عالیشان اور شاندار شخصیت —– قاضی حسین احمد پر حسن نثار کی تحریر

0

زندگی کے بہت سے خوبصورت رشتے ایسے ہوتے ہیں، جنہیں سو فیصد بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔ میں بہت زیادہ دوستیاں نبھانے والا شخص ہوں۔ جماعت اسلامی کے ساتھ میرا تعارف قاضی صاحب کی وجہ سے ہی پیدا ہوا۔ میرا تعلق جماعت سے زیادہ اس شخصیت کے ساتھ تھا کہ جس میں سختی نہ تھی اور جس میں خالق کی محبت کے ساتھ مخلوق کے ساتھ محبت بھی تھی۔ میرے جماعت کے ساتھ تعلق کی وجہ سے جماعت کے حلقوں کو خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہ دہریہ ٹائپ بندہ کیسے ہماری طرف آگیا۔ اس طرح میں نے جمعیت کے پروگرامات، کتب میلوں میں جانا شروع کردیا۔ اسی دوران میں میرا ایک اہم تعلق امیر العظیم صاحب کے ساتھ بنا۔

میں قاضی صاحب کو بہت زیادہ اہم سمجھتا تھا اور سمجھتا ہوں۔ اللہ کو شاید ابھی منظور نہ تھا کہ درمیان میں کچھ ایسے عناصر آگئے جن کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان پہنچا اور ہمارے تعلقات کو بھی کم کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاسبان نے بہت بے ہودہ مہم چلائی اور میں اس پر بہت دُکھی ہوا۔ جماعت کو باقاعدہ اس با ت پر سوچنا چاہیے تھا کہ کس طرح قاضی صاحب کو اور ان کے کام کو نقصان پہنچایا گیا۔ وہ بعد میں ثابت بھی ہوا کہ اس سے واقعی نقصان ہوا۔
میں نے قاضی صاحب کو بہت ہی مدبر سیاستدان پایا۔ موجوہ سیاستدانوں میں سے تو کوئی قاضی صاحب کے سویں حصے کے برابر بھی نہیں۔ میں جب منصورہ دارالضیافہ جاتا تو قاضی صاحب کے گھر سے کچھ نہ کچھ کھانا وغیرہ آتا تھا۔ قاضی صاحب کی شفقت اور محبت کو میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔ جب اللہ نے مجھے بیٹی سے نوازا تو میں نے سختی سے منع کیا کہ کوئی پیشہ ور مُلا میری بیٹی کے کان میں اذان نہ دے، میں خود اذان دوں گا۔ مجھے اس وقت اذان زبانی یاد نہیں تھی تو سوچا کہ رات کو اذان یاد کرلوں گا۔ اگلے دن صبح میں ساری اذان یاد کرچکا تھا۔

اللہ کو یہ منظور تھا کہ کہیں قاضی صاحب نے گھر پر فون کیا اور ملازم نے انہیں بتایا کہ میں ہسپتال میں ہوں۔ قاضی صاحب سمجھے کہ شاید میں بیمار ہوں۔ وہ کلینک میں تشریف لائے تو میں نے اپنی بیگم سے کہا کہ کتنی خوش بخت ہے ہماری بیٹی! میرے پسندیدہ ترین آدمی تشریف لائے ہیں۔ اب میں اذان نہیں دوں گا۔ اس طرح قاضی صاحب نے میری بیٹی کے کان میں اذان دی۔ پھر جاتے وقت قاضی صاحب نے پوچھا کہ نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا کہ محمدہ۔ قاضی صاحب حیران ہوئے کہ یہ نام پہلے کبھی نہیں سنا۔ قاضی صاحب نے اس وقت منصورہ کسی کو فون کیا اور ان سے کہا کہ میرے عزیز نے اپنی بیٹی کا نام محمدہ رکھا ہے، اس میں کوئی مسئلہ تو نہیں؟ وہاں سے بتایا گیا کہ یہ تو بڑا مبارک نام ہے اور مجھے مبارک باد دی۔

قاضی صاحب بہت ہی بڑے آدمی تھے۔ جب قاضی صاحب کے داماد فوت ہوئے تو یقین کریں یہ واقعہ میرے لیے بھی زندگی کے اہم ترین واقعات میں سے تھا۔ مجھے اس واقعے نے بڑی طاقت بخشی۔ پڑھنے کی حد تک تو ہم پڑھتے رہے ہیں کہ آقا علیہ السلام کی اولاد بھی اللہ کے پاس چلی گئی اور صبر کیا، لیکن اس کا عملی نمونہ بننا ذرا مشکل ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ایسا پہلے دیکھا کہ ایک باپ اللہ کی رضا کے سامنے اس طرح صبر وتحمل کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ داماد بھی بیٹے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ بیٹے سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ دُہرا، تہرا، چوہرا زخم لگتا ہے۔ سچی بات کہوں کہ میں خود قاضی صاحب کے داماد کی وفات پر گھر آکر رویا۔ جبکہ قاضی صاحب اس حالت میں اُلٹا لوگوں کو تسلی دے رہے تھے۔ اتنا شانت چہرہ اور منظبط آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ اتنے بڑے بحران میں اور ذاتی بحران میں ایسا سکون اور اطمینان۔

قاضی صاحب کے ساتھ میرا روحانی، مذہبی اور جذباتی تعلق تھا۔ میں ان سے اپنی آخری ملاقات کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں آج بھی ان کے ہاتھ کی ٹھنڈک اپنے چہرے پہ محسوس کرسکتا ہوں، جو انہوں نے پیار سے میرے گال پہ پھیرا تھا۔ میرا انداز ذرا مختلف ہے۔ میں زیادہ مہذب انداز میں بات نہیں کرتا۔ ان دنوں قاضی صاحب کے ایک بیان… جو ’’اسلامی اور مشرقی اقدار‘‘ کے حوالے سے تھا… پر میں نے کچھ لکھا تھا۔ میں نے غصہ میں لکھا تھا کہ خدا کے لیے ایسا مت کہیں، کوئی بھی قدر اگر اس معاشرے میں باقی رہ گئی ہو تو مجھے ضرور بتائیں، ورنہ آپ جیسے آدمی کو ایسا کہنا اچھا نہیں لگتا، کیونکہ آپ جیسا کوئی بھی با ت کہے گا تو نہ ماننے کے باوجود بھی اس کو ماننے کا دل کرے گا اور غلط ہوگا۔

اسی طرح ایک بار مجلس میں کچھ غیر مؤدب انداز میں گفتگو کی تھی، مجھے اس پر ندامت ہوئی تو میں نے قاضی صاحب سے کہا کہ مجھے معاف کردیں۔ قاضی صاحب نے کہا کوئی بات نہیں اور بڑے پیار سے کہا کہ آپ کو نہیں پتا میں بھی جب پشتو میں بات کرتا ہوں تو ایسی بات کہہ دیتا ہوں۔ یہ ان کا شفقت اور ان کی وسعت ظرفی تھی۔ ایک بار میں نے قاضی صاحب سے کہاکہ ہم جو اپنے بڑے بزرگوں کے نام لیتے ہیں، حضرت ابوبکر، حضرت عمر فاروق وغیرہ تو وہ لوگ آقاﷺ کی صحبت میں رہے تھے۔ کیا آپ کی صحبت میں ایسا بن سکتے ہیں؟ قاضی صاحب نے قدرے توقف کے بعد کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ میں نے کہاکہ پھر آ پ کو مجھ جیسے ابو محجن سقفی جیسے لوگوں پر گزارا کرنا ہوگا۔ قاضی صاحب مسکرائے اور مجھے چھیڑتے رہے کہ آپ نے اپنی حرکات کے لیے کیسا عجیب وغریب جواز گھڑا ہے۔ اس کے بعد کئی بار ایسا ہوا کہ کسی مجلس وغیرہ میں کوئی بات ہو جاتی تو ہلکی سرگوشی کرتے جس میں باپ اور بڑے بھائی جیسی سرزنش ہوتی اور ساتھ ہی کہتے کہ ابومحجن سقفی کا کیا حال ہے؟

عظیم شخصیات کا جو قحط ہے، ہوسکتا ہے کہ ہمارے گناہوں کی سزا ہو۔ اگر آج آپ موجودہ سیاست دانوں کو حقیقی نظر سے دیکھیں تو کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو ضمیر اور ظرف کے اعتبا ر سے قاضی صاحب جیسا ہو۔ وہ ایک عالی شان اور شاندار شخصیت تھے۔ ان کا دو بار بائی پاس ہوا تھا، مگر بعض اوقات وہ ایسی مہم شروع کردیتے تھے کہ حیرانی ہوتی۔ میں خود ایک بے خوف آدمی ہوں، لیکن پھر چند کاموں کے متعلق کہتا ہوں کہ میری عمر اجازت نہیں دیتی، باوجود اس کے کہ ٹھیک ہوتا ہوں لیکن خوف پھر بھی رہتا ہے۔ قاضی صاحب کا وجود ایک اعزاز تھا۔ ہمارا معاشرہ بے انصاف ہے، میری معلومات اور میری نظر کے مطابق جماعت نے بھی ان کے ساتھ وہ انصاف نہیں کیا جو ان کا حق تھا۔ وہ کام قاضی صاحب سے نہیں لیا گیا، جو لینا چاہیے تھا۔ (گفتگو سے ماخوذ)

یہ بھی پڑھیں: میں قاضی حسین احمد کو دوست سمجھتا تھا: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمران خان کی یادیں
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: