دوزخ نامہ: غالب اور منٹو ملاقات کی انوکھی داستان ——– نعیم الرحمٰن

0

گذشتہ سال اردو زبان میں بعض منفرد ناول شائع ہوئے۔ جن میں انیس اشفاق کا ’’خواب سراب‘‘ مرزا ہادی رسوا کے مشہورِ زمانہ ’’امراؤ جان ادا‘‘ کی توسیع تھا۔ جس میں راوی مرزا ہادی رسوا کا اصل ناول تلاش کرتا ہے، جس میں امراؤ جان کی شادی اور بیٹی کا بھی ذکر ہے۔ اب انعام ندیم نے بنگالی ادیب ربیسن کربال کے ایک انوکھے بنگلہ ناول کا انگریزی سے ترجمہ کیاہے۔ جو ایک یکسر مختلف طرز اور اسلوب کا ناول ہے۔ اس سے قبل عالمِ رنگ و بو سے رُخصت ہونے والے مشاہیر کے دورِ حاضر کے کسی ادیب کے نام خطوط تو کئی بار لکھے گئے۔ جس کی سب سے عمدہ مثال محمد خالد اختر کی کتاب ’’مکاتیبِ خضر‘‘ ہے۔ جس میں خطوط غالب کی طرز پر مزاح نگار نے دورِ جدید کے بعض مسائل کا دلچسپ انداز میں ذکر کیا ہے۔ انور مقصود نے بھی عالمِ بالا سے مشاہیر کی دلچسپ خطوط تحریری اور زبانی طور پر پیش کیے ہیں۔ لیکن ’’دوزخ نامہ‘‘ انیس ویں صدی کے سب سے بڑے اردوشاعر اسد اللہ غالب اور بیسویں صدی کے بہترین افسانہ نگار کی سعادت حسن منٹو کی موت کے بعد ملاقات کو موضوع بنایا گیا۔ ناول کا بنیادی خیال یہ ہے کہ غالب اور منٹو اپنی اپنی قبروں سے آپس میں محوِ کلام ہیں۔ دونوں افراد کی زندگی کی تفصیلات پر مبنی یہ تحریر اپنی جگہ ایک انوکھا مفروضہ ہے۔ اپنے دور کی دو نامور شخصیات کو ان کے اپنے زمان و مکان سمیت اٹھا کر ایک دوسرے کے مقابل پیش کردہ بیانیہ مصنف اپنے اسلوب سے چاہے جتنا بھی قابلِ فہم بنا کر پیش کرے۔ ابتدا میں تو یہ قاری کو حیران کر دیتا ہے۔ منٹوکے ذریعے سے غالب اور غالب کی وساطت سے منٹو، کی نئی اور اضافہ شدہ تعبیر سامنے آنے لگتی ہے۔ یوں تخلیقی اُپچ سے مالا مال بنگلہ ناول نگار ربیسن کربال نے ایک ایسا تصور ناول کی صورت میں پیش کیاہے۔ جس کا اس سے قبل گمان بھی ممکن نہ تھا۔

ناول نگار ربیسن کربال 1962ء میں پیدا ہوئے اور 21 دسمبر 2017ء کو صرف پچپن سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ بنگالی زبان کے نامور صحافی اور ادیب تھے۔ تیس سالہ ادبی زندگی میں ان کے پندرہ ناول اور پانچ افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ ادبی مضامین اور شاعری کے بھی مجموعے اشاعت پذیر ہوئے۔ ربیسن کربال کو ان کے ناول ’’بائیو گرافی آف مڈ نائٹ‘‘ پر مغربی بنگال حکومت نے سٹوپا رائے چودھری میموریل ایوارڈ دیا۔ ’’دوزخ نامہ‘‘ ان کا بہترین ناول قرار دیا جاتا ہے۔ جس کو مرکزی حکومت نے بنکم چندرا سمرتی پرسکار سے نوازا۔ ربی سنکربال نے مولانا جلال الدین رومی کے بارے میں بھی ایک ناول تحریر کیاہے۔ اس ناول کا بھی انگریزی میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے سعادت حسن منٹوکے افسانوں کا بھی بنگلہ میں ترجمہ کیاہے۔

کتاب کے مترجم انعام ندیم اردو کے معروف شاعر اور ادیب ہیں۔ وہ حبیب یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انعام ندیم کا مجموعہ کلام ’’درِ خواب‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ جسے دو ہزار تین میں عکس خوشبو ایوارڈ دیا گیا۔ انعام ندیم نے موسیقی کے بارے میں عمدہ مضامین بھی لکھے اور مختلف زبانوں سے تراجم کرنے سے بھی انہیں شغف ہے۔ ’’دوزخ نامہ‘‘ ان کا پہلا ترجمہ ہے جو کتابی شکل میں شائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے بھیشم ساہنی کی متعدد کہانیوں کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے۔ گردیال سنگھ کے پنجابی ناول ’’مڑھی دادیوا‘‘ کو بھی اردو کا روپ دیا ہے۔ یہ دونوں کتب جلد شائع ہونے والی ہیں۔ ان دنوں وہ دوزخ نامہ کے مصنف ربیسن کربال کے ایک اور ناول A Mirrored Lifeکا اردو میں ترجمہ کر رہے ہیں۔

معروف شاعر افضال احمد سید نے کتاب کے فلیپ میں لکھا ہے۔

’’بیدل نے فردوس کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ وہ جگہ ہی کیا جہاں دل کسی درد سے نہ تڑپے۔ ربیسن کربال نے بجا طور پر غالب اور منٹو کا عالمِ عطف دوزخ کو قرار دیا ہے۔ دوزخ میں غالب اور منٹو ایک دوسرے کو اپنا اپناافسانہ سنا رہے ہیں جو دلِ بے دماغ کی گفتگو سے بھی نازک تر ہے۔ غالب اور منٹو کی زندگیوں کے وہ بہت سارے کردار جن کی کچھ جھلکیاں کبھی ہمیں ان کی تحریر میں نظر آئی تھیں۔ ربیسن کربال کے ناول میں ہم سے اور قریب آ گئے ہیں۔ یہاں غالب کی امراؤ بیگم بھی ہیں اور ان کے والد بھی، کلو داروغہ بھی ہے اور بہادر شاہ ظفر بھی، ولیم فریزر بھی ہے اور نواب شمس الدین بھی۔ غالب کی ڈومنی بھی ہے اور ایک محبوبہ شاعرہ المتخلص ’ترک‘ بھی۔ منٹو کی طرف دیکھیے تو کون ہے جو نہیں ہے۔ لاہور میں اپنے کرشن چندر، راجند سنگھ بیدی، باری علیگ کے ساتھ، بمبے فلم انڈسٹری کا طلسمات، صفیہ اور اس کے ساتھ عصمت جسے ربیسن کربال نے تقریباً منٹو کی محبوبہ ثابت کر دیا۔ جہاں غالب کی زندگی کی تصویر کو صوفیانہ حکایات سے رنگین بنایا ہے، یہاں تک کہ رومی کا ان سے ملاقات کے لیے دوزخ میں آنا تک بیان کیا ہے۔ ناول میں بنگالی مصنف نے غالب کے سفرِ کلکتہ کے بیان میں کمالِ فن سے ہمیں ’نازنیں بتانِ خود آر‘ سے آگے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔‘‘

مصنف نے ناول کو منٹو کی تحریر کہا ہے جو کسی طرح اس کی دسترس میں آ گئی تھی۔ یہ ناول منٹو کو ہی لکھنا چاہیے تھا، شاید منٹو جیسا خود آگاہ غالب کو ہم سب سے زیادہ سمجھ سکتا تھا، مگر منٹو بت تراش نہیں تھا اور وہ اپنی بت شکنی کا تیشہ غالب اور اپنے آپ پر بھی برسانے سے نہ رکتا۔ دوزخ نامہ برصغیر کی دو نامور ہستیوں کا زندگی نامہ ہے۔ جو اپنے اپنے عہد کی دانش کے عذاب سے باخبر تھے اور شاعر انعام ندیم نے اسے عمدگی سے اردو میں منتقل کیا ہے کہ کہیں سے ترجمہ کا شائبہ بھی نہیں ہوتا۔ ’’دوزخ نامہ‘‘ عکس پبلشرز لاہور نے شائع کیا ہے۔ انتہائی خوبصورت پرنٹنگ سے آراستہ پانچ سو بائیس صفحات کے ناول کی قیمت آٹھ سو روپے بھی بہت مناسب ہے۔

