بر صغیر کے ناقدین حدیث کے افکار پر تحریک استشراق کے اثرات — حسیب احمد حسیب

0

ایک تقابلی مطالعہ

Abstract
Character and sayings of Prophet Muhammad صلى الله علیہ وسلم were always under the criticism of orient lists, they were biased because of their history against Islam but some of so called Islamic scholars were also under the influence of oriental ism and their approach towards Islam.

The feeling that there is a general ignorance of Islam in the West is shared by Maurice Bucaille, a French doctor, who writes:

When one mentions Islam to the materialist atheist, he smiles with a complacency that is only equal to his ignorance of the subject. In common with the majority of Western intellectuals, of whatever religious persuasion, he has an impressive collection of false notions about Islam.1

 One must, on this point, allow him one or two excuses. Firstly, apart from the newly-adopted attitudes prevailing among the highest Catholic authorities, Islam has always been subject in the West to a so-called ‘secular slander’. Anyone in the West who has acquired a deep knowledge of Islam knows just to what extent its history, dogma and aims have been distorted. One must also take into account that fact that documents published in European languages on this subject (leaving aside highly specialized studies) do not make the work of a person willing to learn any easier.

In this article we have studied the thoughts of orient lists and their approach towards the personality of Prophet Muhammad صلى الله علیہ وسلم his sayings and rulings and how so called Islamic scholars borrowed their thoughts from them to malign and dishonor the sayings of Prophet (SAW).

 

چند بنیادی اصطلاحات :
حدیث، سنت، استشراق، استعمار، استغراب۔

حدیث :
لفظ “حدیث” کا مصدر تحدیث ہے کہ جسکا معنی خبر دینا یا خبر پہنچانا ہے۔

تحدیث کے معنی ہیں:خبر دینا  ہو الاسم من التحدیث، و ہو الاخبار۔ 2

حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں:-
” المراد بالحدیث فی عرف الشرع مایضاف الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم، وکانہ ارید بہ مقابلۃ القرآن لانہ قدیم 3

سنت :
لغت میں “سنت” کا مطلب طریقہ ہے خالد بن عتبہ ہذلی کا شعر ہے

فلا تجزعن من سنّة أنت سرتها
فأوّل راض سنّة من يسيرها

اصطلاح شرعی میں “ہر وہ عمل کہ جو نبی کریم ﷺ سے ہم تک قولی، فعلی اور تائیدی عملی تواتر کے ساتھ پہنچے سنت ہے “۔ 5

استشراق :
استشراق (Orientalism) اور مستشرق کا لغوی و اصطلاحی معنی

استشراق عربی زبان کے مادہ (ش۔ر۔ق) سے مشتق ہے جس کے معنی شر ق شناسی کے ہیں، یہ اصطلاح زیادہ قدیم نہیں ہے؛ اس لیے قدیم عربی، فارسی اور اردو معاجم میں شرق تو موجود ہے؛ لیکن زیر بحث الفاظ، یعنی باب استفعال میں اس کے معنی و مفہوم یا بطور فعل ان لغات سے بحث نہیں پائی جاتی؛ البتہ جدید لغات میں استشراق کا ذکر موجود ہے۔

شرف الدین اصلاحی ”Orientalist“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ

یہ لفظ انگریزوں کا وضع کردہ ہے جس کے لیے عربی میں استشراق کا لفظ وضع کیا گیا ہے لفظ ”orient“ بمعنی مشرق اور ”Orientalism“ کا معنی شرق شناسی یا مشرقی علوم و فنون اور ادب میں مہارت حاصل کرنے کے ہیں۔ مستشرق (استشرق کے فعل سے اسم فاعل) سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو بہ تکلف مشرقی بنتا ہے۔ 6

ایڈورڈ سعید (Edward Said) تحریک استشراق اور مستشرق کے الفاظ کو وسعت دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔

Anyone who teaches, writes about, or researches the orient and this applies whether the person is an anthropologist, sociologist, historian, or philologist either in its specific or its general aspects, is an orientalist, and what he or she does is Orientalism   7

 استعمار :

لغوی اعتبار سے استعمار کا مطلب آباد کرنا ہے اسکے مترادف کے طور پر نو آبادیات، سامراجیت، ملوکیت، شہنشاہیت وغیرہ کی  اصطلاحات بھی استعمال ہوتی ہیں ، استعمار کی ایک جامع تعریف ڈاکٹر مبارک علی کے ہاں ملتی ہے۔

بقول ڈاکٹر مبارک علی۔
” امپیریلزم کو ہم تاریخی اعتبار سے تین ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں

قدیم امپیریلزم
یورپی امپیریلزم
نیو امپیریلزم

تاریخی تسلسل اور تبدیلی میں اسکی ساخت اور ہیت میں تبدیلی آتی رہی ہے اور سکے مقاصد اور مفادات بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں لیکن ایک چیز جو ان تینوں ادوار میں مشترک رہی ہے وہ اسکا ظلم و استحصال تھا کہ جسکے ذریعہ امن پسند، صلح جو اور سادہ عوام کو لوٹا گیا اور انکی زندگی کو تباہ و برباد کیا گیا”۔8

استغراب:

استغراب ایک جدید اصطلاح ہے کہ جسکا مادہ “غرب” یعنی سورج ڈوبنے کی جگہ اسے استشراق کی ضد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے وہ مشرقی کہ جو علوم اسلامیہ کے حوالے سے مغرب کے خوشہ چین ہوں مستغرب کہلائے جا سکتے ہیں۔

1400, from Old French occidental(14c.) and directly from Latin occidentalis”western,” from occidentem (see occident). As a capitalized noun meaning “a Western person” (opposed to Oriental) from 1857. 9

 استشراقی مفکرین کی مختصر تاریخ :
معلوم تاریخ میں یوحنا دمشقی (John of Damascus) وہ پہلا شخص تھا کہ جس نے نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی ذات کو براہ راست نشانہ بنایا اسکا شمار اسلام کے معروف ترین ناقدین میں ہوتا ہے ملاحظہ کیجئے:

And so down to the time of Heraclius they were very great idolaters. From that time to the present a false prophet named Mohammed has appeared in their midst. This man, after having chanced upon the Old and New Testaments and likewise, it seems, having conversed with an Arian monk   10

معروف مستشرق ڈاکٹر فلپ ہٹی اپنی معروف کتاب ” Islam and the west ” کے باب ” Islam and the western literature ” میں لکھتے ہیں کہ کہ کس طرح قرون وسطیٰ کے مستشرقین نے اسلام کی بابت بیہودہ کہانیاں نقل کی ہیں .دانتے الیگیری اپنی معروف نظم خدائی کامیڈی میں معاذاللہ نبی کریم صل الله علیہ وسلم کو نویں جہنم میں دکھاتا ہے۔

اسی طرح یہ کہانی بھی اہل مغرب کے ہاں گردش کرتی رہی کہ:-

 پیغمبر اسلام صل الله علیہ وسلم نے ایک کبوتر کو تربیت دے رکھی تھی جو ہر وقت آپ کے کاندھے پر بیٹھا رہتا اور جب جب وہ آپ صل الله علیہ وسلم کے کان میں پڑا دانہ چگنے کیلئے چونچ مارتا تو آپ علیہ سلام فرماتے روح القدس اس کے ذریعے مجھے وحی فرماتے ہیں . حیرت و افسوس کی بات ہے کہ شیکسپیر جیسے ادیب نے بھی اپنے ایک ڈرامے میں ایک کردار سے یہ واقعہ بیان کروایا ہے . 11

معروف مستشرق Gustav Weil (1808-1889) نے اپنی کتاب Geschichte der Chaliphen میں الزام لگایا کہ بخاری کی تمام احادیث مسترد کیے جانے کے قابل ہیں یہی اعتراض اکثر منکرین حدیث نے اپنی متعدد کتب میں دوہرایا ہے ، اسکے بعد Aloys Sprenger (1813-1893) نے اپنی تین جلدوں پر مبنی کتاب  Das Leben und die Lehre des Mohammad میں احادیث کی اسنادی حیثیت سے متعلق بحث کی اور وہ یہ امر قبول کرنے پر مجبور ہوا کہ احادیث کا ایک بڑا زخیرہ مستند قرار دیا جا سکاتا ہے ایک اور معروف مستشرق William Muir (1819-1905) نے اپنی کتاب The Life of Mahomet نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بحث کی اسی کتاب کا جواب سرسید احمد خان نے لکھنے کی کوشش کی تھی اس کتاب میں خاص طور پر امی عائشہ صدیقہ رض کی عمر مبارک کو لے کر بحث کی گئی اور نبی کریم ﷺ کی متعدد شادیوں کے حوالے سے الزامات عائد کیے گئے اسی قبیل کے الزامات اکثر ہمیں منکرین حدیث کی کتب میں بھی دکھائی دیتے ہیں، اسکے بعد  Reinhart Dozy (1820-1883) نے اپنی کتاب  Het Islamisme میں یہ بحث اٹھائی کہ احادیث کے لکھنے کا دور چونکہ دو سو سال کے بعد کا ہے اسلیے انہیں مستند تسلیم نہیں کیا جا سکتا یہ وہ معروف مغالطہ ہے کہ جو تواتر کے ساتھ منکرین حدیث کی صفوں سے دوہرایا جاتا رہا ہے، اس کے بعد اس کے بعد سب سے بڑا نام ہمیں اگناز گولڈ زیہر کا دکھائی دیتا ہے گولڈ زہیر نے احادیث مبارکہ پر متعدد علمی اعتراضات اٹھائے ہیں اور دور جدید کے منکرین حدیث کا اکثر الزامات کا منبع اور مصدر زیہر ہی ہے شیخ مصطفی حسن سباعی کی معروف ” السنة ومکانتھا في التشریع الإسلامي ” میں زیہر کے الزامات کا جواب دیا گیا ہے، زیہر کے ہی ہم عصر ڈچ مستشرق C. Snouck Hurgronje (1857-1936) نے اپنی کتب میں یہ الزام عائد کیا کہ مسلم خلفاء اور بادشاہوں نے اپنے اپنے ادوار میں علماء امت کو دباؤ میں رکھ کر احادیث سازی کی اسلئے حدیث کے عظیم الشان ذخیرے  پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے، تحریک استشراق میں ایک اور بہت بڑا نام David Samuel Margoliouth (1858-1940) کا ہے فاضل مستشرق نے اپنی تحاریر میں لفظ سنت سے بحث کی اور سنت کو درحقیقت پچھلی امت کی رویات ثقافت اور اعتقادات و رسومات کا مجموعہ قرار دیا مسلمانوں میں یہی نظریہ دور جدید میں محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے ہاں بھی ملتا ہے جیساکہ غامدی صاحب اپنی کتاب اصول و مبادی میں لکھتے ہیں:

“سنت سے مراد دین ابراہیمی ؑ کی وہ روایت ہے کہ جسے نبی کریم ﷺ نے اسکی تجدید و اصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ”  12

 متعدد مستشرقین کے کام کی تفصیل محترمہ Fatma Kızıl کے مضمون  The Views of Orientalists on the Hadith Literature میں دیکھی جا سکتی ہے محترمہ نے خاص کر جوزف شاخت کو تحریک استشراق کا ایک اہم ترین رکن قرار دیا ہے شاخت کے کام کے حوالے سے ہم آگے گفتگو کرتے ہیں محترمہ فرماتی ہیں:

Thus, Schacht became a major figure in orientalist literature, greatly influencing the later scholars – so much so that the subsequent generations of orientalists have been divided into either those who accept his claims or those who do not, making him a central figure in the literature. 13

برصغیر کے منکرین حدیث کا مختصر تعارف :

اگر یہ کہا جائے کہ برصغیر میں انکار حدیث کی خشت اورل سرسید احمد خان نے رکھی تو کچھ غلط نہ ہوگا متعدد حوالہ جات سے اس امر کا اثبات کیا جا سکتا ہے کہ جن میں سے کچھ پر مضمون کے آخری حصے میں گفتگو ہوگی معروف محقق سید ابو الحسن علی ندوی رح نے سر سید کا شمار منکرین حدیث میں کیا ہے ایک جگہ فرماتے ہیں۔

“انھوں نے اس میں اس قدر غلو سے کام لیا کہ عربی زبان و لغت کے مسلّمہ اصول و قواعد اور اجماع و تواتر کے خلاف کہنے میں بھی ان کو باک نہ رہا۔ چنانچہ ان کی تفسیر نے دینی وعلمی حلقوں میں سخت برہمی پیدا کردی۔‘‘ 14

سر سید کے بعد اس فہرست میں اور بھی متعدد بڑے نام شامل کیے جا سکتے ہیں کہ جن میں مولوی چراغ علی، سید امیر علی کٹکی بار ایٹ لاء، عنایت اللہ مشرقی، اسلم جیراجپوری، تمنا عمادی (جو بعد میں تائب ہو گئے تھے) غلام احمد پرویز، عبد اللہ چکڑالوی، نیاز فتح پوری، ڈاکٹر عبد الودود، ڈاکٹر فضل الرحمان اور دور جدید میں جناب جاوید احمد غامدی (گو کہ اس سے اختلاف بھی ممکن ہے) کا نام نامی لیا جا سکتا ہے۔

ناقدین حدیث کے بنیادی گروہ :

