گوشہ میں تنہائی سے رشتہ جوڑ لو۔ ۔ ۔ آدمی کی اصل دولت دل میں ہے، اُس کی روح اگر مطمئن ہے، تو پھر یہی آدمی دراصل غنی ہے۔ ‘‘

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حصہ اول کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

باپ پنجم حصہ سوم کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20