ناول کے طویل مقدمے میں آصف فرخی اپنے مخصوص پیرائے میں’ مرزا بنام منٹو‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں۔

’’ستم ظریفی کہ ایسے کتنے ہی معاملات کی طرح اس بحرکی تہہ سے بھی برآمد ہوتے ہیں تو مرزا غالب۔ اس بار یوں کہ اپنے جلو میں سعادت حسن منٹو کو لیے ہوئے۔ یوں بیان کیا گیا ہے کہ آسمانوںمیں فرشتے ایک الوہی واقعے کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے کہ کچھ سُن گُن پا کر ابلیس نے ادھر کا قصد کرنا چاہا تو اس کاراستہ روکنے کے لیے فرشتوں نے نور اور آگ کے گولے اس کی طرف برسائے جنہیں دنیا والے شہابِ ثاقب کے نام سے جاننے لگے۔ اس طرح مرزا غالب اور سعادت حسن منٹو کی آپس کی گفتگو کی کن سوئیاں لینے کے لیے، دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والا ناول نگار ادھر کا ارادہ باندھ رہا ہو گا کہ اس کے روکنے کے لیے غالب اور منٹو نے نور کے گولے اس کی طرف پھینکے ہوں گے۔ انہی میں سے ایک آگ کا اور نور کا گولہ ’’دوزخ نامہ‘‘ کہلانے والا ناول بن گیا، جس کے ماتھے پر لکھا ہے کہ یہ کہاں سے آیا، کس نے بھیجا۔ اس عالمِ رنگ و بو سے رُخصت ہونے والے مشاہیر کے نام پر نامہ بری کے دعوے کے ساتھ ٹھٹھول، ابتذال، پھکّڑپن اور سیاسی لطیفے جوڑ دینے کی ایک سستی سی عام صورت کے ہم عادی ہوتے جا رہے ہیں کہ یہ انتباہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس ناول سے احتیاط برتیں۔ مرحومین یا مشاہرین سے مکالمے کو ایک اور امکان کی طرف لے جاتا ہے یہ ناول۔ عجیب اس لیے لگا کہ پڑھنے کو اٹھایا تو بے تابی سے ورق پلٹتا گیا اور پڑھ لیا تو یوں معلوم ہوا، یہ سب تو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں۔ کتنے بہت سے پرانے مطالعات کو زندہ کر دیتا ہے یہ ناول۔ یہ ان سب سے زیادہ عجیب کتابوں میں سے ایک ہے جس کے پڑھنے کا مجھے اتفاق ہوا ہے اور ذرا بھی تعجب نہیں کہ اس میں غالب موجود ہیں اور منٹو بھی۔ ‘‘

یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ’’دوزخ نامہ‘‘ اردو میں نہیں بلکہ بنگالی میں لکھا گیا ہے۔ لیکن انعام ندیم نے اردو ترجمہ اس خوبی سے کیا ہے کہ اسے ترجمہ کہنا بھی دشوار ہے۔ غالب نے سرقے کا الزام لگنے پر کہا تھا کہ سرقہ تو پرانے شعراء نے کیا تھا جنہوں نے ان کے وہ مضامین چرا لیے جو ان کے نام سے رکھے گئے تھے۔ غالب کی پیروی میں کہا جا سکتا ہے کہ دراصل یہ ناول اردو میں لکھا گیا تھا اور آسمانوں پر لوحِ محفوظ سے ربی سنکربال اسے لے اڑے۔ ترجمہ تو انہوں نے کیا تھا اصل ناول تو اب انعام ندیم نے تحریر کیا ہے۔ غالب کے ساتھ منٹو کا مکالمہ قائم کر دینا ناول نگار کا کمال ہے۔ انیسویں صدی میں دہلی کے شاعر اور بیسویں صدی میں بمبئی، لاہور میں بسنے والے سعادت حسن منٹو، اپنے زمان و مکان کی حدود کے پروردہ اور نمائندہ، اپنی اپنی جگہ آئیکون کی حیثیت کے مالک ہیں۔ ربی سنکربال ان دونوں کوجگہ سے بے جگہ کرتا ہے، پھران کے مقام کا احساس دلاتا ہے۔ اپنی شعری کائنات میں غالب تو غالب ہیں ہی، لیکن ہاں یہاں غالب منٹو کے مطالعے والے غالب بھی ہیں۔ جیسے منٹو نے انہیں پڑھا، منٹو کا تشکیل کردہ غالب، کتاب کے صفحات سے نکل کر پرانے غالب میں شامل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح منٹو بھی قبائے ساز کتر کر غالب کے اندازے کے مطابق اپنا جامہء ہستی تیار کرتا ہے، وہ منٹو جو غالب کے سامنے زبان کھول سکے، وہی منٹو جو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا، وہی منٹو غالب کے سامنے اوراقِ ہستی ایک ایک کر کے ترتیب کے ساتھ رکھ رہا ہے، زندگی کے تمام تردرد سے عبارت۔

غالب اور منٹو کی زندگی میں بہت کچھ یکساں نظر آتا ہے اور دونوں کا مزاج بھی کچھ ایک جیسا ہی رہا۔ غالب کی حیات میں 1857ء میں دہلی کی بربادی اور منٹو کی زندگی میں 1947ء کی تقسیم کا ہنگامہ۔ غالب انگریزی دور کے قانون اور عدالتی تعزیرات کا شکار بنتے ہیں۔ منٹو نئے ملک میں قانون اور عدالت سے سزا پاتے ہیں۔ دونوں نے آزمائشوں سے بھری ہوئی، معاشی، ذہنی اورجذباتی سطح پر ایک پریشان حال زندگی گزاری۔ دونوں اپنے معاصرین میں سے کسی کو آسانی سے خاطر میں نہیں لاتے تھے اور اپنی اپنی روایت کی طرف دونوں کا اندازِ نظر باغیانہ اجتہاد اور گستاخانہ انحراف کا تھا۔ بقول ڈاکٹر شمس الحق عثمانی۔ ’’غالب اور منٹو اب نام نہیں، استعارے ہیں۔ ان کا خمیر انسانی جذبات و احساسات کی فہم اور پاس داریِ فن کی مساوی قوتوں سے اٹھا ہے۔‘‘ اور یہ بات قارئین پر دوزخ نامہ میں بخوبی واضح ہوتی ہے۔

عرض مترجم میں انعام ندیم کہتے ہیں۔

’’تصور کیجیے انیسویں صدی اگر آ کر بیسویں صدی کو گلے لگا لے اور ہم اور آپ، دو صدیوں کے اس ملاپ کے گواہ بن جائیں تو کیسا لگے گا؟ یوں دیکھا جائے تو دو صدیوں کا ملاپ کا یہ موقع اٹھارہ برس پہلے اس وقت آیا تھا جب اکتیس دسمبر انیس سو ننانوے کی رات دو صدیاں لمحہ بھر کے لیے ایک ہو گئی تھیں، لیکن یہاں تو بنگالی ادیب ربی سنکربال نے دو صدیوں کو ایک کتاب میں بند کر دیا ہے اور ان دو صدیوں کی دو نامور ہستیوں کی ملاقات کی دستاویز ہے ان کا ناول ’’دوزخ نامہ۔‘‘ اس ناول میں اردو شعر و ادب کی دو سر برآوردہ شخصیات مرزا غالب اور سعادت حسن منٹو اپنی اپنی قبر سے اُٹھ کر اور ایک صدی کا فاصلہ طے کر کے ایک دوسرے سے محو گفتگو ہیں۔ اسی لیے اس ناول کا ایک ذیلی عنوان قائم کیا گیا ہے ’’دوزخ میں بات چیت‘‘ انیسویں صدی کے شاعر اور بیسویں صدی کے افسانہ نگار کی مرنے کے بعد قبر میں ہونے والی ملاقات میں ان کے اپنے اپنے زمانوں کا جو نقشہ اُبھرتا ہے وہی دوزخ نامہ ہے۔ ان دونوں کی جیون کتھاؤں کے ساتھ ناول ایسے بے شمار رنگا رنگ قصوں سے بھرا ہوا ہے جن پر اب وقت کی گرد جم چکی ہے۔ ایک قصہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرے کا بیان شروع ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے قاری ایک اور الف لیلیٰ پڑھ رہا ہے لیکن اس بار داستان شہر زاد نہیں سُنا رہی بلکہ اسے ہم مرزا غالب اور منٹو کی زبانی سن رہے ہیں اور جس داستان کو مرزا غالب جیسے شاعر اور منٹو جیسا افسانہ نگار سُنائے، ذرا سوچیے وہ داستان کیسی پر لطف ہو گی۔ ناول کی خوبی یہ ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے کوئی بات بھی خلاف ِ واقعہ معلوم نہیں ہوتی۔ کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ غالب یا منٹوایسی بات نہیں کہہ سکتے۔ منٹو کی باتیں ہمیں ویسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے اُن کے افسانے اور غالب کی گفتگو میں وہی مزہ ہے جو اُن کے شعر میں ہے۔ یہ ناول دو دیوانے ادیبوں کی جگل بندی ہے جو پڑھنے والے کو دیوانہ بنا دیتی ہے۔ ‘‘

ناول کا مسودہ ملنے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ مصنف جو خود کو اخبار نویس اور معمولی قلم گھسیٹنے والا مزدار قرار دیتا ہے۔ اس کے شہر کی طوائفوں کے بارے میں کچھ لکھنے کی خاطر لکھنؤ جانے سے ہوتی ہے۔ یہاں اس کی ملاقات فرید میاں سے ہوتی ہے، جو اسے ایک مسودہ دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ سعادت حسن منٹو کا ناول ہے جو مجھے میرے والد نے انتقال سے پہلے دیا تھا۔ انہیں یہ مسودہ کہاں سے ملا معلوم نہیں۔ کہتا ہے یہ ناول اس لیے نہیں چھپا کہ کوئی یقین جو نہیں کرتا، لوگ کہتے ہیں کہ یہ منٹو کے ہاتھ کی تحریر نہیں ہے۔ لیکن ناول ان کی زندگی سے پوری مطابقت رکھتا ہے۔ مصنف نے اس غیر مطبوعہ مسودہ کے بارے میں سوچا کہ کیاواقعی یہ منٹو کی تحریر ہے۔ مرزا غالب پر لکھنا اس کا اپنا بھی خواب تھا۔ اسی تجسس میں انہوں نے ناول لے لیا۔ اس ناول کو پڑھنے کے لیے بنگالی مصنف نے اردو سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ جس کے لیے تبسم مرزا ٹیچر کا انتظام کیا گیا۔ لیکن چند دن میں اندازہ ہوا کہ ایک نئی زبان سیکھنے کے لیے درکار صبر اور ارتکاز ان میں موجود نہیں۔ تو انہوں نے تبسم مرزا سے کہا کہ آپ پڑھ کر ترجمہ کرتی جائیں اور میں ساتھ ساتھ لکھتا جاؤں گا۔ سو یوں مصنف نے منٹو کے غالب کو، تبسم مرزا کے لہجے کی وساطت سے نئے سرے سے دریافت کیا اور ایک فرض شناس مصنف کی طرح ایک نایاب غیر مطبوعہ ناول کو بنگلہ زبان میں لکھا۔

غالب کے بارے میں ناول لکھنا خواب تھا منٹو کا۔ بمبئی میں غالب پر بنی فلم کا اسکرپٹ بھی منٹو نے لکھا تھا۔ وہ بہت کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ لیکن جب فلم تیار ہوئی تو منٹو پاکستان جا چکے تھے۔ ثریا نے فلم میں مرزا غالب کی محبوبہ کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کو نیشنل ایوارڈ بھی ملا۔

دوزخ نامہ کا دوسرے باب کا عنوان کے ’’پیش لفظ۔‘‘ جس کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے۔

’’یہ داستان کون لکھ رہا ہے؟ میں سعادت حسن منٹو، یا میرا آسیب؟ منٹو پوری زندگی صرف ایک انسان سے بات کرنا چاہتا تھا، مرزا اسد اللہ غالب۔ مجھے ہمیشہ لگا جیسے میں اور مرزا آمنے سامنے رکھے ہوئے دو آئینے ہوں اور دونوں آئینوں کے بیچ ہو معدومیت، ایک خلا۔ دونوں ایک دوسرے کے خالی پن کو دیکھ رہے ہوں۔ کیا خلائیں آپس میں بات کر سکتی ہیں؟ کتنے ہی دنوں تک میں نے مرزا سے یک طرفہ گفتگو کی۔ وہ ہمیشہ چپ رہے۔ بھلا وہ قبر سے کیسے جواب دے سکتے تھے؟ لیکن اتنے برسوں کے انتظار کے بعد اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ مرزا مجھ سے بات کریں گے۔ کیوں کہ اب میں بھی اپنی قبر میں ہوں۔ 1948ء میں پاکستان آنے کے بعد میں جلد ہی سمجھ گیا تھا کہ مجھے اپنی قبر خود ہی کھودنی ہو گی تا کہ مٹی تلے گہری تاریکی میں جا کر سو سکوں۔ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ جب سے منٹو اس دنیا میں آیا تھا خدائی کی دیوانگی اس کے دماغ میں تھی۔ اس لیے ساری زندگی کہانیاں ہی منٹو کو ڈھونڈتی رہیں۔ منٹو کبھی کہانی کی تلاش میں نہیں گیا۔ مرزا اب میرے سات باتیں کریں گے۔ ہم مسلسل گفتگو کرتے رہیں گے، وہ سب جو مرزا ساری زندگی کسی سے نہیں کہہ پائے اور وہ سب جو میں کسی کو نہیں بتا پایا۔ اب وہ ساری باتیں ہم اپنی اپنی قبر میں لیٹ کر کیا کریں گے۔ مرزا وہاں نظام الدین اولیاء کی درگاہ کے پاس سلطان جی کے قبرستان میں اور میں یہاں لاہور میں میانی صاحب قبرستان میں۔ کبھی یہ ایک ہی ملک ہوا کرتا تھا۔ زمین کے اوپر سرحدوں کی کتنی ہی خاردار تاریں لگی ہوں زمین کے نیچے تو یہ ایک ہی ملک، ایک ہی دنیا ہے۔ کیا کوئی مردوں کی آپس کی بات چیت پر بھی پابندی لگا سکتا ہے؟ سارا سال ہم قفس کے اندر زندہ رہتے ہیں اور ہمیشہ یہی کہہ کر آہیں بھرتے رہتے ہیں کہ کبھی ہم اُڑا کرتے تھے۔ مرزا نے اپنی ایک غزل میں یہی بات کہی ہے۔ مرزا کبھی نہیں اُڑ پائے اور نہ ہی میں۔ لیکن اس بار ہم اپنی قبروں کے اندھیرے میں پنکھ لگائیں گے دوستو۔ آپ لوگوں کو وہ سب کہانیاں سنائیں گے جو آپ نے کبھی نہیں سُنیں۔ ان سب پردوں کو ہٹا دیں گے جن کے پیچھے کا منظر آپ لوگوں نے کبھی نہیں دیکھا۔ مرزا کے بنا منٹو نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے منٹو کے بغیر مرزا بھی نہ ہوں۔ تو پھر قبروں کے اندر گفتگو شروع کرتے ہیں۔ آداب۔ سعادت حسن منٹو 18 جنوری 1955ء۔ ‘‘

پیش لفظ کے ترجمے کے بعد راوی تاریخ دیکھ کر چونک پڑتا ہے۔ یہ تو منٹوکی تاریخِ وفات ہے۔ ربی سنکربال نے کیا منفرد اور انوکھا اسلوب اختیار کیا ہے۔ دوزخ نامہ کو تحریر کرنے کے لیے۔ وفات کے بعد منٹو کی تحریر میں غالب کے بارے میں ناول۔ کوئی بھی ادب دوست شخص یہاں تک پڑھنے کے بعد ناول کو ادھورا چھوڑ ہی نہیں سکتا۔ اس کا تجسس ہی اس سے ناول کو پڑھوائے گا۔ دلچسپ ترین ناول پڑھ کر قاری کو ہرگز مایوسی نہیں ہو گی۔ جیسا کے آصف فرخی نے بھی کہا ہے کہ غالب اور منٹو کی زندگی کے واقعات جانے پہچانے ہیں۔ اس منفرد انداز نے ان کی دلچسپی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

انعام ندیم اس دلکش اور رواں ترجمے پر نوفل جیلانی اور فہد برادران اس عمدہ ناول کو شائع کرنے پر مبار کباد کے حقدار ہیں۔ قارئین کی ربی سنکربال اور انعام ندیم کی مزید تحریروں کی جستجو میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ خوش خبری بھی بہت خوشگوار ہے کہ انعام ندیم سنکربال اور گردیال سنگھ کے ناولوں کا ترجمہ کر رہے ہیں۔

(Visited 1 times, 5 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: