قرآن کا نظریہ علم و تعلیم —– ڈاکٹر غلام شبیر

0

بساط علم پر ملائک نے شکست مانی تو حکم ہوا مخدوم کائنات کو سجدہ کیا جائے سب جھک گئے سوائے ابلیس کے، جس کی اکڑفوں کا جواز یہ تھا کہ اسے آگ سے بنایا گیا جبکہ آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے۔ قرآنی سماجیات کے مفکر اعظم ڈاکٹر علی شریعتی کہتے ہیں کہ انتہائی لطیف استعارے سے قرآن نے سمجھایا ہے کہ عظمت و رفعت کا معیارنسل پرستی (آگ بمقابلہ مٹی) نہیں بلکہ “علم” ہے۔ اور علم الاسماء کا مطلب یہ نہیں کہ فرشتوں سے مخفی رکھ کر آدم کو چند چیزوں کے نام سکھا دیئے گئے بلکہ آدم کو جوہر علم عطا ہوا کہ وہ چیزوں کے بارے میں تصور قائم کرے پھر انہیں نام دے۔ گویا فرشتوں کا علم جمود زدہ علم ہے جتنا دیا گیا بس اس سے آگے پیچھے کچھ نہیں جانتے، جو آدم کو عطا ہوا وہ “ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن” سے عبارت ہے۔ یہ تخلیقی علم (creative knowledge) ہے، تحقیق مسلسل کا نام ہے۔ پہنائے فطرت کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کا نام ہے۔ شروع کی سادہ فکری نے نہ جانے کب تک انسان کو “امت واحدہ” بنائے رکھا ہوگا مگر شجر علم پر اختلافات کے شگوفوں کا کھلنا اور مختلف انسانی گروہوں یا ملتوں کا معرض وجود میں آنا فطری اور مشیت ایزدی کے عین مطابق تھا۔ تاکہ دیکھا جائے بساط علم پر کون کیسے جوہر دکھاتا ہے۔ اگرچہ انسان کی فطرت میں حق و باطل کو پرکھنا ودیعت کر دیا گیا تھا مگر رحمت خداوندی نے نہ چاہا کہ اس جنس ناتواں کو آگ و خون کے دریا عبور کرکے عرفان حق تک پہنچنا پڑے، وحی وسلسلہ انبیاء کے ذریعے شامل حال ہو لیا۔ فاستبقوالخیرات کا ماحول فراہم کیا، جو علم و خیرسے تہی دامن ہوتے ہیں ان پر علم و خیرسے مسلح اقوام کا اقتدار قائم کر دیا جاتاہے۔ “ازل سے ہے فاطر ہستی کا یہ دستور، مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور”۔

ہرچند کہ تہذیب حاضر انسان کی علمی تاریخ کے فقیدالمثال علمی سرمائے کی حامل ہے مگر یورپ کی تہذیبی برتری کا یہ عہدعلمی پھوٹ، علمی انتشار و خلفشار (era fragmented knowledge)کے عہد کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ شجر علم کی شاخوں اور شگوفوں کے درمیان نامیاتی یا حیاتیاتی تعلق (organic link) نہیں ہے۔ قرآن وحدت علم کا پرچارک ہے۔ یعنی علم کی جتنی شاخیں ہوں ان سے ایک مکمل تصویر ابھرے تو یہ حقیقی علم ہوگا، بالفاظ دگر ایسا علم جس کا “کل” ہر ایک “جزو” اور ہر جزو “کل” کی تصدیق کرے۔ اس کلیت علم سے ایک پیغام اخلاق کا اخذکرنا قرآنی تعلیم کا مرکز و محور ہے۔ قرآن نے حصول علم کا ایک سائنٹفک طریقہ بتایاہے۔ جعللکم السمع والابصاروالافئدہ قلیلاًما تشکرون۔ ہم نے تمہیں آنکھ، کان اور دل دیا مگر تم میں سے بہت کم شکر بجالاتے ہیں۔

غور کیا جائے تو علم کی دوہی شاخیں ہیں، علوم طبعی اورعلوم سماجیات۔ طبعی علوم تجرباتی ہیںان کا انحصار حواص خمسہ یا مختصراً آنکھ اور کان پر ہے۔ سماجی علوم مشاہدے اور بصیرت کے متقاضی ہیں، ان کا فیصلہ دل کی بارگاہ میں ہوا کرتا ہے۔ یوں قرآن کی نظرمیں مکمل علم وہ ہے جس کی سائنس تصدیق کرے اور دل گواہی دے۔ یوں تو سائنس اور علوم سماجیات بھی جدا نہیں ہیں کہ مظاہر فطرت کو قرآن آیات کہتا ہے جو قلب انسانی کیلئے سنجیدہ پیغام لیے ہوئے ہیں اور وہ پیغامات سائنس کے حیطہ ادراک سے ماوراء ہیں اور علوم سماجیات کی اہم ترین شاخ علم الٰہیات کا موضوع ہیں۔ خطبات اقبال کی تمہید میں اقبال فرماتے ہیں کہ “وہ وقت دور نہیں جب سائنس اور مذہب ہم آہنگی کی پینگیں بڑھا رہے ہوں گے”۔ آیت مذکورہ پر غور و فکرکے بعد اقبال اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اہل مغرب کا یہ المیہ ہے انہوں نے سمع و بصر پر تکیہ کرتے ہوئے خود کو طبعی علوم تک محدود کرلیا اور اہل مشرق قلب محض تک محدود رہ کر صوفیانہ موشگافیوں کا شکار ہوگئے۔ یوں شرق و غرب “علم کلی” کی نعمت سے تہی دامن ہیں۔ اہل مغرب نے عقل کو ساز حیات سمجھا، اہل مشرق نے عشق کو راز کائنات پایا حالانکہ عقل عشق کی بدولت حق شناسی کی منزل پر پہنچتی ہے اور عشق کو عقل سے مستحکم بنیاد میسر آتی ہے۔ ڈیکارٹ نے کہا “عقل اپنے پائوں پر خود کھڑی ہوسکتی ہے” یعنی اسے وحی کی ضرورت نہیں۔ پاسکل کہہ رہا تھا ـThe heart has reasons which reason does not know دل کچھ ایسے جواز رکھتا ہے جس کا فہم عقل سے ماورا ہے۔ یورپ نے پاسکل کے بجائے ڈیکارٹ کی سنی، عقل عیار نے مادہ پرستی کے بت تعمیر کیے اور دل لاہوتی و عارف و صوفی سے اعراض برتا گیا۔ بقول رومی علم کا یہ خاصاہے کہ تن پر برتا جائے تو ناگ ہے دل پر برتا جائے تو خضر راہ اور ہمدم دیرینہ بن جایا کرتا ہے۔

قرآن کا تصور علم نہایت کشادہ و دقیق ہے۔ جہاں اپنی سطور کو آیات قراردیتا ہے وہاں مظاہر فطرت کو بھی آیات کہتا ہے۔ آیت کا ترجمہ verse بائبل کی دیکھا دیکھی میں کیا گیا ہے ورنہ اس کا مطلب نشانی (sign) ہے۔ تیر کا نشان جو حقیقت کبریٰ کی طرف لطیف اشارہ ہوا کرتا ہے۔ بصیرت قرآن کا یہ نور جب جام غزالی سے چھلکا تو حجت اسلام امام غزالی نے کہا قرآن کتاب المسطور ہے اور کائنات کتاب الشہود ہے قرآن Text ہے کائنات context ہے۔

دونوں ایک دوسرے کی گونج اور گواہی ہیں دونوں میں تضاد آئے تو سمجھ لو کسی ایک کے سمجھنے میں کوتاہی ہوئی ہے۔ سمندرکے کنارے بنی عمارت کے روشن دان سے سمندر دیکھنا تصویر کا ایک رخ ہے، سمندر میں اتر کر روشن دان کو دیکھنا ہوگا آیا کہ یہ وہی سمندر ہے جو روشن دان دکھا رہا تھا۔ اگر مظاہر و مناظر و کارکردگی فطرت کو قرآن کی کسوٹی پر پرکھنا ہے بعینہ قرآن کو مشین فطرت کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا یقیناً دونوں ایک دوسرے سے متعلق اور ایک خداکی بابت گواہی دیں گے۔ جب غزالی کا یہ تصور آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھایا جانے لگا تو اہل یورپ نے پہلی بار مظاہر کائنات کو سنجیدہ لیا اور یہ تصور یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ برصغیر میں اہل القرآن نے اس تصور کو آگے بڑھایا غلام جیلانی برق نے “دو قرآن” لکھی جس میں ایک قرآن کتاب اللہ کو قرار دیا گیا اور دوسرا قرآن کائنات کو قرار دیا گیا۔ ایرانی نژاد امریکی اسکالر حسن نصر نے تین قرآن کا تصور پیش کیاجس میں مصنف نے نفس انسانی کو بھی قرآن قرار دیا کیونکہ قرآن کہتا ہے “ہم ان کو اپنی آیات دکھائیں گے ان کے انفس میں اور آفاق میں” نفس انسانی میں اٹھنے والے خیالات و دلائل کو قرآن نے آیات قرار دیا ہے اسی لیے اقبال نے مومن کے متعلق فرمایا “قاری نظرآتاہے حقیقت میں ہے قرآن”۔ المختصر قرآن کے نکتہ نظرسے علم حقیقی وہ ہے جس کا اثبات قرآن، کائنات اور نفس انسانی سے ہو۔

آیات خواہ قرآن کی ہوں یا مظاہر کائنات میں بکھری ہوئی۔ یا نفس انسانی کے تموج سے اٹھنے والے خیالات کا ہیولیٰ ہوں انہیں باعتبار شدت معنویت چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا درجہ آیات کا ہے انہیں سمجھا بھی جاسکتا ہے یا نہیں بھی سمجھا جاسکتا۔ بارش، صبح شام، دن اور رات آیات ہیں غور کریں تو معنویت سے بھرپور ہیں ورنہ معمول۔ دوسرا درجہ بینات کاہے، غلط یا صحیح ان کادراک ضروری ہوتا ہے مثلاً زلزلے طوفان وغیرہ۔ تیسرا درجہ برہان کا ہے یہ وہ آیات ہیں جو انسان کی نفسیات کو گہری سطح پر متاثر کیے بغیر نہیں رہتیں۔ قرآن کو بحیثیت مجموعی “برہان” کہا گیا ہے۔ چوتھا درجہ ان آیات کا ہے جوشدت معنویت اور زور بیان سے سننے والے کو ناک کے بل گرا دیں۔ مثلاً اے گروہ جن و انس! کیا تم زمین و آسمان کے پردوں سے باہر نکلنا چاہو تو نکل سکتے ہو؟

یہ تو تھا قرآن کا تصورعلم، جہاں تک تصور تعلیم کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ قرآن، کائنات اورنفس انسانی سے اٹھنے والی آیات سے ایک جامع “نظام اخلاق” کشید کیا جائے جو ثابت و سیار ہو۔ اس میں کچھ دائمی اصول بھی ہیں اور کچھ زندگی کے تغیرکا ساتھ دینے والے پہلو بھی۔ اس نظام اخلاق کا نفاذ کتنی بڑی ذمہ داری ہے؟ حضرت حسینؑ کے دل سے پوچھیے! جس سے پہاڑ لرز گئے تھے، زمین اور آسمان نے ہاتھ جوڑ لیے تھے۔ مگر غالب اپنے فارسی اشعار میں کہہ رہے ہیں” آئو! کہ آسمان کا قاعدہ بدل دیں یعنی زمانے کو آسمان کی گردش کے بجائے اپنی مرضی کے تابع کرلیں اور رطل گراں یعنی پیالہ عشق کی گردش سے قضاوقدر کا رخ موڑ ڈالیں یعنی اسے اپنی مرضی پرڈھال دیں۔

کافرکی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20