اپنے امیج کے گرفتار اساتذہ —- فرحان کامرانی

0

استاد بننا ہمارے معاشرے میں سب سے آسان کام ہے مگر اچھا استاد بننا آسان نہیں۔ جب سامنے بیٹھے پچاس ساٹھ ذہن آپ کی باتوں کو جذب کر رہے ہوں تو ان میں سوالات بھی اٹھتے ہیں اور ان جواب وہ اپنے استاد سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ استاد تو سال میں ایک، دو یا تین مرتبہ ہی طلبہ کا امتحان لیتا ہے مگر طلبہ تو ہر پل اپنے استاد کا امتحان لیتے رہتے ہیں اور اُن کے بارے میں رائے قائم کر تے رہتے ہیں۔ یہ رائے کسی زبانی روایت کی طرح ایک سال کے طلبہ سے دوسرے سال کے طلبہ ملتی رہتی ہے اور اس میں ترمیم و اضافہ طلبہ اپنے تجربات سے کرتے رہتے ہیں۔ طلبہ اپنے نوٹس بورڈ پر لگے امتحان کے نتیجے سے اتنا نہیں ڈرتے جس قدر اساتذہ اپنے حوالے سے رائے سے ڈرتے ہیں۔ اس رائے سے بچنے کے اساتذہ کے پاس کچھ عجیب ٹوٹکے ہیں۔ کچھ بہت زیادہ ہنس مکھ بن کر، بہت زیادہ خوش مزاج بن کر اپنا امیج بہتر بنانے کی سعی کرتے ہیں جبکہ کچھ بہت زیادہ سخت بن کر، بدمزاج بن کر یہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگ اُن سے ڈر کر اپنی رائے کے اظہار چھوڑ دیں۔ خیر کچھ بھی کریں، رائے تو قائم رہتی ہی ہے۔ طلبہ کو تو آپ مکھن لگا کر یا ڈرا دھمکا کر تھوڑی دیر کے لئے خاموش کروا ہی لیں مگر اپنے ہم رتبہ لوگوں کا کیا کریں گے؟ اکثر وہ خود طلبہ کے سامنے کسی دوسرے مضمون کے اساتذہ کا تذکرہ چھیڑ دیتے ہیں اور طلبہ زور و شور سے رائے دینے لگتے ہیں۔ کچھ طلبہ شروع میں ڈر کر چپ رہتے ہیں مگر جب یہ غیبت سیشن معمول بن جائے تو وہ بھی اپنی رائے دینے لگتے ہیں۔ یوں مقبولیت اور عدم مقبولیت ایک زیریں نظام کے ذریعے اس شخص تک پہنچ ہی جاتی ہے، جس کے بارے میں وہ ہوتی ہے۔ ہر وقت ایک نوع کے رائے عامہ کے پول سے گزرتے رہنے کی وجہ سے اساتذہ میں ایک نوع کی نفسیاتی عدم توازن کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد اپنی نجی محافل میں اپنے اسی امیج کا ہی تذکرہ لئے بیٹھی رہتی ہے۔ کچھ بڑے شاد ہوتے ہیں کہ طلبہ تو ان سے محبت کرتے ہیں، کچھ کو یہ غم مارے رہتا ہے کہ طلبہ ان کو ناپسند کرتے ہیں۔

ہمارے ایک دوست جامعہ میں کچھ عرصے نفسیات کے عارضی استاد تھے۔ ان کی اردو صاف نہ تھی اور انگریزی بھی کافی گلابی تھی۔ محترم کی شکایت لے کر ظالم طلبہ صدر شعبہ کے پاس پہنچ گئے کہ ان کو استاد محترم کی کلاس میں کچھ سمجھ نہیں آتا۔ صدر شعبہ صاحبہ نے طلبہ کی یہ شکایت / رائے محترم کے گوش گزار کر دی۔ وہ ایک عرصے تک اس پر مغموم رہے اور کہتے رہے کہ دراصل وہ برطانوی لہجے میں انگریزی بولتے ہیں اس لئے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اس پر ایک ظالم استاد نے جملہ کسا کہ حضور مسئلہ یہ نہیں کہ آپ انگریزی برطانوی لہجے میں بولتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ آپ اردو برطانوی لہجے میں بولتے ہیں جو نہ برطانویوں کے سمجھ آئے گی نہ اردو سمجھنے والوں کے۔ اس بات نے ہمارے دوست کو مزید چراغ پاکر دیا۔ ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتیں اساتذہ کو تڑپاتی رہتی ہیں یا خوش کرتی رہتی ہیں۔ وہ یوں ہی اپنے امیج کی پتنگ اڑاتے رہتے ہیں، مختلف قسم کی رائے سے پیچ لڑاتے رہتے ہیں۔

