فکر مودودی اور جماعت اسلامی ۔ حصہ دوم ۔ مجاہد حسین

0

جناب سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا فلسفہ جہاد ایک وسیع تر نظام فکر کا جزو ہے۔ ان کی فکر کو ایک خاص شکل دینے میں کونسے عوامل کارفرما تھے، اسے سمجھنے کے لئے بیسویں صدی کے پہلے نصف کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

جس وقت مودودیؒ صاحب نے شعور سنبھالا، برصغیر مکمل طور پر غلامی کے پنجوں میں جکڑا ہوا تھا۔ تمام محکوم اقوام کی طرح ہندوستان کے مسلمان بھی اپنے حاکموں سے نفرت کرتے تھے اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ اس ماحول میں کمیونزم ایک بہت بڑی تحریک کی صورت میں ابھرا اور برطانیہ جیسے ممالک کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گیا۔

اس نئی سوچ میں یہ صلاحیت موجود تھی کہ مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کر سکے۔ ایک تو یہ ان ممالک کے خلاف تھا جو سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردار تھے اور اسلامی ممالک پر قابض تھے۔ دوسرے تمام انسانوں کی برابری کا نعرہ ایسی اقوام کے لئے بہت پرکشش تھا جو حاکم ومحکوم کی عدم برابری کا شکار تھیں۔

اگر اشتراکی نظام خود کو صرف معیشت کے میدان تک محدود رکھتا تو اس کی کامیابی مسلمانوں کے تشخص اور تہذیب کے لئے خطرہ نہ بنتی اور تمام اسلامی معاشروں میں اسے قبول کرنے کا امکان بڑھ جاتا۔ لیکن اس نے ایک مکمل نظام حیات ہونے کا دعوی کیا جس کی وجہ سے اشتراکیت ایک طرز زندگی بن گیا۔ اس میں انفرادی اور اجتماعی معاملات میں ایسے رہنما اصول موجود تھے جن کی بنیاد لادینیت پر قائم تھی۔ اسے قبول کرنے کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان اپنی مذہبی شناخت سے ہی محروم ہو جائیں۔

پوری اسلامی دنیا میں اس چیلنج کو اپنی تمام جزئیات سمیت مولانا مودودی صاحب نے سمجھا۔ وہ جان گئے کہ مغربی استعمار سے محکوموں کی طبعی نفرت اور کمیونزم کا معاشی برابری کا پرکشش نعرہ، یہ دونوں ایسے عوامل تھے جو نئی نسل کو اپنی طرف راغب کر سکتے تھے۔ یہ وقت کا تقاضا تھا کہ کمیونزم کا متبادل ایک اسلامی ماڈل پیش کر کے اس خطرے کا سدباب کیا جائے۔

اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مولانا صاحب نے دو سطحوں پر کام کیا۔ ایک فکری سطح تھی جہاں انہوں نے کمیونزم کے مقابلے میں ایک اسلامی یوٹوپیا پیش کی جس کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لئے تمام رہنما اصول اسلام میں ہی موجود ہیں، انہیں کسی دوسری طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اسی بات کی وضاحت کے لئے انہوں نے یہ تصور پیش کیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس میں کسی دوسرے ازم کا پیوند نہیں لگایا جا سکتا۔

کمیونزم ایک ایسے عالمگیر نظرئے کے طور پر سامنے آیا جس کس مقصد آخرکار پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنا تھا۔ مولانا مودودی صاحب نے اس کے مقابلے پر یہ تصور پیش کیا کہ اسلام ہی واحد حق ہے جو بالآخر اس کرہ ارض پر باطل کی تمام صورتوں پر غالب آئے گا۔ اس کےلئے صالحین کی ایک ایسی جماعت کا وجود لازم تھا جو سب سے پہلے اپنے ملک میں حکومت حاصل کرے اور اگلے مرحلے میں اس انقلاب کو دیگر ممالک میں پھیلانے کی جدوجہد میں مصروف ہو جائے۔

یہ بالکل وہی ماڈل تھا جس کے ذریعے مملکت روس پر کمیونسٹوں نے قبضہ کیا تھا۔ کمیونسٹ جماعت کے ذریعے پورے ملک کے ہر کونے میں اپنا پیغام پھیلایا گیا اور بعد ازاں زار روس کو بے دخل کرکے حکومت حاصل کی گئی۔ ایک دفعہ جب اشتراکی حکومت قائم ہوگئی تو اس نے اپنے عالمگیر پھیلاؤ کی طرف سفر شروع کیا۔ مختلف ممالک میں کمیونسٹ جماعت کو تشکیل دے کر وہاں کمیونسٹ انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ بہت سے ممالک میں روس کی جنگی مشینری کی مدد سے یہ کاوشیں کامیاب بھی ہوئیں۔ مولانا مودودی صاحب کا تصور جہاد بھی ان کے سیاسی اسلام کے تصور کا ایک اہم حصہ تھا۔ اپنی اساس میں یہ اسی طرح کی حکمت عملی کا حصہ تھا جو کمیونزم نے اپنے پھیلاؤ کے لئے استعمال کی۔ تاہم اپنی جزئیات میں یہ اسلام کے اخلاقی اصولوں کا پابند تھا جو کمیونسٹ ممالک کی ظالمانہ حکمت عملی سے بہت مختلف تھے۔

اسی طرح سیاسی سطح پر انہوں نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی جس کی تشکیل اور طریق کار میں کمیونسٹ پارٹی سے بہت زیادہ مماثلت تھی۔ ایک طرح سے یہ کمیونسٹ پارٹی کا ایک اسلامی ماڈل تھا۔ اسے بہت سی وجوہات کی بنا پر کامیابی میسر نہ ہو سکی۔ ان وجوہات کا احاطہ کسی اور نشست میں کیا جائے گا۔

فکری سطح پر سیدنا مودودی کو عالیشان فتح نصیب ہوئی اور پوری اسلامی دنیا میں کہیں بھی کمیونزم عوامی مقبولیت حاصل نہ کر سکا۔ اس کے برعکس اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا تصور ہر جگہ مقبول ہوا۔ حتی کہ وہ روایتی مذہبی طبقہ جس نے مولانا صاحب پر ہمیشہ فتوے لگائے، وہ بھی ان کی پیش کردہ اصطلاحات کی زبان میں اپنی سوچ بیان کرنے پر مجبور ہو گیا۔

اشتراکی سوچ اور فکر مودودی کے درمیان براہ راست تصادم افغانستان کے پہاڑوں میں ہوا جس میں سرمایہ دارانہ نظام کی مدد سے کمیونزم کو شکست دی گئی۔ کچھ عرصہ بعد خود روس میں بھی یہ نظام مٹ گیا۔

اشتراکی نظام کے رخصت ہوتے ہی مودودی صاحب کے نظریات کا بہت بڑا حصہ اپنی اہمیت کھو بیٹھا۔ قدرت نے ان سے جو کام لینا تھا وہ لے چکی۔ اب ایک نئی دنیا کا آغاز ہوا جس میں مسلمانوں کو ایسے نئے فکری چیلنج پیش آئے جن کا جواب دینے کے لئے اسلام کی نئی تشریح ضروری تھی۔ جب ایک پورا نظام فکر اپنی اساس میں کسی دوسرے نظام کا ردعمل ہو تو دونوں کی فطری عمر تقریباً برابر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت جماعت اسلامی سرمایہ دارانہ نظام کے حامیوں کی معیت میں کمیونزم کے خلاف لڑ رہی تھی، انہیں یہ احساس نہیں تھا کہ وہ اپنی وجہ جواز کو ختم کر رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ مودودی صاحب کے ذکر کے بغیر نامکمل ہوگی۔ بیسویں صدی کا جب بھی تذکرہ آئے گا، ان کا نام ایسے افراد کی فہرست میں بہت اوپر ہو گا جنہوں نے مسلمانوں کی فکری رہنمائی میں اپنا کردار ادا کیا۔ اسی طرح ان کی سوچ کے اچھے اور برے نتائج پر بحث چلتی رہے گی تاہم یہ بات یقینی ہے کہ ان کے خیالات کی عمر ایک صدی سے زیادہ نہیں تھی۔ تیزی سے بدلتے حالات اس بات کے متقاضی تھے کہ فکر تازہ کے جس سلسلے کو انہوں نے شروع کیا تھا اسے آگے بڑھایا جاتا۔ یہ کاوش اگر جماعت اسلامی سے ہی ابھرتی تو بہت بہترہوتا مگرایسا نہ ہوسکا اورعصر حاضر کے نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے نئی آوازیں بلند ہوئیں۔
(جاری ہے)

حصہ اول کے لئے یہاں کلک کریں

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: