خالد حسینی کا ناول “پہاڑوں کی فریاد” : ایک تبصرہ —- احسن رومیز

0

کسی کتاب پر تبصرے کے آغاز میں مصنف کے تعارف کے باب میں کچھ نہ کچھ لکھنے کی روایت ہے مگر مجھے اس کتاب کے منصف خالد حسینی کے تعارف کیلئے الفاظ کی تلاش مشکل پیش آ رہی ہے۔ خالد حسینی کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے منصفین میں ہوتا ہے۔ ان کے ناولوں کے مجموعی طور پر ساڑھے 5 کڑور سے زائد نسخے دنیا کے 70 ممالک میں فروخت ہو چکے ہیں۔ انکا پہلا ناول “دی کاٰئٹ رنر” تھا جو انکی اصل وجہ شہرت بھی ہے۔ خالد حسینی کے تمام ناولز نیو یارک ٹائمز پر بیسٹ سیلر رہے۔

خالد حسینی 4 مارچ 1965 کو کابل، افغانستان میں پیدا ہوۓ۔ ان کے والد ناصر افغانستان کے وزیر خارجہ کے منصب پر فائز رہے۔ خالد حسینی نے اپنے بچپن کے 8 سال افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گزارے۔ 1970 میں ان کے والد کا تبادلہ تہران میں افغان سفارت خانے میں ہوا۔ جسکی وجہ سے انہیں تمام اہل خانہ کے ساتھ ایران منتقل ہونا پڑا۔ لیکن 3 سال بعد انکے والد کا تبادلہ پیرس ہوگیا اور ان کو ایک مرتبہ پھر اپنے تمام اہل خانہ کے ہمراہ فرانس منتقل ہونا پڑا۔ اس وقت خالد حسینی 11 برس کے تھے۔

1978 میں افغانستان کے حالات داؤد خان کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد خراب ہونے شروع ہوگئے اور 1980 میں افغان سویت جنگ شروع ہو گئی۔ چناچہ ان کے والد نے امریکہ میں سیاسی پناہ لے لی تھی۔

خالد حسینی کی تاریخ لکھنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوتی ہے کہ ان کے تحریر کردہ ناول “پہاڑوں کی فریاد” (And The Mountains Echoed) پر ان کے حالات زندگی کی گہری چھاپ بہت واضح ہے۔ افغانستان میں جنگ اور غربت دو ایسی وجوہات تھیں جنہوں نے خالد حسینی کو اس ناول کی تخلیق پر اکسایا۔

اس ناول کا کینوس کابل سے شروع ہوکر یونان کے ایک جزیرے ٹینوس تک پھیلا ہوا ہے۔ جو ہمیں ناول کے مرکزی کرداروں کے علاوہ دیگر کئی کرداروں سے بھی متعارف کرواتا ہے۔ اس ناول میں دوسرے کرداروں کی بھرمار بھی دیکھنے کو ملے گی جن کا بظاہر کہانی سے اور ان کے کرداروں سے تعلق نظر تو نہیں آتا لیکن وہ کہانی کی چاشنی کو برقرار رکھنے میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر ان کے پہلے ناول “دی کائٹ رنر” کے مرکزی کردار ایک باپ اور دو بیٹے تھے جبکہ دوسرے ناول میں ایک ماں اور اس کی دو بیٹیاں مرکزی کردار تھیں۔ لیکن زیر نظر ان کا تیسرا ناول اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس میں کئی کہانیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ہر باب یوں شروع ہوتا ہے جیسے یہ نئ کہانی شروع ہوگئی ہو۔ لیکن آخر میں تمام کڑیاں ایک ہی جگہ آ کر مل جاتی ہے اور یوں یہ ناول اکائی بن جاتا ہے۔

یہ کہانیاں ہمیں وفاداری، حسد، بےوفائی، خود غرضی، انسان دوستی اور محبت کے جذبات سے روشناس کرواتی ہیں۔ مصنف اپنے ناول کو ایک درخت سے تشبیہ دیتا ہے جس کے تنے سے شاخیں پھوٹ پھوٹ کر مختلف اطراف میں پھیل جاتی ہیں۔

پہاڑ کا لفظ سنتے ہی ایک عجیب سی کیفیت کا احساس ہوتا ہے اور بے اختیار یہ دل چاہتا ہے کہ اس کیفیت کو محسوس کیا جائے اور اس کی اونچائی دیکھی جائے اور بالکل یہی احساسات اس ناول کا نام پہلی دفعہ سن کر اور اس کے چند اقتباسات دیکھ کر میرے بھی تھے۔

اس ناول میں ہمیں انسانی رشتوں کی گونج سنائی دیتی ہے انسان رشتے جو خوبصورت ہیں اور بد صورت بھی۔ پہاڑوں کی فطرت ہوتی ہے کہ انہیں جو دو وہ لوٹا دیتے ہیں ہاں مگر زندگی شرط نہیں۔ لیکن جس طرح پہاڑوں کا ملکوتی حسن بدصورتی کو دھکیلتا ہے اسی طرح اس ناول کو ختم کرنے کے بعد جو احساس باقی رہ جاتا ہے وہ ہے انسانی رشتوں کی خوبصورتی کا احساس۔

اس ناول میں کل پانچ کہانیاں ہیں پہلی کہانی افغانستان کی ایک لوک کہانی ہے جس میں ایک دیو علاقے کے ہر خاندان سے قربانی مانگتا ہے لوک کہانی کا ایک کردار یہ سوچ کر اپنے ایک بیٹے کی قربانی دینے کے لیے راضی ہو جاتا ہے کہ پورا ہاتھ کٹوانے سے بہتر ہے محض ایک انگلی قربان کر دی جائے۔ وقت گزرتا جاتا ہے اور وہ اپنے بیٹے کی یاد میں غرق رہتا ہے۔ ضمیر کی خلش کو مٹانے کے لیے وہ دیو سے انتقام اور اپنا بیٹا لینے پیدل ہی اس کے قلعے کی جانب چل پڑتا ہے۔ دیو کے قلعے پہنچ کر دیکھتا ہے کہ اس کا بیٹا وہاں دوسرے اغوا شدہ بچوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر رہا ہے۔ یوں وہ اسے اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ ترک کر دیتا ہے کہ جب وہ اسے اس معیار کی خوشیاں دیں نہیں سکتا تو اس سے چھینے کا بھی کوئی حق نہیں رکھتا۔

دوسری کہانی ہمیں صبور سناتا ہے جو افغانستان کے ایک گاؤں شادباغ میں غربت کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے اس کے لیے اپنے خاندان کی کفالت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ صبور دو شادیاں کرتا ہے پہلی بیوی سے دو بچے ہوتے ہیں عبداللہ اور پری اور دوسری بیوی پروانہ سے ایک بیٹا اقبال ہوتا ہے۔ پروانہ کا ایک نبی نام کا بھائی بھی ہے جو کابل شہر میں ایک گھر میں ڈرائیور کی نوکری کر رہا ہے۔ وہ صبور کو اکساتا ہے کہ پری کو اس کے مالک سلمان وحدتی ہے اور بیگم سلیمان وحدتی کے ہاں فروخت کر دے۔ اگرچہ یہ میاں بیوی خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن اولاد کے دولت سے محروم ہیں لہذا دونوں پری کو گود لے لیتے ہیں۔ عبدالله جس نے پری کو ایک ماں کی طرح پالا ہوتا ہے اسے بے لوث اور بے حد محبت کرتا ہے۔ اگرچہ وہ خود بھی ایک بچہ ہوتا ہے لیکن کوئی بھی چیز اسے پری کی محبت اور حفاظت سے باز نہیں رکھ سکتی تھی۔ پری کی فروخت ایک صدمہ ہے جو آخری سانس تک عبداللہ کے ساتھ رہتا ہے۔ عبداللہ امریکہ منتقل ہو جاتا ہے جہاں اس کی بیٹی کی ولادت ہوتی ہے عبداللہ اس کا نام بھی اپنی بہن کے نام پر پری رکھتا ہے۔ بالآخر دونوں بہن بھائی تیس سال کے طویل عرصے بعد ملتے ہیں اور یہاں عبدالله نسیان کا شکار ہوجاتا ہے۔ جس وجہ سے اپنی یاداشت کھو بیٹھتا ہے لیکن پری کی یاد کا سایہ اس کے ذہن پر مسلط رہتا ہے۔

ناول کا آخری باب دکھی بہن بھائی کے ملاپ کی کہانی ہے ناول کا یہ حصّہ خاصا جذباتی ہے۔ اس کے علاوہ ناول میں اور بھی چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہیں جس کے بعض کردار انسان دوستی کی مثال ہیں تو بعض کردار ایسے بھی ہیں جو دوسروں کا استحصال کرکے زندگی کے مزے لوٹنا چاہتے ہیں۔ اور اپنی ہی لوگوں کی نظروں میں گر جاتے ہیں۔

ناول کی تکنیک سیدھی سادی نہیں ہے۔ کہیں یہ کہانی حال بن کے سامنے آتی ہے تو کہیں ماضی بن کر۔ خالد حسینی کا کا طرز تحریر بہت واضح اور شوخ تو ہے ہی، محسوسات سے بھرپور بھی ہے۔

مختصر یہ کہ اس ناول میں مصنف نے افغان تہذیب و ثقافت پر بھی روشنی بکھیری ہے۔ اس ناول میں خالد حسینی نے بہت خوبصورتی سے واضح کیا ہے کہ جنگ کس طرح خاندان کے خاندان اور ان کے مابین پنپنے والی محبت اور اخوت کو ریت کی دیوار کی طرح گرا دیتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20