خیر زبانی باتیں تو الگ رہیں مگر اب منحوس سماجی میڈیا بھی ہر بات میں دخیل ہو گیا ہے۔ اب ہر اسکول، کالج، یونیورسٹی کی ہر کلاس کے ہر بیج کے فیس بک پیج، واٹس ایپ گروپس بنے ہوئے ہیں۔ میں ایسے کئی اساتذہ کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں جو ان گروپس، ان پیجز کی خفیہ نگرانی کراتے ہیں اور اپنے بارے میں رائے پڑھ کر ریٹنگ دیکھ کر جیسے توے پر لوٹتے رہتے ہیں۔ اس امیج کی نہ ختم ہونے والی دوڑ میں طلبہ بھی بڑا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کبھی تعریف کے پل باندھ کر توجہ کے طالب، برے امیج والے اساتذہ سے اچھے نمبر حاصل کر لیتے ہیں۔ کبھی ایمانداری کی تعریف کر کے سخت ہونے کی شہرت رکھنے والے اساتذہ کو مکھن کی طرح پگھلا لیتے ہیں۔ طلبہ کی ایک بڑی تعداد اساتذہ کو فیس بک پر محض تب تک کے لئے ایڈ کر لیتی ہے کہ جب تک ان سے کورس پڑھ رہے ہیں یا جب تک تعلیم کا وہ مرحلہ جاری ہے۔ اس دوران استاد کی ہر پوسٹ کو لائک کیا جاتا ہے، توصیفی رائے لکھی جاتی ہے، شیئر کیا جاتا ہے اور جوں ہی کورس مکمل ہو فوراً ہی یہ سارے ولولے ختم ہو جاتے ہیں۔ پھر بعض تو اتنے ستم ظریف اور طوطا چشم ہوتے ہیں کہ سرے سے ہی استاد محترم کو اپنے دوستوں کی فہرست سے ہی ڈیلیٹ کر دیتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اساتذہ کے توصیفی پیجز بنائے جاتے ہیں۔ ان میں خوب خوب تعریفیں لکھی جاتی ہیں۔ پھر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، ان پیجز کے ”فالور“ بڑھتے جاتے ہیں کیونکہ نئے نئے بیچز آتے رہتے ہیں اور پرانے والے بھی فوراً پیج کو ان لائک تو نہیں کر دیتے۔ اس طرح بعض اساتذہ کے فالورز کوئی 5000 یا 6000 تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس صورت حال سے ان اساتذہ میں ایک نوع کا سلیبریٹی ہونے کا وہم پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک بڑی عجیب اور علم نفسیات کی اصطلاح میں Delusional صورت حال ہے۔ اس معاشرے میں علم یا کوئی اخلاقی کام کبھی توجہ حاصل کرتا ہی نہیں۔ معاشرے کا ایک بہت محدود طبقہ ہی کسی اچھے فعل کو سراہنے کی عادت رکھتا ہے۔پھر جو جو کام لوگ تنخواہ لے کر کرتے ہیں، ان کو ہمار امعاشرہ کبھی سراہنا نہیں چاہتا اس لئے کہ ”وہ تو اپنے کام کے پیسے لے رہے ہیں“ اس تصور کی وجہ سے کوئی استاد چاہے وہ کتنا ہی اچھا استاد ہو، اس معاشرے کے لئے وہ صرف ایک ملازم ہے جو اپنے کام کے عوض تنخواہ پاتا ہے۔ پھر اساتذہ کی بڑی تعداد بھی اہلیت کی کمی اور اپنے ہی مضمون میں کمزوری کا شکار ہے۔یہ سب مل جل کر کبھی کسی استاد کو اس معاشرے میں حقیقی معنوں میں سلیبریٹی نہیں بننے دیتا۔ اس لئے یہ وہم بیچارے اساتذہ کو اگر لاحق ہو جائے تو بڑا مہلک ثابت ہوتا ہے۔ یہ لوگ ایک خیالی دنیا بسا لیتے ہیں اور انہیں یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ بھی کسی نوع کے شاہ رخ خان، کسی قسم کے امیتابھ بچن ہیں۔ اس صورت حال میں ان کا ٹکراؤ بعض اوقات جب دیگر اساتذہ سے ہوتا ہے تو اس میں بھی وہ ایک نوع کے شاہ رخ اور سلمان کے ٹکراؤ کی فضا پیدا کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

یعنی یہ امیج، پسندیدگی، سراہے جانے کی خواہش استاد برادری کو اندر ہی اندر مارے ڈالتی ہے۔ امیج کا یہ مسئلہ اساتذہ میں اس قدر شدید اس لئے ہے کہ وہ ہمیشہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ وہ سماجی تناظر میں سب سے کم کامیاب لوگ ہیں۔ جو اساتذہ جامعات میں پڑھاتے ہیں، وہ استاد برادری میں سب سے بہتر صورتحال میں ہیں مگر وہ بھی ہر وقت خود کا سول سرونٹس سے موازنہ کر کے، بزنس میں ترقی کرنے والوں سے موازنہ کر کے بلکہ بینکروں سے بھی موازنہ کر کے عدم اطمینان کا شکار رہتے ہیں۔ جو اساتذہ کالجوں، کوچنگ سینٹروں، ٹیوشن اکیڈمیز اور اسکولوں میں پڑھاتے ہیں ان کا عدم اطمینان کس درجہ ہو گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پیسہ تو خیر اساتذہ کی جمیع اکثریت کو کم ہی ملتا ہے مگر عزت بھی کچھ خاص نہیں ملتی۔ اس لئے یہ لوگ اپنے طلبہ سے ہی ستائش پا کر، ان میں ہی مقبول ہو کر اپنی محرومی کی تلافی کرنا چاہتے ہیں۔ اس چکر میں ”اچھا ٹیچر“ کے اسٹیریو ٹائپ امیج کی بھیانک دوڑ ٹیچروں کے دل و دماغ پر ہر لمحہ طاری رہتی ہے۔

جامعہ کراچی میں بحیثیت استاد میں نے ایک بڑی مزاحیہ صورتحال کا مشاہدہ کیا کہ بعض اساتذہ اپنے آفس اسٹاف سے کینٹین سے چیزیں منگوا کر کھا لیتے مگر خود اگر ان کا دل بھی چاہے تو بھی کینٹین کی طرف نہیں جاتے کہ طلبہ نے اگر انہیں وہاں کچھ کھاتے دیکھ لیا تو ان کے امیج پر بڑا برا اثر پڑے گا۔ یعنی ”اچھے ٹیچر“ کے اسٹیریو ٹائپ تصور میں کچھ کھانا بھی ٹیچر کے مرتبے سے گری ہوئی چیز ہے۔ یہ اور اس نوع کے جامعہ کے اساتذہ کے دیگر چونچلے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ خود کو برطانیہ کے شاہی خاندان کا فرد سمجھ رہے ہیں کہ جن کی سماج میں عزت بے پناہ ہے مگر سماج نے ان سے کچھ بڑی بھاری توقعات بھی لگا رکھی ہیں جس کے بوجھ سے وہ ہلکان ہوئے جاتے ہیں مگر وہ کیا کریں وہ ”اچھے ٹیچر“ جو ہیں۔ بیچارے یہ بھول جاتے ہیں کہ شاہی خاندانوں سے بڑی بھاری اخلاقی توقعات کرنے والوں نے انہیں محلات میں بٹھایا ہے اور تقریباً زمین پر خدا کا ہی درجہ دے رکھا ہے مگر آپ جو خود ساختہ شہزادہ چارلس اور ملکہ الزبتھ بنے جا رہے ہیں، آپ کو سماج نے کس ”سنگھا سن“ پر بٹھایا ہے؟ مگر اپنی معاشی اور سماجی محرومیوں کی اپنے خیالی عزت کے تصور سے تلافی کرنے والے اس بیچارے طبقے کو کون یہ بات سمجھا سکتا ہے۔ امیج کی غلامی انسان کو دولت کی غلامی سے زیادہ بری طرح مارے رکھتی ہے۔ دولت تو پھر بھی انسان کو مل جاتی ہے کیونکہ ایک نظر آنے والی چیز ہے مگر ملکوتی عظمت اور اچھی شہرت کا امیج کب کس کے ہاتھ آیا ہے؟ اس دوڑ میں صرف سانس ہی پھولتا ہے اور کچھ نہیں ملتا۔ ایک پورا سماجی طبقہ تعریف کی خواہش میں گھلا جا رہا ہے اور دنیا ان سے بے اعتناء ہے۔ یہ آئینہ دیکھ کر مسکرا رہے ہیں اور خود ہی اپنی تعریف کر رہے ہیں، چار تالیوں کا شور ان کو ہزار تالیوں کا شور محسوس ہو رہا ہے، یہ منظر کتنا خوفنا ک ہے؟ مگر اس کا شعور کسے ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20