سیکولرازم اور پاکستان —— منیر احمد خلیلی

0

ہمارے ملک میں سیکولر اور لبرل لابی قیامِ پاکستان کے وقت سے موجود ہے۔ کمیونسٹ اور سوشلسٹ بھی قیامِ پاکستان کے مرحلے کے ساتھ ہی یہاں متحرّک ہو گئے تھے۔ علّامہ اقبالؒ نے برّصغیر میں مُسلم کمیونٹی کے عقیدے، تہذیب و ثقافت، تاریخ و تمدّن کو ملحوظ رکھتے پاکستان کا تصوّر پیش کیا تھا اور بانیانِ پاکستان نے تحریکِ پاکستان کے دوران میں مذہبی، تاریخی، تہذیبی و تمدّنی پہلووں کو مسلسل اجاگر کیا تھا۔ یہی محرّکات تھے جنہوں نے اِسلامیانِ برّصغیر کی اکثریت میں نئے وطن کے حصول کے لیے عزم اور جوش و جذبہ پیدا کیا اور لاکھوں مسلمانوں نے کانگرس نواز بڑے بڑے جیّد علماء کے تصوّرِ قومیّت کو مسترد کیا اور اپنے گھر بار، کاروبار، زمینیں جائدادیں اور آباء واجداد کی بستیاں چھوڑیں اور شوق و ولولہ میں سرشار نئے وطن کی طرف ہجرت کر آئے تھے۔ نئے وطن میں اپنی نسلوں کے مفادات دیکھ کرجاگیردار اوربا اثر دِین بیزار عناصر بھی تحریکِ پاکستان میں شامل ہو گئے تھے۔ قائدِ اعظمؒ کی رحلت کے بعد بیوروکریسی، فوج، خود مسلم لیگ اور قادیانیوں اور مغربی تہذیب کے دلدادہ دیگر سیاسی و سماجی گروہوں کے اسلام مخالف طبقے اس مملکت کو اس کی نظریاتی منزل سے دور کرنے میں سرگرم ہو گئے تھے اور وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ جماعتِ اسلامی اور دوسری مذہبی قوتوں نے بھانپ لیا تھا کہ لادینی رجحانات کو تقویت دی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اسمبلی کے باہر اسلامی دستور کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ مولانا شبّیر احمد عثمانی ؒ اسمبلی کے اندر قرار دادِ مقاصد کا ڈرافت تیار کرنے والی ’سب کمیٹی‘ کے ممبر تھے، انہوں نے عوامی خواہشات کے مطابق دستور کے لیے براہِ راست اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔ حکومت کے لیے اس آواز کو اور ایک آزاد و خود مختار مسلم ریاست کا خواب دیکھنے والے کروڑوں عوام کے جذبات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔

چنانچہ نوابزادہ لیاقت علی خان نے بحیثیتِ وزیرِ اعظم خود اسمبلی میں وہ تاریخی قرارداد پیش کی جو تاریخِ پاکستان میں ’قراردادِ پاکستان‘ کے نام سے محفوظ ہے۔ تفصیلی بحث کے بعد 12مارچ 1949 کو یہ قرارداد پاس ہوئی۔ مسلمان ارکانِ اسمبلی میں صرف میاں افتخار الدّین نے اس کی مخالفت کی۔ میاں افتخارالدّین سماجی طور پر جاگیردارانہ کلچر کے نمائندہ تھے۔ نظریہ و فکر کے لحاظ سے ان کی پہچان سوشلسٹ خیالات کے حامل ایسے شخص کی تھی جس نے آگے چل کر بائیں بازو کے دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں کو اپنی بہت بڑی پرنٹ میڈیا اسٹیٹ کے پروں کے نیچے پناہ دی۔ ان کا اس قرارداد کی مخالفت کرنا باعثِ تعجب نہیں تھا۔ کچھ غیر مسلم ارکان نے اپنے کچھ تحفظات ظاہر کیے تھے۔ وزیرِ اعظم نے ان کے خدشات پر انہیں یقین دلایا کہ اس قرارداد سے اقلیّتوں کے حقوق پر کوئی زد نہیں پڑے گی۔ اس قرار داد نے گویا یہ ضمانت دی کہ ملک کے اسلامی مزاج اور کلچر کے باوجود اس میں کوئی ’پروفیسر خورشید‘ اور کوئی کمیونسٹ ’طارق علی‘ اسی طرح رہ سکیں گے جیسے ہمارے لبرل اسلامسٹ ان کے برطانیہ میں رہنے کی مثالیں دے کر سیکولرزم کے فضائل گنواتے ہیں۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگرچہ اسلامی دستور کے لیے انتہائی مخلصانہ اور مؤثر مہم جماعتِ اسلامی نے چلائی تھی لیکن مسلم لیگ کی حکومت نے صرف اس مہم سے مرعوب ہو کر ’قراردادِ مقاصد‘ منظور نہیں کی تھی۔ حکومت پر سب سے بڑا دبائو عوامی شعور اور خواہشات کا تھا جن کو تحریکِ پاکستان میں گونجنے والے ’پاکستان کا مطلب کیا، لا اِلٰہ اِلّا اللہ‘ کے نعرے نے ایک مطالبہ بنا دیا تھا۔

اس قرارداد میں ایک نظریاتی مسلم ریاست کے اہداف اور مزاج کی نشاندہی کرنے والے اہم نکات کا نچوڑ یہ تھا کہ ساری کائنات پر اقتدارِ اعلیٰ اللہ سُبحانہٗ و تعالیٰ کاہے۔ پاکستان میں منتخب نمائندے اس اقتدار ِاعلیٰ کے نائبین کی حیثیت سے عوام کی طرف سے تفویض کردہ ذمہ داری کو پور کریں گے اور اللہ کے دیے ہوئے اصول و قوانین کو نافذ کریں گے۔ ریاست کا نظام جمہوریت، مساوات، تحمّل و بردباری اور عدلِ اجتماعی کے اصولوں پر قائم ہو گا۔ قانون کی نظر میں ملک کے سارے باشندے برابر ہوں گے۔ تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت ہو گی۔ ان کواپنے مذہب و عقیدہ کے مطابق عبادات اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کی مکمل آزادی ہو گی۔ سب کو بلا کسی تفریق و تعصب ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں گے۔ اس قرار داد نے ریاست کے فکری و نظری اور دستوری خطوط متعیّن کر دیے۔ یہ قیاس بجا طور پر پختہ ہوا کہ اس قرار داد نے سیکولر، لبرل، کمیونسٹ اور مغرب پرست طبقوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ چنانچہ یہی قرارداد پاکستان کے پہلے وزیر اعظم اور قائد اعظم ؒ کے بعد ملک کی سب سے محترم شخصیت کی شہادت کا موجب بنی۔

ملک کی بیوروکریسی اور فوج کے اعلیٰ افسر برطانوی سامراج کے پروردہ اور مغربیت زدہ تھے۔ ملک ابھی استحکام اور تعمیر و ترقی کی بالکل ابتدائی مراحل میں تھا۔ مغربی حصے کی سیاست پر جاگیردار وں کا غلبہ تھا جن کے آباء و اجداد کو انگریز کی خدمت کے عوض یہ جاگیریں ملی تھیں۔ اس حصے کے سیاست دانوں کی سرشت میں مشرقی حصے کے عوام اور سیاست دانوں کے بارے میں نہ صرف تحقیر بیٹھی ہوئی تھی بلکہ یہ تو مشرقی حصے کو 1971 سے بہت پہلے کاٹ پھینکنا چاہتے تھے۔ یہ لوگ نماز روزے، حج زکوٰۃ اور نکاح و طلاق کی حد تک اسلام کو گوارا کر سکتے تھے لیکن ایک کامل نظام کی شکل میں اسلام کو یہ اپنے مفادات اور جاگیردارانہ کلچراورمغربی طرزِ زندگی کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ زیرِ سطح کشمکش اور سازشوں کے جھٹکے محسوس ہو رہے تھے۔ کسی نظام کی کامیابی کا دارومدار ملکی بیوروکریسی پر ہوتاہے۔ قراردادِ مقاصد نے جو خطوط وضع کیے تھے، برطانیہ کی فکری بھٹی میں ڈھلی ہوئی بیوروکریسی ان پر نظام کی تشکیل نہیں چاہتی تھی۔ سب سے پہلے اسی نے نظامِ مملکت پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ ملک غلام محمد سیکرٹری مالیات سے وزیرِ مالیات بن گئے۔ وزیرِ اعظم لیاقت علی خان ؒ کو محسوس ہو گیا تھا کہ اس شخص کا مزاج اسلام، جمہوریت اور آئینی بالادستی سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ قبل اس سے کہ وہ اس کے بارے میں کوئی سخت فیصلہ کرتے، شہید کر دیے گئے۔ یہ شخص آگے بڑھا اور اس نے قائدِ اعظم کے بعد گورنرجنرل کے منصب پر فائز ہونے والے سادہ دل اور نیک نہاد خواجہ ناظم الدّین کو گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر وزارتِ عظمیٰ قبول کرنے پر مجبور کیا اور خود بڑی ہوشیاری سے گورنر جنرل بن گیا اور انجام کار خواجہ ناظم الدّین وزارتِ عُظمیٰ سے بھی فارغ کر دیے گئے۔ یوں بیوروکریسی گویا ملک کے منصبِ اعلیٰ پر قابض ہو گئی۔ غلام محمد نے آئینی نظام کی تشکیل کو بار بار ناکام بنایا۔ خواجہ ناظم الدّین کی جگہ محمد علی بوگرا کو دساور سے برآمد کیا گیا۔ انہوں نے ایک دستوری خاکہ مرتّب کر کے دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا لیکن غلام محمد نے وہ اسمبلی ہی توڑدی۔ مولوی تمیزالدّین معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں لے گئے جہاں سے اسمبلی کی بحالی کا فیصلہ آیا لیکن اس دوران میں طاقت کی شیطانی تکون میں عدلیہ نے بھی ایک کونا سنبھال لیا تھا اور جسٹس منیر نے نظریۂ ضرورت کے تحت سندھ ہائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر گورنر کے اقدام پر توثیقی مُہر ثبت کر دی۔

بیوروکریسی کو یوں امورِ مملکت پر چھائے ہوئے دیکھ کرفوج کے جرنیلوں کے اندربیٹھی ہوئی ہوسِ اقتدار کھل کر سامنے آگئی تھی۔ سیاست دانوں کی محلّاتی سازشوں، مفاد پرستیوں اور ابن الوقتیوں اور مغربی و مشرقی حصے کی ذہنی دوریوں اور مغربی حصے والوں کی باہمی رقابتوں نے فوج اور بیوروکریسی پر ان کی کمزوری آشکارا کر دی تھیں اور یہ واضح ہو گیا تھا کہ سیاست دان اپنے مفادات کی خاطر ہر پستی میں گرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ غلام محمد اور جنرل اسکندر مرزا نے مل کرسیاسی استحکام کی اینٹیں ایک ایک کر کے اکھاڑنی شروع کر دیں۔ حکومتیں بنتی اور ٹوتتی رہیں۔ سیاسی عدمِ استحکام انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔ 1956 میں قومی اتحاد و استحکام کا ضامن دستور بنا جس پر ملک کے دونوں حصوں کی قیادت کا اتفاق تھا۔ اسی آئین میں ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ کر یہ طے کر دیا گیا تھا کہ ملک کا نظام اسلامی تعلیمات اور جمہوری اصولوں کا ایک منفرد نمونہ ہو گا۔ لیکن دو سال بعداس دستور پر بطورِ سربراہِ مملکت دستخط کرنے والے اسکندر مرزا نے خود دستور منسوخ کر کے سیاسی بساط لپیٹ دی اور ملک مارشل لا کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ اب اقتدارِ کامل کے بھوکے جرنیلوں میں مقابلہ شروع ہوگیاتھا۔ ایوب خان نے اسکندر مرزا کو نکال باہر کیا اورزمام اپنے ہاتھ میں لے لی۔ یوں ملک میں فوجی آمریت قائم ہو گئی جس کا کسی نہ کسی شکل میںتسلسل ابھی تک قائم ہے۔

لبرل اسلامسٹوں کاسیکولرزم پر زور
تاریخ دہرانا مقصود نہیں تھا۔ سیکولر، لبرل اور سوشلسٹ لابیاں مدت سے ’سیکولر پاکستان‘ کا راگ الاپ رہی ہیں۔ اب کچھ عرصے سے ملک کے نظریاتی چہرے پر مغالطوں کی گرد ڈالنے والا ایک نیافکری گروہ نمودار ہوا ہے۔ اس نے سیکولرزم کی نئی نئی وکالت سنبھالی ہے۔ اس گروہ کو میں ’لبرل اسلامسٹ‘ کے نام سے پکارتا ہوں۔ پاکستان میں سیکولرزم کے پس منظر کو نمایاں کرنے کے لیے مجھے وطن کی تاریخ کے اوّلین مرحلے میں جھانکنا پڑا ہے۔ یہ احباب جب سیکولرزم کے فضائل گنواتے ہیں تو ان کا اصرار ہوتا ہے کہ سیکولرزم کا مطلب مذہب کی نفی ہر گز نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی و سماجی نظام ہے جس میں’طارق علی خان اور پروفیسر خورشید احمد‘ اسی طرح آزادی اور خوشی سے رہ سکیں جیسے وہ برطانیہ میں رہتے ہیں۔ لبرل اسلامسٹ دانشور اس اصطلاح کی تعریف کو اس کے اصل ماخذ سے دیکھنے اور اس کی ا طلاقی تاریخ پر نظر ڈالنے کے بجائے اپنی راگنی کو اصل سیکولراور لبرل طبقات سے ہم آہنگ ہو کر مغربی معاشروں کی دل خوش کن مثالیں لا کر اپنے موقف میں زور پیدا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں سیکولرزم کی اصطلاح کا تفصیلی جائزہ لینے پر مجبور ہوں۔ کسی بھی اصطلاح کی تعبیر اس ماحول سے وابستہ ہوتی ہے جس میں وہ اصطلاح وضع ہوئی اور جس کے اہلِ نظر نے اس کو پہلے پہل استعمال کیا۔ ہم جس طرح اسلام کوسمجھنے کے لیے اس کے حقیقی ماخذ—قُرآن اور سُنّت و سیرت اور احادیثِ رسولﷺ—سے رجوع کرتے ہیں، اسی طرح سیکولرزم کی اصطلاح کی صحیح تفہیم اس کے اوّلین فلاسفہ اور اس زبان کی ڈکشنریوں اور اس کے اہلِ علم کی تحریروں کو پسِ پشت ڈال کر نہیں ہو سکتی۔

قوامیس اور دائرۃُ المعارف میں سیکولرزم کی تعریف
Merriam Webster Dictionary انگریزی زبان کی مستند ڈکشنری ہے۔ اس میں لفظ secularism کے معنی درج ذیل ہیں:

The belief that religion should not play a role in government, education or other public parts of society.

آکسفور ڈلرنر ز ڈکشنری اس اصطلاح کے بارے میں بتاتی ہے:

The belief that religion should not be involved in the organization of society, education etc

کیمبرج ڈکشنری میں اس اصطلاح کا مطلب بتایا گیا ہے کہ:

The belief that religion should not be involved with ordinary social and political activities of a country

میکملن ڈکشنری اس کا یہ مختصر مفہوم بتاتی ہے:

Lack of religious influence within society

آن لائن ووکیبولری ڈکشنری کی تشریح یہ ہے کہ :

A doctrine that rejects religion and religious consideration

ووکیبولری ڈکشنری کچھ مزید وضاحت کرتی ہے کہ:

Secularism is a way of life and thinking that rejects religion. So if you’r in secularism, you’r not into God, going to church, praying, or anything holy.

؁Your Dictionaryبھی یہی معنی بتاتی ہے:

Secularism is a belief system that rejects religion or the belief that religion should not be part of the affairs of state or part of public education.

انگریزی لُغت کے یہ سب معروف و مصدّقہ ذرائع ایک ہی حقیقت بتاتے ہیں کہ سیکولرزم ریاستی امور، سماجی و ثقافتی دائروں اور تعلیمی شعبے کا تعلق مذہب سے کاٹ دیتا ہے۔ انسائکلوپیڈیا برٹانیکا طویل مدت سے علم و معرفت کا معتبر ترین اور بہت مستند حوالہ فراہم کرتا ہے۔ اس میں اس اصطلاح کی تعریف درج ذیل ہے:

In the Middle Ages in Europe there was a strong tendency for religious persons to despise human affairs and meditate on God and afterlife. As a reaction to this medieval tendency, secularism at the time of Renaissance exhibited itself in development of humaism, when people began to show more interest in human cultural achievements and possibilities of their fulfilment in this world.
The movement toward secularism has been in progress during the centuries course of modern history and has often viewed as being anti-Christian and anti-religion. In the later century, however, some theologians begane advocating secular-Christianity. They suggested that Christianity should not be concerned only with the sacred and otherworldly but the people should find in the world opportunity to promote Christian values. These theologians maintained that the real meaning of the message of Jesus can be discovered and fulfilled in the everyday affairs of secular living.

JSTOR سب سے بڑی ڈیجیٹل لائبریری، قوامیس اور علمی مباحث کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ اس میں لفظ سیکولرزم کی مزید وضاحت ملتی ہے:

Secularism is the principle of separation of government institutions and persons mandated to represent the state from religous rule and teachings, or, in a state declared to be neutral on matters of belief from imposition by government of religion or religious practices upon its people. Another manifestation of secularism is the view that public activities and decisions, especially political ones, should be uninfluenced by religious beliefs and/or practices. Secularism drwas its intellectual roots from Greek and Roman philosophers such as Epicurus and Marcus Aurelius, from enlightenment thinkers such as John Locke, Denis Diderot, Voltaire, Baruch Spinoza, James Madison, Thomas Jefferson and Thomas Paine, and from more recent freethinkers and etheists such as Robert Ingersoll and Bertrand Russel.

’سیکولرزم حکومتی اداروں اور ریاست کی نمائندگی کرنے والی شخصیات کے مذہبی قواعد و ضوابط اور تعلیمات سے جدا رہنے کا اصول ہے، یا ایک ایسی ریاست میں جس نے مذہبی عقائد کے معاملات میں غیر جانبدار اور بے تعلق رہنے کا اعلان کر رکھا ہو اسے بھی لوگوں پر مذہب یا مذہبی رسومات کے عمل کو لاگو کرنے سے الگ تھلگ رہنے کا نام سیکولرزم ہے۔ اس نظریے کا ایک اظہاریہ تصور ہے کہ سرکاری اور خاص طور پر سیاسی سرگرمیوں اور فیصلوں پر مذہبی عقائد اور اعمال کا کوئی اثر نہ پڑے۔ سیکولرزم کی فکری و نظریاتی جڑیں یونانی اور رومن فلاسفہ سے اخذ کی گئی ہیں۔ اپیکورس اور مارکوس آریلیس جیسے سیکولرزم کے قدیم فلسفیوں سے لے کر روشن خیالی (Renaissance) کے دور کے جان لاک، ڈینس ڈائرٹ، والٹیئر، بروش سپائنوزا، جیمز میڈیسن، تھامس جیفرسن اور تھامس پائینے اور ماضی قریب کے رابرٹ اِنگرسول اور برٹرانڈ رسل جیسے فری تھنکر اور منکرینِ مذہب تک اس کی جڑیں پھیلی ہوئی ہیں۔‘

ہم دیکھتے ہیں کہ سیکولرزم کے شجر کی جڑیں تیسری چوتھی صدی قبل مسیح سے لے کر دوسری صدی عیسوی میں ہیں اور اس کی شاخیںاکیسویں صدی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر کوئی دیسی دانشور پاکستان یا امریکہ یا کسی یورپی ملک میں بیٹھ کر یہ سمجھتا ہے کہ سیکولزم کی جو تعریف ان یونانی، لاطینی، رومن اور یورپی و امریکی حُکماء اور اہلِ دانش نے متعیّن کی اور اس فلسفے کی جو اطلاقی حدود کھینچیں، وہ ان کو مٹا کر اپنی نئی تعریف منوائیں گے یا اس فلسفے کے نفاذ کے اپنے دائرے لگائیں گے تو ساری دنیا جہاں سیکولرزم نے ایک مذہب اور عقیدہ کی حیثیت اختیار کر لی وہ ان کی بات کیسے تسلیم کرے گی؟

سیکولرزم کے نتیجے میں مذہبی انحطاط
ریاست وسیاست وہ میدان ہے جو اپنی لا محدود طاقت اور اختیارات کی وجہ زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ریاست و سیاست تو قطعی طور پر سیکولر ہو اور اس کے سماج پر اثرات مرتّب نہ پڑتے ہوں۔ تعلیم ذہن سازی اور سیرت گری کا ذمہ دار دوسرا سب سے موثّر عامل ہے۔ سیکولرزم کے فکر سازوں نے اہتمام اور اختصاص کے ساتھ اقتدار کے ساتھ تعلیم کوبھی مذہب کے اثر سے محفوظ رکھنے کا ’حکم‘ جاری کیا اور صاف کہہ دیا کہ جس طرح حکومت کا مذہبی رنگ سے پاک صاف ہونا ضروری ہے اسی طرح تعلیم پربھی مذہب کا سایہ نہیں پڑنا چاہیے۔ اجتماعی شعور کی تشکیل میں اس چیز کے جو نتائج ہو سکتے ہیں اور جو صاف دیکھے جا سکتے ہیںان سے کوئی مفتور العقل آدمی ہی انکار کر سکتا ہے۔ ریاست و سیاست اور حکومت و اقتدار اور تعلیم کے گرد سیکولرزم کی دیوار کھڑی کر دینے کے مضمرات جدید یورپ اور امریکہ کے ادب وفنون اور عملی زندگی میں دورِ تنویریت (Enlightenment Age) سے بتدریج ظاہر ہونا شروع ہوئے اور اب معیشت و معاشرت، میل جول، آداب و رسوم، اکل و شرب، نشست و برخاست، معاملات و تعلقات سے لے کر ریاست کے داخلی خارجی سارے امور تک پھیل گئے ہیں۔ مذہب سے تعلق مسلسل رو بہ انحطاط ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی اوپر درج سطور کے آخری حصے میں جن ماہرینِ مذہبیات کی طرف اشارہ ہے اُن کی رائے سیکولرزم کے ٹاٹ میں زبردستی عیسائیت کا ریشمی ٹکڑا ٹانکنے اور عیسٰی علیہ السّلام کی تعلیمات کی بالواسطہ secularization کے مترادف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یسوع مسیح کے پیغام کے اصل معانی و مفاہیم کی دریافت لامذہبیت کی روز مرہ زندگی میں ہی ممکن ہے اور لا مذہبیت کے ماحول ہی میں ان کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس راستے کو اختیار کرنے سے عیسیٰ علیہ السّلام کی تعلیمات سے وابستگی میں وسعت آئی ہے یا کمی ہوئی ہے؟ اس کا جواب بیسویں صدی میں امریکہ کے بااثر ترین عیسائی مبلّغوں میں شمار ہونے والے ایک مذہبی لیڈربِلّی گراہم (William Franklin Graham) کے ایک قول سے ملتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا:

It is no secret that in New York during last 30 years there has been a tragic exodus from the churches into materialism, secularism and humanism.

’یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ پچھلے تیس برسوں میں (صرف) نیو یارک میں چرچوں سے مادّہ پرستی، لا دینیت اور انسانیت پسندی کی طرف المناک حد تک اخراج ا و ررجوع ہوا۔ ‘

یہ دیکھنے کے لیے کہ سیکولرزم نفسِ مذہب کو کتنی زک پہنچا رہا ہے ہمیں کچھ اور ذرائع میں جھانکنا ہو گا۔ واشنگٹن میں قائم معروف تھنک ٹینک Pew Foundation ملکوں اور معاشروں کے فکری اور اعتقادی اُتار چڑھائو پر اپنے تحقیقی جائزے پیش کرتا رہتا ہے۔ اس ادارے نے 2018/19کے ایک تفصیلی سروے میں امریکہ کے اندر مذہبی وابستگی میں روز افزوں تنزّل پر جو تحقیقی سروے پیش کیا اُس کے مطابق 2009 میں اپنے عیسائی مذہب کااقرار کرنے والے امریکیوں کی تعداد 65فیصد تھی، اب آبادی میں اضافہ کے باوجود ایسے اقراری عیسائیوں کی تعدادمیں 12 فیصد کمی آ گئی ہے۔ پچھلے دس سال میں سیکولر ماحول نے مُلحدوں اور لا مذہبوں (atheists, agnostics or nothing) کو 17 فیصد سے بڑھا کر 26 فیصد کردیا ہے۔ 2009میںاپنے آپ کو پروٹسٹنٹ عقیدے کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرنے والے 51فیصد تھے، اب وہ گھٹ کر 43فیصد رہ گئے ہیں۔ کیتھولک عقیدہ بھی اس عرصے میں عددی گراوٹ کا شکار ہوا اور23فیصد سے کم ہو کر 20پر اُتر آیا۔ اسی طرح مذہبی احساس میں جو ضعف پیدا ہوا اس کے نتیجے میں 2009 میں 12 فیصد لوگ کندھے اچکا کر بڑی بے پروائی سے nothing in particular یعنی’ کوئی خاص شناخت نہیں ہے‘ کہتے تھے, اب امریکی معاشرے میں ان کی تعداد 17فیصد ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار جس اعتقادی انحطاط کی نشاندہی کرتے ہیں وہ ریاست اور تعلیم جیسے دو شعبوں کو مذہب سے کاٹ دینے کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔

اِسلاموفوبیا (Islamophobia)
’پروفیسر خورشید‘ اور ’طارق خان‘ کی برطانیہ میں بودوباش کی مثالیں دینے والے ہمارے یہ لبرل اسلامسٹ دانشور یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت و حقارت، مخالفت وتعصب اور اُن سے خوف و وحشت اور بیزاری اور دُوری کے بڑھتے ہوئے جذبات سے بے خبر نہیں ہوں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ اسلاموفوبیا کے یہ رویّے مغربی میڈیا اور دانش گاہوں سے نکل کر عالمی اداروں میں بھی زیرِ بحث آ رہے ہیں۔ دو چار یا کئی نسلوں سے کسی ملک میں جا بسنے والے افراد اور گھرانوں کو اجنبی سمجھا جائے اور ان سے غیریت و اجنبیت کا برتائو ہو تو اسے Xenophobia کہتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں پھیلتے ہوئے مسلم مخالف جذبات اب کوئی راز کی بات نہیں رہے ہیں۔ نائین الیون (11/9)کے بعد ان جذبات میں تیزی آئی ہے۔ مسلمانوں نے یورپ اور امریکہ کی ترقی میں اپنا پورا کردار ادا کیا لیکن 2007 کے عالمی معاشی بحران کے بعد مسلمانوں کو وہاں اصل باشندوں کی ’حق ماری‘ کرنے والوں کا درجہ بھی دیا جانے لگا، جیسے بھارت میں مودی نے یہ تصوّر ہندو ذہن میں راسخ کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے وجود کا مطلب ہندووں کی محرومی ہے۔ گیلپ کا 2008-10کا ایک سروے بتاتا ہے کہ یورپ کے بعض ملکوں میں بعض ایسی پارٹیاں مقبول ہو رہی ہیں جو مسلم دشمن جذبات کو ہوا دے رہی ہیں اور انہیں یورپی معاشروں کے لیے خطرہ قرار دیتی ہیں۔ برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کی صفوں کے اندر سے اسلامو فوبیا کے شعلے اٹھ رہے ہیں جنہیں بجھانے میں بورس جانسن ناکام ہو گیا ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی نسل پرست حکمران ہے جس کی پالیسیوں کی وجہ سے اصل گورے عوام میں مسلمانوں اور بعض دوسری اقلیّتوں کے خلاف برہمی اور جھنجلاہٹ کو فروغ ملاہے۔

یورپ میں اس وقت 20ملین مسلمان بستے ہیں، ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو یورپی معاشروں کے لیے ایک خطرہ سمجھا جارہاہے۔ یورپی معاشروں کا دعویٰ تھا کہ وہ عدمِ امتیاز، رواداری، تحمّل و برداشت، عدل و انصاف، یگانگت و وحدت، مساوات اور آزادیِ رائے کی اقدار پر قائم ہیں لیکن 2017 میں EU Minorities and Discrimination Survey میں بتایا گیا ہے کہ وہاں ہر تین میں سے ایک مسلمان کو کسی نہ کسی صورت میں نفرت و تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ 27فیصد مسلمانوں نے اپنے ساتھ کسی نہ کسی نوعیت کی بدسلوکی کی شکایت کی ہے۔ Euoropean Network Against Racism کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’جاب مارکٹ‘ میں مسلمان عورتیں اسلاموفوبیا کا خاص ہدف بنتی ہیں۔ گیلپ کی 2008-10 ایک رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسلی امریکیوں کے مردوں، عورتوں، جوانوں اور بوڑھوں، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ افراد میں یکساں طور پر مسلمانوں کے خلاف تعصب کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ امریکہ میں جہاں ایک امریکی مسلمانوں کو امریکہ کا وفادار سمجھتا ہے تو اس کے مقابلے میں دوسرا امریکی انہیں غیر وفادار اور ناقابلِ اعتبار خیال کرتا ہے اور ان کے ساتھ اچھے برتائو کا مخالف ہے۔ ایک طرف مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھ کر انہیں شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو دوسری طرف اُن کی مقدّس کتاب اور اُن کے رسول ؐ کی توہین کے پے درپے واقعات ہو رہے ہیں۔ برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک میں مسلمانوں کی مساجد کی بے حرمتی ایک معمول کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ یہ مغرب کے سیکولرزم کی ہلکی سی جھلکی ہے۔

خاتمۂِ مبحث
یورپ اور امریکہ کے سیکولر چہرے کی یہ تصویر ہم نے دیکھ لی۔ سماجی ہم آہنگی کی کھوکھلی دیوار پر سیکولرزم کا چکنا اور خوبصورت پلستر چڑھا دیا گیا ہے۔ پاکستان کو لبرل اور سیکولر رنگ میں دیکھنے کے متمنی حلقوں سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہے کہ قائدِ اعظم ؒ کی رحلت اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد جہاں ملک کے اسلامی تہذیبی و فکری خطوط کے اندرجمہوری کلچر، آئین و دستور کے تابع نظام اور سِول بالادستی کا خواب چکنا چور ہوا وہاں ملک کی اسلامی روح کو مار کر اسے سیکولرزم میں ڈھال دیا گیا تھا۔ اسلام کا چرچا بہت ہوا لیکن اس کا غلبہ کبھی قائم نہیں ہوا۔ اقتدار میں آنے والی دائیں یا بائیں بازو کی ہر پارٹی مزاج کے اعتبار سے سیکولر تھی۔ بالا دست اور نظام پر ہمیشہ حاوی رہنے والی اسٹیبلشمنٹ کی فطرت لبرل بھی ہے اور سیکولر بھی۔ تاہم اگر صرف ’قراردادِ مقاصد‘ اور آئینِ پاکستان کی اس شق کی وجہ سے کہ ملک کا کوئی قانون قُرآن و سنّت کے خلاف نہیں ہو گا، نیز اس وجہ سے کہ یہاں اسلامی نظریاتی کونسل کے نام کا ایک آئینی ادارہ بھی ہے، ریاست و سیاست اور جھوٹی سچی پارلیمنٹ کی مجموعی سیکولر خاصیّت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

ملک میں جو انتہا پسندانہ رجحانات پروان چڑھے، عسکریت، تشدد اور دہشت گردی کی جو لہریں اٹھتی رہیں ان کا سنجیدگی سے تجزیہ نہیں کیا ورنہ یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی کہ یہ سارے منفی رجحانات طاقتور اور با اثر لبرل لابیوں اور سیکولر حکومتوں کی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ اگرچہ مذہبیت خود علمی و فکری زوال کی زد میں اورفرقہ پرستی کی لپیٹ میں ہے لیکن اس کی حریف قوتوں کے جارحانہ طرزِ عمل نے اس میں ایک منفی ردّ عمل پیدا کر دیا ہے۔ لبرل اسلامسٹ بھی ایک فرقہ ہیں۔ دوسروں کی نفی اور اپنے اثبات میں ایک نوعیّت کی انتہا پسندی کا شکارہیں۔ یہ دِین کو ایسی شکل دینے میں مصروف ہیں جو اسے مغرب میں مقبول ہو۔ کافی حد تک نا خوشگوار صورتِ حال کے باوجود ہمارے معاشرے میں ابھی رواداری اور تحمّل موجود ہے۔ لاکھوں غیر مسلم ہمارے ملک میں آزادی اور امن سے رہ رہے ہیں۔ ابھی پروفیسر خورشید اور طارق علی کے اکٹھے رہنے کی گنجائش موجود ہے۔

یہ بھی دیکھیں: سیکولرزم: یہ جنگ آپ ہر حال میں ہار جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید احمد غامدی
(Visited 1 times, 6 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: