نظریۂ جہاد — پروفیسر عمران احسن نیازی

0

ترجمہ: مراد علوی

سب جہادی سرگرمیاں روز اول سے دفاعی رہی ہیں۔ اسلام اور اس کی شریعت، اگلے انبیا ے کرام کے دین کی ترجمانی کرتے ہوئے ، ابتدا ہی سے حملے کی زد میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

بُعِثْتُ بين يَدَيِ السَّاعة بالسَّيف، وجُعِلَ رِزْقي تحت ظلِّ رُمْحي، وجُعِلَ الذَّلُّ والصَّغار على مَنْ خالَف أمري، ومَنْ تَشَبَّهَ بقومٍ فهو منهم

مجھے فیصلے کے دن سے قبل تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہے؛ میرا رزق نیزوں کے سائے تلے رکھا کیا گیا ہے؛ ذلت و رسوائی میرے مخالفین کےلیے مقدر کی گئی ہے؛ اور جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ اسی قوم میں شمار ہوگا۔

یہ ایک ایسے رہنما کا فرمان ہے جو حملے کی زد میں ہیں؛ وہ رہنما جو اپنے دین اور نظام کا دفاع کررہے ہیں۔ رسول اللہﷺ اس لیے مبعوث ہوئے کہ وہ حضرت آدم اور حضرت ابراہیم جیسے انبیا کرام کے دین کا دفاع، احیا اور نفاذ کرسکیں؛ وہ دین جو آپ ﷺ کی بعثت سے قبل مسخ ہوچکا تھا۔ آپﷺ کے تشریف لاتے ہی آپ پر حملہ کیا گیا۔ سب سے پہلے ارد گرد کے کفار اور پھر جزیرہ نماے عرب کی آس پاس طاقت ور سلطنتیں آپﷺ پر حملہ آور ہوئیں۔ یہ حملہ اب تک جاری ہے۔ اپنے دفاع میں اسی سے ملتا جلتا بیان جارج ڈبلیو بش نے بھی جاری کیا تھا، گوکہ وہ بلا جواز تھا، جب اس نے 11/9 کے بعد دعویٰ کیا کہ وہ حملے کی زد میں ہے۔ اس نے کہا: “جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارے دشمن ہیں۔ ہم نے اپنی کتاب“ Theories of Islamic Law” میں امت مسلمہ کو نظامِ مقصدِ کلی“ (general purpose system) اور ایک ذی حیات وجود سے تعبیر کیا ہے۔ ریپوپو (Rappoport) کو نقل کرتے ہوئے ہم نے لکھا ہے:

ریپوپو کا ماننا ہے کہ معاشرے ، جو ذی حیات وجود تصور کیے جاتے ہیں ، وہ نظامِ مقصدِ کلی ہیں جن کا حتمی مقصد بقا ہے۔ نظامِ مقصدِ کلی سے ان کی مراد وجودی کھیل کے کھلاڑی ہیں؛ ایک مخصوص کھیل جسےکھیلنے کا صلۂ وحید یہی ہے کہ اسے کھیلنا جاری رکھا جائے۔ اگر امت مسلمہ کو شریعت کی روشنی میں نظامِ مقصدِ کلی تصور کیا جائے، تو اس کا ذی حیات ہونا ظاہر ہوجاتا ہے، جو داخلی اور خارجی دونوں قسم کے مقاصد رکھتی ہے۔ اندرونی مقاصد اس ذی حیات کے اندر توازن بر قرار رکھنے کے لیے تشکیل دیے گئے ہیں، جب کہ خارجی مقاصد یہ طے کرتے ہیں کہ آیا یہ ذی حیات جارحانہ انداز میں نمو پارہا ہے یا محص زندہ رہنے کے لیےوہ کھیل کھیل رہا ہے جس کی جانب پروفیسر ریپوپو اشارہ کر رہے ہیں۔

“نمو پاتی ہوئی” (growing) اور “جارحانہ” (aggressive) کے الفاظ سے ہماری مراد یہ ہے کہ ذی حیات قومیں دراصل شکاری ہوتی ہیں۔ وہ پھلتی پھولتی، نمو پاتی اور طاقت ور بنتی ہیں یا تو دوسری اقوام کو ہڑپ کرنے سے ، یا ان کے وسائل پر قبضہ کرنے سے۔ وجودی کھیل مضبوط کھلاڑیوں کے اصولوں سے کھیلی جاتی ہے؛ اگر کمزور کھلاڑی مزاحمت کرتے ہیں تو وہ پیوندِ خاک ہوجاتے ہیں۔ اپنی بقا اور بڑھنے کے لیے ان ذی حیات جان دار وں کے لیے دوسروں کو بہ طورِ غذا استعمال کرنا ناگزیر ہے۔ تمام جان داروں کی طرح ، اگر وہ دوسروں کو ہڑپ کرنا بند کردیں تو پھر اپنی جان کے آپ ہی درپے ہوجاتے ہیں، اور اس مرحلے پر وہ خود کو ہڑپ کرنا شروع کردیتے اور بالآخر ختم ہوجاتے ہیں۔ تمام بڑی سلطنتوں کا یہی حشر ہوا ہے۔ امت مسلمہ بھی خود کو شکاریوں سے بچانے کے لیے بعض اوقات شکاری کی صورت میں نمو دار ہوئی ہے۔ پھر بھی اس کی کارروائی شریعت کے اعلیٰ مقاصد کے مطابق رہی۔ایک اور فر ق یہ بھی ہے کہ جب بھی یہ حملے کی زد میں آئی تو دوسروں کی طرح اس نے بھی شکاری کی صورت اختیار کی اور بعض اوقات یہ بھی اپنے آپ میں الجھ کر رہ گئی اور بکھر گئی، لیکن کبھی مری نہیں (اسے جنگ میں ہرایا تو ضرور جایا سکتا ہے لیکن موت کے گھاٹ نہیں اتارا جاسکتا)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ذی حیات جان دار کا جوہر قرآن ہے، جو اس کو زندہ رکھتا ہے اور اسے بار بار اٹھاتا ہے۔ یہ ضرور دوبارہ اٹھے گا۔

جس وقت امت اٹھنے کی کوشش کرتی ہے، پھر حملے کی زد میں آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہ ختم ہونے والے، پے در پے، حملوں کی زد میں رہی ہے۔امت کے اٹھنے کے عمل سے قبل بڑے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں ۔ ایسے ہی منگمری واٹ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ]مسلم [امت طاقت حاصل کرنے کے بعد بین الااقوامی معاہدات منسوخ کرے گی۔ ” تھیوریز آف اسلامک لاء” میں اس کا درج ذیل جواب دیا گیا تھا:

” اس نکتے پر بحث بے فائدہ ہوگی اور اس کا زیادہ تر انحصار اس امر پر ہوگا کہ دنیا انصاف، مساوی برتاؤ، باہمی تعاون اور استحصال سے آزادی کے باب میں اس وقت کتنی ترقی کرچکی ہوگی جب مسلمان طاقت حاصل کریں گے۔ یہ امید کی جانی چاہیے کہ جدید دنیامیں ، جہاں مذہب کو عام معمولات میں ثانوی حیثیت دی گئی ہے اور جہاں دیگر مسائل بڑے پیمانے پر کرۂ ارض پر اثر انداز ہورہے ہیں، امت مسلمہ کو چاہیے کہ باہمی تعاون کی روح کے ساتھ جنگ بندی اور معاہدات کو برقرار رکھے اور جہاد سے دعوت پر زیادہ توجہ دے، بالخصوص جہاں جنگ بندی کی حمایت کے لیے قانونی بنیادیں بھی موجود ہوں۔”

گذشتہ چار سو برس سے مسلم دنیا پر مسلسل حملے ہورہے ہیں۔ مسلم علاقوں پر قبضے کیے گئے ، آبادیوں پر مظالم ڈھائے گئے ، وسائل تاراج ہوئے، تعلیمی نظام درہم برہم کیا گیا اور ثقافت برباد کردی گئی۔

آج بھی یہ حملہ متعدد صورتوں میں جاری ہیں: مسلح افواج کے ذریعے، لاتعداد این جی اوز، انٹرنیٹ کی بھر پور یورش، ثقافتی یلغار،قرضوں کے جال ، معاشی گھاتک اور اس طرح کے دیگر ذرائع سے یہ حملے ہورہے ہیں۔ نام نہاد وجودی کھیل طاقتور کے بنائے ہوئے قواعد سے اقوام متحد اور بین الاقوامی قانون کے ذریعے کھیلا جاتا ہے ۔ “انصاف، مساوی برتاؤ، باہمی تعاون اور استحصال سے آزادی ” جن کی ہمیں توقع تھی وہ ابھی تک منظر نامے پرموجود نہیں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ صورتِ حال بد سے بد تر بن چکی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ عدل اور انصاف بالآخر غالب آئیں گے اور ان کے راستے میں مزاحم اسباب رفتہ رفتہ ختم ہوجائیں گے۔ اسلام اور شریعت میں ایک زبردست قوت جاذبیت موجود ہے جو لوگ آج اس کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں وہ بھی عن قریب ان کے ساتھ مناسب طرز عمل اختیار کریں گے۔ یاد رہے کہ جن فاتحینِ منگول نے اسلامی تہذیب کو کم وبیش نابود کردیا تھا وہ مسلمان ہوکر شریعت کےسب سے بڑے متوالے بن گئے۔

بعض لوگ شریعت کو اپنے نظام اور ثقافت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ خوف یا خدشہ کلیتاً بے بنیاد ہے۔ جارحیت شریعت کی جانب سے نہیں ہےبلکہ ، جیسا کہ تاریخ میں ہوتا آرہا ہے، شریعت ہی حملے کی زد میں ہے۔ اس میں تشویش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر بھارت، دنیا میں جمہوریت کا سب سے بڑا دعوے دار، مسلمانوں کے عائلی معاملات میں شریعت کا اطلاق کرسکتا ہے، جو ان کی آبادی کا متعدد بہ حصہ ہیں ، تو مقامِ حیرت ہے کہ مغربی ممالک میں مٹھی بھر مسلمانوں کے بارے میں انھیں کیا تشویش لاحق ہوسکتی ہے۔ بہ ظاہر اس قسم کے خاص قوانین کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے ، یہاں تک کہ امریکی دستور کی “مذہب” اور ” بندوبست ” کی شقوں کو بھی اس راہ میں مزاحم نہیں ہونا چاہیے۔

نتیجتاً ہم یہ کَہ سکتے ہیں کہ جہاد ایک دفاعی نظام ہے جسے اس وقت حرکت میں لایا جاتا ہے ، یا یہ از خود متحرک ہوجاتا ہے ، جب مسلمانوں پر حملہ ہورہا ہو۔ اس حملے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مسلح جارحیت کی صورت میں ہو کیوں کہ جارحیت کی جدید شکلیں تبدیل ہوچکی ہیں ، جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا۔ امت مسلمہ روزِ اول سے حملے کی زد میں رہی ہے، اس لیے تمام جہادی سرگرمیاں دفاعی ہیں اور ہمیشہ دفاعی رہی ہیں۔
واللہ اعلم۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20