ناقدین حدیث کو چار بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور ہم واضح طور پر ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ یہ تقسیم استشراقی گروہوں کے اعتبار سے ہے یعنی جس طرح مستشرقین کے گروہوں کا ارتقاء مختلف ادوار میں ہوا ہے ایسے ہی منکرین حدیث بھی ان ارتقائی ادوار سے گزرے ہیں۔

1۔ ناقدین حدیث کا پہلا گروہی کلاسیکی گروہ ہے اس گروہ کے نزدیک نبی بشر ہوتا ہے اور کسی بھی بشر کا قول مذہب اور شریعت میں حجت نہیں ہو سکتا نبی کا کام صرف اور صرف اللہ کا پیغام لوگوں کا پہنچا دینا ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں یہ گروہ نہ تو نبی کو شارع کی حیثیت میں تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی شارح کی، اسی گروہ کو حقیقی منکر حدیث قرار دیا جا سکتا ہے۔

2۔ ناقدین کا دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے کہ جن کے مطابق احادیث کا ذخیرہ سرے سے محفوظ نہیں رہا اسلئے تیقن کے ساتھ یہ حکم لگانا ممکن ہی نہیں ہے کہ فلاں بات حدیث ہے اور فلاں نہیں انکے نزدیک محفوظ صرف کتاب اللہ ہے اور اسے ہی حجت تسلیم کیا جا سکتا ہے نہ تو یہ گروہ حدیث کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی تاریخ کو۔

3۔ ناقدین حدیث کا تیسرا گروہ وہ ہے کہ جس کے نزدیک نبی کریم ﷺ کے وہی اقوال مقبول ہیں کہ جنکی تائید قرآن کریم سے ہوتی ہے اگر کوئی قول اس گروہ کو قرآن کریم کے مطابق دکھائی نہیں دیتا تو وہ بھلے سند کے اعتبار سے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو یہ گروہ اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔

4۔ ناقدین حدیث کا چوتھا گروہ وہ ہے کہ جو صرف درایت کے نام پر حدیث کو رد کر دیتے ہیں انکے ہاں وہ روایات بھی قبول ہیں کہ جو سند کے اعتبار سے کمزور ہوں اور ایسی روایات بھی رد ہو سکتی ہیں کہ جنکی سند انتہائی مضبوط ہو یہ گروہ حدیث کے حوالے سے عقل اور منطق کو فوقیت دیتا ہے۔

ناقدین حدیث کے چند عقلی اعتراضات کا جائزہ :

ناقدین حدیث کے اکثر اعتراض عقل پر مبنی ہیں اور وہ انہیں منطقی اعتبار سے پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں ان حضرات کے نزدیک حدیث کے حوالے سے علماء سلف و خلف کی تحقیقات پر کاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتیں ذیل میں ہم ان چند اعتراضات سے بحث کریں گے۔

کیا حدیث پر اعتراضات الحاد کی راہ ہموار کرتے ہیں :

منکرین حدیث کو اکثر یہ مغالطہ لگتا ہے اور اسی مغالطے کی وہ اشاعت بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ احادیث پر مستشرقین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراض دراصل الحاد کی راہ ہموار کرتے ہیں اور اگر احادیث مبارکہ سے ہاتھ اٹھا لیا جائے تو شاید الحاد کا دروازہ بند ہوجائے گا۔اگر سنجیدگی کے ساتھ اس گتھی کو سلجھایا جائے تو کھودا پہاڑ نکلا چوہا کی مصداق یہ دعویٰ بلا دلیل دکھائی دیتا ہے اگر غور کیجئے تو احادیث مبارکہ نبی کریم ﷺ کی حیادت مبارکہ سے منسلک تمام تر واقعات کو محیط ہیں نبی کریم ﷺ کی پیدائش سے پہلے چلے جائیے یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد تک کے واقعات ملاحظہ کیجئے آپ کو احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہی راستہ دکھائی دیتا ہے انہی احادیث سے سنن معلم ہوتی ہیں انہی سے تفسیر قرآن کا علم ہوتا ہے اور انہی روایات کی بنیاد پر ہم اپنے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی سے قریب ہو پاتے ہیں۔

احادیث مبارکہ وہ مربوط تاریخ ہیں کہ جنکی اہمیت کا مستشرقین نے بھی اعتراف کیا ہے معروٖف مستشرق اگناس گولڈ زیہر کچھ اس انداز سے یہ مقدمہ بیان کرتا ہے۔

In his book Muslim Studies and in a chapter entitled “Reaction Against the Fabrication of Hadiths,” Goldziher discussed how the Muslim method of criticism reacted to the phenomenon of Hadith fabrication. He summarized the signs and expressions of this reaction in three different ways. Then he came up with this conclusion:

There was therefore a real danger of the smuggling in the Hadith, a danger which threatened all fields of the Sunna in religion and public life. Those circles who wished to protect the Hadith from such falsification had to pay particular attention to the character of the authorities and informants on whom the claim of authenticity for each Hadith was based. Only such Hadiths were to be accepted as expressing correctly the religious spirit of the whole community as has been handed down by men whose personal honesty as well as their attitude to the orthodox confession were beyond doubt. Less attention is paid to the contents of the tradition itself than to the authorities in theisnad.  15

تحقیق طلب امر یہ ہے کہ اگر احادیث مبارکہ کو درمیان سے نکال دیا جائے تو کس طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کون تھے انہوں نے نبوت کا دعویٰ کب اور کہاں کیا انکے مخاطب کون لوگ تھے کن لوگوں نے انکا دین قبول کیا کن کی طرف سے انکار ہوا ان کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کن مدارج سے گزر کر ان کو کامیابی حاصل ہوئی۔

حدیث کے بغیر ہم مکمل اندھیرے میں ہیں کسی بھی مذہب کو ماننے کیلئے اس شخصیت کے متعلق مکمل علم ہونا ضروری ہے کہ جس پر اس مذہب کا نزول ہوا ہو بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ نبی کی اپنی حیثیت دعوتی اعتبار سے کتاب پر مقدم ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا اسی لیے کتابیں صرف چار اتاری گئیں جبکہ انبیاء کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بھیجے گئے۔

اگر صرف کتاب ہی سامنے رکھ دی جائے تو اعتقاد کے علاوہ وہ کون سا بیرونی واسطہ ہے کہ جسکی بنیاد پر اس دین کی حقانیت کو ثابت کیا جا سکے انکار حدیث والے حضرات کا بنیادی مسلہ یہی ہے انکے خیال میں تواتر اپنی حقیقت میں کچھ نہیں اور کسی بھی چیز کو ثابت کرنے کیلئے تواتر کی کوئی ضرورت نہیں یہاں انہوں نے کدال تو حدیث پر چلائی لیکن اسکی ضرب سیدھی دین پر پڑی،

درحقیقت ایک جدید ذہن اسی رویے کی وجہ سے الحاد و دہریت کی جانب متوجہ ہوتا ہے، یعنی کہ جو الزام وہ حدیث پر رکھتے ہیں درحقیقت وہ خود اس کے مجرم ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ سو دوسو تین سو سال پیچھے چلے جائیں آپ یہ کیسے ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ کتاب جو آپ کے ہاتھ میں ہے یہی کتاب الله ہے ہمیں معلوم ہے کہ پچھلی دینی کتب میں تحریفات ہو چکی ہے نہ تو تورات محفوظ رہی نہ انجیل اور نہ ہی زبور تو پھر قرآن کی حفاظت کا سب سے بڑا معجزہ اسکا تواتر سے ثابت ہونا ہی تو ہے۔

آپ تواتر کہ بغیر یہ کیسے (Establish) کر سکتے ہیں کہ جو کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے یہ اسی شکل میں اتنے ہی پاروں میں انہی الفاظ کے ساتھ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔

اگر قرآن کی اندرونی شہادت ہی کافی ہوتی تو منطقی اعتبار سے نبی یا رسول بھیجنے کی کوئی حقیقی ضرورت موجود نہیں تھی یہ کافی تھا کہ فرشتے کتاب کسی اونچے پہاڑ پر رکھ جاتے، پھر کتاب الله کو بتدریج نازل کرنے کی عقلی توجیہ ہی کیا ہے۔

پہلے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا کردار منوانا ان کو صادق و امین کہلوانا اس بات کا متقاضی تھا کہ اندرونی شہادت کے ساتھ خارجی شواہد بھی پیش کئے جاویں تاکہ جیتے جاگتے زندہ معاشرے میں کسی چیز کا وجود ثابت ہو سکے اسلام عملی دنیا کا دین ہے کوئی فکری یا کتابی چیز نہیں کہ جو امور دنیا سے مستغنی ہو یا صرف لوگوں کی علمی گفتگو کیلئے موجود رہے اندرونی شہادت اسی وقت پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے جب وہ عملی دنیا میں جیتی جاگتی حقیقت بن کر کھڑی ہو .

پھر منکرین حدیث اپنے مقدمے کو یوں تام کرتے ہیں کہ قرآن از خود اپنی شہادت کیسے ہے یا اسے شہادت کیوں تسلیم کریں تو اسکی بنیاد اعتقاد ہے۔

تو اگر اعتقاد پر ہی بحث ختم کرنا تھی اور دین کو یونہی لٹکتا چھوڑ دینا تھا تو پھر جان لیجئے کہ ہر کسی کا اعتقاد الگ الگ ہے اور وہ اس پر اتنا ہی یقین رکھتا ہے جتنا آپ اپنے معتقدات پر اعتقاد یا ایمان کوئی علمی دلیل نہیں یہ ایک روحانی کیفیت ہے جو دوسروں سے علمی طور پر منوائی نہیں جا سکتی۔

خالق کائنات، کبھی کریم ﷺ اور کتاب اللہ یہ سب حقائق ہیں مگر کسی بھی غیر مسلم کے سامنے انہیں دلیل کے ساتھ پیش کرنا ہوگا،اب دور جدید میں جاری اس بحث کی جانب متوجہ ہوں کہ جو ملحدین کی جانب سے اٹھائی جا رہی ہے مغرب میں حضرت مسیح علیہ السلام کی شخصیت پر سوال اٹھایا گیا ہے Historicity of Jesus کے نام سے ایک نئے عنوان کا اضافہ کیا گیا ہے انکا سوال ہی یہ ہے کہ جب کوئی مسیح علیہ السلام نامی شخصیت تاریخ سے ثابت ہی نہیں تو انکی کتاب پر یا انکے مذہب پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے۔

معروف جرمن فلاسفر فریڈرک نطشے نے مسیحیت پر بہت سے سوال اٹھائے ہیں یہاں تک کہ اسکا لقب اینٹی کریسٹ پڑ گیا وہ ایک جگہ لکھتا ہے۔

The first Christian. All the world still believes in the authorship of the “Holy Spirit” or is at least still affected by this belief: when one opens the Bible one does so for “edification.”… That it also tells the story of one of the most ambitious and obtrusive of souls, of a head as superstitious as it was crafty, the story of the apostle Paul–who knows this , except a few scholars? Without this strange story, however, without the confusions and storms of such a head, such a soul, there would be no Christianity…16

غور کیجئے کہ اگر نبی کریم ﷺ کی تاریخی حیثیت اور مقام سے آنکھیں بند کرلی جائیں اور ان تمام روایات کا انکار کردیا جائے کہ جو نبی کریم ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں تو بجز اعتقاد ہمارے پاس اپنے دین کی حقانیت کو ثابت کرنے کی کون سی دلیل باقی رہ جائے گی درحقیقت انکار حدیث ہی وہ دروازہ ہے کہ جو الحاد کی طرف کھلتا ہے منکرین حدیث دراصل جانے انجانے میں اسلام کو اسی کمزور مقام پر کھڑا کر دینے کے درپے ہیں کہ جہاں پر آج کی مسیحیت کھڑی ہے۔

کیا حدیث فرقہ واریت کو جنم دیتی ہے :

اس مغالطے کی بنیادی وجہ کبھی سمجھ نہیں آئی کہ اسلام میں فرقہ واریت کی وجہ حدیث ہے، غور کیجئے حدیث میں جرح و تعدیل کے اصول ہیں روایت و درایت کا اہتمام کیا جاتا ہے اگر کوئی فرقہ اپنی دلیل میں کوئی حدیث پیش کرتا ہے تو اسکی جانچ ہوتی ہے اسکو روایت و درایت کے اصولوں سے گزارا جاتا ہے دوسری احادیث سے اسکی تطبیق کی جاتی ہے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ قرآن سے تو متصادم نہیں سو حدیث کی بنیاد پر فرقہ گری کا امکان ہی نہیں دوسری طرف جب کوئی فرقہ اپنی دلیل میں قرآن کو پیش کرتا ہے تو آپ اس میں صحیح و ضعیف کا سوال ہی نہیں اٹھا سکتے یہاں راویوں کو دیکھنے کی بات ہی نہیں ہو سکتی یہ قرآن ہے اسکا ماننا لازم ہے سو جدید و قدیم ہر فرقہ اپنے فرقے کی حقانیت کیلئے قرآن ہی کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے ابتداء میں بننے والے دو بڑے فرقوں روافض و خوارج نے قرآن کو ہی دلیل بنایا تھا، فرقوں کی کتب سے قرآنی دلائل کی بے شمار امثال پیش کی جا سکتی ہیں کہ جہاں انہوں نے مدار قرآن کو ہی بنایا ہے تو کیا  اس صول کے مطابق قرآن کو بھی چھوڑ دیا جاۓ۔

کیا کسی شخصیت کا قول معتبر ہے :

آج سے چودہ صدیوں پہلے کی بات ہے جب دنیا اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی ہر طرف سناٹا تھا کہیں سے بھی کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی کہ جو حق بیان کرتی ہو ایسی کیفیت میں جب رات اپنی پوری سیاہی کے ساتھ چھا چکی ہو، زندگی سانس لیتی ہے۔

یہ کون ہیں۔؟
یہ محمد ﷺ عربی ہیں
یہ کیا کہتے ہیں۔؟
یہ لوگوں کو لوگوں کی غلامی سے نکال کر الله کی غلامی کی طرف بلاتے ہیں
ہم ان کی بات کیوں مانیں۔ ؟
کیونکہ یہ صادق ہیں یہ امین ہیں انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا کبھی شرافت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ارے ان جیسا نہ تو پہلے کبھی بلاد عرب نے دیکھا ہے اور نہ ہی دیکھے گا۔
جان لو جان لو
ان کو کچھ جنون نہیں۔
وہ پہلی چیز کیا تھی جو رسول عربی ﷺ نے امت کے سامنے رکھی
کیا انہوں نے کوئی نظریہ پیش کیا
یا پھر انہوں نے کوئی فلسفہ بیان کیا
کیا ان کے پاس کوئی ایکشن پلان تھا
وہ سادہ ترین دلیل جس کی بنیاد پر قیامت تک آنے والی امت کے دین کا فیصلہ ہونا تھا کیا تھی؟

نبی اکرم ﷺ پر نبوت کے ابتدائی مراحل میں جب اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوتا ہے کہ نبوت کے پیغام اور توحید کی دعوت کو علی الاعلان اپنے قبیلہ والوں تک پہنچا یا جائے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ صفا پر تشریف لاتے ہیں اور قریش کے قبائل کو آواز دیتے ہیں۔

 ارشاد فرماتے ہیں : اے قریش! اگر میں کہوں کہ پہاڑ کے پیچھے دشمن کی فوج حملہ آور ہونے کو تیار ہے تو کیا تم یقین کرو گے؟ پوری قوم یک زبان ہو کر کہتی ہے: نَعَمْ! مَا جَرَّبْنَا عَلَیْكَ اِلَّا صِدْقاً (جی ہاں! ہم نے آپ میں سوائے صدق اور سچائی کے کچھ نہیں پایا)۔ 17

اور پھر نبی کریم ﷺ کے کردار کے، ان کی صداقت و امانت کے تو عرب دل سے قائل تھے

مکی زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی شناخت تھی آپ کی صاف ستھری اور پاکیزہ زندگی۔ مکی زندگی میں نبوت و رسالت سے سرفراز ہونے سے پہلے اور بعد کے زمانہ میں آپ کی شناخت آپ کی صداقت و امانت، شرافت و پاکیزگی، تواضع و انکساری اور تقوی و پاکبازی تھی، مکے کا ہر باشندہ آپ کی شرافت و پاکیزگی اور اعلیٰ اخلاق کا قائل تھا۔ آپ کو عام طور پر صادق اور امین کہا جاتا تھا۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت حجرِ اسود کو اس کے مقام تک اٹھا کر رکھنے میں قریش کے اندر جو سخت اختلاف پیدا ہوا اور جس کی وجہ سے خوں ریز جنگ چھڑنے والی تھی، وہ آپ کی جوانی کا زمانہ تھا، لیکن قریش کے سرداروں اور بڑے بوڑھوں کو جب یہ ہاشمی نوجوان دکھائی پڑا تو سب نے بیک آواز ہو کر کہا: ھَذا مُحَمَّدُن الأَمِیْنُ رَضِیْنَا ھَذا مُحَمَّدُن الأمِیْنُ (محمد ﷺ،امین ہیں، ہم ان سے خوش ہیں، یہ امین ہیں)۔ اور سب نے اس نوجوان کے حکیمانہ فیصلے کو بخوشی قبول کیا اور اس طرح ایک خون ریز جنگ چھڑتے چھڑتے رہ گئی جی ہاں نبی ﷺ کا کردار، یہ تھی اسلام کی پہلی دعوت پہلے دین لانے والے کا کردار منوایا دشمنوں سے ان کی صداقت و امانت کا اقرار کروایا ان کی سچائی کے ڈنکے بجوائے پھر دین پیش کیاپھر بات کی توحید کی، وہ کون لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ نبوی زندگی کے بغیر وہ خالق حقیقی کی منشاء کو سمجھ پائے کون ہیں یہ ؟ کیا ان کو جنوں ہے یا انہیں کسی عفریت نے لپٹ کر دیوانہ کر دیا ہے۔

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ
” ترجمہ : بے شک رسول کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے”

اور ایک جگہ فرمایا
من یطع الرسول فقداطاع اﷲ’’ 18
ترجمہ:” جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی۔

اب ہم چند معروف الزامات کا جائزہ لیں گے کہ جو مستشرقین نبی کریم صل الله علیہ وسلم کےکردار اور آپکے اقوال و افعال (حدیث ) کے حوالے سے اٹھاتے ہیں اور منکرین حدیث انہیں من و عن قبول فرما لیتے ہیں .

نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کا انکار :

مستشرقین اللہ کے رسول صل الله علیہ وسلم کو ایک عظیم انسان اور مصلح تو تسلیم کرنے کو تیار ہیں لیکن نبی کریم ﷺکو نبی تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور اس حوالے سے انتہائی بے سر و پا الزامات الله کے رسول کے حوالے سے لگاتے رہتے ہیں منٹگمری واٹ معروف مشنری عیسائی ہے اور نبی کریم صل الله علیہ وسلم کا تذکرہ انتہائی تکریم کے ساتھ کرتا ہے لیکن وحی کے تجربے کو (Creative Imagination) کا نام دے کر گھٹانے کی کوشش کرتا ہے ملاحظہ کیجئے اسکے الفاظ .

So far Muhammad has been described from the point of view of the historian. Yet as the founder of a world-religion he also demands a theological judgment. Emil Brunner, for example, considers his claim to be a prophet, holds that it ‘ does not seem to be in any way justified by the actual content of the revelations ‘, but admits that, ‘ had Mohammed been a pre-Christian prophet of Arabia, it would not be easy to exclude him from the ranks of the messengers who` prepared the way for the revelation ‘. Without presuming to enter into the theological complexities behind Brunner’s view, I shall try, at the level of the educated man who has no special knowledge of either Christian or Islamic theology, to put forward some general considerations relevant to the question.

I would begin by asserting that there is found, at least in some men, what may be called ‘ creative imagination ‘. Notable instances are artists, poets and imaginative writers. All these put into sensuous form (pictures, poems, dramas, novels) what many are feeling but are unable to express fully. Great works of the creative imagination have thus certain universality, in that they give expression to the feelings and attitudes of a whole generation. They are, of course, not imaginary, for they deal with real things; but they employ images, visual or conjured up by words, to express what is beyond the range of man’s intellectual conceptions.

  1. Montgomery Watt. Muhammad: Prophet and Statesman.19

من و عن یہی اعتراض منکرین حدیث کے ہاں بھی ملتا ہے مگر خوبصورت الفاظ میں لپٹے ہوے زہر کی مانند یہ نبی کریم صل الله علیہ وسلم کی نبوی حیثیت کو تو مانتے ہیں مگر قول رسول (احادیث مبارکہ) صل الله علیہ وسلم کو حجت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ملاحظہ کیجئے .

”حضور فیصلے وحی کی رو سے نہیں کرتے تھے__ اپنی ذاتی بصیرت کے مطابق کیا کرتے تھے__ ان میں اس کا بھی امکان تھا کہ حق دار کے خلاف فیصلہ صادر کر دیا جائے… یہ قرآن کی اس آیت کے مطابق ہے جس میں حضور سے کہا گیا ہے کہ … ”ان سے کہہ دو کہ اگر میں کسی معاملے میں غلطی کرتا ہوں تو وہ غلطی میری اپنی وجہ سے ہوتی ہے، اس کا ذمہ دار میں خود ہوتا ہوں، لہٰذا اس کا وبال بھی مجھ پر ہوگا۔ اور اگر میں صحیح راستہ پر ہوتا ہوں تو وہ اس وحی کی بنا پر ہے جو میرے ربّ کی طرف سے میری طرف آئی ہے۔” 20

غور کیجئے کہ منٹگمری واٹ کے مقدمے اور پرویز کی تعریف میں جوہری اعتبار سے سر مو کوئی فرق نہیں ہے .

معجزات کا انکار.

ڈاکٹر ڈیوڈ سموئیل مارگولیتھ David Samuel Margoliouth (17 October 1858, London – 23 March 1940, London چرچ آف انگلنڈ کا ایک معروف سپاہی تھا نبی کریم صل الله علیہ وسلم کے سفر معراج کا انکار کرتا ہے کہ جو صحیح صریح متواتر احادیث میں انتہائی وضاحت و صراحت کے ساتھ موجود ہے ملاحظہ کیجئے .

The hopes of Muhammad were now fixed on al-Medina, visions of his journey northwards doubtless flitted before his imagination and the musing of the day, reappeared in his midnight slumbers. He dreamed that he was swiftly carried by Gabriel on a winged steed past al-Medina to the Temple of Jerusalem, where he was welcomed by the former Prophets all assembled in solemn conclave. From Jerusalem he seemed to mount upwards, and to ascend from one heaven to another, until he found himself in the awful presence of his Maker, who dismissed him with the order that he should command his followers to pray five times a day  21

ملاحظہ کیجئے کہ یہی نظریہ مرزا غلام احمد قادیانی من و عن اپنی کتاب میں نقل فرما دیتا ہے

“حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا، اور اتم و اکمل تھا۔ کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جو جسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اور آپ ﷺ کو اسی جسم کے ساتھ جو بڑی طاقتوں والا ہوتا ہے،معراج ہوا” 22

” نیا اور پُرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کُرَّۂ زَمْہَرِیْر تک بھی پہنچ سکے بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کر چکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مُضرِّ صحت معلوم ہوئی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔پس اس جسم کا کُرَّۂ ماہتاب یا کُرَّۂ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے ” 23

 راویان حدیث کے کردار پر حملہ :
حضرت ابو ہریرہ رض کہ جو احادیث مبارکہ کے سب سے بڑے راوی ہیں ان پر ایک جانب تو مستشرقین اور دوسری جانب انکے پیرو منکرین حدیث نے خوب خوب اعتراض وارد کیے ہیں ملاحظہ کیجئے:

متعدد علماء نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعلق تحقیقی مقالے سپر د قلم کیے ہیں جن میں اس جلیل القدر راوی کا دفاع کیا گیا ہے اور ان اتہامات کا جواب دیا جو انگریزی انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کے مقالہ نگاروں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر باندھے ہیں

ابن قتیبہ نے اپنی کتاب “المعارف” میں روایت کیا ہے کہ مروان نے حضرت ابو ہریرہ رض کو مدینہ کا عامل مقرر کیا آپ ایک پلان کس کر گدھے پر سوار ہوۓ سر پر کھجور کی چھال اٹھا رکھی تھی جب راستے میں کوئی شخص ملتا تو کہتے راستے سے ہٹ جاؤ مسلمانوں کا امیر آ رہا ہے . 24

یہ واقعہ گولڈ زیہر نے نقل کر کے حضرت ابو ہریرہ کو رض ضعیف العقل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے

اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رض کی سیاسی وابستگی کے حوالے سے بھی منکرین حدیث مستشرقین کی پیروی میں شدید اعتراضات وارد کرتے ہیں.

معروف منکر حدیث استاد احمد امین نے اپنی کتاب فجر السلام میں حضرت ابو ہریرہ رض کے حوالے سے شدید تنقید فرمائی ہے جسے مستشرقین کا چربہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے . 25

امام زہری پر اعتراض :

گولڈ زیہر نے خاص طور پر امام زہری رح پر شدید ترین اعتراضات بندھے ہیں اور انہیں انکی سیاسی مناسبت کی وجہ سے متعصب اور کہیں مدلس لکھا ہے .

من و عن ایسے ہی اعتراضات جناب غامدی صاحب نے امام زہری رح پر شدت کے ساتھ وارد کیے اور اپنے پیش رو زیہر سے کسی بھی طرح پیچھے نہیں رہے موصوف لکھتے ہیں .

غامدی صاحب نے سبعہ احرف والی روایات کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ ا ن کا کہنا یہ ہے کہ ایسی تمام روایات کی سند میں ایک راوی امام ابن شہاب زہری ؒ ہے جسے وہ مدلس ا ور مدرج قرار دیتے ہیں۔ 26

غامدی صاحب لکھتے ہیں :

’’لیکن یہ روایتیں اس کے بر خلاف ایک دوسری ہی داستان سناتی ہیں جسے نہ قرآن قبول کرتا ہے اور نہ عقل عام ہی کسی طرح ماننے کے لیے تیار ہو سکتی ہے۔ صحاح میں یہ اصلاً ابن شہاب زہری کی وساطت سے آئی ہیں۔ ائمہ رجال انھیں تدلیس اور ادراج کا مرتکب تو قرار دیتے ہی ہیں‘ اس کے ساتھ اگر وہ خصائص بھی پیش نظر رہیں جو امام لیث بن سعد نے امام مالک کے نام اپنے ایک خط میں بیان فرمائے ہیں تو ان کی کوئی روایت بھی ‘بالخصوص اس طرح کے اہم معاملات میں‘ قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ وہ (امام لیث بن سعد) لکھتے ہیں: اور ابن شہاب سے جب ہم ملتے تھے تو بہت سے مسائل میں اختلاف ہو جاتا تھا اور ہم میں سے کوئی جب ان سے لکھ کر دریافت کرتا تو علم و عقل میں فضیلت کے باوجود ایک ہی چیز کے متعلق ان کا جواب تین طرح کا ہوا کرتا تھا جن میں سے ہر ایک دوسرے کا نقیض ہوتا اور انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس سے پہلے کیا کہہ چکے ہیں۔ میں نے ایسی ہی چیزوں کی وجہ سے ان کو چھوڑا تھا‘ جسے تم نے پسند نہیں کیا ‘‘۔ 27

احادیث گھڑنے کا الزام :

مستشرقین یہ ثابت کرنے میں اپنی پوری قوت صرف کرتے ہیں کہ احادیث دراصل گھڑی گئیں اور انکی حقیقت کچھ نہ تھی ملاحظہ کیجئے:

(۱) مستشرقین نے علم حدیث کے بارے میں یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ دور اول کے مسلمان حدیث کو حجّت نہیں سمجھتے تھے۔ یہ خیال مسلمانوں میں بعد میں رائج ہوا۔

مستشرق جوزف شاخت نے لکھا ہے کہ امام شافعی (م۲۰۴ھ)سے دو پشت پہلے احادیث کی موجودگی کا کوئی اشارہ ملتا ہے تو یہ شاذ اور استثنائی واقعہ ہے۔

مستشرق آتھر جیفری کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد ان کے ماننے والوں کی بڑھتی تعداد نے محسوس کیا کہ مذہبی اور معاشرتی زندگی میں بے شمار ایسے مسائل ہیں جن کے متعلق قرآن میں کوئی راہ نمائی موجود نہیں ہے، لہٰذا ایسے مسائل کے حل کے لیے احادیث کی تلاش شروع کی گئی۔

(۲) محدثین کے ہاں سند کی جو اہمیت ہے،وہ دلائل کی محتاج نہیں، حتی کہ انہو ں نے سند کو دین قرار دیا ہے۔مستشرقین چوں کہ سند کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہیں،اس لیے انہوں نے سند کو من گھڑت قرار دے کر احادیث کو نا قا بل اعتبارقرار دینے کی کوشش کی اور دعوی کیا کہ اس دور میں لوگ مختلف اقوال اور افعال کورسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیا کرتے تھے۔کیتانی اور اسپرنگر ان مستشرقین میں شامل ہیں جن کے نزدیک سندکا آغاز دوسری صدی کے اواخر یا تیسری صدی کے شروع میں ہوا۔

مستشرق گولڈ زیہر امام مالک رح (۱۷۹ھ) پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ انہوں نے سند کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کوئی مخصوص طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اکثر وبیش تر وہ عدالتی فیصلوں کے لیے ایسی حدیث بیان کرتے تھے جن کا سلسلۂ سند صحابہ تک نہیں پہنچتا تھا۔جب کہ جوزف شاخت کا کہنا ہے کہ اس مفروضے کو قائم کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اسناد کے با قاعدہ استعمال کا رواج دوسری صدی سے قبل ہو چکا تھا۔منٹگمری واٹ نے سند کے مکمل بیان کو امام شافعی کی کوششوںکا نتیجہ قرار دیا ہے۔

(۳)مستشرقین نے کہا کہ بہت سی احادیث و روایات یہود و نصاری کی کتب سے متاثر ہو کر گھڑی گئی ہیں۔ مثلاًوہ احادیث جن میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی کسی معجزانہ شان کا ذکر ہے۔ ان پرتبصرہ کرتے ہوئے ول ڈیورانٹ (Will Durant)کہتا ہے کہ’’ بہت سی احادیث نے مذہب اسلام کو ایک نیا رنگ دے دیا ہے۔( محمدصلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ ان کے پاس معجزات دکھانے کی قوت ہے،لیکن سیکڑوں حدیثیں ان کے معجزانہ کار ناموں کا پتہ دیتی ہیں۔ اس سے واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ بہت سی احادیث عیسائی تعلیمات کے زیر اثر تشکیل پزیر ہوئیں۔

اس قسم کا دعویٰ کرنے والوں میں فلپ کے ہٹی بھی قابل ذکر ہے

(۵)مستشرقین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ چوں کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث لکھنے سے منع کر دیا تھا،اس لیے دور اول کے علماء نے علم حدیث کی حفاظت میں سستی اور لا پروائی سے کام لیا، جس کے نتیجہ میں یا تو حدیثیں ضائع ہو گئیں یا پھر ان میں اس طرح کا اشتباہ پیدا ہو گیا کہ پورے یقین کے ساتھ کہنا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، ممکن نہیں۔ مستشرق الفرڈ گیوم (Alfred Guillaume) لکھتا ہے کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ حدیث کے بعض مجموعے اموی دور کے بعد مدوّن ہوئے۔

مشہور مستشرق میکڈونلڈلکھتا ہے کہ بعض محدثین کا صرف زبانی حفظ پر اعتماد کرنا اور ان لوگوں کو بدعتی قرار دینا جو کتابت حدیث کے قائل تھے،یہ طرز عمل بالآخر سنت کے ضائع ہونے کا سبب بنا۔

مستشرقین نے ایک خاص حکمت عملی کے تحت ان عظیم شخصیات کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو حدیث و سنت کے جمع وتدوین اور حفاظت میں بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس مقصد کے لیے انہوں نے جن شخصیات کو خاص طور پر اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ان میں ایک تو مشہور صحابی حضرت ابو ہریرہ (م۵۹ھ) اور دوسرے نام ور تابعی امام ابن شہاب زہری (م۱۲۴ھ)ہیں۔ گولڈ زیہر (م۱۹۲۱ء)نے حضرت ابو ہریرہؓ پر وضع حدیث کا الزام عائد کیا اورمحدث امام ابن شہاب زہری پر اتہام باندھا ہے کہ وہ بنو امیہ کے مذہبی اور سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے احادیث وضع کرتے تھے۔

جوزف شاخت امام اوزاعی(م۱۵۷ھ)پر وضع حدیث کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ

’’ان کے زمانے میں مسلمانوں میں جو بھی عمل جاری تھا،اس کو رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کردینے کا رجحان تھا،تاکہ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید حاصل ہوجائے،خواہ حدیث اس عمل کی تائید کرتی ہو یا نہ کرتی ہوں۔امام اوزاعی کا یہی عمل تھااور اس رجحان میں عراقی فقہاء امام اوزاعی کے ساتھ تھے‘‘28

دیکھا جئے تو یہی وہ بنیادی اور اصولی اعتراضات ہیں کہ جو مستشرقین نے اٹھائے اور ناقدین حدیث انکی پیروی میں اٹھاتے چلے آرہے ہیں گو کہ اس موضوع کو بیان کرنے کیلئے مزید تفصیل و تحقیق کی ضرورت ہے لیکن استشراقی فریب کو سمجھنے اور ناقدین حدیث کی نفسیات کو جاننے کیلئے اتنی تفصیل ہی کافی ہے۔

اس استشراقی فکر کے پیچھے موجود فتنے کو عالم اسلام کے ایک عبقری نے کچھ اس طرح کھولا ہے

یہ حقیقت ہے کہ مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے قرآن مجید، سیرت، تاریخ، تمدن اسلام اور اسلامی معاشرہ کی تاریخ اور پھر اس کے بعد اسلامی حکومتوں کی تاریخ کا مطالعہ ایک خاص مقصد کے تحت کیا اور مطالعہ میں ان کی دور بیں نگاہیں وہ چیزیں تلاش کرتی رہیں، جن کو جمع کر کے قرآن، شریعت اسلامی،سیرت نبوی ﷺ، قانون اسلامی، تمدن اسلامی اوراسلامی حکومتوں کی ایک ایسی تصویر پیش کرسکیں، جسے دیکھ کر لوگ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، مستشر قین نے اپنی آنکھوں پر خورد بین لگا کر تاریخ اسلام اور تمدن اسلا می اور یہ کہ آگے بڑھ کر (خاکم بدہن )قرآن مجید اور سیرت نبوی ﷺ میں وہ ذرے وہ ریزے تلاش کر نے شروع کئے جن سے کوئی انسا نی جماعت، کوئی انسا نی شخصیت خالی نہیں ہو سکتی ہے اور ان کو جمع کر کے ایسا مجموعہ تیار کرنا چاہا جو ایک نہایت تاریک تصور ہی نہیں بل کہ تاریک تاثر اور تاریک جذبہ پیش کرتا ہے اور انہوں نے اس کام کو انجام دیا جو ایک بلدیہ کا ایک انسپکٹر انجام دیتا ہے کہ وہ شہر کے گندے علاقوں کی رپورٹ پیش کرے۔

(حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ(

موضوع مقالہ : مستشرقین بر صغیر پاک و ہند کے ناقدین حدیث کے افکار پر تحریک استشراق کے اثرات.

تعارف : مقالے کا مقصود اہل علم کی توجہ اس استشراقی فکر کی جانب مبذول کروانا ہے کہ جو علوم اسلامی کی جڑیں کھودنے کا کام کر رہی ہے .

فصول و ابواب .

١. استشراق کی تعریف .
٢. تاریخ استشراق .
٣.استشراق و استعمار کا باہمی تعلق .
٤.بر صغیر میں استشراقی فکر .
٥.استشراق اور انکار حدیث کا باہمی ربط .
٦.منکرین حدیث کے اعتراضات کی حقیقت .
٧. کرنے کا اصل کام .

کتابیات و حوالہ جات

1.From The Bible, the Qur’an and Science, by Maurice Bucaille, page 118
2۔ ابی البقاء، کلیات، صفحہ ١٥٢
3۔ للسیوطی، تدریب الراوی، جلد اول
4۔ كتاب، شرح الشواهد الشعرية في أمات الكتب النحوية، – فلا تجزعن من سنة أنت سرتها فأول راض سنة من يسيرها، – المكتبة الشاملة الحديثة، صفحہ 461۔
5۔ سید، سلیمان ندوی، تحقیق معنی ٰ السنتہ، صفحہ 18
6۔ اصلاحی،شرف الدین، مستشرقین، استشراق اور اسلام،، ص۴۸، معارف دار المصنّفین اعظم گڑھ، ۱۹۸۶ء۔
7. Said, Edward W, Orientalism, Routedge&Kegan Paul London, 1978 p.21
8۔ مبارک علی، ڈاکٹر، تاریخ اور سیاست، صفحہ 72، فکشن ہائوس ، تاریخ پبلیکیشنز، مزنگ، لاہور
https://www.etymonline.com/word/occidental#etymonline_v_31123

1 0. Two Traditions, One Space: Orthodox Christians and Muslims in Dialogue,By George C. Papademetriou,
Page, 118.
11۔ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر، باب چارم ” سیرت اور مستشرقین “، صفحہ ١١٤، ١١٥، کتاب، اسلام اور مستشرقین، ناش , مکتبہ رحمت للعالمین۔
12۔ محمد زبیر، حافظ، ماہنامہ الشریعہ، مباحثہ ومکالمہ، غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ
http://www.alsharia.org/mujalla/2006/sep/tasawur-sunnat-hafiz-zubair

  1. http://www.lastprophet.info/the-views-of-orientalists-on-the-hadith-literature

14۔ مسلم ممالک میں اسلامیت و مغربیت کی کش مکش، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ،۲۰۰۳ئ، طبع پنجم، ص۹
Goldziher, Ignaz, Muslim Studies, vol. 2, tr. C. R. Barber and S. M. Stern, London, 1971, p. 134.
from Nietzsche’s Daybreak, s.68, Walter Kaufmann transl. 16
17۔ صحیح بخاری، حدیث نمبر 4397
18۔ (النساء :80)۔
W. Montgomery Watt. Muhammad: Prophet and Statesman.Oxford University Press, 1961.From pg. 229.http://legacy.fordham.edu/halsall/med/watt.asp
20۔ غلام احمد پرویز، رسالہ ‘اطاعت ِرسول ‘، ” ص ۱۶،، نشر ادارہ طلوع اسلام کراچی
21. Mohammed and the rise of Islam, by Margoliouth, D. S. (David Samuel), 1858-1940
Published c1905, Topics Muhammad, Prophet, d. 632, Islam – History,Page No, 121
22۔ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 446)
23۔ ٢١.(روحانی خزائن جلد 3 اِزالہ اوھام صفحہ 126)
24۔ انسائیکلوپیڈیا آپ اسلام، جلد ١، صفحہ ٤٠٨
25۔ استاد احمد امین، فجر السلام، صفحہ ٢٦٥
http://www.javedahmadghamidi.com/ishraq/view/Jaretain

  1. http://www.javedahmadghamidi.com/ishraq/view/Jaretain

28۔ ڈاکٹر کمال اشرف قاسمی، مستشرقین اور حجّیتِ حدیث، http://www.zindgienau.com/Issues/2015/november2015/images/unicode_files/heading6.htm

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20